جاپان کا تاج محل ” خیال ِ یا ر تیرے سلسلے نشوں کی رُتیں“ (پہلی قسط)


ہمارے سامنے سمندر تھا۔ ہم دونوں ساحل پر رکھے بنچ پر بیٹھے سمندر کا نظارہ کر رہے تھے۔ جہاں تک نظر پڑتی تھی پانی کی سلطنت تھی۔ پانی کی مدھر لہریں ساحل سے ٹکرا رہی تھیں۔ اگرچہ سمندر کی وسعت دیکھ کر ہیبت طاری ہو جاتی تھی لیکن یہ سب اچھا بھی لگ رہا تھا۔ فضا میں سیگل کا شور تھا جو پانی کے اوپر چہکار رہی تھیں۔ بادبانی کشتیاں سمندر کی سطح پر بادبان کھولے رواں دواں تھیں۔ آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے سورج کبھی ان میں چھپ جاتا کبھی ان کے پرے سے نکل کر اپنی آب و تاب کا جلوہ دکھانے لگ جاتا۔ مچھلیاں سمندر کی سطح سے پانچ پانچ فٹ اوپر اڑ کر سیگل کی خوراک بننے کو بے تاب دکھائی دے رہی تھیں۔ اسی لئے انسانوں کی طرح شکار کو ٹریپ کرنے کی بجائے سیگل پورے شور و غوغا اور اعلان کے ساتھ سمندر کے اوپر چکر کاٹ رہی تھیں۔ جہاں شکار خود شکاری کو دعوت دے تو پھر اس کے لیے خوشی کا اور کیا ٹھکانہ ہو سکتا ہے۔

”سیکوسن!“ ۔ میں نے کہا۔ ”ہم جس طرح اس منظر سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ یہ سارا منظر ساکن پکچر بن کر ہمارے ذہن پر نقش ہو رہا ہے۔“

”وہ تو ٹھیک ہے پھر آپ ایسا کریں کہ اس کی ایک ہارڈ کاپی بھی تیار کر لیں، تکلیف نہ ہو تو میری تصویر لے لیں اور مجھ پر گزرنے والی تمام کیفیات کو اس میں سمو دیں اگر آپ کو فوٹو گرافی پر کمانڈ ہے تو۔“

”ایک تصویر؟ ہزاروں تصویریں لے لیتا ہوں۔ جب کیمرہ بھی جاپانی ہو اور ماڈل بھی جاپان کی دوشیزہ تو پھر ایک تصویر کیوں؟ آپ کمانڈ کی بات کرتی ہیں اس وقت کیمرہ نہیں کینوس میرے ہاتھ میں ہے۔ میں نے کیمرے کی آنکھ سے زیادہ ایک ماہر آرٹسٹ کی نظر سے آپ کو دیکھنا ہے۔ میں نے نہ صرف اس حسین چہرے کو کیچ کرنا ہے بلکہ اس کے اندر موجزن تمام جذبوں اور خوابوں کو کینوس پر اس طرح اتارنا ہے کہ محسوس ہو ایک جیتا جاگتا انسان سامنے بیٹھا ہے۔“

”دیکھ لیں گے جب تصویریں آئیں گی۔“ سیکوسن نے بے اعتنائی سے کہا۔

میں نے اٹھ کر مختلف زاویوں سے سیکو کی تصویریں لینا شروع کر دیں۔ کبھی بیک گراؤنڈ میں سمندر ہوتا تھا، کہیں بادل اور کہیں پھولوں کی بہار میں ایک کھلتا ہوا معصوم چہرہ۔ جس میں تمام جذبوں کی حدت اور اس کے چہرے کی تمام تر جاذبیت موجود تھی۔ کبھی مسکراتی کبھی کھلکھلا کر ہنستی۔

کبھی معصوم چہرہ بنا کر اداسیوں میں کھو جاتی۔ میں نے یہ سارے زاویے محفوظ کر دیے۔
”لو جی یہ کام بھی ہو گیا کوئی اور فرمائش؟“

”اور فرمائش یہ ہے کہ اب اس بنچ پر بیٹھیں میں آپ کی تصویریں لیتی ہوں اور اگر کوئی راہگیر آ گیا تو پھر ایک اکٹھی تصویر بھی بنوا لیں گے۔“

جب وہ اپنے کام سے فارغ ہوئیں تو میں نے پوچھ لیا۔ ”سیکو! جب میں آپ کی تصویریں بنا رہا تھا تو کبھی کبھی مجھے محسوس ہوتا تھا کہ آپ کے چہرے پر اداسی چھا جاتی ہے ایسا کیوں ہے؟ آپ کو معلوم نہیں جب آپ ہنستی ہیں تو آپ کے گرد ایک سماں بندھ جاتا ہے، یہ سمندر، یہ ہوا، یہ فضا، یہ اشجار، یہ پھول کھل اٹھتے ہیں۔ لگتا ہے ساری دھرتی آپ کو دیکھ کر جھوم اٹھی ہے۔ جب یہ سارا کچھ آپ کے لیے ہے تو پھر یہ اداسی کیوں ہے؟“

”دراصل امریکیوں میں رہ کر مجھے زندگی کی بے سروسامانی اور کم مائیگی کا احساس ہوا ہے۔ اور شدت سے احساس ہوا کہ ہم کو زندگی میں ازلی مسرت کبھی نہیں مل سکتی۔“ سیکوسن نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

ابھی آپ نے زندگی میں دیکھا کیا ہے کہ اتنی بڑی الجھنیں لے بیٹھی ہو۔ امریکیوں کو چھوڑو فیملی یونٹ ٹوٹنے سے ساری قوم سائیکو ہوتی جا رہی ہے۔ وہ لوگ جذباتی اور روحانی طور پر محروم ہو چکے ہیں۔ کیا کائنات کے مسائل آپ نے حل کرنے ہیں؟ میں بھی کچھ سال قبل انہی کیفیات سے گزرا ہوں ایسے خیالات کو کبھی قریب نہ لانا۔ اپنے اردگرد دیکھو دن ڈھل گیا ہے سورج زرد ہو چلا ہے۔ میپلز کے سرخ پتے اس کی شعاعوں میں اور سرخ ہو کر کتنے دلکش ہو گئے ہیں۔

آپ کے سامنے پانیوں کا شور ہے آپ ان مچلتے پانیوں پر نظر کرو، ہلکورے لیتا، لہریں بناتا پانی، اتنا بڑا ساگر آپ کے سامنے پھیلا ہے اس کی وسعتوں کو دیکھو۔ دیکھو اس پر چلنے والی کشتیاں کتنی خوبصورت لگ رہی ہیں۔ کس طرح بادبان کھولے بے کنار پانیوں پر رواں دواں ہیں۔ اوپر نگاہ کرو، آسمان اپنی نیلگوں وسعتوں کے ساتھ آپ پر چھایا ہوا ہے اور اس میں پرندے کس طرح پر پھیلائے آسمان کی خوبصورتی میں بڑھاوا دے رہے ہیں۔ بہار کی یہ خنک ہوا روح میں سرور پیدا کر رہی ہے۔ پانیوں پر شفق کی گرتی آگ پانیوں کو گلرنگ کر گئی ہے۔ یہ پورا ماحول اپنے سارے رنگوں کے ساتھ آپ کے گرد خیمہ زن ہے اور آپ پھر بھی پریشان ہیں۔

سیکوسن یہ زندگی بہت خوبصورت ہے اس کو سوچوں میں ضائع نہ کرنا یہ جو لمحہ آپ کو ملا ہے صرف یہی لمحہ آپ کے پاس ہے اس لمحے کی تمام رعنائیوں کو اپنی سانسوں میں، اپنی روح میں جذب کر لو تمہاری میری بس یہی زندگی ہے۔ آپ چاہیں کہ آپ امر ہو جائیں یہ نہیں ہونا۔ ایک بات یاد رکھنا کہ صرف یہ زندگی امر ہے ہم امر نہیں۔ ہم خام مال ہیں ہم اس زندگی کو امر بناتے ہیں اور اس کا سلسلہ بے کنار ساگر کی طرح چلتا رہے گا جو ہم سے پہلے بھی تھا اور ہمارے بعد بھی ہو گا۔

”میں اداس جان بوجھ کر نہیں ہوتی۔ میں ہنستی ہوں، مسکراتی ہوں، آپ جانتے ہیں میں خوش رہتی ہوں۔ خوش رہنے کی کوشش کرتی ہوں لیکن محسوس ہوتا ہے کہ کسی نہ کسی چیز کی کمی ہے اور کہیں نہ کہیں کوئی چیز نا مکمل ہے۔ سوچتی ہوں یہ کیوں ہے ایسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ ختم ہو جائے گا۔ نہ جانے انسان کی تکمیل کب ہوتی ہے اور پھر سوچتی ہوں کہ اگر تکمیل ہو بھی جائے تو کیا وہ اس سے ازلی مسرت حاصل کر سکتا ہے۔ کیا وہ اس تکمیل سے امر ہو جائے گا۔ ہر انسان کا امر نہ ہونا جو ہے اس کا گہرا تعلق کیا دکھ سے نہیں ہے؟ میرے خیال میں انسان کو یہی دکھ، یہی چِنتا، یہی ادھورا پن پریشان رکھنے کے لیے کیا کافی نہیں ہے؟“ اس نے مجھ سے سوال کیا۔

میں ساری بات سن کر خاموش ہو گیا۔
”آپ بولتے کیوں نہیں؟ خاموش کیوں ہو گئے ہیں؟“
”سیکوسن میں پہلے ہی کافی پریشان ہوں۔ خدا کے لیے تم میرے لیے گوتم بدھ نہ بنو۔“

”میں کم پریشان ہوں؟ میں یہ بات آپ سے اس لیے پوچھ رہی ہوں کہ میں نے تو پہلی ملاقات میں آپ کے اندر بھی ایک دکھی انسان محسوس کیا تھا۔“

”اس لیے مزید دکھی کرنا چاہتی ہو؟“

سیکو کھلکھلا کر ہنسی۔ ”دراصل میں ایک خوش باش رہنے والی لڑکی تھی۔ جب میں امریکہ میں تعلیم حاصل کر رہی تھی تو وہاں مارگریٹ نامی ایک امریکی لڑکی میری دوست بن گئی۔ اس نے زندگی کے اس پہلو کے بارے میں سوچنے کی عادت ڈالی۔ آپ نے میرا گاؤں دیکھا ہے؟“

”ہاں دیکھا ہے۔ میں بھی ایک گاؤں میں پیدا ہوا تھا جس میں پرائمری سکول بھی نہیں تھا اور پانچ میل پیدل چل کر پڑھنے جاتا تھا۔“ میں نے کہا۔

”بہرحال میں اسی گاؤں سے امریکہ گئی تھی۔ مجھے وظیفہ ملا تھا سارا گاؤں خوش تھا کہ میں وظیفے پر جا رہی ہوں۔ میں نئے خیالات اور نئے جذبے لے کر روانہ ہوئی تھی۔ ہر چیز سہانی لگتی تھی اور میری خوشی کی بھی کوئی انتہا نہیں تھی اور میرا خیال تھا کہ جب واپس آؤں گی تو مجھے ہاتھوں ہاتھ لیا جائے گا۔ میں ایک خوشگوار زندگی کا آغاز کروں گی۔“

”اس سے زیادہ ہاتھوں ہاتھ کیا لیا جا سکتا ہے؟ آپ کو آنے سے پہلے اتنے بڑے ادارے UNAFEI نے امریکہ میں ہی اطلاع دے دی تھی کہ آپ آ کر اُن کے ہاں کام کریں اور ساتھ ہی ادارے کا مجھ جیسا ایک زیر ترتیب بندہ آپ کی خدمت پر مامور کر دیا۔“

”خدمت کر کر کے تم ہم تھک رہے ہیں۔ آپ نے کیا خدمت کرنی ہے، آپ تو ویسے بھی ہمارے مہمان ہیں اور جاپانیوں سے بڑا مہمان نواز آپ کو نہیں ملے گا۔“

”وہ تو مجھے احساس ہے۔ فرش پر سو سو کر میری کمر ابھی تک درد کر رہی ہے۔ دوسرا آپ لوگ جوتے گھر سے باہر اتروا لیتے ہیں ہمیں پریشانی میں رات بھر نیند نہیں آتی کہ باہر کوئی جوتا چوری نہ کر جائے۔“

”آپ صحیح کہتے ہیں۔ مجھے بھی پریشانی ہے اگر ایسا ہو گیا تو پھر آپ کے سائز کے جوتے مشکل سے ملیں گے۔“
اس نے مجھے پریشان کرتے ہوئے کہا۔

”آپ نہ جانے کس دیس سے آئے ہیں جہاں جوتے بھی چوری ہوتے ہیں لیکن یہاں چوری نہیں ہوں گے۔ باقی رہا فرش پر سونا تو وہ تو آپ کو اس ملک میں سونا پڑے گا ماسوائے ہوٹلوں کے یا ہوسٹلوں کے۔“

ہم کل ان کے گاؤں پہنچے تھے۔ ان کی امی اور ابو سے ملے۔ اس کی خالہ اور نانی اماں کے مکان ساتھ ساتھ تھے۔ بالکل متصل خوشی ہوئی کہ اس طرح وہ لوگ تقریباً مشترکہ خاندان کی حیثیت سے رہ رہے تھے اکٹھے بھی اور علیحدہ علیحدہ بھی۔ سارے لوگ محبتوں کے بندھن میں بندھے لگتے تھے۔ شام کو ان کو بھی بلا لیا گیا اس طرح دس پندرہ افراد جمع ہو گئے۔ اس کی چھوٹی بہن ریکوسن سے بھی ملاقات ہوئی۔ اسے دیکھ کر میں سمجھا کہ وہ زیادہ سے زیادہ پرائمری کلاس کی طالبہ ہو گی لیکن بعد میں پتہ چلا کہ وہ کالج میں پڑھتی ہے۔

وہ بھی سیکو کی طرح کافی لائق تھی۔ میں نے اُسے ساتھ بٹھا لیا۔ اس کے مضامین کے علاوہ اس کی دلچسپیوں کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا کہ ایک تو کتابیں پڑھنا اس کا شوق ہے اور دوسرا پیانو بجانا۔ تھوڑی دیر بعد وہ ہماری فرمائش پر پیانو پر بیٹھی تھی اور کافی دیر پلے کرتی رہی۔ پہلے گیت کی دھن ساکورا ساکورا والی تھی۔ اب تو ہمیں ان کے میوزک اور دھنوں کا علم ہونے لگا تھا۔ میں نے اس کی بہت تعریف کی۔ اگلا لمحہ پریشانی کا تھا جب آگے سے اس نے فرمائش کر ڈالی کہ اب آپ گانا سنائیں۔

میں نے کہا گانا تو مجھے نہیں آتا۔

سیکوسن نے کہا ”ہم تو آپ کی زبان میں گانا سننا چاہتے ہیں کہ اس کے بول کیسے ہوں گے، ان کی ادائیگی، دھن اور آہنگ کیسا ہو گا۔“

اس نے آہستہ آہستہ مجھے مجبور کر دیا۔ اب میں پوری محفل کے آگے انکار کیسے کروں اور اگر گاؤں تو پھر ساری فیملی کے سامنے ایسی آواز کے ساتھ کیسے گاؤں گا۔ میں بری طرح پھنس گیا تھا۔ میں نے تھوڑی سی پس و پیش کی اور ان سے کہا تھوڑا سا وقت دیں کہ میں خود کو تیار کر سکوں اور کوئی گیت یاد کر لوں۔ سوچنے لگا کون سا گانا سناؤں۔ جلدی میں کوئی گانا یاد نہیں آ رہا تھا۔ آخرکار بچپن میں سنا ہوا گیت یاد آ گیا اور راج کپور میری مدد کو آئے۔ ان کی مشہور فلم آوارہ کا گیت میری زبان پر تھا۔

آوارہ ہوں آوارہ ہوں
یا گردش میں ہوں، آسمان کا تارا ہوں
گھر بار نہیں سنسار نہیں مجھ سے کسی کو پیار نہیں
دنیا میں تیرے تیر یا تقدیر کا مارا ہوں
یہ دھرتی میرا بستر ہے یہ مست گھٹا میری چادر ہے
میں رات میں دن کا اجالا ہوں میں طوفانوں کا پالا ہوں

ریکوسن میری لے پر پیانو بجا رہی تھیں۔ خدا خدا کر کے گیت ختم ہوا تمام گھر والے خوش تھے بلکہ مکمل طور پر ہمت افزائی کر رہے تھے اور جب گیت ختم ہو تو انہوں نے بھرپور تالیاں بجائیں اور میں سکون کے ساتھ بیٹھ گیا کہ چلو یہ کام بھی میری طرف سے خوش اسلوبی سے نبٹ گیا

لیکن ابھی ایک امتحان باقی تھا۔
مسٹر می آتا بولے ”اب لگے ہاتھوں اس گیت کا ترجمہ بھی کر لیں“ ۔
مرے کو مارے شاہ مدار۔ اب پھنس تو گیا تھا ان کی یہ فرمائش بھی پوری کر دی۔
Traveller I am
Tourist I am
Moving on the Heaven
Like Stars
Sleeping in the ground
On Tatami mats
With backache
Fortune for the traveller is
To forbear anguish and
Tyrranies of the hosts
Still I am the dawn of the day
Son of the huricanes
Traveller I am
Tourist I am
اس طرح فلم آوارہ اور فلم بادل کو ملا جلا کر کچھ مزید خیالات شامل کر کے انہیں گیت کا ترجمہ سنا دیا۔
ترجمہ سن کر مسٹر می آتا بہت محفوظ ہوئے۔ سیکوسن نے مسکراتے ہوئے کنکھیوں سے دیکھا مسٹر می آتا نے کہا:
”بیٹا یہ گیت صبح اٹھ کر لکھا ہے۔“

اب ہنسنے کی میری باری تھی۔ جب میں گیت کا ترجمہ سنا رہا تھا تو سیکوسن اپنی والدہ کو گیت کا متن جاپانی زبان میں ترجمہ کر کے سنا رہی تھیں وہ بھی ہنسے بغیر نہ رہ سکیں۔ میں نے یہ سوچتے ہوئے کہا کہ کہیں ان کے دل کو ٹھیس نہ پہنچے ان کو بتایا کہ اگرچہ ہمارے گھروں میں فرنیچر کا رواج ہے لیکن ہمارے لوگوں کی اکثریت نیچے قالین بچھا کر زمین پر سوتی ہے۔ میں آج دراصل سیکوسن سے مذاق کر رہا تھا کہ نیچے سو سو کر میری کمر میں درد پیدا ہو گیا ہے۔

اس بات سے ماحول خوشگوار ہو گیا۔ جاپانی قوم دراصل اتنی نفیس اور شائستہ ہے کہ وہ ہر وقت اس خیال میں رہتی ہے کہ اس کی زبان سے کوئی ایسا لفظ نہ نکل جائے جس سے سامنے بیٹھے بندے کی دل آزاری ہو۔ وہ تو اس قدر شائستہ ہیں کہ جب کوئی آدمی ان کو گفٹ دیتا ہے تو وہ اس کے سامنے نہیں کھولتے کہ کہیں وہ گفٹ ان کو پسند نہ آئے اور ان کے ماتھے پر تیوری آ جائے جسے دیکھ کر گفٹ دینے والے کی دل آزاری ہو۔ وہ دوسرے انسانوں خاص طور پر مہمانوں کے احساسات اور جذبات کا بے حد خیال رکھتے ہیں اس لیے وضاحت بہت ضروری تھی اور شکر ہے کہ اس وضاحت سے ماحول خوشگوار ہو گیا۔

رات ہوئی تو ہم کھانا کھانے بیٹھے۔ ڈائننگ روم بلکہ تمام گھر میں تاتامی میٹ بچھی ہوئی تھیں۔ یہ میٹ وہاں کے سپیشل گھاس سے تیار کی جاتی ہیں اور پورے جاپان کے گھروں میں بچھائی جاتی ہیں۔ کارپٹ سے زیادہ نفیس ہوتی ہیں اور جاپانی اس پر میٹرس بچھا کر سوتے ہیں اور جب کھانا کھانے لگتے ہیں تو چار انچ اونچی میز رکھی جاتی ہے جس پر کھانا Serve کیا جاتا ہے اور اس کے اردگرد بیٹھ کر کھانا تناول کیا جاتا ہے۔ ہم لوگ تو چوکڑی مار کر بیٹھتے ہیں اور کُھل کر کھاتے ہیں لیکن جاپانی لوگ دو زانو ہو کر بیٹھتے ہیں جیسے عبادت کر رہے ہوں۔ اور ظاہر ہے عبادت کرنے والا کم ہی کھاتا ہے۔ میں نے ایک دو بار اس طرح بیٹھنے کی کوشش کی لیکن یہ انہی کا کام ہے جن کے حوصلے ہیں زیادہ۔ میں جلد ہی حوصلہ ہار گیا۔

جاپان میں گاؤں بھی بہت خوبصورت ہوتے ہیں۔ ایک جیسے، ایک جیسا طرزِ تعمیر اور ان میں دنیا جہان کی سہولتیں میسر ہوتی ہیں۔ لائٹ کا تو وہاں مسئلہ نہیں اگرچہ ان کی لائٹ 110 وولٹ ہوتی ہے۔ اتنا عرصہ میں وہاں رہا لیکن کبھی آنکھ جھپکنے تک کے لیے بجلی نہیں گئی۔ فرج، ٹی وی، کمپیوٹر، انٹرنیٹ ہر چیز موجود تھی۔ ان کے گھروں کے ساتھ ایک منی مارکیٹ تھی جس میں گروسری، سبزی، فروٹ اور کپڑوں کی دکانیں تھیں۔ سلے سِلائے کپڑے اور بہت سستے۔

سیکوسن بتا رہی تھی کہ جو لوگ شہروں میں کام کرتے ہیں وہ بھی شام کو گھر واپس آ جاتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ کسی کمپیوٹر ٹرین سے گھر پہنچ جائیں اسی لیے بڑے شہروں پر انسانوں کا بوجھ کم ہو جاتا ہے۔ جاپان میں سب سے بڑا مسئلہ زمین کا ہے کیونکہ دو تہائی پر پہاڑ اور جنگلات ہیں اور ایک تہائی زمین پر شہر قصبے اور فیکٹریاں آباد ہیں۔ اس لیے بڑے شہروں میں زمین اور مکان بہت مہنگے ہیں۔ زیادہ تر آبادی ایک کمرے یا دو کمروں کے مکان میں زندگی گزار لیتی ہے۔

سیکوسن کے والد مسٹر می آتا نیوی افسر تھے۔ جنہوں نے جنگ ِ عظیم دوم میں حصہ لیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ جب جاپانی افواج نے پرل ہاربر پر امریکی افواج پر حملہ کیا تو وہ نیوی افسر کی حیثیت سے اس مہم میں شامل تھے۔ میں نے یونیورسٹی میں ماسٹر کرنے کے دوران ایک انگلش فلم دیکھی تھی TORA جو اسی مہم پر بنی تھی۔ اور یہ شاید اُن کا کوڈ تھا TORA TORA۔ میں نے جب اس کا حوالہ دیا تو مسٹر می آتا بہت خوش ہوئے اور پھر اس مہم کی کامیابی کے بارے بڑی دیر تک بتاتے رہے۔ اچانک انہوں نے عجیب بات چھیڑ دی۔ انہوں نے بتایا:

”جہاں آپ بیٹھے ہیں اس سیٹ پر ہم معزز مہمانوں کو بٹھاتے ہیں اس کے پیچھے یہ طفریٰ لٹکا ہوا ہے۔ اس میں عجیب بات یہ ہے کہ جب ہم نے آپ کو کہا آپ کھانے کی میز پر آئیں تو آپ خود بخود اسی سیٹ پر بیٹھ گئے تو ہمیں بہت خوشی ہوئی۔ اگر کہیں اور بیٹھتے تو لازماً ہم نے آپ کو وہی معزز مہمان والی سیٹ پیش کرنی تھی اور اس پر بٹھانا تھا۔“

میں نے کہا کہ ”دلوں میں احترام ہو تو بندہ جہاں بیٹھے وہی معزز مہمان کی سیٹ بن جاتی ہے میں تو اپنے آپ کو معزز تو کیا مہمان بھی نہیں سمجھتا۔ میرے لئے تو یہ امر عزت کا باعث ہے کہ آپ لوگوں نے مجھے اپنے پاس ٹھہرایا ہے البتہ میں بیٹھتا ایسے زاویے سے ہوں جہاں ہر چیز میرے سامنے ہو۔“

”لعلوانی سن آپ سے ایک بات کرنے لگا ہوں اور یقیناً آپ سن کر حیران ہوں گے کہ جب آپ کا ملک انڈیا آزادی کی جنگ لڑ رہا تھا تو اس کے ایک مشہور لیڈر مسٹر سبھاش چندر بوس ٹوکیو آئے تھے اور یہاں کافی عرصہ رہے۔ چونکہ ہم انگریزوں اور امریکیوں سے لڑ رہے تھے اور آپ لوگ بھی انگریزوں کے خلاف آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے تو بوس نے یہاں رہ کر اپنی جدوجہد جاری رکھی، اپنی فوج بنائی۔ انہوں نے ٹوکیو کے ایک سکول میں تقریر بھی کی جس میں میں شامل تھا پھر میری اس سے دوستی ہو گئی۔ وہ ہمارے اس گھر میں بھی آئے تھے اور مجھے لگ رہا ہے کہ اتنے سال گزرنے کے بعد آج وہ دوبارہ آئے ہیں۔ آپ کی شکل میں مجھے یہاں سبھاش جی بیٹھے دکھائی دیتے ہیں آپ کی شکل ان سے کافی ملتی ہے۔“

مجھے سن کر واقعی حیرانی بھی ہوئی اور خوشی بھی کہ میری شکل انڈیا کے ایک عظیم لیڈر سبھاش چندر بوس سے ملتی ہے یہ بھی میرے لیے اعزاز تھا۔ میں نے ان سے کہا: ”انڈین میتھالوجی میں ان کے کئی دیوتا ایسے ہیں جن کے کئی چہرے ہیں اور بے شمار بازو ہیں۔ آپ سمجھیں آج آپ کے ہاں ایسا دیوتا آیا ہے جس کے کئی بازو اور دو چہرے ہیں۔ ایک چہرہ سبھاش چندر بوس کا، ایک چہرہ لعلوانی کا۔“

مسٹر می آتا اس بات پر بہت ہنسے بلکہ سارے گھر والے۔

میں نے کہا: ”می آتا سن۔ آپ کے دل کی طرح آپ کا گھر بھی کافی کشادہ ہے اور اس پر آپ کی لائق فائق بچیاں۔ آپ خوش نصیب انسان ہیں۔“ ہم کافی دیر باتیں کرتے رہے کیونکہ پھر صبح کو ٹوکیو واپس جانا تھا اور اگلے روز وہاں سے نکو شرائن کے لیے روانہ ہونا تھا۔ ادھر تو ہم وقفے کے لیے آئے تھے ہمارے پاس دو دن فالتو تھے۔ سیکوسن نے کہا لگے ہاتھوں میں آپ کو اپنا گھر اور گاؤں کی دکھا لاؤں کہ وہاں پر لوگ کس طرح رہتے ہیں۔ ورنہ تو جاپانی آپ کو ہوٹل پر لے جائیں گے لیکن گھروں میں نہیں لے جاتے۔ ان کے گھر کا ندرونی ماحول دیکھنا پھر حسرت رہتی ہے۔

Facebook Comments HS