ایڈگر ایلن پو کی پراسرار موت: خوفناک کہانیوں کے خالق کی پراسرار موت کے واقعات


 

انیسویں صدی کے امریکی مصنف ایڈگر ایلن پو، بیک وقت شاعر اور کہانی نویس تھے۔ وہ اپنے وقت کے ادبی تنقید نگار اور اپنے ملک کی رومانی تحریک کا بڑا نام تھے۔ اِن کی اصل وجہ شہرت پُراسرار، دہشت ناک او ر ڈراؤنی کہانیاں ہیں جنہوں نے جلد ہی انہیں بین الاقوامی شہرت بخشی۔ خوف، ڈر، موت اور اُس کی علامات، لاشوں کے گلنے سڑنے کے اثرات، زندہ دفن کیا جانا، حیاتِ ثانی، یاسیت، فِطرت اور جذباتیت اِن کی کہانیوں کے لازمی جز ہیں۔ ایڈگر ایلن پو کی اولین نظم ’دی ریِوِن‘ The Raven ان کا شاہکار مانی جاتی ہے۔ بعض افراد اِس سلسلے میں اِن کی دہشتناک کہانی ’دی فال آف دی ہاؤس آف اشر‘ The Fall of the House of Usher کا نام دیتے ہیں۔ مذکورہ کہانی پر ہالی وڈ میں ایک سے زیادہ مرتبہ فلمیں بن چکی ہیں۔ 1960 میں بننے والی ایم جی ایم کی سینما اسکوپ رنگین فلم انٹرنیٹ سے ڈاؤن لوڈ کر کے دیکھی جا سکتی ہے۔ بالٹی مُور میں واقع ایڈگر ایلن پو سوسائٹی کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں کئی نظمیں، ایک ناول اور کہانیوں کے تین عدد مجموعہ جات شائع کروائے تھے۔ بعد میں اِن کے اور اِن کو لکھے گئے خطوط بھی شائع کیے گئے۔ پو کی کہانیوں کو عوام نے مہم جوئی اور سائنس فکشن کی وجہ سے بھی پسند کیا۔ سراغ رسانی کی کہانیوں کے تو ایڈگر ایلن پو موجد مانے جاتے ہیں۔

ایڈگر ایلن پو کی پراسرار موت

دہشت ناک کہانیاں لکھنے والے کی سب سے زیادہ پراسرار کہانی خود اُن کی اپنی موت ہے جس پر آج تک اسرار کے پردے پڑے ہوئے ہیں۔ شاید یہ کہنا بے جا نہ ہو کہ پو کی موت اُن کی کہانیوں سے زیادہ عجیب و غریب ہے۔ اِس پر اُس کے پرستار اور ناقدین یکساں متفق ہیں۔ بد قسمتی سے ان کی کوئی مستند سوانح عمری موجود نہیں۔ ان کی موت کے فوراً بعد متضاد تبصروں اور آراء کی وجہ سے حقیقت گہنا گئی۔ یوں ایلن پو کے آخری ایّام اور وجہ موت اُن کی تمام لکھی ہوئی کہانیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ غیر معمولی ہو گئی۔

پو کے تذکروں میں ملتا ہے کہ وہ 29 جون 1849 کو معمول کے کاروباری دورے پر نکلے۔ اُن کا ارادہ پہلے فلاڈیلفیا شہر پھر رِچمنڈ شہر جانے کا تھا۔ اُن کے سفر میں فلاڈیلفیا جانے کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا، البتہ رچمنڈ پہنچنے کے شواہد ملتے ہیں جہاں اُنہوں نے کافی وقت گزارا۔

پو کی بیوی دو سال قبل وفات پا چکی تھیں۔ یہاں اُن کی ملاقات اپنی ایک پرانی جاننے والی بیوہ خاتون سے ہوئی۔ جلد ہی دونوں شادی کے لئے رضامند ہو گئے۔ ایڈگر پو نے شادی کے لئے ضروری ساز و سامان لانے کی غرض سے نیویارک شہر جانے کی تیاری شروع کر دی۔ یہاں اُن کی پھوپھی بھی رہتی تھیں جنہیں وہ رِچمنڈ لا نا چاہتے تھے۔

27  ستمبر کی رات ایڈگر ایلن پو تقریباً ساڑھے نو بجے شب ڈاکٹر جان کارٹر کے دفتر آئے۔ کچھ دیر بات چیت کی پھر کھانا کھانے قریبی ریستوراں چلے گئے۔ یہاں کچھ پرانے واقف کار مِل گئے۔ پھر رات کو وہ اُن کے ساتھ بندر گاہ تک گئے جہاں ایڈگر پو اکیلے کشتی میں بیٹھ کر بالٹی مُور روانہ ہو گئے۔ بالٹی مُور میں ان کی آمد 28 ستمبر 1849 کو ہوئی۔ یہاں سے آگے اُن کی سرگرمیاں اور مصروفیات معلوم نہیں ہو سکیں۔ حتیٰ کہ بالٹی مُور میں اُن کے قریبی عزیز نیلسن پو کو بھی علم نہیں تھا۔ تحقیق سے صرف اس قدر ہی معلوم ہو سکا کہ ایڈگر ایلن پو نے کئی دفعہ پرانے جاننے والے ڈاکٹر بروکس سے رابطے کی کوشش کی لیکن بدقسمتی سے وہ شہر سے باہر گئے ہوئے تھے۔

پو کی موت کے فوراً بعد اُن پر کئی کتابیں لکھی گئیں جن میں ایک بات تواتر سے کہی گئی کہ رچمنڈ شہر سے جاتے وقت پو کے پاس خاصی بڑی رقم تھی۔ بعض جگہ اس کو 1500  ڈالر لکھا گیا جو اُنہوں نے اپنے ذاتی رسالے کے لئے جمع کی تھی۔ بیشک یہ اُس زمانے میں ایک بہت بڑی رقم تھی۔ واضح ہو کہ ایڈگر ایلن پو کے رسالے کی سالانہ قیمت محض 5 ڈالر تھی۔ اب چونکہ بالٹی مُور میں پو کے پاس پھوٹی کوڑی بھی نہیں نکلی چنانچہ فوری نتیجہ یہ اخذ کیا گیا کہ یہ عظیم مصنف لوٹ مار کا شکار ہو گئے۔

ایڈگر ایلن پو کا مخدوش حالت میں ملنا

وہ 3 اکتوبر 1849 کا دِن تھا۔ بالٹی مُور میں بارش ہو رہی تھی لیکن اخبار ’بالٹی مُور سَن‘ کے صحافی جوزف واکر بھری برسات میں بھی خبر کی تلاش میں ٹاؤن ہال کی جانب جا رہے تھے۔ یہ ہال چوتھے وارڈ کے انتخابات کے لئے ووٹنگ کا مرکز بنایا گیا تھا۔

وہ جیسے ہی ہال کے قریب پہنچے تو اُنہیں ایک شخص پھٹے پرانے کپڑوں میں گندگی کے ڈھیر پر نیم بے ہوشی کی حالت میں پڑا نظر آیا۔ انسانی ہمدردی کے تحت وہ اُس کے قریب گئے۔ نزدیک آتے ہی وہ چونک اُٹھے کیوں کہ وہ شخص بالٹی مُور شہر کی ایک اہم شخصیت ایڈگر ایلن پو تھے۔ واکر یہ دیکھ کر حیران رہ گئے۔ وہ فوراً پو کو ہال کے اندر لے گئے۔ پھر اُنہوں نے پو سے پوچھا کہ بالٹی مور میں اُن کا کوئی قریبی شخص ہو تو اُسے مدد کے لئے بُلوایا جائے۔ اِس پر پو نے میگزین ایڈیٹر، جوزف اسنوڈگراس کا نام لیا۔ ایڈگر پو کے حالات پر لکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اِس بات میں کوئی حقیقت نہیں کہ پو گندگی کے ڈھیر پر نشہ کی حالت میں پائے گئے۔ اُنہیں فوراً ہی اسنوڈگراس اور پو کے ایک چچا ہنری پو نے اسپتال منتقل کر دیا۔ دونوں صاحبان کا کہنا تھا کہ اُس وقت گو کہ پو کی حالت ٹھیک نہیں تھی لیکن وہ شراب یا کسی اور چیز کے نشے میں نہیں تھے۔ رِچمنڈ سے پو ایک سیاہ اونی سُوٹ پہن کر نکلے تھے جبکہ ٹاؤن ہال کے باہر ایک بوسیدہ چوغہ نما برساتی زیب تن تھی اور سر پر ایک سال خوردہ ہیٹ۔ پتلون سمیت پورا لباس اُن کا اپنا نہیں تھا۔ پیر کے جوتوں کو دیکھ کر ہر آنکھ اشک بار ہو گئی۔ پھٹے پرانے جوتے جِن کی ایڑیاں زمانے کے سرد و گرم کی بھینٹ چڑھ چکی تھیں۔ زیب تن کیے بوسیدہ چوغہ نما کپڑے تباہ حال ضرور تھے لیکن گَٹَر یا کسی اور غلاظت میں لتھڑے ہوئے نہیں تھے۔

جب وہ اپنے کاروباری دورے کے لئے نکلے تھے تو اُن کے پروگرام میں فلاڈیلفیا بھی شامِل تھا جہاں اُنہیں اُس زمانے کی ایک ابھرتی ہوئی شاعرہ، لی اُون کی نظموں کی تدوین کرنا تھی، جس کا معاہدہ بمع معاوضہ طے شدہ تھا لیکن پو وہاں نہیں پہنچے۔ پھر اُنہیں رِچمنڈ سے نیو یارک جانا تھا جبکہ اُنہیں بالٹی مُور میں صحافی واکر نے نہایت مخدوش حالت میں پایا۔ نیو یارک اُن کے گھر سے تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ پو کو وہاں آنا تو تھا تا کہ اپنی پھوپھی کو ساتھ لے کر واپس رِچمنڈ آئیں اور اپنی دوسری شادی کر سکیں لیکن وہ وہاں نہیں پہنچے۔

ایڈگر ایلن پو 7 اکتوبر کو انتقال کر گئے۔ اِن چار دِنوں میں وہ کوئی بات کرنے کے قابل نہیں تھے کہ کچھ بھید کھُلتا۔ اِس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا کہ اُن کا پُر وقار لباس کیا ہوا اور اِن تباہ حال کپڑوں کا کیا ماجرا ہے؟ نیز وہ اِس طرح پریشان حال سڑکوں پر کیسے آ گئے؟ یہ تمام دِن ایڈگر ایلن پو نے غنودگی یا غشی اور فریبِ خیال کے درمیان گزارے۔ اپنے انتقال سے ایک رات قبل اُن کے قریب کھڑے ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ پو نے کئی مرتبہ ایک نام ”رینالڈ“ پُکارا۔ سر توڑ کوشش کے بعد بھی آج تک رینالڈ نامی اِس شخص کا راز نہیں کھُلا۔ اِن چار دِنوں میں پو کے قریبی ساتھیوں نے بارہا یہ معاملہ پوچھا لیکن پو نے بے ربط جواب دیے۔ اِن حالات میں کسی سوال کا جواب دیے بغیر ایڈگر ایلن پو راہی عدم ہو گئے۔

تحقیقات کا نچوڑ

ایڈگر ایلن پو کی پراسرار موت کو 176 سال ہو چکے۔ اِس سلسلے میں رِچمنڈ، ورجینیا میں قائم ایڈگر ایلن پو عجائب گھر کے سرپرست کرسٹوفر نے 2014 میں پو کی پراسرار موت پر مختلف زاویوں سے کی گئی کوششوں میں سے حقائق تلاش کرنے کی کوشش کی۔ اِس سلسلہ میں اُس نے مختلف تحقیقات کا نچوڑ ایک جگہ اکٹھا کیا جو درجِ ذیل ہے :

پہلا نظریہ ہے کہ پو نشہ کی زیادتی کے باعث اِس حال کو پہنچے۔ یہ نظریہ باطل ٹھہرایا گیا ہے کیوں کہ ڈاکٹروں کی رپورٹ کے مطابق اُن کے مرنے کے بعد اُن پر کیے گئے ٹیسٹوں میں کسی بھی قسم کے نشہ کا عنصر نہیں پایا گیا۔

دوسرا نظریہ یہ ہے کہ اُن کی جسمانی صحت درست نہیں تھی۔ اِس بات کو ڈاکٹر ویلینٹائن نے پو کی موت کے فوراً بعد پو کی بیمار بیوی کی دیکھ بھال کرنے والی نرس کو بنیاد بنا کر کہنا شروع کیا کہ پو کو اکثر سر درد لاحق ہوتا تھا جو کسی دماغی سوزش کی وجہ سے بھی ہو سکتا تھا۔

2014 میں ایک اور ڈاکٹر مابٹ T۔ O۔ Mabbott نے پو کی کئی ایک دستیاب تصاویر کی مدد سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اُن کے چہرے پر ہلکے سے بَل سے اندازہ ہوتا ہے کہ اُن کو برین ٹیومر تھا۔ پھر تو ٹی بی، مِرگی، ذیابیطس حتیٰ کہ باؤلے پن کا بھی نام لیا جانے لگا۔ یہ خدشات ثابت کرنے والوں نے کافی زور لگایا لیکن یہ نظریات کسی قسم کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کر سکے۔ رہا باؤلا پن تو ایڈگر ایلن پو نے اسپتال میں کثرت سے پانی پیا تھا لہٰذا یہ نظریہ بھی باطل ہوا۔

پھر اندازہً 150 سال بعد مملکتِ کینیڈا میں ایڈگر ایلن پو پر بننے والی ایک دستاویزی فلم Dead Men ’s Tales کے لیے بالٹی مُور میں واقع ایڈگر ایلن پو سوسائٹی نے اپنے عجائب گھر میں رکھی پو کی نشانیوں میں سے سر کے کچھ بال سائنسی تجزیہ کے لئے بھیجے۔ یہ ساری کارروائی اور بڑے بڑے جید ڈاکٹروں کے سائنسی تجزیے اِس فلم میں شامل کیے گئے اور یہ فلم 2003 میں ڈسکوری Discovery چینل سے چلی۔ سر کے بال جسم میں موجود ہر قسم کے زہریلے مادوں کی موجودگی کا پتا دیتے ہیں۔ اسی نظریہ کو بنیاد بناتے ہوئے کہ کہیں پو زہر خوانی کا شکار تو نہیں ہوئے؟ یہ تجزیے کرائے گئے۔ واضح ہو کہ 1999 میں اسی لیبارٹری نے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے ساتویں صدر اور امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کے بانی، اینڈریو جیکسن ( 1767 سے 1845 ) کے سر کے بال بھی تجزیہ کیے تھے۔ ایڈگر ایلن پو کے لیبارٹری ٹیسٹوں سے کسی زہریلے مادے یا خطرناک دھات کا غیر معمولی مقدار میں ہونا ثابت نہیں ہو سکا۔

تیسر ا نظریہ اُن کے قریبی عزیز اور اسکالروں کا کہنا تھا کہ بد قسمت پو ’کوپنگ‘ cooping کا شکار ہو گئے جو اُس وقت کے انتخابات میں ایک عام لیکن غیر قانونی شاطرانہ ہتھکنڈہ تھا۔ بدعنوانی اور تشدد کا چلن بالٹی مور میں عام تھا۔ اپنے اپنے امیدواروں کو جتوانے کے لئے سیاسی گروہ کسی بھی حد تک جا سکتے تھے۔ بیلٹ بکس اُٹھا کر بھاگ جانا، ججوں کو رشوتیں دینا اور مخالف امیدوار کے ووٹروں کو خوفزدہ کرنا بالٹی مور کی سیاست تھی۔ بعض گروہ عام راہگیروں کو زبردستی ایک کمرے میں بٹھا دیتے تھے جو ’کوپ‘ coop کہلاتے تھے۔ پھر اُن بے چاروں کو بار بار ووٹ ڈالنے جانا پڑتا تھا۔ یوں کچھ مختلف نظر آنے کے لئے بیچ میں کپڑے بھی بدلوائے جاتے تھے۔ احکامات کی تعمیل کے لئے اُن کو نشہ پانی کرایا جاتا اور حکم عدولی پر مار پیٹ علیحدہ۔ ایڈگر ایلن پو کا کمزور دِل شاید یہ سب برداشت نہ کر سکا ہو۔ اُس زمانے کی تحقیق سے یہ ثابت ہے کہ بالٹی مُور میں یہ کام ڈنکے کی چوٹ ہو تا تھا اور 3 اکتوبر کو بھی یہ سرگرمی پورے زور و شور سے کی جا رہی تھی۔

1870 تک یہ نظریہ کافی مقبول رہا کیوں کہ پو کے اپنے ملبوسات کے مقابلے میں کسی اور کے تباہ حال کپڑوں میں پایا جانا اِسی بات کی دلالت کرتا تھا۔ اِس نظریہ میں سقم یہ ہے کہ ایڈگر ایلن پو بالٹی مور کی ایک جانی پہچانی شخصیت تھی اور ایک زمانہ اُن سے واقف تھا۔ کیا زبردستی ووٹنگ والے اُس کو نہیں جانتے تھے؟

اتنا زمانہ ہو گیا مگر پو کی موت کا اسرار آج تک راز ہی ہے۔ اصل ماجرا کیا تھا؟ اب تک یقین سے نہیں کہا جا سکا۔ کوپنگ کی وجہ بھی یکسر مسترد نہیں کی جا سکتی۔ کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ ایڈگر ایلن پو کے عزیز نیلسن پو، ایڈگر کے اِس المناک راز کو جانتے تھے مگر نامعلوم وجوہات کی بِنا پر لب کھولنے پر تیار نہیں ہوئے یوں مصلحت کی خاطر وہ راز اپنے ساتھ قبر میں لے گئے۔

سیدھی سی بات ہے کہ ٹاؤن ہال میں بنائے گئے انتخابی مرکز میں دھاندلی اور جعلی ووٹنگ دبا کر کی جا رہی تھی اور بد قسمتی سے ملکی اور بین الاقوامی اہمیت کی حامل شخصیت کو بھی اِس کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ یقیناً اُس سیاسی ذمہ دار گروپ کو یہ بات معلوم بھی ہو گئی ہو گی اب اگر کوئی فوری اقدام کیا جاتا تو لازمی بعض شخصیات کو سامنے آنا پڑتا یا اُن کے نام سامنے آتے۔ کیوں کہ یہ کوئی ملنگ یا بے چارہ عام بے گھر نہیں تھا بلکہ بالٹی مور کی جانی پہچانی شخصیت ایڈگر ایلن پو تھے اور میڈیا والے اُن کے ساتھ تھے۔

مذکورہ انتخابات کی گہما گہمی میں ریاست ورجینیا کے رہنے والے، ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے 12 ویں منتخب صدر ٹائلر ( صدارتی مدت 1849 سے 1850 ) اور نیلسن پو بھی شامِل تھے۔ لہٰذا لوگ یہ کہنے لگے کہ سیاست کی خاطر ایک پو نے دوسرے پو کے راز کو افشا نہیں کیا۔

چوتھا نظریہ پو کی مَوت کے سلسلے میں جدید نظریہ یہ ہے کہ پو کو برین ٹیومر تھا۔ اِس وجہ سے آخر وقت میں وہ ہوش و حواس کھو بیٹھے اور وہ سب کچھ کر گزرے جو عام حالت میں نہیں کرتے۔

پانچواں نظریہ ہے کہ اُن کو شدید نزلہ ہو گیا تھا جو بگڑ کر نمونیہ بن گیا۔ روایت کی جاتی ہے کہ رِچمنڈ میں پو کی ہونے والی بیوی کا کہنا تھا کہ پو کی حالت ٹھیک نہیں تھی۔ اُنہیں تیز بخار تھا۔ وہ اُنہیں ڈاکٹر کے ہاں بھی لے گئی جِس نے پو کو سفر کرنے سے منع کیا۔ لیکن وہ سفر کرنے پر بضد تھے اور بالآخر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔

چھٹا نظریہ ہے کہ یہ ایک سیدھے سیدھے اقدامِ قتل کی واردات تھی۔ جان والش نے 2000 میں اپنی کتاب Midnight Dreary: The Mysterious Death of Edgar Allan Poe میں پو کی مَوت سے متعلق ایک نئی بات لکھی کہ انہیں اُن کی ہونے والی بیوی ’ایلمیرا‘ Elmira کے بھائیوں نے مار دیا۔ اخبارات، خطوط اور یادداشتوں کی شہادتوں سے بحث کرتے ہوئے والش نے ثابت کرنے کی کوشش کی کہ پو کو فلاڈیلفیا میں ایلمیرا کے بھائیوں نے متنبہ کیا تھا کہ وہ اُن کی بہن سے شادی کا خیال چھوڑ دے۔ والش کا قیاس ہے کہ پو نے تباہ حال کپڑوں کی مدد سے بھیس بدل کر تقریباً ایک ہفتہ فلاڈیلفیا میں قیام کیا پھر شادی کی غرض سے رِچمنڈ روانہ ہو گئے۔ وہ لکھتا ہے کہ بالٹی مور میں دوبارہ ایلمیرا کے بھائیوں کا سامنا ہو گیا۔ یہ لوگ جانتے تھے کہ پو کے لئے شراب زہرِ قاتل ہے لہٰذا اُنہوں نے پو کو زبردستی وہسکی پلائی۔ لیکن اِس بات کی نفی اسپتال کی رپورٹوں سے ہو گئی جِس میں پو کے جسم میں کسی بھی قسم کی نشہ آور شے کی موجودگی کا ثبوت نہیں مِل سکا۔

اِن تمام نظریات میں سے ایک بھی پو کی پُر تجسس مَوت کے راز کو عیاں نہیں کر سکا۔ اب اگر کہیں سے برین ٹیومر کی بات سُنائی دیتی ہے تو پھر اِس تحقیق کے منطقی انجام تک پہنچنے کا انتظار کرنا ہو گا۔

اسرار کے پردوں میں لپٹی ہوئی یہ ایڈگر ایلن پو کی مَوت کی کہانی اُس کے قلم کی لکھی کہانی کی طرح ہی لگتی ہے۔ بس فرق صرف اتنا ہے کہ یہ کہانی اُن کے اپنے قلم نے نہیں بلکہ قدرت کے قلم نے لکھی ہے۔ وہ اِس خراب حالت کو کیوں کر پہنچے؟ اُن کے اپنے پہنے ہوئے کپڑے کیا ہوئے اور یہ تباہ حال لباس اُن کے جِسم پر کیسے آ گیا؟ وہ نیو یارک کے بجائے بالٹی مُور کیسے آ گئے؟ یہ وہ سوالات ہیں جِن کے جواب کبھی نہ مِل سکے اور اِس نے لوگوں کو قیاس آرائیوں پر مجبور کیا کہ پو کے ساتھ کیا ہوا ہو گا؟ ایڈگر ایلن پو سراغ رسانی کی کہانیوں کے موجد تھے اور وہ مرنے کے بعد ہمارے لئے جیتا جاگتا اسرار چھوڑ گئے۔

ایمان پر خاتمے کی تلقین تمام ادیان میں اہمیت کی حامِل ہے، روایت ہے کہ 7 اکتوبر 1849 کو ایڈگر ایلن پو کے منہ سے نکلنے والا آخری جملہ ”خدا میرے حال پر رحم کرے“ تھا۔

Facebook Comments HS