”مشکلیں اتنی پڑی مجھ پہ کہ آساں ہو گئیں“ قسط نمبر 2


 

تو میں ہسپتال کے بستر پر تھی اور میرے ارد گرد بچے، بہن بھائی سب اکٹھے کھڑے تھے۔ نیم غنودگی کی حالت میں میری بھتیجی ڈاکٹر مشال میرے ماتھے پہ بوسہ دے کر گلو گیر آواز میں بار بار پوچھ رہی تھی، پھپھو طبیعت کیسی ہے میں نے کہا میں ٹھیک ہوں کینیڈا میں میری بڑی بیٹی فری اور دبئی میں عائشہ سخت پریشان تھیں، وہ اسد کے ساتھ فون پر لمحہ بہ لمحہ میری حالت پوچھ رہی تھیں۔ تھوڑی دیر میں میرے داماد احمد علی اسلام آباد سے آ گئے سب میری وجہ سے پریشان تھے اور بار بار فکر مندی کا اظہار کر رہے تھے۔ اس وارڈ میں میرے علاوہ ایک اور خاتون تھیں۔ ایک رات تو میری بہو، افشین اور اسد نے اوکھی سوکھی جاگتے ہوئے گزار لی تھی لیکن اب سب کی رائے تھی کہ الگ سے کمرہ لے لیا جائے۔ اسد نے بڑی تگ و دو کے بعد کمرہ لے لیا، اب مسئلہ یہ تھا کہ اگر مجھے سٹریچر پر لے جائیں تو یہ بہت تکلیف دہ ہوتا۔ سو ہسپتال کے بیڈ کے ساتھ ہی اوپر پرائیویٹ روم میں شفٹ کر دیا۔ اس بیڈ سے کمرے کے بیڈ پر لٹانا بھی آسان نہ تھا۔ آپریشن کو ہوئے چند گھنٹے ہی گزرے تھے۔ خیر بہ مشکل تمام یہ مرحلہ طے ہوا۔ اب میری بہنیں بھی کوہاٹ سے آ گئیں۔ آپریشن کی پہلی رات بھی بار بار مختلف طرح کے انجیکشن اور پین کلرز کے ٹیکے لگتے رہے۔ میرے بھائی تمثیل کا گھر قریب ہی تھا باقی سب مہمان اِدھر چلے گئے۔ میرے پاس افشین اور میری دوسری بھانجی زینب بھی رک گئیں اور وہ رات بار بار اٹھ کر میری خبرگیری کرتی رہیں۔

اب دوسرے دن ڈاکٹر نے کہا کہ ایکسرے کروانے ہیں اب پھر بیڈ سے سٹریچر پر کئی لوگوں نے چادروں کے کونے پکڑ کر منتقل کیا اور طویل ٹھنڈی راہداریوں سے ہوتے ہوئے ایکسرے روم میں پہنچے۔ اب ایکسرے کے لیے ایکس رے ٹیبل پر شفٹ کرنا چاہا تو میں نے شور مچا دیا کہ نہیں انہوں نے کہا فکر نہ کریں ہم ادھر ہی آپ کا ایکسرے کر لیتے ہیں انہوں نے مختلف زاویوں سے ایکسرے کیے پتہ چلا کہ راڈ صحیح طریقے سے لگا ہے۔ ایکسرے کروا کے آئے تو دوسرے دن صبح صبح فزیو تھراپسٹ آئے۔ مختلف ورزش کروا کے کہنے لگے کہ اب آپ نے تھوڑا سا چلنا ہے ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق اسد نے مجھے بہت طریقے سے سہارا دے کے اٹھایا کہ امی دوسرے پاؤں پر زور ڈالیں ہسپتال کے بیڈ سے اترنا بھی ایک مسئلہ تھا خیر اتر کر بدقت تمام چند قدم لیے، دوسری رات بھی ایسے ہی بے چینی سے سوتے جاگتے گزری ذرا آنکھ لگتی تو نرس ٹیکے لگانے کے لیے اور بی پی چیک کرنے کے لیے اٹھا دیتی، آخر تیسرے دن ہسپتال سے چھٹی مل گئی میرے بھائی تمثیل کا گھر قریب ہی تھا لہذا رسالپور جانے کی بجائے چند دن ضروری ٹیسٹوں کے لیے ادھر ہی رکنا پڑا میری بیماری نے جہاں بچوں، بہن بھائیوں سب کو پریشان کیا وہاں عائشہ نے بہت سے ڈاکٹروں سے مشورہ لیا۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا یہ کچھ مزید ٹیسٹ کروا لیے جائیں کہ آخر گرے بغیر ہڈی ٹوٹی کیوں 2020 میں چونکہ میں ایک مہلک بیماری سے گزر چکی تھی لہذا یہ ٹیسٹ ضروری تھے اب اسد اور عائشہ آپس میں بات چیت کرتے رہے، جب کہ مجھے بہت سی باتوں سے لاعلم رکھا گیا، دوسرے دن اسد نے کہا کہ ایک ضروری ٹیسٹ کے لیے آپ کو لے کر جانا ہے، اب لے جانے کے لیے پھر اٹھ دس لوگ چادروں کے کونے پکڑ کر اٹھا کر سٹریچر پہ ڈالتے پھر ایمبولنس میں منتقل کرتے، پھر ایمبولنس سے اتار کر پھر اسپتال کے سٹیل کے اونچے ٹھنڈے برف سٹریچر پر لٹاتے، لکھنے میں یہ بات چند لفظوں میں آ گئی لیکن یہ سارا کچھ کتنا تکلیف دہ تھا کہ اسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ آدمی ٹھیک ہو تو اس کا اپنا وجود کیسے پھول کی طرح ہلکا پھلکا ہوتا ہے اور وہ اِدھر سے اُدھر دوڑتا پھرتا ہے اور اگر بستر پر گر جائے تو دس لوگ مل کر بھی اس نہیں اٹھا سکتے، ایسے جیسے بھاری پتھر یا ایسی سِل ہو جسے اٹھایا نہ جا سکے بقول میرے بیٹے کے کہ اٹھا اٹھا کر میری تو کمر ہل کر رہ گئی۔

ٹیسٹ کا یہ ایک دن اتنا تکلیف دہ تھا، جنوری کی سخت سردی، کچھ تو موسم سرد تھا کچھ میری طبیعت کی وجہ سے مجھے بہت زیادہ سردی لگ رہی تھی۔ میرا خیال تھا کہ آدھے گھنٹے میں ٹیسٹ کروا کر فارغ ہو جائیں گے۔ کافی انتظار کے بعد متعلقہ شعبے کے اندر گئے تو مجھے وقفے وقفے سے ایک دو ٹیکے لگائے گئے۔ پھر اس کے بعد اندر ایک اور کمرے میں لے گئے جہاں اور بھی مریض تھے اور وہاں چار گھنٹے رکنا تھا۔ میرے بیٹے اور بہو کو باہر نکال دیا مجھے سخت سردی لگ رہی تھی، پاؤں سن ہو رہے تھے اور عجیب طرح کی تکلیف میں تھی میں بیٹے کو آواز دیتی وہ چند لمحوں کے لیے آتا اور یہ کہہ کر تسلی دے کر واپس چلا جاتا کہ یہ لوگ ہمیں اندر نہیں آنے دے رہے۔ امی اب تھوڑا انتظار کریں لیکن یہ چار گھنٹوں کا انتظار لگتا تھا کہ جیسے ختم نہیں ہو گا جو کچھ مجھے یاد تھا پڑھ پڑھ کے، بار بار دہرا کے، دعائیں مانگ مانگ کے میں تھک سی گئی، وقت کتنا بھی کڑا ہو آخر گزر ہی جاتا ہے، خدا خدا کر کے یہ چار گھنٹے پورے ہوئے تو پھر مجھے ایک اور کمرے میں لے جایا گیا، وہاں پھر سٹریچر سے اٹھا کے ٹیسٹ کے لیے ٹیبل پر ڈالا گیا۔ اب دو دن آپریشن کو ہوئے تھے ہر دفعہ درد کی ایک ٹیس اٹھتی ان سارے مراحل کے بعد بڑی سی مشین کے اندر لے گئے، شکر ہے کہ یہ مکمل بند نہ تھی۔ ٹیسٹ ہو گیا جس کے بعد ہمیں گھر آنے کی اجازت ملی۔ گھر آئے تو اسد نے بتایا ہے کہ آج آپ کمرے میں اکیلی رہیں گی کیونکہ ڈاکٹر نے آپ کے قریب آنے سے منع کیا ہے، اب یہ ایک تکلیف دہ بات تھی کہ میں خود اٹھنا چاہوں تو اٹھ نہیں پاتی تھی میرا بیٹا بہت طریقے سے سہارا دیکھ کر مجھے اٹھاتا بٹھاتا تھا۔ رات آئی اور سب اوپر چلے گئے تو میرا دل گھبرانے لگا میں نے کہا اگر رات اٹھنا پڑا تو کس کو آواز دوں گی، کیسے اٹھوں گی، اللّہ میرے بیٹے کو لمبی زندگی دے اور کبھی بیمار نہ کرے اس نے اس چیز کا احساس کیا اور نیچے بستر بچھا کر میرے کمرے میں ہی سو گیا۔

دوسرے دن رپورٹ آئی تو بچوں نے مجھے نہیں بتایا۔ بس آپس میں کھسر پھسر کرتے رہے۔ عائشہ نے ویڈیو کال پر بات کی مجھے بتایا امی شکر ہے آپ کا ٹیسٹ کلیئر آیا ہے۔ ساری ہڈیاں محفوظ ہیں۔ اور کوئی فکر کی بات نہیں ہے اب بات وہ تسلی کی کر رہی تھی لیکن اس کے چہرے کی پریشانی مجھے سمجھ نہیں آئی کہ پریشان کیوں ہے کچھ شک گزرا لیکن میں نے اسے جھٹک دیا۔ اس دوران مختلف ڈاکٹروں سے آن لائن اس کے مشورے چلتے رہے۔ دوسرے دن پھر ایک اور ٹیسٹ کے لیے لے کر گئے جو اس سے بھی کہیں زیادہ مشکل تھا۔ پھر وہ سارا عمل، ایمبولینس کا آنا اور ہسپتال لے کر جانا ان سارے مراحل سے گزرے، اس ٹیسٹ پر آدھا پونا گھنٹہ صرف ہوا لیکن دل پریشان تھا۔

بچے چھوٹے ہوں تو ماں انہیں سنبھالتی، نیپی بدلتی تنگ نہیں ہوتی لیکن اگر ماں بیمار پڑ جائے تو بچے ماں کو سنبھالتے تو ہیں لیکن ماں ذہنی اور جذباتی طور پہ بہت پریشان ہو جاتی ہے۔ اسد اور افشین جب مجھے بمشکل اٹھاتے، بٹھاتے، میرے ساتھ کھڑے ہوتے اور بچوں کی طرح مجھے مدد دیتے تو اس بات پر میرا دل اور آنکھیں بھر آتیں۔ کئی دفعہ شکر گزاری کے طور پر ان کے ہاتھ چومے دعائیں دیں اتنی دعائیں، اتنی دعائیں، کہ بس اللہ انہیں قبول کرے اسی طرح میری بھابی، بھتیجی فاطمہ اور بھتیجے سب نے میری آؤ بھگت کی، خیال رکھا، میری بھابی نورین، میری خالہ زاد بہن بھی ہیں اور مجھے بار بار پیار کرتی اور دعائیں دیتی رہیں۔ آپی تمہیں کچھ نہ ہو۔ اس دوران گھر پرہی ٹیکے اور اینٹی بائیوٹک ادویات جاری رہیں۔

چند دن بعد رسالپور آئے، ایمبولینس میں سفر کرنا بہت مشکل ہے کہ اس میں ایک گھٹن اور ہر سپیڈ بیکر پر جھٹکے سے درد کا احساس ہوتا رہا۔ گھر پہنچ کر اللّہ کا شکر ادا کیا۔ پھر اسی طرح سٹریچر پر ڈال کر اندر لایا گیا۔ اپنے بستر پر آ کر سکون کا گہرا سانس لیا اور شکر ادا کیا۔ دوائیاں سب جاری رہیں محدود پیمانے پر واکر کے ساتھ چلنا بھی شروع کیا۔ کچھ دیر دھوپ میں لیٹی رہتی۔ ڈاکٹر نے ایک ماہ بعد بلایا تھا، گھٹنے اور اس سے اوپر ٹانکے لگے ہوئے تھے اس پر روزانہ پٹی لگائی جاتی۔ ٹانگ کے اندر کی سائیڈ پر مجھے لگا کہ جیسے یہاں بھی ٹانکا ہے۔ اسد کو بتایا کہ یہاں مجھے درد ہوتا ہے یہاں بھی کوئی ٹانکا ہے، اس نے کہا نہیں یہاں تو کوئی ٹانکا نہیں، جگہ ایسی تھی کہ میں خود دیکھ نہیں سکتی تھی۔ اس پر کریم لگاتی رہی، ڈاکٹر کو فون پر بتایا اس نے کہا کہ آپریشن کے لیے اکثر ٹانگ باندھی جاتی ہے آپ کی جلد زیادہ حساس ہے۔ باندھنے والی جگہ شاید زخم ہو گیا ہو گا۔ اب زخم کی یہ حالت کہ آہستہ آہستہ پھیلتا چلا گیا اور پھر اس میں سے خون اور پیپ رسنے لگی گویا

اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

ڈاکٹر نے ایک ماہ بعد بلایا تھا وہاں گئے ڈاکٹر کو موبائل پہ زخم کی پوزیشن دکھائی اس نے کوئی خاص توجہ نہیں دی کہ کوئی فکر کی بات نہیں بس پٹی لگاتے رہیں پٹی کی یہ حالت تھی کہ دن میں دو دو بار بدلنے پر بھی مواد نکلتا رہتا ٹانکے جو، 15، 20 دن بعد کھول لینے چاہیے تھے وہ جب ایک ماہ بعد کھولے گئے تو ان کی تکلیف یوں ہوئی کہ پتہ چلا کہ ٹائم زیادہ گزرنے پر گوشت کے اندر کھب کر جگہ بنا چکے ہیں۔ عموماً ٹانکے آسانی سے کھل جاتے ہیں مگر یہ بہت تکلیف کے ساتھ کافی دیر میں ایک ایک کر کے بہت مشکل سے نکالے گئے۔ کچھ یوں کہ میں نے دانتوں تلے کپڑا دبا کہ رکھا اور اسد کا ہاتھ پکڑے رکھا درد کی شدید لہر اٹھتی تو میں اسد کے ہاتھ پر دباؤ بڑھا دیتی تھی۔ ٹانکوں کے ساتھ ہی مرہم پٹی کرنے والے ڈریسر کو زخم دکھایا اس نے مشورہ دیا ہے یہ میرا کام نہیں آپ آ کر سرجن کو دکھا دیں۔ آگے دو دن چھٹی تھی۔ پیر کو سی ایم ایچ سرجن کے پاس گئے، وہ آپریشن تھیٹر میں لے گئے آپریشن ٹیبل پہ چڑھنا ہی ایک مشکل مرحلہ تھا کہ ٹانگ پر دباؤ نہیں ڈال سکتی تھی۔ سرجن ارسلان اور نرسوں نے بہت پیار سے مجھے ہمت دلائی، اونچی آپریشن ٹیبل پر چڑھنے میں مدد دی زخم کی حالت ایک ماہ میں خراب ہو چکی تھی کہ پہلے زخم پر سے ڈیڈ سکن الگ کی گئی۔ مرہم پٹی کر کے ڈھیروں اینٹی بائیوٹک دی گئیں۔ دوسرے دن نرس نے کہا کہ کل آپ آئیں تو اپنے ساتھ سرکہ لے آنا انہوں نے زخم صاف کر کے سرکے سے دھوئے۔ اس قدر شدید جلن تھی، تکلیف دیکھ کر نرس کہنے لگی کہ اس طرح کے زخم سرکے سے جلدی ٹھیک ہو جاتے ہیں میں نے کہا زخموں پر نمک چھڑکنا سنتے آئے تھے سرکہ لگانا پہلی دفعہ دیکھا اور بھگتا، اس زخم کے ساتھ ساتھ کمر پر پیچھے ایک زخم بن گیا تھا۔ ہمارا خیال تھا کہ یہاں ٹانکا جو ہے وہ ابھی ٹھیک نہیں ہوا جب کہ سر جن نے دیکھا تو کہا کہ بیڈ سور ہے۔

اس اثنا میں منع کرنے کے باوجود فروری کے مہینے میں فری بڑی بیٹی بھی کینیڈا سے آ گئی۔ اب بون سکین کی رپورٹ بچوں نے مجھ سے چھپائی ہوئی تھی لیکن آہستہ آہستہ ذہنی طور پر مجھے تیار کر رہے تھے کہ دونوں ٹانگوں میں راڈ ہو تو زیادہ سہولت ہوتی ہے اور اشاروں اشاروں میں تھوڑا بہت بتانے کی کوشش کر رہے تھے یہ تو بعد میں اندازہ ہوا کہ فری اس لیے بھاگی دوڑی آئی ہے کہ دوسرے آپریشن میں وہ خود موجود ہو۔
(جاری)

Facebook Comments HS