بالی ووڈ کا پاکستان
بھارتی میڈیا کا قصور نہیں انہوں نے پاکستان صرف بالی ووڈ میں دیکھا ہے جہاں ہر گلی محلے میں سبز جھنڈیاں لگی ہوئی ہیں۔ لوگوں نے ٹوپیاں پہن رکھی ہیں۔ ہر آدمی کے داڑھی ہے۔ کندھے پر مکے مدینے والا حاجی رومال ہے۔ بوڑھے مردوں نے داڑھیوں میں لال مہندی لگائی ہوئی ہے اور جوانوں نے آنکھوں میں ڈیڑھ ڈیڑھ پاؤ سرمہ لگا رکھا ہے۔ دکانوں پر ابھی تک سن انیس سو چورانوے والے پینٹروں کے لکھے لوہے کے سائن بورڈ لگے ہوئے ہیں جن پر اردو غلط املا میں لکھی ہوئی ہے۔ فیس بک کی طرح بالی ووڈ میں بھی ابھی تک نستعلیق رسم الخط نہیں پہنچا۔ اللہ جانے کیا وجہ ہے۔ پھر گوگل اور اے آئی کے دور میں بھی ہجوں کی فاش غلطیاں ظاہر کرتی ہیں کہ ان کے ڈائریکٹر اور پروڈیوسروں کو بچپن میں استادوں نے بالکل تختیاں نہیں لکھوائیں نہ ہی غلط املا پر ہماری طرح کانوں کے پیچھے دو دو لگائی ہیں۔ چوک چوراہوں میں ہر بندہ دوسرے کو بلاوجہ ’جناب‘ جناب ’کہہ رہا ہے۔ ہر بات میں جناب کا سیلاب آیا ہوا۔ جناب پانی لے آؤں؟ جناب میں بیت الخلا گیا تھا۔ جناب آج کیا پکانا ہے؟ جناب آپ نے غسل جنابت کر لیا؟ وغیرہ وغیرہ۔
اس کے بعد بازار کا منظر ہے۔ بازار میں بھی وہی ہری اور لال جھنڈیاں لگی ہوئی ہیں جن پر چاند تارا بنا ہوا ہے۔ شاید بالی ووڈ کے مطابق پاکستان میں سارا سال چودہ اگست منائی جاتی ہے۔ ہم نے ایک بار حاجی غفار خان ڈنڈے والے سے پوچھا، گُرو یہ ترکی جھنڈے والی لال جھنڈیاں لگانے کی منطق سمجھ میں نہیں آئی؟
ایک ناقابل اشاعت لقب دے کر فرمایا ’۔ تجھے یوسفی صاحب کی بات یاد نہیں کہ یہاں پہلے کون سا کام منطق اور اصول کے مطابق دکھایا جا رہا ہے جو تجھے لال جھنڈیوں پر اعتراض ہے۔ ‘
بازار میں عورتیں ہر وقت چاند رات کی شاپنگ کر رہی ہیں۔ انہوں نے میری نانی اماں والا کالا انڈین برقعہ پہن رکھا ہے جو وہ آتے ہوئے انبالہ سے ہمراہ لائی تھیں اور ساری زندگی اسی ڈیزائین کا برقعہ پہنتی رہیں۔ اس برقعے کی دو تنیاں ٹھوڑی کی نیچے باندھی جاتی تھیں اور منہ پر ایک کالا پردہ گرا لیا جاتا تھا۔ ان کے بعد وہ برقعہ میں نے بچپن میں اپنی امی اور خالہ کو پہنتے دیکھا۔ اور آج پورے پاکستان میں وہ برقعہ کوئی ایک عورت بھی نہیں پہنتی۔ حتٰی کہ میری امی اور خالہ نے بھی نئے ڈیزائین کے برقعے بنوا لئے ہیں۔ عورتیں چوڑیاں اور کون مہندیاں لے رہی ہیں۔ وہیں کاسمیٹکس کی دکان پر ہی بکرا ذبح کر کے الٹا لٹکایا ہوا ہے۔ عورت سرخی پاوڈر لے کر دکاندار سے کہتی ہے دو کلو قیمہ بھی دے دو۔ دکاندار باقی سارے گاہک چھوڑ کر اس الیکٹرانکس کے دور میں بُغدا اٹھا کر کھوڑی پر قیمہ بنانا شروع کر دیتا ہے۔
صبح کے ساڑھے آٹھ بجے ہیں۔ گلی میں بچے ذاکر کھل نائیک والی جالی دار ٹوپیاں پہنے سکول جا رہے ہیں اور ہر بچہ دوسرے سے جمع کے صیغے میں مخاطب ہے۔ ہمارے ابوجان یہ کہتے ہیں اور ہماری امی جان یوں کرتی ہیں۔ بچے ایک دوسرے سے آپ جناب میں گفتگو کر رہے ہیں۔ بیک گراؤنڈ میں تین چار مساجد سے اکٹھی اذان ہو رہی ہے۔ خدا جانے یہ کون سی نماز کی اذان ہے جو ساڑھے آٹھ بجے ہو رہی ہے اور تمام موذن پورے سین میں پندرہ دفعہ اللہ اکبر اللہ اکبر کر چکے ہیں مگر اس سے آگے انہیں اذان نہیں آ رہی۔ اکا دکا فلموں میں اشھد اللہ الہ الا اللہ بھی ہے مگر وہ بھی موذن سات آٹھ مرتبہ کہہ رہا ہے۔ ہر گلی کوچے میں دہشت گردوں کی کمین گاہیں ہیں۔ رینڈملی کیمرہ کسی ایک گھر میں داخل ہو جاتا ہے۔ اندر خاتون خانہ مصلے پر التحیات میں بیٹھی ہے اور کیمرے کا انتظار کر رہی ہے۔ جیسے ہی کیمرہ اندر آتا ہے وہ زانو پر رکھی شہادت والی انگلی سے اشہد اللہ الہ الا اللہ پر اشارہ کرتی ہے اور اسی لمحے سلام بھی پھیر دیتی ہے۔ معلوم نہیں ایک اعشاریہ تین سیکنڈ میں وہ درود شریف اور قعود کی مشہور دعائیں یعنی رب جعلنی، ربنا اغفرلی اور ربنا اتنا فی الدنیا والی دعا روشنی کی سپیڈ سے کیسے پڑھ لیتی ہے۔ شاید بالی ووڈ کی نماز والی کاپی میں التحیات میں ہی سلام پھیرنا لکھا ہوا ہو۔ اس عورت کے گھر کے تمام افراد بھی وہی دہشت گرد ہوتے ہیں جن کے پیچھے بالی ووڈ ہیرو لگا ہوتا ہے۔ اس کی ایک یا دو لڑکیاں ہیں جن کو ان کا باپ مار کوٹ کر ابھی فارغ ہوا ہے اور وہ ایک کونے میں دبی سہمی بیٹھی ہوئی رو رہی ہیں۔ وہ عورت اٹھ کر سب کا ناشتہ بناتی ہے۔ اتنے میں اکشے کمار یا کوئی اور ہیرو دروازہ توڑ کر اندر داخل ہو جاتا ہے اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دیتا ہے۔ سہولت کاروں کو پکڑ لیتا ہے اور اصل ساتھیوں کے نام اگلوا لیتا ہے اور انہیں پکڑ کر بھارت لے جاتا ہے یا وہیں مار دیتا ہے۔ جے ہند کے ساز بجنے لگتے ہیں اور اللہ اللہ خیر صلا۔
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس گئے گزرے حال میں بھی ہمارا لائف سٹائل، معیار زندگی اور اٹھنا بیٹھنا ہمسایوں سے بدرجہا بہتر ہے۔ خدا معاف کرے میں بڑا بول نہیں بول رہا مگر حقیقت یہی ہے۔ دونوں ملکوں میں غربت اور طبقاتی خلیج کا غیر جانبدارانہ موازنہ جو بھی کرے گا وہ یہی کہے گا۔ آرمی کی طاقت آج پوری دنیا کو نظر آ ہی رہی ہے۔ پاکستان ائر فورس جدید ترین رافیل طیارے گرانے والی دنیا کی پہلی ائر فورس بن چکی ہے۔ چار گنا بڑا بھارت دوسرے ہی دن سفید جھنڈے لہرا رہا تھا۔ باقی رہ گئی بات میڈیائی پروپیگنڈے کی تو حیرت اس بات کی ہے کہ بھارت کی ڈیڑھ ارب کی آبادی میں سے اگر صحافت کا یہ ٹیلنٹ ٹیلی ویژن پر آ رہا ہے تو باقی عام آبادی کا کیا حال ہو گا؟ مطلب حد ہے اور بے حد ہے کہ اس انفارمیشن کی صدی میں بھی بالی ووڈ کا راج کمار ہیرانی جو صاحب مطالعہ ڈائریکٹر سمجھا جاتا ہے وہ شاہ رخ خان کی ڈنکی فلم میں دریائے سندھ کو لداخ سے پاکستان میں داخل ہوتے دکھاتا ہے تو بارڈر کراس کرتے ہی دریا صوبہ سندھ میں جا نکلتا ہے۔ نائیس جغرافیہ ڈیئر۔
پھر میجر ریٹائرڈ گورو آریہ۔ میرے خیال میں اس آدمی کو میجر ریٹارڈ گورو آریہ لکھا اور پکارا جانا چاہیے۔ ہمہ وقت باچھیں چری ہوئی ہیں۔ کف بہہ رہی ہے۔ زہر اگل رہا ہے۔ یہ ہندوؤں کا ابوبکر بغدادی ہے۔ حیرت مگر بھارتی حکومت اور آرمی پر بھی ہے جو بعینہ اس بغلول کے مشوروں پر عمل کرتی بھی نظر آتی ہے اور اپنی سبکی کراتی ہے۔
میری بھارتی عوام سے اپیل ہے کہ دوستو عزیزو!
آنکھیں کھولو۔ یوٹیوب پر بین الاقوامی چینل دیکھو۔ پاکستان اور دیگر ممالک کے ولاگ دیکھا کرو۔ تاکہ تمہیں پتہ چلے کہ پنجاب میں سمندر نہیں ہوتا۔ یہ لینڈ لاکڈ صوبہ ہے۔ لاہور اس کا دارالحکومت ہے بندرگاہ نہیں۔ اگلے دن ایک ٹوٹا بالی ووڈ کی کسی فلم کا فیس بک پر نظر سے گزرا اس میں بلتستان اور چترال تو دور اکشے کمار نے راولپنڈی بھی کاٹ کر بھارت میں ڈال رکھا تھا۔ یہ کیا بونگیاں ہیں؟ اپنے ان سیلیبرٹیز کا مذاق اڑاؤ اور ان کی اتنی بھد اڑاؤ کہ یہ تمہیں سادہ لوح دیہاتی سمجھ کر تمہارا جذباتی ریپ کرنے سے باز آ جائیں اور تمہاری گورنمنٹ اور اسٹیبلشمنٹ ہر بار پاکستان دشمنی کے نام پر تمہاری مانگوں میں سندور بھر کر اور تمہاری گردنوں میں منگل سوتر ڈال کر کام ڈالنے سے باز آ جائے۔
دھنے واد۔


