!ایسے تو نہیں ہوتا نا
پاک بھارت معاملات، جنگی کیفیت کا شکار ہو کر خرابی کی طرف مائل ہوئے ہیں تو بھارت کی مرمت، بھارت کے اپنے ہی ہاتھوں، بھارت کی ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی کم سمجھ بوجھ اور اپنی غلطیوں کو پاکستان کے سر منڈھنے کی گھسی پٹی پالیسی کو پھر سے اپنانے سے اب تک کے حالات میں کافی تلخی ہو گئی ہے۔ بھارت سے ڈرون اڑتے ہیں اور قریباً آدھے ڈرون بھارت کے اپنے ہی شہروں کو نشانہ بنا دیتے ہیں، اگرچہ وہ پاکستان تک بھی پہنچتے ہیں اور پاکستان کے نہتے شہریوں کو بھی نشانہ بناتے ہیں مگر نقصان کا تناسب انڈیا کی اپنی سرزمین پر پاکستان کی نسبت بہت زیادہ ہے۔
اس ساری صورتحال میں ایک فلم کا ڈائلاگ یاد آیا کہ بہت عرصے پہلے انڈیا کے سینما گھروں میں ”پی کے“ نام کی ایک مووی ریلیز ہوئی تھی۔ ’پی کے ”مووی کے ایک سین میں“ پی کے ”نام کے ایک بنیادی فلمی کردار کی باتوں سے لاجواب ہونے کے بعد ،“ پی کے ”کو ایک ٹیلی ویژن پروگرام کی آفر کرنے یا ہوسٹ بنانے پر، فلم میں اس فلمی ٹی وی چینل کے فلمی ڈائریکٹر کا ایک ڈائیلاگ کچھ یوں تھا کہ“ میرے ساتھ جو ہونا تھا، ہو گیا۔ اب تو اپنا پچھواڑہ سنبھال تپسوی۔ ”تپسوی فلم میں ایک کردار ادا کرتا وہ بندہ ہوتا ہے جو اپنے آپ کو اوتار کہلواتا ہے اور کچھ انوسٹیگیٹو اسٹوری کرنے یا سوال اٹھانے پر ٹی وی چینل کے ڈائریکٹر کو قصور وار سمجھ کر پیٹھ پر گولی مروا چکا ہوتا ہے۔
موجودہ حالات یہ ہیں کہ بھارت اب تپسوی نام کا ایک کردار بن گیا ہے، جس کو اپنا پچھواڑہ خود سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔ وہ ملک جو اپنے آپ کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویدار کہتا ہے، خود ہی مدعی، خود ہی منصف اور خود ہی داروغہ بن کر اپنی سیکورٹی فورسز کی کوتاہی کو اپنے ہمسایہ ملک پاکستان کے سر منڈھ رہا ہے اور بین الاقوامی قوانین کا بھی کوئی احترام نہیں کر رہا۔
صاحبو! اور صاحبیو! موجودہ حالات میں مشرقی ہمسایہ پے در پے ایسی سنگین غلطیاں کر رہا ہے کہ اسے فلمی ڈائیلاگ کی طرح پچھواڑہ سنبھالنے کا مشورہ بھی نہیں دیا جا سکتا کہ حالات وہ رُخ اختیار کر رہے ہیں کہ مشرقی ہمسائے کا پچھواڑے کے ساتھ اور بھی بہت کچھ جائے گا۔ اس کی معیشت، اس کا اِمیج، اس کا رقبہ، اس کے اندرونی اور بیرونی حالات، یوں لگتا ہے کہ خلفشار ایسا ہو گا کہ اس سے کچھ بھی معاملہ نہیں سنبھلے گا اور اس کے زخم اب لمبے عرصے کے لیے رِستے رہیں گے۔
پاکستانیو! اور اس کے ساتھ دنیا والو! ہم پاکستانیوں کا کیا ہے؟ ہم تو دکھوں کے عادی ہیں اور کوئی اندازہً دو ہزار پانچ سے لے کر دو ہزار سولہ سترہ تک کے ایک بہت لمبے عرصے تک ملک کے طول و عرض میں ٹپکتے لہو اور کٹی پھٹی لاشوں سمیت بہت کچھ سہ کر، بہت کچھ دفنا کر پھر سے سر اٹھا کر بہت بار جیتے رہے ہیں۔ کرکٹ کے کھیل میں چیمپئنز ٹرافی کا جیتنا بھی ہمارے لیے جینے کی وجہ بن جاتی ہے، اس کے علاوہ، زیادہ دور یا پیچھے نہ جائیں تو پاکستان کی قوم کا تفاخر اور سر اٹھا کر جینا دیکھنا ہے تو لڑائی بھڑائی میں دو ہزار انیس کے مشرقی ہمسایہ کی طرف سے کیے گئے ابھینندن والے مِس ایڈونچر کا تسلی بخش جواب اور کووڈ کی بحرانی کیفیت کے دوران پاکستان کی طرف سے پاکستانی شہریوں کی پوری دنیا میں مدد گاری اور کووڈ میں بہترین پالیسی دیکھ لیں۔ پاکستانی ہر بار سر اٹھا کر جی اٹھے تھے، انڈیا کی طرح، اپنے شہریوں کو بے یارو مددگار نہیں چھوڑا تھا۔
رہی، پاکستان کے اندرونی طور پر موجود، سیاسی عدم استحکام کی صورت میں وقتی یا مستقل ڈیفالٹ لائنز کی بات تو ہر ملک کی کچھ ڈیفالٹ لائنز ہوتی ہیں، مشرقی ہمسائے کے مقابلے میں ہماری ڈیفالٹ لائنز بہت ہی کم ہیں اور کھونے کو کچھ زیادہ ہے ہی نہیں! اُدھر بھارت میں تو سو کالڈ ایشین ٹائیگر سمیت سب سنہرے خوابوں کا بیڑہ غرق ہو رہا ہے یوں بھی ہے کہ دنیا نے اپنے آپ کو ابھرتی طاقت سمجھنے والے بھارت کو دوست تو سمجھا ہے مگر وہ کبھی صلاحیت کے فقدان کی وجہ سے دنیا کا قابلِ بھروسا اتحادی رہا ہی نہیں ہے۔ اب تو اپنے آپ کو بڑی طاقت سمجھنے کے زعم اور غلط فہمی میں رہنے والا بھارت اپنے ساتھ مغرب کو بھی محاورے کی زبان میں ”چلو بھر پانی“ میں ڈبو رہا ہے، وہ اپنے ساتھ ساتھ مغرب کی ٹیکنالوجی اور اس کی پراڈکٹس کی ساری مارکیٹنگ کا بیڑہ غرق کروا کر، پھر سے طفلانہ ضد بھی کر رہا ہے کہ اس کو علاقائی بدمعاش سمجھا اور مانا جائے۔
کیا دنیا، اتنی پاگل ہے کہ چین اور پاکستان کی شکل میں پورے محلے بھر سے مار کھانے کے بعد بھارت کو علاقے کا بڑا سمجھنے کی اس کی بچگانہ خواہش بھی پوری کرے؟ ایسے تو نہیں ہوتا نا!


