کچھ نہیں بدلا

خواتین ایکٹوسٹس اچھی طرح جانتی ہیں کہ ضیا الحق کے بنائے جانے والے امتیازی قوانین کے خلاف شروع ہونے والی خواتین کی تحریک کا جب بھی ذکر ہو گا مہتاب چنہ (اب مہتاب اکبر راشدی) کا نام ضرور آئے گا۔ جب ضیا الحق کی آمریت کے تاریک دور کا آغاز ہوا تو مہتاب پاکستان ٹیلی ویژن پر نوجوانوں کا ایک مقبول پروگرام ”فروزاں“ کرتی تھیں۔ آمر کا فرمان جاری ہوا کہ خواتین ٹی وی اینکرز کو سر پر لازمی ڈوپٹہ اوڑھنا ہو گا۔ مہتاب نے آمر کا حکم ماننے سے انکار کر دیا اور پروگرام کرنا چھوڑ دیا۔ یوں وہ آمریت کے خلاف خواتین کی مزاحمت کی علامت بن گئیں۔
چند روز پہلے انہوں نے کتابی صورت میں شائع ہونے والا اپنے مضامین اور کالموں کا مجموعہ ”کچھ نہیں بدلا“ بھجوایا تو مجھے یہ واقعہ ایک مرتبہ پھر یاد آ گیا۔ اس کتاب میں 2008۔ 2009 کے روزنامہ ’آج کل‘ میں چھپنے والے کالم بھی شامل کیے گئے ہیں۔ اور بقول محمود شام ”جس معاشرے میں کچھ نہ بدلتا ہو، وہاں تحریریں کبھی پرانی نہیں ہوتی ہیں۔“
کتاب کے پیش لفظ میں مہتاب کہتی ہیں : ”ہمارے ادارے اوپر سے لے کر نیچے تک ایک ہی کہانی سناتے ہیں کہ ہم نے آج کی نوجوان نسل اور آنے والی نسلوں کے لئے کانٹوں بھرے راستے چھوڑے ہیں۔ ہمارے نوجوان مایوسی کی انتہا کو چھو کر ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ عدالتیں انصاف دینے سے معذور ہیں۔ ان کے فیصلے قابل قبول نہیں۔ یہ سب دیکھنے کے بعد تو پھر ذہن میں یہی آتا ہے کہ ’کچھ نہیں بدلا‘ ۔
کتاب کا آغاز قلندر شہباز کے بارے میں لکھے ہوئے ایک مقالے سے ہوتا ہے جن کے مزار پر دھمال کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ انہوں نے شاہ لطیف بھٹائی کی شاعری اور اس کے تراجم کا بھی جائزہ لیا ہے۔ ان کا پیغام وحدت انسانیت کا درس دیتا ہے۔ شاہ صاحب کہتے ہیں کہ انسان کو اس بری دنیا میں رہ کر بھی کنول کے پھول کی طرح خود کو برائی سے بچانا ہے۔
سندھ کے نامور مورخ پیر حسام الدین راشدی کے بارے میں مہتاب کہتی ہیں کہ وہ اس تناور، گھنے اور سایہ دار درخت کی مانند تھے جس نے نہ صرف یہ کہ ننھے منے پودوں کو تیز ہواؤں سے بچائے رکھا بلکہ اپنی جڑوں سے تجربے، تحقیق، محنت اور محبت کا رس نچوڑ کر قطرہ قطرہ نئی نسل کو منتقل کیا۔ اکیسویں صدی میں امت مسلمہ کے لئے اقبال کے افکار کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے مہتاب ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ان کی جو سب سے پہلی کتاب 1903 میں طبع ہوئی وہ علم الاقتصاد کے بارے میں تھی۔ اس کتاب کا مرکزی نقطہ Poverty Alleviation یا انسداد مفلسی ہے۔ اقبال جیسے انسان دوست نے اس دور میں غربت کی سنگینی کو محسوس کیا اور وہ جانتے تھے کہ جن ملکوں میں غربت ہے وہاں جرائم بڑھتے ہی جائیں گے۔ اقبال انسان کو انقلاب کی دعوت دیتے ہیں، وہ شرف انسانیت اور مساوات انسانی کو اپنی فکر میں مقدم رکھتے ہیں۔
علامہ اقبال کے تصور جمہوریت کے بارے میں مہتاب کہتی ہیں کہ وہ ایک عام انسان اور آقا کے درمیان فرق کو فساد آدمیت کہتے ہیں۔ فرد کی اہمیت اور قدرو قیمت فکر اقبال کا نمایاں عنصر ہے اور جمہوریت کی اساس بھی یہی ہے کہ ہر فرد اہم ہے، ذمہ دار ہے اور جواب دہ ہے۔
مہتاب ہمدرد فاؤنڈیشن کے ایڈوائزری بورڈ میں شامل تھیں۔ حکیم سعید کو وہ کھلی آنکھوں سے خواب دیکھنے والا شخص قرار دیتی ہیں۔ ان کی آنکھیں دور تک دیکھتی تھیں، وہ ایک انتہائی مستقل مزاج شخصیت تھے۔ صرف کہتے نہیں تھے، کر دکھاتے تھے۔ ایک بہترین منتظم!
حکیم محمد سعید کے قاتل آج بھی آزاد ہیں۔ جب شہیدوں کے خون کا انصاف نہ کیا جائے تو وہ قوموں کو لے ڈوبتا ہے۔ نہ جانے اس وقت کون کس کی نا انصافی اور ظلم کا حساب چکا رہا ہے۔
پاکستانی زبانوں اور قومی یکجہتی کی بات کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ ہماری خوش قسمتی رہی کہ ہمارے آبا و اجداد کی کوششوں اور قربانیوں کی وجہ سے ایک آزاد مملکت ہمیں نصیب ہوئی لیکن بد قسمتی سے اس آزادی کو برتنے کا سلیقہ نہ ہمیں آیا نہ ہم سے پہلے والی نسل کو۔ اتنے سالوں کے بعد بھی ہم اندھیرے میں ہاتھ مار کر ”پاکستانی“ زبانوں کے ”قومی یک جہتی میں کردار“ کو ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کی رائے میں پاکستان میں بولی جانے والی مختلف زبانوں کو قومی زبان قرار دے دیا جائے۔
اس کتاب میں پچیس مضامین اور انتالیس کالم شامل ہیں۔
سندھ کی مشہور خواتین میں مائی بختاور سے لے کر آپا شمس عباسی، انیتا غلام علی، حمیدہ کھوڑو، درشہوار، سلطانہ صدیقی، مہتاب، انیس ہارون، عطیہ داؤد اور امر سندھو اور دیگر کا ذکر سندھ کے افق کی کہکشائیں نامی مضمون میں ملتا ہے۔
2018 کے انتخابات سے پہلے ’سندھ کی سیاست۔ کل اور آج‘ کے عنوان سے لکھا گیا مضمون تاریخ، پولیٹیکل سائنس اور صحافت کے طلبہ کو خاص طور پر پڑھنا چاہیے۔
میں محمود شام کی اس بات سے اتفاق کرتی ہوں کہ ہم سب پاکستانیوں کو مہتاب اکبر راشدی کا ممنون اور شکر گزار ہونا چاہیے کہ وہ اپنے دو صدیوں کے محسوسات اور خیالات کو کتابی شکل میں سامنے لے آئی ہیں۔


