دونوں ممالک اور سوشل میڈیا کی خیر ہو
حالیہ پاک بھارت کشیدگی میں حب الوطنی کی دوطرفہ لہر اس قدر بلند ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی تیار کردہ اصطلاح میں اس کو بھی سونامی ہی سمجھا جائے کیونکہ یہ سونامی جس قدر منہ زور ہے، کہیں کونے کھدرے میں دبکا بیٹھا احتیاطی استدلال آج کل صرف بزدلی اور حماقت محسوس ہوتا ہے۔ دونوں ممالک کی تاریخی چپقلش کے دوران ماضی کی جنگیں اطراف کے فوجیوں، سیاستدانوں، سرحدوں کے باسیوں اور گلوکاروں نے لڑی ہیں۔ ہاری ہیں یا جیتی ہیں یہی چار فریق اس دشمنی کے اصل وارث تھے۔ اگرچہ بعد میں ہماری طرف کچھ روحانی ادیبوں اور اہل ایمان صحافیوں نے بھی کریڈٹ لینے کی کوشش کی اور ایسی داستانیں گھڑیں جن میں سبز پوشوں کو چونڈہ اور چھمب جوڑیاں کے تاریخی محاذوں پر دشمن کی توپوں کے گولے کیچ کرتے ہوئے بیان کیا گیا، اور لوگوں اِن کی داستانوں پر یقین بھی کیا۔ کتب بینی کے زوال نے ہمارے اِن پاکباز مصنفین اور مقدس مورخین کو اگرچہ بے اثر کر دیا ہے لیکن ساتھ ہی سوشل میڈیا کی آمد نے اِن کی جگہ ایک نیا اور تعداد میں کہیں بڑا طبقہ بھی پیدا کر دیا ہے جو ہر حوالے سے صحافی ہے اور دونوں ملکوں میں اس کی تعداد تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی ممکنہ جنگ کے تمام تر کوائف، متوقع ہلاکتوں کی تقریباً مصدقہ تعداد، شہروں کی بربادی، جدید ترین فوجی ساز و سامان کی مکمل تفصیلات، فوجی حکمت عملی، سیاستدانوں کی روایتی نا اہلی، بیرونی دنیا کا متوقع ردعمل، ایٹم بم کی ساخت، تابکاری کے پھیلاؤ کا حدود اربعہ بلکہ بعض تو ایسے رحم دل اور حکیمانہ طبیعت کے حامل ماہرین ہیں کہ وہ عوام کو یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ اپنے کپڑے استری کرلو اور اگر میسر ہے تو اپنے ہتھیاروں کو تیل لگا لو کیوں کہ وقت کم ہے۔ کاش آج ہماری طرف منہاج برنا، نثار عثمانی، ضمیر نیازی اور آئی اے رحمن زندہ ہوتے تو اِنہیں ہماری قومی صحافت کی اس ”آزاد بیانی“ اور مہارت پر فخر ہوتا۔
یہ تو کوئی ماہر سیاسیات ہی بتائے گا کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کے سیاسی کلچر کو کتنا تبدیل کیا اور کہاں تک لے آئے لیکن اُن کی اس جدوجہد میں سے جو نئی چیز برآمد ہوئی وہ تھا سوشل میڈیا پر ہر طرف سے کامل ایمان۔ تاریخ سے لے کر مذہب، مسلک، دفاع غرض ہر وہ چیز جو ہمارے ہاں تنازعات کا موجب رہی ہے، اس کے لاتعداد سکہ بند ماہرین کی پیدائش۔ بوقت ضرورت آپ کو شاید پلمبر یا الیکٹریشن میسر نہ ہو لیکن ہر جگہ ہر گھر میں آپ کو سوشل میڈیا ماہر آسانی کے ساتھ مل جائے گا بلکہ ہو سکتا ایک چھت کے نیچے کئی ماہرین بیک وقت موجود ہوں۔ جب ہر چیز سوشل میڈیا ماہرین کی مرہون منت ہے تو کیوں نہ ریاست ایک نیا بڑا محکمہ شروع کرنے کا اعلان کردے جس میں اِن میسر ماہرین کو شامل کیا جائے اور مقابلے کے امتحانات اور ریکروٹمنٹ کے دیگر مشکل مراحل سے جان چھڑا لی جائے تاکہ آسانی ہو۔ جب ایک ریاست کے لیے درکار ہر قسم کی مہارت اور ذہانت سوشل میڈیا کے بطن سے پیدا ہونی ہے اور حیران کن طور پر ریاستوں نے خود اس پر عمل پیرا ہونا ہے تو سرکاری محکموں کا اتنا مہنگا جنجال پالنے کا کیا فائدہ؟
مجھے کل ہی معلوم ہوا کہ پاک بھارت جنگ محض اس لیے رکی ہوئی ہے کہ بھارت میں آئی پی ایل اور ہمارے ہاں پی ایس ایل نامی کرکٹ میلے چل رہے ہیں۔ جیسے ہی کرکٹ کے میدان ٹھنڈے ہوں گے جنگ کا میدان گرم ہو جائے گا۔ وجہ یہ ہے کہ دونوں ممالک بھلے ہی جنگ میں ایک دوسرے کو تباہ کر دیں، کرکٹ کو ہر صورت بچانا چاہتے ہیں۔ یقین کریں مجھے کرکٹ سے محبت ہو گئی ہے کہ شاید یہ وہ واحد فرنگی کھیل ہے جو انسانوں سے لبالب بھرے ہوئے اس خطے کو چاہے تھوڑی دیر کے لیے ہی کیوں نہ ہو، تباہی سے بچانا چاہتا ہے۔ دل کرتا ہے کرکٹ کے موجد صلیبی کے درجات کی بلندی کی دعا کروں لیکن پھر سوشل میڈیا ملاؤں سے ڈر لگتا ہے کہ کہیں قتل کا فتوی ہی نہ جاری کر دیں۔ پھر یہ خیال بھی آتا ہے کہ جنگ میں تاخیر کی یہ کرکٹ تھیوری کہیں اس لیے تو تیار نہیں کی گئی کہ سوشل میڈیا دانشوروں کی پیشین گوئیاں سچ ثابت ہونے میں بہت زیادہ وقت لے رہی ہیں۔ کچھ بھی ہو کرکٹ پھر بھی زندہ باد جو ابھی تک خطے کو جنونیوں سے کسی حد تک بچائے ہوئے ہے۔
کبھی ہمارے ہاں قومی ترانوں میں یہ رواج رہا ہے کہ وطن پرستی کو محبت اور زندگی کی رنگارنگی سے سجا کر پیش کیا جاتا۔ جیسے چاند میری زمیں پھول میرا وطن، سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم آباد تجھے وغیرہ۔ لیکن اب یہ رواج بدل گیا ہے اور قومی ترانے دراصل جنگی ترانوں میں ڈھل گئے ہیں، یعنی آپ جتنے جنگ پسند ہوں گے اُتنے ہی محب وطن بھی۔ اگر آپ وطن سے محبت کرتے ہیں لیکن جنگ سے نفرت کرتے ہیں تو آپ کی حب الوطنی مشکوک ہے بلکہ جعلی ہے۔ یوں محبان مجادلہ کے درمیان رہتے ہوئے صلح جوئی کا منجن بیچنا ایک خطرناک کھیل ہے اور ایسا کرنا جان پر کھیلنا ہی ہے۔
حیرت اس بات پر نہیں کہ سوشل میڈیا نے اس قدر تیزی کے ساتھ کیوں اپنے آپ کو منوا لیا ہے، حیرت اس بات کی ہے کہ سوشل میڈیا کا استعمال اس قدر منفی اور تباہ کُن کیوں بنتا جا رہا ہے؟ ہر وہ صحافی، ادیب، مذہبی لیڈر، سیاستدان جو پہلے کسی حد تک معقول لگتا تھا، سوشل میڈیا پر اتنا مسخ شدہ کیوں محسوس ہوتا ہے؟ شاید یہ وجہ ہے کہ سوشل میڈیا اس قدر عجلت کا کام ہے کہ لوگوں کو سوچنے اور تیاری کا موقع ہی نہیں دیتا اور وہ اپنی اصلی حالت اور ذہنی کیفیت کے ساتھ سامنے آ جاتے ہیں؟ سوشل میڈیا کے اس پہلو کو البتہ سراہا جانا چاہیے کہ اس نے بڑے بڑے بت توڑ دیے ہیں اور لاتعداد بظاہر معزز نظر آنے والوں کے مکھوٹے نوچ ڈالے ہیں۔ اگر حسیات کو جگا کر کسی معمول کے کام کے لیے بھی گھر سے باہر نکلا جائے تو ہر طرف مرنے مارنے پر تیار لوگ نظر آتے ہیں، شدت سے جنگ کے طلبگار، مخالف مسالک کے ساتھ آخری معرکے پر تُلے ہوئے مجاہدین، سیاسی نفرت اور بیزاری سے لبالب بھرے ہوئے عام لوگ، یا اللہ یہ ماجرا کیا ہے؟
اب اس بات سے خوف محسوس ہونے لگا ہے کہ اس قدر کوشش اور تگ و دو کے بعد بھی اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ ٹل جاتی ہے تو ہم کہیں کے نہیں رہیں گے۔ سوشل میڈیا دانش وروں کی اکثریت کو کوئی دوسرا کام بھی نہیں آتا، جتنی آسانی اور بغیر کسی قسم کی ایڈیٹنگ کے وہ جو کام کر رہے تھے اور مال بنا رہے تھے، وہ کیا کریں گے؟ اب دونوں ممالک کی لیڈرشپ پر یہ بات آن پڑی ہے کہ یا تو وہ اپنے اپنے عوام، اثاثوں اور ممالک کو بچا لیں یا پھر سوشل میڈیا جنگجوؤں کا بھرم رکھ لیں۔ میزائل پر میزائل ٹیسٹ ہو رہا ہے اور سرحد پار بیٹھے سوشل میڈیا دانشور ہر صورت میں پاکستان کو سبق سکھانا چاہتے ہیں۔ میری اللہ سے دعا ہے کہ دونوں ممالک اور سوشل میڈیا والوں کو بچا لے اور کچھ نہیں تو مایوسی کی فضا میں بھی ایک شغل کا سا سماں رہتا ہے۔


