سیز فائر۔ اب آگے کیا؟
پاکستانی دوستوں اور بھارتی شہریوں کو انٹرنیشنل بارڈر پر سیز فائر کی مبارک، رہ گئے ہم بیچارے کشمیری تو ہمارا خون ہمیشہ کی طرح اتنا ارزاں ہے کہ دونوں ممالک نے سیز فائر کا اطلاق کشمیر میں کرنا ضروری خیال نہیں کیا۔ سو کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر برنالہ سیکٹر میں ابھی بھی شیلنگ ہو رہی ہے، جنون، وحشت اور دہشت کا ننگا ناچ اب بھی جاری ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ چاہے ریاستِ پاکستان ہو یا ریاستِ ہندوستان، کسی کو کشمیریوں سے کوئی مطلب نہیں، انہیں بس کشمیر چاہیے ۔
خیر یہ تو ہمارے ساتھ ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے اس پر کیا بات کریں، کہنا ہمیں کچھ اور ہے اور وہ یہ اب، جب کہ پاکستان نے انڈیا پر اپنی برتری ثابت کر دی ہے، اس تاثر کو زائل ہونے سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ پاکستانی میڈیا انڈین نیوز چینلز کی نقالی کرتے ہوئے فیک نیوز پھیلا کر اپنی اور اپنے ملک کی کریڈیبلٹی کو نقصان پہنچانے سے باز رہے۔ اس ساری ایپی سوڈ کے درمیان ہمارے نیوز چینلز دھڑلے سے طیاروں کے کریش کی ایسی ویڈیوز چلاتے رہے جو ایک سے چار سال تک پرانی تھیں، جب کہ ہمارا میڈیا انہیں حالیہ لڑائی کی ویڈیوز بنا کر پیش کرتا رہا۔ حد تو یہ ہوئی کہ ایک ویڈیو ہمارے اپنے ایک جہاز کی تھی جو بہت پہلے وہاڑی میں کسی وجہ سے کریش ہوا تھا، مگر ہمارے پرجوش میڈیا نے اسے انڈین رافیل بنا کر پیش کیا۔ اس طرح کی حرکتوں سے آپ فقط اپنی اور اپنے ملک کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں اور آپ کی کر یڈیبلٹی بالکل ختم ہو جاتی ہے۔ سو اس چیز سے اجتناب برتنا چاہیے کیوں کہ ایسا کر کے آپ پاکستان کی کوئی خدمت نہیں کرتے بلک الٹا اس کی بدنامی کا باعث بن رہے ہوتے ہیں۔
دوسری اہم بات یہ کہ، اب جب کہ کم از کم انٹرنیشنل بارڈرز پر سیز فائر ہو چکا، اور دونوں ممالک کے درمیان مزید بات چیت 12 مئی کو ہونا قرار پائی ہے، پاکستان کو چاہیے کہ اپنی اس برتری کو capitalize کرتے ہوئے انڈیا اور انٹرنیشنل ثالثی کے فریقین کے ساتھ بات چیت کے دوران مسئلہ کشمیر کے حل کو ایک بنیادی شرط کے طور پر مستقل جنگ بندی کے معاہدے میں شامل کروائے۔ اگر اس موقعے پر بھی کشمیریوں کو نظر انداز کیا گیا تو پھر ہر اس کشمیری کو، جو الحاقِ پاکستان کے نظریہ کا حامی ہے، اپنی سوچ پر نظرِ ثانی کرنے کی ضرورت ہو گی اور یہ سوچنا ہو گا کہ کیا پاکستان واقعی کشمیریوں کے ساتھ مخلص ہے؟ اگر امن معاہدے میں کشمیر کے حل کا کوئی ٹھوس لائحہ عمل طے نہیں پاتا تو جان لو کہ پاکستان کا کشمیر ہماری شاہرگ ہے کا راگ فقط دنیا کو سنانے کے لئے ہے۔
اور آخری اہم ترین بات یہ کہ پاکستان کو اب سابقہ یا موجودہ ہر طرح کے دہشت گردوں کی پشت پناہی سے ہاتھ اٹھانا ہو گا۔ مسعود اظہر اور اس جیسے دہشت گردوں کو اگر کسی وجہ سے قانون کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا جا سکتا تو انہیں دیس نکالا دینا ہو گا، تاکہ دنیا یہ جان لے کہ اب پاکستان کسی دہشت گرد کی پشت پناہی پر تیار نہیں۔ یہ پاکستان کے لئے نہایت شرم کی بات ہے کہ اس کا و زیرِ دفاع اسمبلی میں بتا رہا ہے کہ مدرسوں کے سٹوڈنٹس ہماری سیکنڈ لائن آف ڈیفینس ہیں اور ان کو ہم شہری دفاع اور دوسری ضرورتوں کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی غیر ذمہ دار سٹیٹمنٹ ہے جو ایک انتہائی ذمہ دار حکومتی عہدے دار کی جانب سے آئی ہے اور بین الاقوامی طور پر پاکستان کی بھد اڑانے کے لئے کافی ہے۔ انڈین چینلز پہلے ہی اس بیان کو لے کر پاکستان کو ذلیل کر رہے ہیں۔ کیا خواجہ صاحب وضاحت کرنا پسند کریں گے کہ ایک پروفیشنل آرمی کے ہوتے ہوئے مدرسوں کے سٹوڈنٹس کو سیکنڈ لائن آف ڈیفینس بنانا کس قانون کے تحت کیا جا رہا ہے؟ لگے ہاتھوں یہ بھی بتا دیں کہ وہ ”دوسری ضرورتیں“ کیا ہیں جنہیں آپ کھل کر بیان نہیں کر سکے اور جن کے لئے آپ کو مدرسوں کے سٹوڈنٹس کی ضرورت ہے؟ آپ کو احساس ہے کہ آپ کا یہ بیان ایک طرح کا اعترافِ جرم ہے؟
خواجہ صاحب آپ کب سمجھیں گے کہ نان سٹیٹ ایکٹرز پالنے کی پاکستان کی پالیسی مکمل ناکام ہو چکی ہے۔ کسی زمانے میں شاید فرحت اللہ بابر نے کہا تھا کہ طالبان تو ہمارے بوائز ہیں۔ مگر پاکستان کے ان بوائز نے جو ریاست کے ساتھ کیا وہ آپ نے بھی دیکھا اور دنیا نے بھی، اسی طرح افغانستانی بوائز نے بھی افغانستان میں حکومت سنبھالنے کے بعد جیسے پاکستان سے نہ صرف منہ پھیرا، بلکہ الٹا ٹی ٹی پی کی پشت پناہی کی، وہ بھی آپ کے علم میں ہے۔ پھر بھی آپ کو عقل نہیں آ رہی؟
پاکستان کو سوچنا ہو گا کہ بین الاقوامی طور پر اگر اپنا امیج درست کرنا ہے اور پاکستان کو معاشی طور پر ایک مضبوط، خوش حال، اور اندرونی خلفشاروں سے پاک ملک بنانا ہے تو اسے اپنی پرانی پالیسیوں سے رجوع کرنا ہو گا۔ ورنہ آپ کا امیج ہمیشہ ایک دہشت گردی کی آبیاری کرنے والے ملک کا ہی رہے گا۔ پاکستان کی عزت اور وقار کو سب سے زیادہ نقصان آپ کی اسی پالیسی سے پہنچتا ہے جس کا اعلان آپ نے اسمبلی میں اپنی تقریر میں کیا۔
جنگ ایک ایسا عفریت ہے جو صرف ایک فریق کو ہڑپ نہیں کرتا، مسائل کا حل انگیجمنٹ اور بات چیت میں ہی مضمِر ہے۔ یہ بات ہندوستان کو بھی سمجھنا ہو گی۔ اور اپنے سیکیولر تشخص کو بحال کرنے کے لئے مسلم دشمنی کی پالیسی کو ترک کرنا ہو گا۔ ہندوستان کے لئے فہمیدہ ریاض کی اس نظم کے ساتھ اپنی بات ختم کرتے ہیں۔
تم بالکل ہم جیسے نکلے
اب تک کہاں چھپے تھے بھائی
وہ مورکھتا وہ گھامڑ پن
جس میں ہم نے صدی گنوائی
آخر پہنچی دوار توہارے
ارے بدھائی بہت بدھائی
پریت دھرم کا ناچ رہا ہے
قائم ہندو راج کرو گے
سارے الٹے کاج کرو گے
اپنا چمن تاراج کرو گے
تم بھی بیٹھے کرو گے سوچا
پوری ہے ویسی تیاری
کون ہے ہندو کون نہیں ہے
تم بھی کرو گے فتویٰ جاری
ہو گا کٹھن یہاں بھی جینا
دانتوں آ جائے گا پسینا
جیسی تیسی کٹا کرے گی
یہاں بھی سب کی سانس گھٹے گی
بھاڑ میں جائے شکشا وکشا
اب جاہل پن کے گن گانا
آگے گڑھا ہے یہ مت دیکھو
واپس لاؤ گیا زمانہ
مشق کرو تم آ جائے گا
الٹے پاؤں چلتے جانا
دھیان نہ دوجا من میں آئے
بس پیچھے ہی نظر جمانا
ایک جاپ سا کرتے جاؤ
بارم بار یہی دہراؤ
کیسا ویر مہان تھا بھارت
کتنا عالی شان تھا بھارت
پھر تم لوگ پہنچ جاؤ گے
بس پرلوک پہنچ جاؤ گے
ہم تو ہیں پہلے سے وہاں پر
تم بھی سمے نکالتے رہنا
اب جس نرکھ میں جاؤ وہاں سے
چٹھی وٹھی ڈالتے رہنا


