ایٹمی جنگ میں فاتح کون؟


چند روز قبل پہلگام میں دہشت گردی کا جو سانحہ پیش آیا تھا، پاکستان نے اُس کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اُسے بھارت کا فالس فلیگ آپریشن قرار دِیا کیونکہ اُس کی گھڑی ہوئی کہانی کا کوئی سر پیر نہیں تھا۔ مودی سرکار نے یہ انکشاف کیا تھا کہ کنٹرول لائن عبور کر کے چند پاکستانی دہشت گرد مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوئے اور تقریباً دو سو کلومیٹر کی مسافت طے کر کے وہ سیاحتی مقام پہلگام پہنچے جہاں سیاح آئے ہوئے تھے۔ دہشت گردوں نے 26 ہندو اَور 2 غیرملکی سیاح تہ تیغ کر دیے۔ یہ کہانی اِس لیے انتہائی لغو لگتی ہے کہ کنٹرول لائن پر بہت اونچی آہنی باڑ لگی ہے، تھوڑے تھوڑے فاصلے پر بجلی کے قمقمے روشن ہیں اور جگہ جگہ پر فوجی چوکیاں قائم ہیں جو گردوپیش پر کڑی نظر رکھتی ہیں۔

اِس کہانی میں سب سے زیادہ حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ اِس واقعے کے پانچ دس منٹ بعد ہی پاکستان کے خلاف ایف آئی آر بھی کاٹ دی گئی جبکہ آٹھ دس دن گزر جانے کے باوجود ایک بھی دہشت گرد گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری یہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں کہ پہلگام میں ہونے والی دہشت گردی میں پاکستان ملوث ہے۔ حالانکہ بھارت کے وزیرِاعظم نریندر مودی دس سے زائد عالمی شخصیتوں سے ٹیلیفون پر بات کر چکے ہیں اور سینکڑوں سفارت کاروں کو وزارتِ خارجہ میں بریفنگ دی جا چکی ہے۔ بھارت کی اپوزیشن اِس بیانیے پر طرح طرح کے سوال اٹھا رہی ہے اور پوچھ رہی ہے کہ اتنی خطرناک سیکورٹی لیپس کا ذمے دار کون ہے۔ سیکورٹی میں بڑے بڑے شگاف پڑ جانے کے الزام میں ناردرن کمان کا کمانڈر ہٹا دیا گیا ہے جس سے فوج میں ایک افراتفری پھیل گئی ہے۔ مودی سرکار کو سب سے بڑا سیٹ بیک سکھوں کی قیادت سے پہنچا ہے جس نے پاکستان کے خلاف لڑنے سے انکار کر دیا ہے۔ مشرقی پنجاب میں دو کروڑ سکھ آباد ہیں۔

نریندر مودی پہلگام میں کی جانے والی دہشت گردی سے بیک وقت کئی مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ فوری مقصد ریاست بہار میں ہونے والے انتخابات میں مسلم ووٹر کو خوفزدہ کرنا ہے جو اِنتخابات میں فیصلہ کن اثرات ڈالنے کی پوزیشن میں ہے۔ بہار، یوپی کے بعد بھارت کی دوسری بڑی ریاست ہے جہاں بی جے پی کے خلاف ایک مضبوط انتخابی اتحاد قائم ہو چکا ہے جس کے مسلمانوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ اگر اِس ریاست میں اپوزیشن کامیاب ہو جاتی ہے، تو نریندر مودی کے لیے اقتدار میں رہنا بہت مشکل ہو جائے گا۔

پہلگام میں دہشت گردی کرانے کا دوسرا بڑا مقصد عالمی اداروں کی توجہ اُن مظالم سے ہٹانا ہے جو مودی سرکاری کشمیریوں پر ڈھا رہی ہے۔ اِن مظالم کے علاوہ سب سے بڑا ستم یہ ڈھایا گیا ہے کہ بھارتی دستور کے آرٹیکل 370 میں ترمیم کر کے ریاست کشمیر کی جداگانہ حیثیت ختم کر کے اُسے بھارت کا ایک صوبہ بنا دیا گیا ہے۔ مسلمانوں کی اکثریت کو اَقلیت میں تبدیل کرنے کے لیے غیر مسلم کشمیری بسائے جا رہے ہیں۔ اِس نا انصافی پر کشمیری مسلمانوں میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے۔ اب مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی کا جو ڈراما رچایا گیا ہے، اُس کے اثرات بھارت کے خلاف مرتب ہو رہے ہیں۔ پہلی بار برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر کے مسئلے پر باقاعدہ بحث ہوئی ہے اور اِس کا حل تلاش کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی قدرے ہلچل محسوس کی جا رہی ہے۔

پہلگام دہشت گردی کا سب سے بڑا مقصد پاکستان کو ایک غیر ذمے دار اَور دَہشت گرد رِیاست کے طور پر پیش کر کے سندھ طاس معاہدے سے باہر آ جانا اور پاکستان کے خلاف طاقت کے استعمال کی گراؤنڈ تیار کرنا ہے۔ اِس کام کے لیے اُس دن کا انتخاب کیا گیا جب امریکی نائب صدر چار روزہ دَورے پر بھارت آئے ہوئے تھے اور نریندر مودی سعودی عرب کے دورے پر تھا۔ اُسے اپنا دورہ مختصر کر کے واپس نئی دہلی آنا پڑا۔ اِس پوری کارروائی کا مقصد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پر یہ واضح کرنا تھا کہ پاکستان پورے خطے میں دہشت گردی کو پروان چڑھا رہا ہے اور اِسے سختی سے روکنا ازبس ضروری ہو گیا ہے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ اِس قدر مذموم اور خطرناک مقاصد کے حصول کی خاطر نریندر مودی نے جو منصوبہ بندی کی، وہ حد درجہ ناقص ثابت ہوئی۔ عالمی رائے عامہ نے بھارت کا ساتھ دینے کے بجائے پاکستان کے موقف کی حمایت کی اور اِس کے دوست بھی تاخیر کے بغیر جنگی ساز و سامان پہنچانے لگے۔ چین، روس، سعودی عرب، قطر، امارات اور ترکیہ نے پاکستان کے حق میں بیان دیے اور اِیران نے اپنے آپ کو ثالثی کے لیے پیش کر دیا۔ اِن جملہ معاملات میں سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے لیے سب سے اہم ہے جسے بھارت نے فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔ یہ معاہدہ عالمی بینک کی ضمانت پر 1960 ء میں ہوا تھا اور اَمریکہ نے کلیدی کردار اَدا کیا تھا۔

پاکستان کے سپہ سالار جنرل سیّد عاصم منیر نے کسی لاگ لپیٹ کے بغیر اعلان کیا کہ پانی ہمارے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ اگر بھارت نے اِسے بند کیا یا دریاؤں کا رُخ موڑنے کی حماقت کی، تو ہم اِسے اعلانِ جنگ سمجھیں گے اور پوری قوت سے اُن کا دفاع کریں گے۔ ہمارے وزیرِدفاع خواجہ محمد آصف نے بھی صاف صاف کہہ دیا ہے کہ اگر ہمیں اپنا وجود خطرے میں محسوس ہوا، تو ہم ایٹمی ہتھیار اِستعمال کرنے میں تاخیر نہیں کریں گے۔ بلاشبہ قومی عزم کا بروقت اظہار ضروری ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری مسلح افواج دفاعِ وطن کے لیے پوری طرح مستعد ہیں اور بھارت کسی مہم جوئی کی حماقت نہیں کرے گا۔ اِس وقت اصل ضرورت اِس خطے کو جنگ کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھنا ہے۔ اِس کے لیے ہمیں سفارت کاری کو غیرمعمولی اہمیت دینا ہو گی۔ اِس کے لیے قابل افراد کی ایک بہت بڑی ٹیم تیار کرنا ہو گی جس کے پاس بھارت کی تباہ کاریوں کا ڈوزیئر موجود ہو اَور جو ایک لمحہ ضائع کیے بغیر دنیا کے تمام اہم دارالحکومتوں میں پہنچ جائیں اور دَانش وروں سے مل کر ایک عالمی رائے عامہ منظم کریں۔ اِس عالمی تحریک نے فرانسیسی مفکر تھارپر کی قیادت میں امریکہ کو ویت نام سے نکلنے پر مجبور کر دیا تھا۔

 

Facebook Comments HS