ننھی چڑیا اَور پاک بھارت کشیدگی۔ امن کی تلاش میں ایک سبق
ایک بار کا ذکر ہے کہ جنگل میں آگ لگ گئی۔ درختوں، پودوں، گھاس، سب میں آگ بھڑک اُٹھی۔ جانور گھبرا گئے۔ شیر، ہاتھی، ہرن، خرگوش، سب جان بچا کر اِدھر اُدھر بھاگنے لگے۔ ہوا تیز تھی، آگ مسلسل پھیلتی جا رہی تھی۔ پورے جنگل میں دھواں اور چیخ و پکار تھی۔
اِسی جنگل میں ایک ننھی سی چڑیا بھی رہتی تھی۔ اُس نے جب یہ منظر دیکھا تو بہت رنجیدہ ہوئی۔ وہ سوچنے لگی: ”یہ میرا گھر ہے، میرے درخت، میرے دوست، سب خطرے میں ہیں۔ مجھے کچھ کرنا ہو گا۔“
چنانچہ وہ ندی کے کنارے گئی، اپنی چھوٹی سی چونچ میں پانی بھرا، اُڑ کر آگ کی طرف آئی، اور پانی کے قطرے آگ پر ڈال دیے۔ پھر واپس گئی، اور یہی عمل بار بار دہراتی رہی۔ بڑی تھکن کے باوجود اُس نے ہار نہیں مانی۔
جنگل کے بڑے جانور اُس کی کوشش دیکھ کر ہنسنے لگے۔ شیر نے طنزیہ لہجے میں کہا:
”اے چڑیا! تمہاری چونچ میں اتنا سا پانی! کیا اس سے جنگل کی آگ بجھ جائے گی؟“
چڑیا نے نہایت سکون اور پُرعزم لہجے میں جواب دیا:
”مجھے معلوم ہے کہ میری چونچ سے جنگل کی آگ نہیں بجھے گی، لیکن میں اپنا فرض تو ادا کر رہی ہوں!“
یہ جواب سن کر سب جانور خاموش ہو گئے۔ پھر ایک ایک کر کے دوسرے جانور بھی آگ بجھانے کے کام میں لگ گئے۔ کسی نے پتے لائے، کسی نے پانی کے برتن، اور سب کی اجتماعی کوشش سے آخرکار آگ بجھ گئی۔
آج جب ہم جنوبی ایشیا میں خاص طور پر پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو دیکھتے ہیں، تو یہ چڑیا ہمیں بہت کچھ سکھا جاتی ہے۔ جب دو جوہری طاقتیں ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں، تو صرف جنگ نہیں بلکہ امن کی کوشش بھی ایک ہمت کا کام بن جاتا ہے۔ چڑیا کی طرح ہر فرد، ہر شہری، اور ہر صحافی اگر اپنے حصے کا کام کرے، تو کشیدگی کی آگ کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔
ہمیں یہ بات سمجھنی ہوگی کہ جنگ صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتی۔ جنگ سچائی، برداشت، انسانیت اور شعور کے میدان میں بھی ہوتی ہے۔ جب نفرت کا بازار گرم ہو، تو محبت کی ایک آواز بہت قیمتی ہوتی ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سوشل میڈیا پر، اپنے گھروں میں، اپنے اداروں میں، اور اپنے دلوں میں امن کو فروغ دیں۔ ہم یہ تسلیم کریں کہ دونوں طرف کے لوگ جنگ نہیں چاہتے۔ وہ صرف عزت، روزگار، اور محفوظ زندگی چاہتے ہیں۔
چڑیا نے جنگل کی آگ بجھانے کے لیے جو کردار ادا کیا، وہ علامتی طور پر ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ حالات خواہ کتنے ہی خراب کیوں نہ ہوں، ہمارا چھوٹا سا قدم بھی بڑی تبدیلی لا سکتا ہے۔
پاک بھارت تعلقات کی کشیدگی کے درمیان یہ ننھی چڑیا ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہر فرد اہم ہے، ہر قدم قیمتی ہے، اور امن کا خواب صرف ممکن نہیں، بلکہ قابلِ عمل بھی ہے۔ بشرطیکہ ہم سب اپنی چونچ کا پانی ڈالنے سے ہچکچائیں نہیں۔


