اوہام کی دنیا
ہمارے بچپن میں وہمی حضرات کے لطیفے جرائد اور ادبی رسالوں میں چھپا کرتے تھے اور انہیں پڑھ کر چھوٹے بڑے محظوظ ہوتے۔ اس وقت شاید ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ وہم معاشرہ کے لیے کس قدر مہلک رجحان ہو سکتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہم یا وہمی نام کا موضوع معدوم ہوتا گیا۔ قرین قیاس ہے کہ ہم نے من حیث قوم اوہام کی اساس پر اپنی اپنی دنیا بسا کر وہم کو زندگی کی ایک نارمل خصوصیت یا اہم ضرورت قرار دے کر اور حقیقت سے نظریں چرا کر اپنے اپنے اوہام کی تسکین کو ہی حاصل دنیا یا زندگی کا مقصد قرار دے دیا ہو۔
وہم خالصتاً ماہرین نفسیات یا دماغی امراض کے ماہرین کا موضوع ہے۔ حالات کی ستم ظریفی کہہ لیں کہ وہم ماہرین نفسیات سمیت بیشمار اور لوگوں کے لیے بھی ایک انڈسٹری کی حیثیت رکھتا ہے یعنی جتنا زیادہ وہم اتنا زیادہ مال۔ عام طور پر ماہرین نفسیات کا سیاست سے بھی کچھ لینا دینا نہیں ہوتا اسی لیے ”ذہنی امراض کے سیاست پر اثرات وغیرہ“ ٹائپ کے مضامین بھی دیکھنے کو نہیں ملتے۔ سیاسی کارکن کے طور پر راقم کی زیادہ تر زندگی اپنے اور اپنے سیاسی ساتھیوں اور حلیفوں کے واہموں سے لڑنے میں گزر چکی ہے۔ ایک وہم ابھی ختم نہیں ہوتا تو اگلا وہم شروع ہو چکا ہوتا ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے اکثر دوستوں اور اساتذہ کی زندگیاں اور توانائیاں اپنے ساتھیوں کے وہموں سے لڑتے لڑتے ہی صرف ہو گئیں اور انہیں سیاسی سسٹم کی غلطیوں سے لڑنے کی مہلت ہی نہ مل سکی بقول اقبال ”حقیقت خرافات میں کھو گئی“ ۔ وہم اور اس سے جنم لینے والی دوسری نفسیاتی بیماریاں اور پھر ان کی کرشمے سازیاں سیاست اور زندگی کو کس طرح پراگندہ کرتیں ہیں آج کے کالم میں اس کا عمومی جائزہ لیتے ہیں۔
ماہرین نے وہم کو اپنے اپنے انداز اور سمجھ کے مطابق مختلف الفاظ اور زاویوں سے بیان کیا ہے۔ آسانی اور الفاظ میں غیر ضروری طور پر الجھنے سے بچنے کے لیے ہم دنیا کی مستند لغات میں درج وہم کی مختلف تعریف و تشریحات اور مترادف پر ہی توجہ کو مرکوز رکھیں گے۔ فریب نظر، غلط تاثر قائم کرنا، غلط خیال پر یقین کر لینا، ایسا خیال یا یقین جو حقیقت پر مبنی نہ ہو، حقیقت کا غلط ادراک، غلط فہمی، سراب نظر، حقیقی تجربہ سے غلط نتائج اخذ کر لینا، خوش فہمی یا خوش گمانی، نا سمجھی وغیرہ جیسے الفاظ وہم یا اس کے مترادف کے زمرے میں آسکتے ہیں۔ ان تمام تجربات سے عام انسان روزانہ کی بنیاد پر گزرتا ہے جو کہ ایک نارمل بات ہے۔ ”صورتحال اس وقت خطرناک یا مزاحیہ ہو سکتی ہے جب انسان اپنے غلط خیال و گماں یا فہم پر یقین کامل کرتے ہوئے عملی اقدامات کرنا یا نہ کرنا شروع کر دے“ ۔ مثال کے طور پر ہماری ایک جاننے والی خاتون جو نوجوانی میں خوش شکل، نیک سیرت اور اچھے گریڈ کی سرکاری نوکری جیسی نعمت سے مالا مال تھیں۔ بدقسمتی سے وہ نوجوانی میں بیوہ ہو گئیں۔ عدت وغیرہ کے بعد ان کے لیے مناسب رشتے بھی آنا شروع ہو گئے۔ اسی دوران میں کہیں کسی وقت ان پر القا یا منکشف ہوا کہ وہ ایک درویش، ملنگنی یا مست ہیں۔ چنانچہ راہبانیت کا تمام بوجھ اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھا کر آئے ہوئے تمام رشتوں کو ٹھکرا دیا یا چلتا کر دیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ قریبی احباب کی فوتیدگی اور ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد ان کے معاشی و سماجی حالات خاصے دگرگوں ہیں گویا ”ڈبویا مجھ کو ہونے نے“ ۔ جناب ایدھی صاحب (مرحوم) کو مرتے دم تک یہ وہم رہا کہ وہ 24 گھنٹے کے اندر اندر ملک میں انقلاب برپا کر سکتے ہیں اور جناب خان صاحب نے اسی وہم کو فلسفہ جان کر منطق قائم کر لی کہ چندے سے اگر انقلاب آ سکتا ہے تو ملک یا معیشت کو چلانا تو معمولی بات ہے۔ وہم خالصتاً دماغی بیماری ہے یا شعور، لاشعور اور تحت شعور کی اندرونی جمع تفریق کی غلطی ہے اس کا فیصلہ ہم کلی طور پر ماہرین پر چھوڑ کر اپنے اصل مدعا کی طرف آتے ہیں۔
وہم بذات خود ایک بیماری ہے ہی مگر یہ مزید اور مہلک نفسیاتی بیماریوں کی ابتدا ء بھی ہے۔ بلا وجہ کے شکوک و شبہات، ڈر، خوف اور لالچ، شیزوفرینیا، احساس برتری و کمتری، حد سے زیادہ خود اعتمادی اور خود بے اعتمادی، ایسی محسوسات کہ لوگ میرے خلاف ہیں اور میرے خلاف سازشیں کر رہے ہیں، پولیس اور ایجنسیاں میرے پیچھے لگی ہوئی ہیں، محض میرا کمبل چوری کرنے کے لیے سارا میلہ سجایا گیا، ساتھیوں پر بے وفائی کا شک، مثبت سوچ اور کاموں سے پرہیز، ناکارہ پن، دوست اور دشمن، نفع و نقصان، اچھے اور برے، غیرت اور بے غیرتی کے درمیان تمیز نہ کر سکنا، ”ابھی تو میں جوان ہوں“ وغیرہ۔ یہ تمام بیماریاں وہم کی ہی اگلی یا مختلف شکلیں ہیں۔ بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں مکمل پاگل پن کی نوبت بھی آ سکتی ہے۔
وہم کا مریض پہلے اپنے آپ کے لیے مصیبتیں کھڑی کرتا ہے اس کے بعد اپنی وہم زدہ سوچ کو دوسرے یا قریبی لوگوں پر مسلط کر کے ان کی زندگیوں سے کھیلنے بھی لگتا ہے یہاں تک کہ پورا معاشرہ ہی بیمار معاشرہ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ راقم کو عملی زندگی میں جتنے بھی پاگل اور جرائم پیشہ افراد کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا وہ مندرجہ بالا نفسیاتی یا وہمی رجحانات کی اکثریت کا شکار تھے۔
آج کی دنیا ایک ”عالمگیر وہم“ پر کھڑی نظر آتی ہے کہ دولت مند آدمی ہی طاقتور، تعلیم یافتہ اور عقل مند بھی ہوتا ہے۔ وہم کے اس آسیب نے پوری دنیا کو اس طرح سے لپیٹ لیا ہے کہ امیر آدمی تو ایک طرف غریب اور باشعور لوگوں نے بھی یقین کر لیا ہے کہ دولت ہی طاقت، عقل اور ہر قسم کے مسائل کے حل کا سرچشمہ ہے۔ معمولی با اثر افراد کو بھی اگر غور سے دیکھا جائے تو وہ بھی چند عدد واہموں کا شکار ضرور نکلتے ہیں۔
جنگ عظیم دوئم اور اس کی تباہی ماضی قریب کی بات ہے۔ ہٹلر کی تمام تر سوچ اور جنگی حکمت عملی محض چند اوہام پر کھڑی نظر آتی ہے۔ مثال کے طور پر ہٹلر کامل یقین رکھتا تھا کہ جرمن افواج دنیا کو فتح کر سکتی ہیں، جرمن قوم دنیا کی عظیم ترین قوم ہے جسے دنیا پر حکومت کرنے کا حق حاصل ہے، جرمنی کے غیر جرمن باشندے یا جو نسلی طور پر جرمن نہیں تھے جرمنی کے خلاف دن رات سازشوں میں مصروف ہیں وغیرہ۔ بعد میں یوگنڈا کے عیدی امین بھی اسی طرح کے واہموں کا شکار ہوئے اور 24 گھنٹوں کے اندر تمام غیر ملکی باشندوں کو ملک سے نکال باہر کیا گیا۔ اس بعد لیبیا کے کرنل قذافی نے بھی اسی طرح کے اقدامات کیے۔ اوہام کا یہ بھوت انسانی و شہری اور جمہوری حقوق کے تمام معاہدات اور اعلامیوں کو پس پشت ڈال کر آج کل امریکہ میں سرگرم ہے اور انسانی آزادیوں اور حقوق کا علمبردار امریکہ ایک جیل یا پولیس سٹیٹ میں تبدیل ہونے جا رہا ہے۔ جناب ٹرمپ کو شاید یہ معلوم ہی نہ ہو کہ تارکین وطن، خواتین سے چھیڑ خانیوں، نسلی و مردانہ تخافر کے معاملات میں وہ عیدی امین کے ہم پلہ ہو چکے ہیں۔ ویسے خواتین سے چھیڑ خانیوں کے معاملے میں جناب عیدی امین کا معیار خاصا بلند تھا۔ پانچ یا چھ سال قبل روس کے صدر پیوٹن کے ایک بیان کے مطابق کہ ”یورپ نے روس کو عزت کا وہ مقام نہیں دیا جس کا وہ حقدار ہے“ ۔ لہذا اب یوکرائن کے نہتے عوام پر دن رات بمباری کر کے روس اپنے کھوئے ہو ”مقدس مقام“ کے حصول کی جدوجہد میں ہمہ تن ہے۔ وہم کی اس دوڑ میں انڈیا بھی کسی سے کم نہیں جناب نہرو سے لے کر مودی تک کے تمام قومی راہنماء اس وہم کا شکار رہے کہ ”انڈیا ایک سپر پاور اور سیکولر ریاست ہے“ ۔ پاکستان کے حکمرانوں کے اوہام کا ذکر ہم جان بوجھ کر نہیں کر رہے۔ مختصر یہ کہ جس بھی ایوان اقتدار کی کسی بھی دور میں تفصیلی تلاشی لیں وہاں سے کم از کم ایک عدد ”بابا“ تو ضرور برآمد ہو جائے گا۔
دوسری طرف اہل شعور کا عالم یہ ہے کہ عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی اور عقل سمجھی ہی نہیں معنی پیغام ابھی (اقبال) ۔ سائنسی سوچ کے ساتھ ترقی پسند نظریات اور سماجی علوم سے جانکاری، وسیع مطالعہ اور عمیق مشاہدہ، سماجی ترقی کے عمل میں شراکت داری، سماجی جڑت و مکالمہ، حقیقت پسندی پر مبنی ادب اور مظاہر فطرت کی مادی تشریحات کے مطالعہ سے ہی ہر قسم کے وہم و اوہام سے ناصرف خود کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے بلکہ معاشرہ کو بھی درست سمت دی جا سکتی ہے۔
اوہام کا شکار ہر اک دیدہ ور ہے آج
مارا ہوا خرد کا ضمیر بشر آج
ماحول تیرگی کے سوا کچھ نہیں کہیں
ظلمت میں شب کی قید نمود سحر ہے آج
اہل خرد جو چپ ہیں تو اہل جنوں خموش
مفلوج و پائمال دماغ کثیر ہے آج
کس رہگزر پہ جائیں کریں کسی جگہ قیام
پتھراؤ چار سمت سے ہر راہ پر ہے آج
جگنو سے نور پھیل گیا ہے بسنتؔ کچھ
ظلمت پہ شب کی ہم کو فریب سحر ہے آج
(بسنت لکھنوی)


