پاکستان کی بھارت پر عسکری، سیاسی، سفارتی، اور صحافتی فتح


 

حالیہ پاک بھارت جنگ میں پاکستان نے بھارت کو ہر محاذ پر شکست دی ہے۔ یہ جنگ کثیر الجہتی جنگ تھی، عسکری، سیاسی، سفارتی، صحافتی اور اخلاقی یعنی ہر لحاظ سے پاکستان نے بھارت کو ذلت آمیز شکست سے دوچار کیا ہے۔ کارگل کی جنگ کے بعد بنائے گئے کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں نئی دہلی نے بھارت کی افواج کی کمزوریاں ختم کرنے اور اسے جدید تر فوج بنانے کا فیصلہ کیا، پچھلے 25 سال سے بری فضائی اور بحری فوج پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کی دنیا بھر سے جدید اسلحہ خریدا اور پاکستان کو شکست دینے کے خواب دیکھتا رہا، 1998 میں پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے نتیجے میں قائم ہونے والے طاقت کے توازن سے نبٹنے کے لئے کولڈ سٹارٹ جیسے احمقانہ اور خطرناک جنگی منصوبے اور نظریے تراشتا رہا، پچیس سال کی بھرپور سرمایہ کاری اور فوجی تیاری کے بعد اس نے ایک تاثر قائم کرنے کی کوشش کی کہ پاکستان کی فوج روایتی جنگ میں بھارت کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔

بھارتی حکمران اور فوجی قائدین امریکیوں سے کہتے رہے کہ پاکستان کو ایٹمی ہتھیاروں سے محروم کر دیا جائے تو وہ چند گھنٹوں میں پاک فوج کو شکست دے سکتے ہیں، اسی بنیاد پر پاکستان کے خلاف سازشیں کرتا رہا، منصوبے بنتا رہا اور اپنے میڈیا، فلموں اور گودی محققین کے ذریعے پاکستان مخالف جذبات اور ہوا کو مہمیز دینے کے لئے جھوٹا پروپیگنڈا کرتا رہا مگر جب وقت آیا تو قصاب مودی کی زیر قیادت بھارت کی جنونی حکومت کو سخت ہزیمت اٹھانا پڑی۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں سیاحوں پر حملہ کروا کر پاکستان کے خلاف جارحیت کی فضا بنا کر مودی حکومت نے بھارتی فوج کی روایتی طاقت کے لحاظ سے پاکستان پر برتری کے تاثر کو تباہ کرنے کی بنیاد رکھ دی۔ حکومت پاکستان نے بھارتی دھمکیوں کو خاطر میں لائے بغیر، جنگ سے گریز کرنے کی حتی المقدور کوشش کرتے ہوئے سیاحوں پر حملے کای غیر جنبدارانہ تحقیقات کی پیشکش کی اور بھارت کو سفارتی و سیاسی محاذ پر پسپا کرنے کی ابتدا کی۔ پاکستان کی اس تجویز کو عالمی طور پر پذیرائی ملی اور بھارتی پروپیگنڈے کو پچھلی تین چار دہائیوں میں پہلی بار عالمی طور پر خاطرخواہ پذیرائی نہ مل سکی، کئی ممالک نے دونوں ملکوں کے درمیان ثالثی اور بات چیت میں مدد دینے کی پیشکش کی مگر بھارت طاقت کے زعم میں کسی کو خاطر میں نہ لایا۔ اس دوران اسرائیل کھل کے بھارت کے ساتھ کھڑا ہوتا نظر آیا جب کہ امریکہ نے معاملے سے عدم دلچسپی یا کسی حد تک لاتعلقی کا اظہار کیا جس سے ایک تاثر پیدا ہوا کہ بھارت کو امریکہ کی خفیہ اور اسرائیل کی کھلم کھلا تائید حاصل ہے دوسری طرف پاکستان کو چین ترکی اور آذر بائیجان کی تائید ملتی نظر آئی، بہرحال بھارت کو امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی بھرپور اور کھلی حمایت کی عدم دستیابی بظاہر سیاسی و سفارتی طور پر بھارت کی شکست اور پاکستان کی فتح کے طور سمجھی جا رہی ہے۔

اس صورتحال میں حکومت پاکستان سیاسی و سفارتی دباؤ نہ ہونے کی بھارتی دھمکیوں کو خاطر میں نہ لائی جس کے بعد بھارت کو عسکری طور پر کارروائی کا فیصلہ کرنا پڑا، تاہم پاکستان کے ٹیکٹیکل ہتھیاروں کے خوف کی وجہ سے بھارتی فوج دو دہائیوں سے زائد عرصے سے کولڈ سٹارٹ جیسے فوجی منصوبے کو پروان چڑھانے کے باوجود بری فوج کو سامنے نہ لاسکی، 2019 میں ہونے والی ہزیمت کی وجہ سے اسے نام نہاد سرجیکل سٹرائیک کے ڈرامے کو دہرانے اور پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہمت بھی نہ ہوئی۔ ناچار بھارت نے اپنی فضائی طاقت کو ملکی سرحدوں کے اندر رکھتے ہوئے آزاد کشمیر کے علاوہ پاکستان کے علاقوں میں میزائلوں سے حملے کیے مگر اس دوران اسے رافیل سمیت پانچ جنگی طیاروں کی پاکستانی شاہینوں کے ہاتھوں تباہی جیسی تاریخ کی بدترین ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس ہزیمت کو مٹانے کے لئے بھارت نے کئی بار کوشش کی کہ کسی طرح کسی پاکستانی لڑاکا طیارے کو گرا لے مگر پاکستانی شاہینوں نے اس کی ایک نہ چلنے دی۔ بھارت نے مذموم مقاصد کے لئے پاکستان پر ڈرونز کی آندھی لانے کی کوشش کی جسے پاکستان افواج نے ناکام بنا دیا۔

اس دوران حکومت اور افواج پاکستان نے بھارتی جارحیت کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھنے کا بارہا اعلان کیا۔ بھارت نے پاکستان کے جوابی حملے سے بچنے کے لئے کئی چالیں چلیں، نئی دہلی نے کئی دوست ممالک کے ذریعے دونوں جانب سے مزید حملے نہ کرنے کے لئے رضامندی کے لئے کوششیں کی مگر پاکستان اپنی طرف سے بھارت جارحیت کا جواب دینے کے حق کے استعمال سے قبل اس پر رضامند نہ ہوا، اس دوران یہ تاثر دینے کے لئے کہ پاکستان نے جارحیت کا جواب دے دیا ہے سرکاری اور بھارتی میڈیا کے بھرپور استعمال کر کے واویلا مچایا کہ پاکستان نے کئی بھارتی شہروں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، اسی دوران بھارت نے سکھوں، کشمیریوں اور افغانستان پر بھی میزائل داغے تاکہ الزام پاکستان پر دھر سکے مگر افواج پاکستان نے تمام ثبوتوں کے ساتھ بھارتی دعوے جھٹلا دیے اور دعویٰ کیا کہ جب پاکستان جواب دے گا تو دنیا دیکھے گی اور پھر ایسا ہی ہوا مگر اس سے پہلے دنیا نے بھارت میں صحافت کی چتا جلتی دیکھی۔

بھارتی نیوز چینلز اور نامور صحافی جھوٹ دروغ گوئی اور غلط بیانی کی ساری حدیں پار کر گئے، انہوں نے نا صرف پاکستان کی طرف سے بھارتی شہروں پر حملوں کی جھوٹی خبریں گلے پھاڑ پھاڑ کر دیں بلکہ پاکستان کے کئی شہروں کی بھارتی فوج کے ہاتھوں تباہی کے سراسر جھوٹے قصے کہانیاں ٹی وی سکرینوں پر سنائے جاتے پائے گئے اپنے گھٹیا خواب اور خواہشات کی کھلے عام ٹی وی چینلز پر عکاسی کرنے اور جھوٹ پھیلانے پر کئی بھارتی شہریوں نے بھی تنقید کی اور ایسی صحافت پر دو حروف بھیجے۔ بھارتی صحافت کے برعکس پاکستان کے صحافتی حلقوں نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، جنگ کے شعلوں کو ہوا دینے اور جھوٹی خبریں، گمراہی و سراسیمگی پھیلانے کی بجائے امن و محبت کا درس دیتے اور حقائق و معروضیت بیان کرتے دکھائی دیے یعنی صحافتی میدان میں بھی بھارت پاکستان سے مات کھا گیا۔ بھارتی حکمران، اور صحافی ایک اور پہلو سے بھی شکست کھا گئے اور وہ ہے اخلاقی و قانونی پہلو، حکومت، فوج اور صحافیوں میں سے کسی نے بھی عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی بات نہیں کی، دہشتگردی کے خلاف کارروائی کرنے کے نام پر جنونی اور تشدد پسند ہندو انتہا پسند تنظیموں بشمول آر ایس ایس، وی ایچ پی، شیو سینا وغیرہ کو نشانہ بنانے کا اعلان نہیں کیا بلکہ سب نے کہا کہ پاکستان اپنی جوابی کارروائی میں صرف اور صرف فوجی تنصیبات و اہداف کو نشانہ بنائے گا۔

اور پھر ایسا ہی ہوا، جیسا کہ افواج پاکستان کے ترجمان نے دعویٰ کیا تھا کہ جب ہم جواب دیں گے تو ساری دنیا دیکھے گی پھر دنیا نے دیکھا اور انگشت بدنداں رہ گئی۔ افواج پاکستان نے منتخب بھارتی فوجی اہداف پر میزائلوں کی بارش کر دی، پاکستان حملوں کی گونج دنیا بھر میں سنائی دی، اور بھارت کی خاموش حمایت کرنے والے ممالک اور رہنما بھی صورتحال سنبھالنے کے لئے دوڑ پڑے۔ بالآخر کئی ممالک کی پس پردہ کوششوں کی بدولت پاکستان اور بھارت کشیدگی مزید نہ بڑھانے اور ایک دوسرے پر جاری حملے فوری طور پر روکنے پر راضی ہو گئے۔ یوں دو ایٹموں طاقتوں کے درمیان حالیہ معرکہ اختتام کو پہنچا، ہو سکتا ہے کہ یہ اختتام حتمی کی بجائے عارضی ہو، کیونکہ ہر محاذ پر شکست کھانے کے بعد اپنی شرمندگی مٹانے کے لئے بھارت کی جنونی قیادت کوئی بھی شرارت کر سکتی ہے تاہم اب تک کی معرکہ آرائی میں پاکستان نے بھارت کو سفارتی، سیاسی، عسکری، بری، بحری، فضائی، صحافتی اور اخلاقی و قانونی یعنی ہر لحاظ سے شکست فاش دی ہے جو ہر محب وطن پاکستانی کے لئے بجا طور پر قابل فخر ہے۔

Facebook Comments HS