جنگ بندی، گودی میڈیا:کھسیانی بلی
ڈھٹائی کی بھی حد ہوتی ہے۔ بھارتی حکومت مگر اصرار کئے چلے جا رہی ہے کہ پانچ دنوں تک پھیلے ’’تخت یا تختہ‘‘ دِکھتے تنائو کے بعد پاکستان اور بھارت ’’ازخود‘‘ جنگ بندی کو آمادہ ہو گئے۔ کسی تیسرے ملک خصوصاََ امریکہ نے اس ضمن میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ یہ دعویٰ کرتے ہوئے مودی سرکار حیران کن حماقت سے اس حقیقت کو نظرانداز کردیتی ہے کہ میزائلوں اور ڈرونز کی پاکستان اور بھارت کے کئی شہروں اور جنگی تنصیبات پر 6 اور7 مئی کی درمیانی رات سے جاری بارش سے مضطرب ہوئے دونوں ملکوں کے شہریوں کو جنگ بندی کی اطلاع کہاں سے آئی تھی۔ یاد دلانا ہو گا کہ امریکی وقت کے مطابق ہفتہ کا دن شروع ہوتے ہی امریکی صدر ٹرمپ نے ایک ٹویٹ لکھا۔ اس کے ذریعے دنیا کو آگاہ کیا کہ وہ اور اس کا وزیرخارجہ رات بہت دیر تک جاگتے رہے ہیں۔ اس کے وزیر خارجہ مارکوروبیو نے پاکستانی ا ور بھارتی حکام کو متعدد فون کئے اور بالآخر انہیں جنگ بندی کے لئے رضامند کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ ٹرمپ ہی نے اطلاع یہ بھی دی کہ جنگ بندی کا اطلاق ہو جانے کے بعد جنوبی ایشیا کے یہ دو ازلی دشمن کسی ’’غیر جانب دار(تیسرے ملک)‘‘ میں بیٹھ کر مذاکرات کا آغاز کریں گے۔ ظاہر ہے متوقع مذاکرات کا مقصد ایک بار پھر دونوں ممالک کے مابین دیرینہ مسائل کا حل ڈھونڈنا ہو گا۔
ٹرمپ کے دعوئوں پر اکثر اعتبار کو جی نہیں چاہتا۔ پاکستان اور بھارت کے مابین فائربندی کے حوالے سے مگر تسلیم کرنا ضروری ہے کیونکہ امریکی وزیر خارجہ 7 مئی کے دن سے پاکستان اور بھارت کے اعلیٰ حکام سے مسلسل رابطے میں تھا۔ مارکو روبیو کے کردار پر غور کرتے ہوئے اس پہلو پر بھی توجہ دینا ہو گی کہ اب وہ محض امریکہ کا وزیر خارجہ ہی نہیں ہے۔ اسے ٹرمپ نے مشیر برائے قومی سلامتی بھی تعینات کر دیا ہے۔ یہ عہدہ ملنے کے بعد وہ دن کا زیادہ وقت وزارت خارجہ میں نہیں بلکہ امریکی ایوان صدر یعنی وائٹ ہائوس میں گزارتا ہے۔ اس کا دفتر امریکی صدر کے سرکاری کمرے کے بہت قریب ہے۔ امریکی صدر سے قربت کے علاوہ بطور مشیر قومی سلامتی اسے وزارت دفاع اور دنیا کے سوشل اور ملٹری امور پر نگاہ رکھنے والی ایجنسیوں کی رپورٹس بھی فی الفور پہنچائی جاتی ہیں۔ جو معلومات اسے میسر تھیں وہ یہ پیغام دینے کو کافی تھیں کہ میزائلوں اور ڈرونز کے بے دریغ استعمال کے بعد بھارت پاکستان کو اپنا مطیع و فرمانبردار بنانے کے لئے ’’اگلا قدم‘‘ اٹھانے والا ہے۔ وہ قدم اٹھ جاتا تو پاکستان کے پاس اپنی بقا یقینی بنانے کے لئے اسلحے کی اس قسم سے رجوع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ ہی باقی نہ رہتا جس سے دنیا خوف کھاتی ہے۔ دونوں ملکوں پر وہ لہٰذا دبائو بڑھانے کو مجبور ہوا۔
پاکستان جائز بنیادوں پر 6 اور7 مئی کی رات بہاولپور اور مظفر آباد پر ہوئے حملوں کے بعد جوابی وار کے لئے کسی بھی حد تک جانے کا حق رکھتا تھا۔ 9 مئی کی رات سے ہماری افواج اسی حق کو نہایت کامیابی سے استعمال کرنا شروع ہو گئیں۔ اس کے نتیجے میں بھارت اپنے جدید ترین دفاعی نظام کے مفلوج ہونے سے بوکھلا گیا۔ جنگی تقاضوں کے مطابق پاکستان بھارت کو مزید بوکھلاہٹ میں مبتلا رکھنے کو بے چین تھا۔ اسے ٹھنڈا کرنے کے لئے مگر برادر ملک سعودی عرب کی خاموش سفارت کاری امریکہ کے بہت کام آئی۔ ایران اور چند خلیجی ممالک کا کردار بھی اس ضمن میں مددگار ثابت ہوا۔
بھارت کو جنگ بندی پر آمادہ ہو جانے کے بعد پریشانی درحقیقت یہ لاحق ہوئی کہ وہ اپنے عوام کو اس کی بابت کیسے رضا مند کرے۔ 8 مئی سے انہیں گودی میڈیا کی سکرینوں پر ہوئی چیخ و پکار کے ذریعے یہ بتایا جا رہا تھا کہ کراچی اور راولپنڈی تباہ ہو چکے ہیں۔ لاہور کے کئی علاقوں میں سائرن لوگوں کو گھروں میں دب کر بیٹھے رہنے کے مشورے دے رہے ہیں۔ پاکستان کو اپنے تئیں تباہی کے دہانے تک دھکیلنے کے بعد وہ اس سے ’’جنگ بندی‘‘ کو آمادہ کیوں ہوا ہے۔ جنگ اس فریق کے ساتھ بند کی جاتی ہے جس میں مزاحمت ہی نہیں بلکہ جھپٹ کر دشمن کو تھلے لگانے کی سکت، ہمت اور جرأت ابھی باقی ہو۔ مسلسل جھوٹ سے اپنے عوام کے لئے پاکستان کے کراچی اور راولپنڈی جیسے شہر ’’کاملاََ تباہ‘‘ کر دینے کے بعد مودی سرکار کے لئے ’’جنگ بندی‘‘ کا پیغام دینا اس تناظر میں کافی مشکل نظر آیا۔ کھسیانی بلی نے لہٰذا کہانی یہ گھڑی کہ پاکستان اور بھارت باہمی روابط کی بدولت جنگ بند کرنے کو تیار ہو گئے۔
صحافت کے اخلاقی تقاضے مجھے تفصیل فراہم کرنے کا حق نہیں دیتے۔ نہایت احتیاط سے مگر یہ خبر دینے کو مجبور ہوں کہ واشنگٹن کو یقین دلایا گیا تھا کہ دونوں ممالک کے مابین جنگ بندی کا اطلاق ہفتہ 10 مئی 2025 کے دن گیارہ بجے شروع ہو جائے گا۔ طے ہوئے وقت کی پابندی کرنے کے بجائے بھارت نے سندھ کے تین مقامات پر سمندر سے براہموس میزائل بھیج کر اپنی ’’بحری صلاحیت‘‘ بھی دکھا دی۔ اس کے بعد کس نے بھارت میں کہاں فون کر کے ’’گیارہ بجے‘‘ کی یاد دلائی اس کا ذکر بھارتی ترجمان ہی کر دے تو مناسب ہو گا۔ وگرنہ یہ خاکسار اپنی زبان کھولنے کو مجبور ہو جائے گا۔
بھارت ’’غیر ملکی ثالثی‘‘ کو پاکستان کے ساتھ اپنے مسائل کے حل کے لئے قبول کرنے کا دہائیوں سے سخت مخالف رہا ہے۔ آبادی کے اعتبارسے دنیا کا یہ سب سے بڑا ملک خود کو قدیم ترین تہذیب کا وارث بھی سمجھتا ہے۔ چانکیہ نے مگر جو ’’سفارت کاری‘‘ اسے سکھائی ہے وہ دیگر ممالک سے صلح کا راستہ نہیں بناتی۔ انہیں محض تھلے لگانے کے نسخے فراہم کرتی ہے۔ غیر ملکی ثالثی کے اسی مخالف نے مگر کارگل میں پھنس جانے کے بعد امریکی صدر کلنٹن کی مدد ہی سے اپنی جند چھڑائی تھی۔ غیر ملکی ثالثی کو پاک -بھارت مسائل کے حل کیلئے ’’فروعی‘‘ ثابت کرنے کے لئے بھارت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے پاکستان کے فوجی صدر جنرل مشرف کو آگرہ میں ملاقات کی دعوت دی تھی۔ ان دونوں کے مابین مگر باقاعدہ مذاکرات کا ایک دوربھی نہ ہو پایا۔ بھارت کے انتہا پسند جنرل مشرف کی صحافیوں سے گفتگو سے ناراض ہو گئے۔ ان کے مچائے شوروغوغا نے آگرہ سمٹ کا آغاز ہی ہونے نہ دیا۔ جنرل مشرف عجلت میں واپس لوٹ آئے۔ اس کے باوجود غیر ملکی ثالثی کے بغیر خفیہ سفارت کاری کے ذریعے جو معاہدہ پاکستان اور بھارت کے مابین طے ہونے والا تھا وہ بھی عملی صورت اختیار نہ کر پایا۔ اب بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کردیا ہے۔ ورلڈ بینک اس معاہدے کا ضامن ہے۔ وہ ایک عالمی ادارہ ہے جس کی ’’ضمانت‘‘ ناکارہ ثابت ہوئی تو عالمی اقتصادی نظام بنیادی ستونوں سے محروم ہو جائے گا۔ غیر ملکی ثالثی کے بغیر قصہ مختصر پاکستان اور بھارت اپنے مسائل حل نہیں کر پائیں گے۔
(بشکریہ نوائے وقت)


