مودی سرکار کی بوکھلاہٹ، جاوید اختر اور گودی میڈیا


جب سے جنگ کا طبل بجا ہے، مودی سرکار کی بوکھلاہٹ عروج پر دکھائی دیتی ہے۔ گودی میڈیا ہیجان پیدا کرنے کے مشن پر گامزن ہے، اور جاوید اختر جیسی روشن خیال شخصیات بھی جانب دارانہ بیانات کا ڈھول پیٹ رہی ہیں۔

اسے بدبختی ہی کہا جاسکتا ہے کہ جس سوشلسٹ سوچ کی جواہر لعل نہرو نے تقلید کی کوشش کی، اور جس سیکولر سوچ کو کانگریس نے کسی حد تک برقرار رکھا، وہ بی جے پی کی قوم پرستانہ نظریے کی نذر ہو گئی۔ ہندوتوا کا نعرہ غالب آیا، اور انڈیا میں اقلیتیں غیر متعلقہ ہوتی گئیں۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ بھارت کے روشن خیال طبقات بھی اس بار یا تو چپ ہیں، یا پھر عارضی فائدہ کے لیے نریندر مودی کے ہم نوا بن گئے ہیں۔

کہتے ہیں، جب امن کے تمام راستے بند ہوجائیں، تب بھی فن و ثقافت کا دروازہ کھلا رہتا ہے، جو فرد کو یہ احساس دلاتا ہے کہ سرحد پار بھی اسی جیسے انسان بستے ہیں، جو اسی کی طرح کتابوں سے عشق کرتے ہیں، اچھی موسیقی کے رسیا ہیں، اور فن کاروں کو سراہتے ہیں۔

بدقسمتی سے بی جے پی کی پالیسیوں نے اپنے انتہاپسندانہ نظریات کی ترویج کے لیے فن و ثقافت کے پل پر نفرت کا بارود باندھ دیا۔

پاک بھارت کشیدگی میں کرکٹ ڈپلومیسی ہمیشہ ایک کارگر نسخہ ثابت ہوئی، مگر انڈیا کی موجودہ حکومت نے اس میں اتنے رخنے ڈالے کہ پاک بھارت کرکٹ سے جڑا رومانس سبوتاژ ہو گیا۔

پہلگام واقعے میں سویلینز کی ہلاکتوں کی پاکستان سمیت دنیا کے تمام ممالک نے مذمت کی، مگر مودی سرکار نے واقعے کی تحقیقات کے بجائے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانے کا پرانا وتیرہ اپنایا۔ بھارتی گودی میڈیا کے جانب دار اینکرز نے ہیجان بڑھانے کے لیے ٹی وی اسکرینیں سنبھال لیں، اور جنگی ماحول بنانے میں جت گیا۔

گو انڈین میڈیا اپنے حجم میں پاکستانی میڈیا سے خاصا بڑا ہے، مگر اپنے بیانیہ سے مختلف آوازوں کو خاموش کرانے کے لیے انڈیا کی جانب سے پاکستان کے سولہ نیوز چینلز کے یوٹیوب پلیٹ فورمز کو بلاک کر دیا گیا۔ بعد ازاں وزیر اعظم پاکستان اور آئی ایس پی آر کے یوٹیوب چینلز پر بھی بندش عاید کر دی گئی۔

چلیں، پاکستانی نیوز چینلز کی بندش تو سمجھ میں آتی ہے کہ ان کا کانٹینٹ گودی میڈیا کے بیانیہ سے متصادم ہے، مگر اس امن دشمن لہر نے جلد پاکستان کے انٹرٹینمنٹ چینلز کے یوٹیوب پلیٹ فورمز کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ساتھ ہی معروف پاکستان فن کاروں کے اکاؤنٹس کو بھی، جن کی انڈیا میں خاصی فالوئنگ ہے، بند کر دیا گیا۔

فن کار، جن کا کام محض تفریح کی فراہمی ہے، ان کے اکاؤنٹس کی بندش دراصل اس آمرانہ سوچ کی توسیع ہے، جسے بی جے پی سرکار بھارت میں لاگو کرنا چاہتی ہے، جسے انڈیا کا معروف سیاسی مبصر، دھرو راٹھی جمہوری آمریت کہتا ہے۔

ویزا منسوخی، فضائی پابندیوں اور پانی بند کرنے کی دھمکیوں کے بعد ثقافتی محاذ پر بھارت کا یہ حربہ کشیدگی بڑھانے اور امن کے امکانات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے۔ اس اقدام کی زد میں ہانیہ عامر، ماہرہ خان، علی ظفر، سجل علی، صنم سعید، مایا علی، عائزہ خان اور اقرا عزیز سمیت کئی ستاروں کے اکاؤنٹس آئے ہیں۔

فواد خان کی انڈین فلم ”عبیر گلال“ پر تو پہلے ہی پابندی لگ چکی ہے، ہانیہ عامر کی دلجیت دوسانجھ کے ساتھ متوقع فلم بھی خطرے سے دوچار ہے۔ گو فلم کے حوالے سے کوئی آفیشل اعلان نہیں کیا گیا، مگر انڈین میڈیا ہانیہ عامر کو کاسٹ سے الگ کرنے کی خبر نشر کر چکا ہے۔ پاکستانی ڈراما چینلز، جو بھارت میں بے حد مقبول تھے، انھیں بھی بند کر دیا گیا ہے۔

کنگنارناوت، انوپم کھیر اور پریش راول سمیت کئی معروف فن کار اپنے فائدہ کے لیے مودی کیمپ کا حصہ بن چکے ہیں، سو ان سے کوئی توقع نہیں، البتہ اس معاملے میں جاوید اختر جیسے فن کار کا موقف زیادہ مایوس کن ہے۔ جاوید اختر کو ایک روشن خیال فن کار تصور کیا جاتا ہے، جو کئی بار اپنی زوجہ اور معروف اداکارہ، شبانہ اعظمی کے ساتھ پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں، اور ہر بار انھیں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔

انھوں نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں پاکستانی فن کاروں کے انڈیا میں کام کرنے کے معاملے کو ”ون وے ٹریفک“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”فی الحال اس کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔“

اُنہوں نے اعتراض اٹھا کہ پاکستانی فن کاروں کو تو بھارت میں پرفارم کرنے کا بھرپور موقع ملتا ہے، مگر انڈین فن کاروں کی پرفارمنس کی پاکستان میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس ضمن میں انھوں نے بالخصوص لتا منگیشکر کا ذکر کیا۔ یہی کہانی انھوں نے لاہور کے ایک ادبی فیسٹول میں بھی سنائی تھی۔ اس وقت بھی سنجیدہ حلقوں نے لتا کی پاکستان آمد سے متعلق ان کے موقف کو غلط ٹھہرایا تھا۔ گو انھوں نے دوسرے موقف پر بھی بات کی، لیکن اس میں بھی پاکستان ریاست ہی کو آڑے ہاتھوں لیا۔

دل چسپ عمل یہ ہے کہ ایک جانب جہاں گودی میڈیا بھارت میں جنگی ہیجان کو ہوا دینے میں مگن ہے، تو ادھر پاکستان میں میمز کا طوفان آیا ہوا ہے۔ پاکستانی عوام بھارت کے جنگی عزائم سے یکسر بے پروا، مطمئن و مسرور نظر آتے ہیں، اور اپنی کیفیات کا اظہار ان دل چسپ میمز کی صورت کر رہے ہیں، جن کی بازگشت انڈیا کے سوشل میڈیا صارفین تک بھی پہنچ رہی ہے۔

قصہ مختصر، وقت کے ساتھ ساتھ گودی میڈیا کے ہیجان کے ساتھ پاکستانیوں کی میمز کی کاٹ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ثقافتی محاذ پر کون جیت رہا ہے، یہ بالکل واضح ہے۔

Facebook Comments HS