خوددار اور باشعور پاکستان کی آواز


بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کے جنگی ہیجان اور ہندوتوا سوچ نے نہ صرف بھارت اور پاکستان کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے بلکہ پورے خطے کو تباہی اور بربادی کے راستے پر دھکیلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پہلگام کے واقعہ کے بعد بغیر کسی تحقیقات کے پاکستان پر الزام لگا دینا ایک نہایت احمقانہ حرکت تھی۔ اگرچہ بھارت کے پاکستان پر لگائے گئے الزامات کو بیرونی دنیا میں کہیں بھی پذیرائی نہیں مل سکی لیکن اس کے باوجود نریندرا مودی نے جنگی جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کے کئی شہروں میں سویلین آبادی پر رات کے اندھیرے میں بزدلانہ میزائل حملے کیے جس کے نتیجے میں نہتے اور معصوم شہری شہید ہوئے۔ بھارت کے اس بزدلانہ حملے کا پاکستان نے برق رفتاری سے جواب دیتے ہوئے بھارت کے پانچ جنگی جہاز، کئی ڈرون ایک بریگیڈ ہیڈ کوارٹر اور کئی مورچے تباہ کر دیے۔ یاد رہے یہ دنیا میں 1971 کے بعد سب سے بڑی فضائی جنگ تھی جس میں دونوں اطراف سے 125 سے زائد جنگی جیٹس نے حصہ لیا اور بھارت کو 1971 کے بعد تاریخ کا سب سے بڑا نقصان پہنچا ہے۔ پاکستان کی طرف سے اس قدر تیز رفتار اور کامیاب جواب نے نہ صرف بھارت بلکہ دنیا بھر کو بھی ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔ بھارتی فضائیہ میں شامل ہونے والے نئے اور جدید ترین فرانسیسی ساختہ رافیل طیاروں کی پاکستانی فضائیہ کے ہاتھوں نے تباہی نے بھارتی جنگی جنون کو ٹھنڈا کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔ یہی وجہ تھی کہ صبح ہوتے ہی بھارت نے لائن آف کنٹرول پر قائم اپنے مورچوں پر سفید جھنڈے لہرا کر اپنی پسپائی کا اعلان کر دیا۔

ان حالات میں سیاسی قیادت کا امتحان ہوتا ہے۔ کیا قیادت صرف حملے کے بعد تعزیت کرتی ہے، یا پہلے سے دنیا کو خبردار کرتی ہے؟ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اس موقع پر نہ صرف قومی اسمبلی میں دھواں دار تقریر کی بلکہ عالمی سفارتی محاذ پر پاکستان کا پُرعزم اور باوقار موقف بھی پیش کیا۔ ان کی تقریر، جس میں انہوں نے کہا کہ ”ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن اگر مسلط کی جائے تو دشمن کو اس کی زبان میں جواب دیں گے“ ، ملک میں نہ صرف ایک نیا حوصلہ پیدا کیا بلکہ دنیا کو یہ باور کرایا کہ پاکستان ایک ذمہ دار مگر طاقتور ریاست ہے۔

چیئرمین بلاول کے خطاب کی گونج نے بھارتی ایوانوں میں جو ہلچل مچائی، اس کا اندازہ بھارت میں ان کی تصاویر کو نذر آتش کیے جانے سے ہوتا ہے۔ ممبئی، دہلی اور احمد آباد میں انتہاپسند عناصر نے ان کی تصاویر جلائیں، اور بھارت نے اپنے اندرونی خوف کا اظہار اس وقت کیا جب بلاول اور آصفہ بھٹو زرداری کے X (سابق ٹویٹر) اکاؤنٹس کو بند کر دیا گیا۔ جب دشمن آپ کی آواز کو دبانے لگے، تو سمجھ لیں کہ سچ بولنے والا صحیح سمت میں کھڑا ہے۔

پاکستانی عوام نے ایک عرصے بعد قومی اسمبلی میں ایسی تقریر سنی جو جوش، ہوش، پختگی اور عالمی فہم کا امتزاج تھی۔ بلاول بھٹو زرداری نے ایک جانب دشمن کو للکارا تو دوسری طرف اپنے سیاسی مخالفین پر بھی طنز کے تیر چلائے۔ خاص طور پر سابق حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب بھارت نے 2019 میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی، تو اس وقت کی حکومت عالمی سطح پر موثر حکمت عملی اپنانے میں ناکام رہی۔ اقوام متحدہ، او آئی سی، حتیٰ کہ برادر اسلامی ممالک سے بھی فاصلہ بڑھا۔ یہ کمزور خارجہ پالیسی آج ہمیں بھگتنی پڑ رہی ہے۔

یہ کالم مکمل نہ ہو گا اگر ہم عالمی میڈیا کے ردعمل کا ذکر نہ کریں۔ بی بی سی، سی این این، الجزیرہ، ڈوئچے ویلے اور دیگر بین الاقوامی اداروں نے نہ صرف پاکستان کے موقف کو جگہ دی بلکہ چیئرمین بلاول بھٹو کی سفارتی زبان اور استقامت کو سراہا۔ انہوں نے بھارت کی دہشت گردی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے، نہ کہ اس کا منبع۔ یہ نکتہ عالمی سطح پر گونجا اور بھارت کا جھوٹا بیانیہ دھڑام سے نیچے آن گرا۔

یہ کہنا مبالغہ نہیں ہو گا کہ بلاول بھٹو زرداری نے اس نازک وقت میں اپنی سیاسی بصیرت، سفارتی فہم اور قومی جذبات کے امتزاج سے ایک ایسے رہنما کا تاثر دیا جس کی قوم کو اشد ضرورت ہے۔ جہاں ایک طرف انہوں نے عسکری قیادت کو خراج تحسین پیش کیا، وہیں سیاسی ہم آہنگی کو بھی مضبوط کیا۔ یہ قیادت صرف مخالفت کے لیے مخالفت نہیں کرتی، بلکہ دلیل اور عمل کی بنیاد پر آگے بڑھتی ہے۔

ہم نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ پاکستان نہ صرف طاقت رکھتا ہے بلکہ موقف بھی۔ نہ صرف جواب دیتا ہے، بلکہ دنیا کو قائل بھی کرتا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کی قیادت اس وقت نہ صرف ایک سیاسی رہنما کی حیثیت رکھتی ہے بلکہ وہ ایک سوچ، ایک سمت اور ایک امید کی علامت بن چکے ہیں۔ انہوں نے دشمن کو محاذ پر جواب دیا، قوم کو یکجہتی کا پیغام دیا، اور دنیا کو باور کروایا کہ پاکستان اب کسی کے بیانیے کا محتاج نہیں۔ آج جب بھارت خاموش ہے، خوفزدہ ہے، اور دنیا پاکستان کا موقف سن رہی ہے، تو یہ صرف عسکری طاقت کا نہیں بلکہ سیاسی فہم، سفارتی تدبر اور قومی اتحاد کا ثمر ہے۔ بلاول بھٹو کی گونج صرف اسمبلی کی تقریر تک محدود نہیں رہی، وہ اب عالمی ضمیر میں ارتعاش پیدا کر رہی ہے۔ یہی وہ آواز ہے جو وقت کی گرد کو چیر کر تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ کے لیے ثبت ہو گئی ہے۔ ایک خوددار اور باشعور پاکستان کی آواز۔

Facebook Comments HS