اے وطن تونے پکارا تو لہو کھول اٹھا


برتری کے ثبوت کی خاطر
خوں بہانا ہی کیا ضروری ہے
گھر کی تاریکیاں مٹانے کو
گھر جلانا ہی کیا ضروری ہے
(ساحر لدھیانوی)

امریکہ، اسرائیل اور انڈیا کا گٹھ جوڑ ایک کھلی حقیقت ہے، نظریاتی طور پر تینوں مسلمانوں کو اپنا مشترکہ دشمن سمجھتے ہیں۔ یہودی اپنی نسلی برتری پر یقین رکھتے ہیں، مودی ہندو نسل پرستی کا پرچارک ہے اور ٹرمپ کی مسلم دشمنی صدارتی انتخاب کے بعد ہمارے سامنے ہے۔ امریکہ، انڈیا اور اسرائیلی مثلث (تکون ) اپنے مفادات کے لیے ایک ہے۔ موجودہ جنگ میں اسرائیلی ہیروپ ڈرونز کا پاکستان کے خلاف استعمال اس کا ثبوت ہے۔ امریکہ نے بھی مداخلت سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ہمارا کوئی مفاد نہیں۔

ہیروپ ایک جدید اینٹی ریڈی ایشن ڈرون ہے جو خود کو ہدف پر گرا کر تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد دشمن کے فضائی دفاعی نظام کو تباہ اور اسے غیر موثر بنانا ہے۔ یہ طویل پرواز کر سکتا ہے۔ ہدف لاک ہوتے ہی برق رفتاری سے حملہ کرتا اور ہدف نہ ملنے پر واپس بیس پر محفوظ لینڈنگ کر لیتا ہے۔ ابتدائی حملے میں دشمن کے ائر ڈیفنس کو نشانہ بنا کر بڑی کارروائیوں کی راہ ہموار کرتا ہے۔ 2019 میں بھارتی فضائیہ نے 54 ہیروپ 100 ملین ڈالر میں خریدے۔ پاکستان کا قصور طاقتوروں کے سامنے جھکنے سے انکار ہے۔

وہ مسیحا نہ بنا ہم نے بھی خواہش نہیں کی۔
اپنی شرطوں پہ جیئے اس سے گزارش نہیں کی

اب آئیے فالس فلیگ کی طرف، یہ عسکری اصطلاح ہے۔ ایسا حملہ، جس کا الزام دشمن کے سر تھوپ دیا جائے۔ اکثر ممالک کی خفیہ ایجنسیاں اپنے عوام یا سرزمین پر حملہ کر کے اس کا الزام دشمن ملک، اس کی فوج یا ایجنسیوں پر لگاتی ہیں۔ دنیا میں مشہور ترین فالس فلیگ آپریشن ’ ”آپریشن نارتھ وڈز“ ہے جو سی آئی اے نے کیوبا میں فیڈرل کاسترو حکومت کے خاتمے کے لئے پلان کیا۔ تاہم صدر جان ایف کینڈی نے اسے مسترد کر دیا تھا۔ البتہ بھارت کے فالس فلیگ آپریشنز کی خاصی شہرت ہے۔ بھارت عالمی حمایت یا کسی دوسرے مذموم مقصد کے لیے اپنے شہری اور فوجی مروانے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ 22 اپریل 2025 کو پہلگام میں دہشت گردوں کا پہنچنا (ایل او سی سے 400 کلومیٹر دور) جہاں گھوڑوں اور خچروں کے سوا کسی سواری کی رسائی ممکن نہیں، 400 سے زائد سیاحوں کی سکیورٹی کے لیے کسی اہلکار کی عدم موجودگی اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے بیس کیمپ کا، 5 کلو میٹر سے بھی کم فاصلے پر ہونا، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اپنی اہلیہ اور بچوں کے ہمراہ بھارت کے چار روزہ دورے پر واقعہ پیش آنا اور دہشت گردوں کی کامیاب کارروائی کے بعد واپسی وہ سوالات ہیں جو اسے فالس فلیگ آپریشن بناتے ہیں۔ •بھارت کے فالس فلیگ آپریشنز میں سرفہرست ”گنگا ہائی جیکنگ“ ہے۔ 30 جنوری 1970 ء کو سرینگر سے جموں جانے والا، چھوٹا فوکر طیارہ ہائی جیککرز لاہور لائے‘ را ’کے بانی ممبر اور انسدادِ دہشت گردی ڈویژن کے سابق سربراہ بی رامن کے بقول یہ را‘ کا منصوبہ کامیابی سے انجام دیا گیا۔

•دوسرا فالس فلیگ آپریشن کارگل جنگ کے بعد مارچ 2000 ء میں ہوا ’مقبوضہ کشمیر کے گاؤں چتی سنگھ پورہ میں دہشت گردوں نے 36 بے گناہ سکھ قتل کر دیے۔ یہ‘ را ’کے کمانڈو سکواڈ نے کیا جس کا مقصدِ کلنٹن کی آمد سے قبل کشمیر کے حل کے ایجنڈے کو ناکام بنانا تھا۔

•دسمبر 2001 ء میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملے میں 14 افراد ہلاک ہوئے۔ بھارت نے پاکستان کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا اور ساتھ ہی اپنی مغربی سرحد پر فوجیں بھی تعینات کر دیں۔

• 2007 ء میں سمجھوتا ایکسپریس ٹرین کے ڈبوں کو آگ لگائی گئی۔ 68 مسافر جن میں 40 سے زائد پاکستانی تھے جل گئے۔ تحقیقات نے ثابت کیا کہ اس میں حکومت اور ہندو انتہا پسند تنظیمیں ملوث تھیں۔

• 26 نومبر 2008 ء کو ممبئی میں فالس فلیگ آپریشن میں غیر ملکیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ آئس لینڈ کے مشہور مصنف ایلس ڈیوڈسن نے اپنی کتاب میں اس واقعے کے حقائق سے پردہ اٹھایا کہ بھارت نے عوام کو دھوکا دیا اور اپنے ہی لوگ مروا کر پاکستان پر الزام دھرا۔

•ستمبر 2016 ء میں سات ریاستوں میں انتخابات جیتنے کے لیے اوڑی بریگیڈ ہیڈکوارٹر پر حملے میں 19 فوجی مارے گئے۔ بھارتی وتیرہ رہا ہے کہ انتخابات سے قبل پاکستان مخالف فضا بنا کر ہندو ووٹروں کو اپنی طرف راغب کیا جاتا ہے۔ ان حملوں کے بعد پاکستان میں ”سرجیکل سٹرائیک“ کا بھی دعویٰ کیا گیا جس کا آج تک کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا ’البتہ اس پر ایک فلم ضرور بنا دی گئی۔

•فروری 2019 ء میں پلوامہ میں بھارتی فوج پر حملے کا الزام بھی پاکستان پر دھرا گیا اور 26 فروری کو بالاکوٹ میں جابہ کے مقام پر انڈین جہازوں نے پے لوڈ گرایا۔ اس نام نہاد سرجیکل سٹرائیک میں 300 لوگوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا مگر ثبوت ندارد۔ 27 فروری 2025 کو پاکستان نے بھارت کے دو مگ 21 طیاروں کو گرایا اور ایک پائلٹ ابھینندن ورتمان کو زندہ گرفتار کر لیا۔

بدقسمتی سے پلوامہ واقعے کے بعد جو خان صاحب یہ کہتے تھے کہ کہ کیا میں انڈیا ہر حملہ کردوں اب وہ اور ان کے فالور کہہ رہے ہیں کہ پاکستانی فوج اور اس کے سپہ سالار بزدل ہیں ڈرونز کا جواب کیوں نہیں دے رہے۔ 77 ڈرونز گرانے اور رافیل اور سخوئی کو نشانہ بنا نے کے بعد بھی پاکستان کی بہادر افواج پر چاند ماری ثابت کر رہی ہے کہ وہ دشمن کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اسی لیے انڈیا میں خان صاحب کی لیڈری اور رہائی کے غلغلے ہیں۔ بہرحال پاکستانی عوام وسائل کی کم مائیگی کے باوجود فوج کی پلاننگ پر فرحاں و شاداں ہیں۔

زندہ رہنا ہے تو حالات سے ڈرنا کیسا
جنگ لازم ہو تو لشکر نہیں دیکھے جاتے

24 کروڑ عوام وطن کی پکار پر لبیک کہہ رہے ہیں۔ معاملات خاصے آگے بڑھ گئے ہیں۔ عوام کا جذبہ حریت جوان ہے۔

اے وطن تو نے پکارا تو لہو کھول اٹھا
تیرے بیٹے ترے جانباز چلے آتے ہیں

Facebook Comments HS