جوانی کا بھرم


 

پروفیسر رضوان کی انگلیاں خزاں کے پتوں کی لرزتی ٹہنیوں کی مانند کپکپا رہی تھیں۔ آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اُس نے مصنوعی مسکراہٹ چہرے پر سجائی، اور بالوں کی چاندی کو سیاہ خضاب میں چھپا دیا۔ اُس کے ہاتھ میں ایک ڈبہ تھا۔ وہ گولیاں جو وقت کو روکنے کا فریب دیتی تھیں، سانپ کی مکار سرسراہٹ کی طرح اُسے بہکا رہی تھیں۔

تیسری شادی کی تقریب میں جب دوستوں نے اُسے گھیر لیا، اُن کی آوازیں آسمانی گرج کی طرح اُس کے کانوں میں گونجیں :

”رضوان، یہ لڑکی تمہارے بیٹے کی عمر کی ہے!“
”یہ انجام تمہیں برباد کر دے گا!“

لیکن اُس نے سننا گوارا نہ کیا۔ پروانے کی طرح وہ خود کو اُس لو کے سپرد کر چکا تھا، جس میں جلنے کا انجام وہ جانتا تھا۔ شاید جوانی کا خمار اُس پر یوں طاری تھا جیسے بوسیدہ دیوار پر نئی سفیدی پھیر دی جائے۔ یا شاید تنہائی نے اُسے اپنی گرفت میں لے رکھا تھا۔

شادی کے بعد ثناء کے ساتھ اُس کا رویہ کچھ اس طرح بدلا جیسے سوکھے ہوئے پھول پر شبنم پڑ جائے۔ مگر وقت کے ساتھ اس بہار کا رنگ اُڑنے لگا۔ چہرے پر زردی چھا گئی، جیسے زندگی کی چمک ماند پڑ گئی ہو۔ روز صبح وہ توانائی بخش گولی لیتا، مگر ہاتھ کی کپکپاہٹ بتاتی کہ جسم اندر ہی اندر بوسیدہ ہو رہا ہے۔

”آپ کو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے،“ ثناء نے نرم لہجے میں کہا۔
”یہ عمر کا تقاضا ہے۔ تمہارے ساتھ رہ کر میں اپنی دنیا میں خوش ہوں،“ اُس نے بات ٹال دی۔
ایک رات، اچانک نیوز چینل پر خبریں چلنے لگیں، خاموشی میں ارتعاش پیدا ہوا:
”مشہور حیاتیاتی سائنسدان، پروفیسر رضوان، انتقال کر گئے۔“
دوستوں نے دکھ بھرے انداز میں سر ہلایا:
”ہم نے پہلے ہی خبردار کیا تھا!“
”یہ لڑکی اُس کی جان لے گئی!“

مگر راز اُس رپورٹ میں دفن تھا جس نے اصل زہر کا سراغ دیا۔ رضوان کا جگر اندر سے گل چکا تھا، دوا نے اُسے دیمک کی طرح چاٹ لیا تھا۔ پولیس کو ثناء کے کمرے سے شواہد ملے کہ وہ ایک دوا ساز کمپنی کی ایجنٹ تھی۔ بوڑھے مردوں کو ’آزمائش‘ کے لیے استعمال کر کے وہ کمپنی کے لیے زہریلے تجربہ کرتی تھی۔ رضوان اُس کے لیے محبت نہیں، محض ایک شطرنجی مہرہ تھا۔ جسے وقت آنے پر کھیل سے باہر پھینک دیا جاتا ہے۔

جب ثناء نے قبر پر آ کر آخری بار اُس کی طرف دیکھا، تو لبوں پر وہی کٹھور مسکراہٹ تھی۔ پس منظر میں ٹی وی سے آواز ابھری ”جوانی کا راز۔ صرف ایک کیپسول میں!“

قبرستان کے سناٹے میں ہوا نے سرسراہٹ کے ساتھ راز کھولا ”چہروں پر ایک عمر لکھی ہوتی ہے، اور دلوں میں ایک اور کہانی۔ کھوکھلے درخت کی طرح۔“

Facebook Comments HS