پاک بھارت بھائی چارہ
عجیب ہے نا جب سے جنگ کا لفظ سنا ہے پاکستانی عوام نے سوشل میڈیا پر مزاح نگاری کی بمباری کر دی ہے۔ کوئی جنگ جیتے یا ہارے، جنگ اچھی نہیں ہوتی۔ اور نقصان ہمیشہ عوام کا ہوتا ہے خواص کا نہیں۔ ریاستی فیصلوں کا خمیازہ عوام بھگتی ہے۔ گھر جلتا ہے عوام کا، موت آتی ہے تو عوام کو ورنہ امرا کے ایوان تو سجے ہی رہتے ہیں۔ وزرا تو محفوظ ہی رہتے ہیں۔
اور المیہ یہ ہے کہ عوام کے دل اکثر ایک دوسرے کے قریب ہی ہوتے ہیں۔ ملک سے باہر پڑھنے کا اتفاق ہوا تو بہت سے بین الاقوامی طالب علم بھی مختلف شعبہ ہائے درس میں زیر تعلیم تھے جن کے ساتھ رہنے کا ملنے کا بات کرنے کا اتفاق ہوا۔ پاک بھارت کا لفظ ساتھ آتے ہی باقی ملک کے باشندے ایسا سوچتے ہیں کہ جہاں ایک پاکستانی اور ایک ہندوستانی ہو گا تو ایک دوسرے کو دیکھتے ہی دست و گریباں ہو جائیں گے۔ لیکن ایسا ہوتا نہیں۔ میں یونیورسٹی میں اکیلی پاکستانی اور دو سو کے قریب انڈین، البتہ سب سے دوستی تو نہیں تھی، لیکن بہت سوں سے دوستی رہی۔ پیار بانٹا اور پیار سمیٹا۔ ملک واپس آ کر بھی رابطے میں رہے اور تعلق بحال رہا۔ پاک بھارت جنگ کی فضا گرم ہوئی ہی تو بہت سی memes بنیں جنہیں شیئر کیا تو ہنسی کا طوفان ہندوستانی دوستوں کی طرف سے بھی نہیں رکا۔
آج انار کلی سے ناشتا کیا اور دہلی دروازے پہنچ گئے اندرون کی المشہور عثمان کی بیٹھک میں۔ عمارت زیر تعمیر ہونے کے سبب دس منٹ انتظار کا کہا گیا تو ہم تنگ و تاریک گلیوں کی سیر کرتے باہر نکلے اور پہنچے مسجد وزیر خان۔ خوبصورت نقش و نگار سے مزین مغلیہ فن تعمیر کا اعلیٰ نمونہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ نفیس کاشی کاری اور چھوٹی سرخ اینٹوں سے بنی یہ مسجد ایک پرسکون احاطہ ہے۔
مسجد سے باہر آئے تو سوچا چائے پی جائے۔ چائے پی تو حسب عادت تصویر بھی بنا لی۔ اور عادت سے مجبور فیس بک پر بھی ڈال دی۔ اور نیچے از راہ تفنن لکھ دیا ”ہم دہلی پہنچ گئے، چائے پینے۔ اور چائے بھی Fantastic تھی۔ وہی بھارتی دوست بھی دیکھا کیے اور ایک نے ہنستے ہوئے کہا واہ دہلی کے نام کا دروازہ لاہور میں بھی بن گیا۔ میں نے تفصیل سے بتایا کہ لاہور کے بارہ دروازے ہیں جن میں سے ایک دہلی دروازہ ہے۔ جو آج کل ایک کپڑا مارکیٹ (اعظم مارکیٹ) اور وہاں موجود کئی بیٹھکوں کی وجہ سے مشہور ہے۔
وجہ بولی کہ بچپن میں مجھے لگتا تھا لاہور انڈیا میں ہے۔ اور جب بڑے ہو کر پتہ چلا لاہور پاکستان میں ہے تو شدید افسوس ہوا۔ دل میں ایک فاتحانہ ہنسی ابھری ہو اور اچانک خشونت سنگھ کا وہ مشہور واقعہ یاد آ گیا جو کچھ یوں ہے :
کسی نے خشونت سنگھ سے پوچھا ”سردار جی آپ یہ فرمائیں کہ لاہور اور دلّی میں کیا فرق ہے۔ خشونت نے سر ہلا کر کہا بھئی جب میں لاہور گیا تو مجھے کنیئرڈ کالج میں مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا۔ تقریر کے دوران میں نے ہال میں براجمان سینکڑوں لڑکیوں میں سے کسی ایک ایسی لڑکی کو تلاش کرنا چاہا جو شکل کی اچھی نہ ہو۔ ایک بھی نہ تھی۔ پچھلے ہفتے میں یہاں دلّی کے ایک گرلز کالج میں بلایا گیا تو تقریر کرتے ہوئے میں نے ہال میں بیٹھی ہوئی لڑکیوں میں سے کسی ایک ایسی لڑکی کو تلاش کیا جس کی شکل اچھی ہو۔ ایک بھی نہ تھی۔ یہ فرق ہے لاہور اور دلّی میں“ ۔
آج اس واقعے کو پڑھ کر احساس ہوا کہ خشونت سنگھ کا یہ قصہ پڑھ کر تو ہمیشہ یا ہنس دیتے تھے یا لاہور سے ہونے پر فخر کرتے تھے۔ لیکن آج احساس ہوا کہ خوبصورتی تو دل اور باطن کی ہوتی ہے اور وہ کسی کو ظاہری نگاہ سے کہاں دکھائی دیتی ہے۔ اور وہ کسی خاص علاقے سے تعلق نہیں رکھتی۔
لاہور ہو یا دلّی دل خوبصورت ہو تب ہی کام بنتا ہے۔ اور میرا ماننا ہے دل ہر قوم کا خوبصورت ہوتا ہے اگر انہیں نفرتوں کے آگ کے شعلوں سے بھڑکایا نہ جائے۔ اور خوبصورت باطن والے افراد پر جنگ کی سیاہی مسلط کرنا کسی طور بھی مناسب نہیں۔ مذاق اور memes اپنی جگہ لیکن اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ جنگ کبھی نہ ہو، کہیں نہ ہو۔ لوگ مسکراتے رہیں، دل خوش رہیں اور انسان بستے رہیں۔


