جنگ کے بعد ؟
پشتو میں ایک محاورہ ہے (چی غریگی آخر بہ او وریگی) یعنی بادل جب گرجتے ہیں آخر وہ برس ہی جاتے ہیں۔ پاکستان اور انڈیا کئی دہائیوں سے ایک دوسرے کے خلاف گرجتے رہے آخر کار برس بھی گئے۔ لیکن مقام شکر ہے کہ یہ برسنا بقدر ضرورت تھا۔ اس تین روزہ مختصر مگر پاکستان کے لئے کامیاب جنگ کے بعد کون کس پوزیشن میں ہے اور کس کو کیا کرنا چاہیے آئیے اس کا جائزہ لیتے ہیں۔
1۔ پاکستانی افواج نے ثابت کر دیا کہ ان کی پیشہ ورانہ تربیت اور ملک و قوم کی حفاظت کا جذبہ ناقابل شکست اور قابل فخر ہے۔
2۔ پاکستان حکومتوں نے ثابت کیا کہ کسی بھی حکومت نے تمام تر معاشی و سیاسی کمزوریوں کے باوجود کبھی بھی دفاعی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کیا ہے۔ اور انھوں نے فوج کی جو ضروریات پوری کی ہے وہ بے جا نہ تھی۔
3۔ چائنیز ٹیکنالوجی نے مغربی ٹیکنالوجی پر سبقت ثابت کر دی۔ رافیل کے مقابلے میں جے ایف 17 کی کارکردگی بہترین رہی۔
4۔ ڈونلڈ ٹرمپ غیر جانبدارانہ عالمی لیڈر کی حیثیت سے کردار ادا کرنے میں کامیاب رہے۔
5۔ پاکستانی میڈیا انڈین میڈیا کے مقابلے میں انتہائی متوازن میچور ثابت ہو گیا۔ انڈین صحافیوں نے ابتدا میں بالکل مسخروں والا کردار ادا کیا بعد میں چند ایک نے اپنے میڈیا پر تنقید بھی کی۔
6۔ جنگ کے دوران ملک سے بھاگے ہوئے چند بھگوڑوں کے علاوہ اکثر لوگوں نے سوشل میڈیا پر انڈین میڈیا کو ٹف ٹائم دیا۔ البتہ پشتون نوجوانوں میں وہ روایتی والہانہ پن اور جذبہ نہیں تھا اور اس کی وجہ گزشتہ 10 سال سے جاری بدامنی اور پشتونوں کے ساتھ سوتیلی ماں والا سلوک ہے یہ ان کی ناراضگی کی بڑی وجہ ہے۔
جہاں تک جنگ کے بعد کی صورتحال کا تعلق ہے۔ ایسا نہ ہو کہ میدان میں جیتی ہوئے جنگ کو میز پر ہارا جائے۔ اس لیے سندھ طاس معاہدہ، مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل کو ونس فار آل ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔
حکومت اور دفاعی پیداواری ادارے اس جنگ کے ثمرات کے طور پر ترقی یافتہ ممالک کی طرح اپنے دفاعی ساز و سامان، طیارے، ڈرون، چھوٹے میزائل، ایمونیشن، توپیں، ٹینک وغیرہ کو دنیا پر فروخت کرنے کے لئے تیاری پکڑیں۔ اب اس اسلحے کے متعلق نمائش سجانے اور دنیا کو یقین دلانے کی ضرورت نہیں بلکہ ہم میدان جنگ میں اس کی برتری ثابت کرچکے ہیں۔ اس طرح نہ صرف ہم اپنی معیشت مضبوط کر سکتے ہیں بلکہ کئی ممالک کے ساتھ دفاعی معاہدے کر کے اپنا دفاعی بجٹ اور فوج کا بوجھ بھی تقسیم کر سکتے ہیں۔
ملک کے اندر سیاست گورننس اور معیشت میں مداخلت سے فوج کی ساکھ کو جو نقصان پہنچا تھا اس مختصر جنگ سے اس میں کافی حد تک کمی آئی ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ اب اس بہتر ساکھ کے ساتھ فوج خود کو اپنے آئینی کردار تک محدود کرے۔ سیاست اور گورننس سیاستدانوں پر چھوڑ دیں۔ اور وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں لیڈ کرتے ہوئے ملک و قوم کی خد مت کریں۔
پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی پالیسی کو فوری تبدیل کیا جائے۔ عوام اور دہشت گردوں میں تفریق کر کے عوام کو عزت و تکریم دی جائے اور دہشت گردوں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔
اور سب سے آخری بات یہ کہ جنگ کے دوران دباؤ میں آ کر عمران خان کو رہا کرنے کی بچگانہ باتوں کو نظر انداز کر کے اچھا کیا۔ مگر اب اس کامیابی اور ملکی یکجہتی کے بعد عمران خان کے ساتھ نرمی کا سلوک کر کے انہیں اپنی بیگم سمیت بنی گالہ منتقل کیا جائے اور ان کو عدالتوں سے کیسز کے خاتمے یا پھر قید کی تکمیل تک اپنے گھر ہی میں رکھا جائے تاکہ باقی پارٹی ملکی سیاست اور جمہوریت کی ترقی میں مثبت کردار ادا کرسکے۔
مجھے امید ہے کہ اگر ان باتوں کو توجہ دی گئی تو یہ مختصر جنگ ملک و قوم کے لئے ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔


