تخلیقی اقلیت (حصہ دوئم)
” تخلیقی اقلیت“ انگریزی کتاب : CREATIVE MINORITY کا اردو ترجمہ ہے۔ ماہِ رواں میں پاکستان سے شائع ہونے والی ڈاکٹر خالد سہیل کی 488 صفحات پر مشتمل تصنیف کا ترجمہ میں نے گزشتہ دو برس میں مکمل کیا۔ ان سالوں کے دوران مجھے ایک جذباتی بحران کا بھی سامنا تھا مگر اس قدر ذہنی دباؤ کے عالم میں ترجمے کا عمل میرے لیے اعصابی آسودگی کا باعث بنا۔ گویا اس کتاب نے نہ صرف میرا ذہنی کیتھارسس CATHARSIS کیا بلکہ سیکھنے کے لیے مجھے بہت کچھ دیا۔ میں نے ترجمے کے لیے اس کتاب کا انتخاب کیوں کیا۔ اس کی تفصیل آپ کو اگلی سطور میں ملے گی۔ ترجمے کے عمل کے دوران اس کتاب میں موجود شخصیات کی سوانح ہائے حیات کے مطالعے کے ذریعے میں نے ان افراد سے ایک قسم کی تصوراتی ملاقاتیں کیں۔ جن سے مجھ پر درج ذیل انکشافات ہوئے :
ا۔ ہر انسانی بچہ ایک تخلیقی بیج اپنے اندر لے کر پیدا ہوتا ہے۔ بچے کے والدین، اساتذہ اور معاشرے کا یہ فرض ہے کہ وہ بچے کی تخلیقی صلاحیتوں کی جانکاری رکھیں اور اس کے بیج کو ایک صحت مند، پھل دار اور سایہ دار درخت بننے کے لیے ساز گار ماحول فراہم کریں۔ جیسا کہ ایک انگریزی مقولہ ہے، IT TAKES A VILLAGE TO RAISE A CHILD۔ سازگار ماحول ملنے پر تخلیقی اذہان عظیم شاہکار پیدا کرتے ہیں۔ فن پارے تخلیق ہوتے ہیں، سائنسدانوں کے ذریعے دنیا کو نئی سائنسی ایجادات ملتی ہیں جو انسانوں کی زندگیوں کو سہل بناتی ہیں عظیم قومی رہنماؤں کے ذریعے قوموں کی تقدیریں بدلتی ہیں۔ اگر بچے کو سازگار ماحول نہیں مل پاتا تو اس کی تخلیقی ذات اور باہر کے روایتی ماحول کے درمیان تصادم کی سی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے۔ اور ایسا اکثر ہوتا ہے۔ اب اگر بچے کا تخلیقی بیج طاقتور ہے تو وہ مرتا نہیں بلکہ کچھ دیر کے لیے دب جاتا ہے اور کچھ عرصے بعد وہ اپنا آپ ظاہر کرتا ہے۔ پھر ماوزے تنگ، نیلسن مینڈیلا، فریڈرک نطشے، کارل مارکس، آن سٹائن، نیوٹن، چارلس ڈارون، بلہے شاہ، فیض احمد فیض اور سعادت حسن منٹو جیسے نابغے پیدا ہوتے ہیں۔
ب۔ کوئی بڑا کارنامہ سر انجام دینے کے لیے کثیر وسائل کی نہیں بلکہ اعلیٰ سوچ، لگن اور لگاتار محنت کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ کہ جذبہ محرکہ، ارادے کی پختگی اور منزل کے ساتھ اخلاص ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔
ج۔ منزل کے حصول کی جنگ میں ہمیشہ حوصلہ جیتتا ہے۔ ہتھیار نہیں۔
د۔ تخلیقی افراد کیسے ہوتے ہیں ان اشخاص کی پہچان کیا ہے؟
تخلیقی شخصیات درج ذیل اوصاف اپنے اندر رکھتی ہیں :
( 1 ) تخلیقی شخصیات کا سب سے اہم اور اولین وصف جو میرے مشاہدے میں آیا ہے وہ ان کا اپنے ماحول کے حوالے سے نہایت حساس ہونا ہے۔ ماحول خواہ قریبی افراد سے ترتیب پاتا ہو، جذبات سے متعلق ہو یا سماج اور معاشرے کا بنایا ہوا ہو، ان افراد پر اثرانداز ہوتا ہے۔ یہ لوگ بہت سُرعت سے ہنس بھی دیتے ہیں اور ہنسا بھی دیتے ہیں، رو بھی سکتے ہیں اور رُلا بھی سکتے ہیں۔
( 2 ) تخلیقی شخصیات تنہائی پسند ہوتی ہیں۔ جو لوگ بذاتِ خود تخلیق کار ہیں وہ اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ تخلیقی عمل نہایت ذاتی تجربہ ہے۔ اسی لیے تخلیقی افراد طویل عرصے کے لیے الگ تھلگ رہنا چاہتے ہیں تاکہ اپنی تخلیقیت کی آبیاری کر سکیں۔ وہ اسی تنہائی میں مزے سے رہ رہے ہوتے ہیں جس سے عام لوگ خوف کھاتے ہیں۔ تخلیقی لوگ اکیلے ہوتے ہوئے بھی تنہا محسوس نہیں کرتے۔ تنہائی کے انہی قیمتی لمحات میں تخلیقی لوگ اپنی باطنی ذات سے ملاقات کرتے ہیں، اپنی ذات کی بلندیوں اور گہرائیوں تک پہنچتے ہیں اور اپنے لاشعور سے مربوط ہو کر تخلیقیت کے پوشیدہ خزانوں تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔
( 3 ) تخلیقی شخصیات اپنے ذریعہِ اظہار کے عشق میں مبتلا ہوتی ہیں۔ ذریعہ اظہار کوئی بھی ہو، الفاظ ہوں یا رنگ، آواز ہو یا ساز، نظریات ہوں یا تصورات، نفسیاتی کیفیت ہو یا سماجی حقیقت، تخلیقی شخصیت اس ذریعہ اظہار کے سحر میں مبتلا ہوتی ہے۔ وہ آغازِ بچپن سے ہی اپنے ذریعہ اظہار میں دلچسپی رکھتی ہیں اور ان کی پراسراریت میں نہ صرف محو ہوتی ہیں بلکہ اس سے کھیلتی رہتی ہیں۔ اس کا آغاز تو ایک مشغلے کی صورت ہوتا ہے مگر بعد میں ان کو پتہ چلتا ہے کہ وہ کوئی ناول، فن پارہ یا کوئی اور شاہکار تخلیق کر سکتے ہیں۔
( 4 ) تخلیقی شخصیات کے ساتھ بسرام کرنا دُشوار ہوتا ہے۔ تخلیقی شخصیات دُور سے جتنی بھی دلکش اور دلچسپ نظر آتی ہوں ان لوگوں کے ساتھ رہنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اس کی وجہ ان کا انوکھا رویہ اور غیر معمولی طرز زندگی ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اکثر تخلیقی بچوں اور بڑوں میں صاف رہنے کا رجحان نہیں ہوتا۔ ان کے رہائشی کمرے کثیف اور دفاتر بے ہنگم ہوتے ہیں۔ تخلیقی اشخاص کی کھردری عادتیں ان کے ساتھ رہنے والے افراد کے لیے مصیبت بنی رہتی ہیں۔ اس کے علاوہ تخلیقی افراد وقت کی پرواہ نہیں کرتے۔ بہت سے تو ایسے بھی ہیں جو گھڑیاں تک نہیں باندھتے۔ یہ عموماً دیر کر دیتے ہیں۔ ان کے دوست احباب اور قرابت دار ان کا گھنٹوں انتظار کرتے ہیں مگر یہ وقت پر نہیں پہنچ پاتے حتیٰ کہ بھول بھی جاتے ہیں۔ لہٰذا تخلیقی افراد اور ان کے دوستوں رشتہ داروں کے مابین ہر وقت کوئی نہ کوئی تنازعہ کھڑا رہنا حیرانی کی بات نہیں۔
( 5 ) تخلیقی شخصیات حیرت کدہ ِفطرت میں بہت دلچسپی لیتی ہیں۔ اور فطرت میں محویت، توجہ اور دلچسپی ان کی شخصیت میں پراسراریت کا عنصر پیدا کر دیتی ہے۔ وہ ان کرشماتِ فطرت میں دلچسپی لینا شروع کر دیتے ہیں جن کو دیگر افراد مافوق الفطرت سمجھ کر قبول کیے ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر سائنسداں اپنی خوردبین اور دوربین کے ساتھ قوانین فطرت دریافت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جبکہ فنکار، لکھاری اور فلسفی انسان کی کیفیات کے اسرار معلوم کرتے ہیں۔ تخلیقی شخصیات میں ساری زندگی ایک بچے کی سی معصومیت برقرار رہتی ہے۔ وہ ہر وقت سچ کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں۔ یہ سچ ذاتی بھی ہو سکتا ہے سماجی بھی، قومی بھی اور عالمگیر بھی۔
( 6 ) تخلیقی شخصیات روایات و رسوم کو چیلنج کرتی ہیں اور اکثر مروجہ نظم و ضبط کے نظام کو مسترد کرتی ہیں۔
اب یہاں پر تخلیقی عمل کی چند مثالیں دیے بغیر میرا مضمون نامکمل رہے گا :
سن 2000 ء میں، جب میں پہلی دفعہ ناروے گیا تو میں نے اوسلو میں تخلیقیت کے دو زندہ کرشمے دیکھے۔ پہلا ”ونج لینڈ پارک“ تھا، جس کے اندر گستاف ویجلینڈ GUSTAV VIGELAND ( 1869۔ 1943 ) نامی مجسمہ ساز کے 200 سے زائد کانسی، گرینائٹ اور لوہے سے بنائے گئے مجسمے نصب ہیں۔ ان میں سب سے بڑا مجسمہ گرینائٹ کی ایک بڑی چٹان کو تراش کر اس طرح بنایا گیا ہے کہ 121 افراد آپس میں مدغم ہیں۔ MONOLITH نامی اس مجسمے کی اونچائی 46 فٹ ہے۔ مجسمہ سازی کا یہ شاہکار انسانی زندگی کے چکر (CYCLE ) اور دنیا میں بسنے والے مختلف رنگ و نسل کے افراد کے لیے آپس میں ہم آہنگی، بھائی چارے اور محبت کا پیغام دیتا ہے۔ دوسرا فن پارہ ”فریم“ نامی باد بانی کشتی تھا۔ جو اپنی اصلی حالت میں فریم نامی میوزیم میں نصب ہے۔ یہ وہ بحری ناؤ ہے جس کے ذریعے فریدوف نینسن اور رولڈ امینڈسن نامہ مہم جوؤں نے 1893 سے 1912 کے دوران قطب شمالی اور قطب جنوبی پر پہنچنے کے لیے تین کوششیں کیں اور پہلی دفعہ قطب شمالی اور قطب جنوبی کو سر کیا گیا۔
سائنس کے شعبے میں چارلس ڈارون کے نظریہ ارتقاء، نیوٹن کے کشش ثقل اور حرکت کے قوانین، آئن اسٹائن کے نظریہ ہائے اضافیت اور سرب۔ امریکی موجد، انجینئر اور سائنسدان نیکولا ٹیسلا، جنہیں بجلی اور مقناطیسیت کے میدان میں انقلابی کام کے لیے جانا جاتا ہے۔ قابلِ ذکر ہیں۔ اُن کے مشہور کارناموں میں اے سی (AC) کرنٹ کا نظام، ٹیسلا کوائل، اور وائرلیس کمیونیکیشن کی ایجادات سائنسی تخلیقات کی صرف چند جھلکیاں ہیں۔ جبکہ پاکستان کے واحد نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام کا نام اپنا تعارف آپ ہے۔
مصوری کے شعبے میں صادقین، لیونارڈو ڈاؤنچی اور و نسٹ واں گوگ کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ فلسفے کے میدان میں فریڈرک نطشے نے THUS SPOKE ZARATHUSTRA، لیو ٹالسٹائی نے WAR AND PEACE اور جارج ہیگل نے PHENOMENOLOGY OF SPIRIT تخلیق کر کے انسانی شعوری ارتقاء میں اہم پیش قدمی کی اسی شعبے میں کارل مارکس کی ”داس کیپیٹل“ نے دنیا کے بیسویں صدی کے معاشی و سماجی نظام میں انقلاب برپا کر دیا تھا۔
تخلیقی لکھاریوں میں اسد اللہ خاں غالب، رابندر ناتھ ٹیگور، ولیم شیکسپیئر، علامہ اقبال، پابلو نیرودہ، فیض احمد فیض اور سعادت حسن منٹو کی تخلیقی اونچائی کو دیکھتے ہوئے انسان اپنے آپ کو بونا محسوس کرتا ہے۔
ہمیں اپنی بچوں کو تخلیقی اقلیت جیسی کتابیں تحفے کے طور پر پیش کرنی چاہئیں تاکہ تخلیقی شخصیات کی زندگیوں کے مطالعے سے ان کے سینے روشن ہوں ان کے ذہنی اُفق بلند ہوں اور ہمارے مستقبل کو امن آشتی اور محبت سے لبریز اذہان میسر آ سکیں۔
میرے ترجمے کی کمپوزنگ اور تدوین کا سہرا ربیعہ طارق کے سر پر سجتا ہے۔ اردو ادب میں ایم فِل، شعبہِ تدریس سے وابستہ ہونہار ربیعہ میری قلمی دوست ہیں۔ ہماری کبھی ملاقات نہیں ہوئی مگر ہمارے درمیان مختلف موضوعات پر ہم خیالی کے باعث ایک گہری فکری دوستی ہے۔ میں نے جب ان سے ”تخلیقی اقلیت“ کے ترجمے کو کمپوز کرنے کی درخواست کی تو انہوں نے بخوشی حامی بھر لی۔ ان کو بھی یہ کتاب پسند آئی اور انہوں نے بڑے شوق اور لگن سے میرے ساتھ قدم ملا کر اس کی کمپوزنگ کی۔ اس دوران ربیعہ نے نہ صرف مسودے کی اغلاط کی نشان دہی کی بلکہ مجھے مفید مشورے بھی دیے۔ ان کا شکریہ ادا کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ ”تخلیقی اقلیت“ کو آواز پبلیکیشنز کے ندیم اعجاز صدیقی نے راولپنڈی سے شائع کیا ہے۔ میرے ساتھ مل کر کتاب کا کور ٹائٹل بنوایا جو بہت خوُبصورت ہے اور کتاب کا کاغذ اور کتابت لاجواب ہے۔ پاکستان میں ”تخلیقی اقلیت“ طلب کرنے کے لیے ندیم اعجاز صدیقی صاحب سے اس وٹس اپ نمبر پر رابطہ کیا جا سکتا ہے : ”03005211201“ ۔ کتاب کی تقریبِ رُونمائی کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں ادبی تنظیم ”فیملی آف دی ہارٹ“ کے زیرِ انتظام 13 جولائی 2025 کو منعقد ہو نا قرار پائی ہے۔ جس میں ادبی اکابرین اور محققین ”تخلیقی اقلیت“ پر اظہارِ رائے کریں گے۔






