جنگ بندی، جیت کی نہیں جینے کی بات کرو
ویسے تو ”جنگ“ کے ساتھ ”جیت“ کا لفظ جڑا ہونا ہمیشہ سے ایک عجیب تضاد رہا ہے۔ کیونکہ جنگ میں اگر کوئی جیتتا ہے تو دراصل سب ہی کچھ کھو بیٹھتا ہے۔ اور جب دو حریف ملک کسی تصادم کے بعد جنگ بندی پر آمادہ ہوں اور دونوں اپنی کامیابی کا دعویٰ کریں، تو ضروری نہیں کہ ہم یہ طے کرنے بیٹھیں کہ کس نے زیادہ نقصان پہنچایا یا کس کی حکمتِ عملی بہتر تھی۔
اصل جیت تو یہ ہے کہ جنگ رکی، ہتھیار خاموش ہوئے، اور انسانیت کو ایک بار پھر سانس لینے کا موقع ملا۔ ایسے نازک لمحوں میں دونوں جانب کا یہ اعتراف کہ وہ ”کامیاب“ رہے، دراصل ایک اجتماعی ذہنی کیفیت ہے۔ ایک نفسیاتی ریلیف، جو اگر برقرار رکھا جائے تو آنے والے دنوں میں امن کا ایک مستقل بیانیہ تشکیل دے سکتا ہے۔
مگر اس امن کی قیمت بہت بھاری ہے۔ اس جنگ میں کروڑوں ڈالر نہیں بلکہ اربوں کے وسائل جھونک دیے گئے، ان ممالک کی طرف سے جن کی مجموعی طور پر تقریباً 25 سے 30 کروڑ کی آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں دو وقت کی روٹی، صحت کی سہولت، اور معیاری تعلیم تک میسر نہیں، مگر ان کے نام پر دنیا کے مہنگے ترین ہتھیار آزمائے گئے۔ یہ وہ جنگ تھی جس کا ایندھن وہ عوام بنے، جنہیں اس سے کچھ حاصل نہیں ہوا سوائے خوف، بے یقینی اور وقتی قومی جذبات کے۔
ہم یہ بحث نہیں چھیڑنا چاہتے کہ جنگ کس نے شروع کی اور کس نے ختم کی، کیونکہ ایسی بحث ماضی کو کھودنے کے ساتھ مستقبل کی نئی جنگوں کو دعوت دے سکتی ہیں۔ مگر ہمیں ضرور یہ سوچنا ہو گا کہ کیا دو ایٹمی طاقتیں، جن کے پاس دنیا کی سب سے بڑی آبادی ہے، محض اپنی انا، برتری، اور عوامی مقبولیت کے چکر میں اتنی مہنگی اور جان لیوا جنگ کا خطرہ مول لے سکتی ہیں؟
اور برتری بھی کیسی؟ جس میں عوام کو محض ایک دو دن کی خوشی، قومی ترانے، اور سوشل میڈیا پر جذباتی پوسٹس تو ملتی ہیں، لیکن مستقبل کے لیے کوئی معاشی یا سماجی بہتری نہیں آتی۔ دونوں ملکوں کی قیادت، خاص طور پر جو زیادہ طاقت اور اثر رکھتا ہے، اس پر ذمہ داری دوگنی ہو جاتی ہے کہ وہ صرف ردعمل نہ دے، بلکہ ایسے امکانات کو جڑ سے ختم کرے جو جنگ کی طرف لے جا سکتے ہیں۔
امن کی اصل بقا اسی میں ہے کہ ہم جنگ کو بطور آپشن ذہن سے خارج کر دیں۔ نہ صرف پالیسی میں، بلکہ عوامی بیانیے میں بھی۔


