خواب، محبت اور زندگی (20)


یہ 1963 کا ذکر ہے۔ میری عمر چودہ سال تھی۔ اس زمانے میں کولرز تو متعارف نہیں ہوئے تھے۔ چلتے وقت امی نے ایک صراحی میں پانی بھر کر رکھ لیا تھا۔ حیدرآباد کے آس پاس کہیں پانی ختم ہوا تو امی نے اسٹیشن سے دوبارہ صراحی میں پانی بھروا لیا۔ پانی کا پہلا گھونٹ لیتے ہی مجھے احساس ہوا کہ لائلپور کا پانی کتنا میٹھا تھا جب کہ یہ نیا پانی کھارا اور نمکین سا تھا۔ شاید مجھے لائلپور کی یاد ستانے لگی تھی۔ ابی ہمیں اسٹیشن پر لینے آئے تھے۔ ان کے ساتھ ان کا ایک چچا زاد بھائی تھا جسے گھر والے ’پپی‘ کہتے تھے۔ اس نے نئے فیشن کے مطابق ’ٹیڈی‘ پینٹ پہن رکھی تھی۔ ڈینم کی چست پینٹ پہننے کا یہ فیشن کافی عرصہ چلا۔

جب ہم گھر پہنچے تو دوپہر کے کھانے کا وقت ہو چکا تھا لیکن کھانا تیار نہیں تھا، شاید دونوں بیویوں کے درمیان یہ طے نہیں ہو پایا تھا کہ مہمانوں کے لئے کھانا کون بنائے گا۔ چچا کی دو بیویاں تھیں اور ان کا ذکر شروع میں ہو چکا ہے کہ دہلی میں کس طرح ایک امیر گھرانے نے ایک خوب صورت لڑکی دکھا کر ایک معمولی شکل صورت والی لڑکی کی ابی کے چچا سے شادی کروا دی تھی، گو وقت گزرنے کے ساتھ اپنی سلیقہ شعاری اور محبت سے اس نے چچا کا دل جیت لیا، دوسری خوبصورت والی بیوی سے اوپر تلے آٹھ بچے ہوئے، اس لئے اس کی توجہ اور محبت شوہر اور بچوں کے درمیان بٹ جاتی تھی۔

تو یہ تھیں ہماری دو دادیاں جنہیں ہم نے 1960 کے عشرے میں پہلی مرتبہ کراچی میں دیکھا۔ پی ای سی ایچ سوسائٹی کا شمار کراچی کے پوش علاقوں میں ہوتا ہے۔ اگر مجھے صحیح یاد ہے تو قرۃ العین نے ایک ناول ’ہاؤسنگ سوسائٹی ’اسی حوالے سے لکھا تھا۔ دادا تب تک گھر پورا بنوا نہیں پائے تھے۔ اوپر نیچے صرف دو کمرے بنے تھے اور نیچے والے حصے میں کچن کے ساتھ ایک لمبا سا کچا کمرہ بنا ہوا تھا۔ امی دوسرے دن سے ہی چھوٹی چچی کے ساتھ جا کے کرایہ پر لینے کے لئے گھر ڈھونڈنے لگیں۔ انہیں لائلپور میں کوہ نور کالونی کے برآمدے اور صحن والے گھر کی عادت تھی۔ اس لئے کراچی کے بند گھر انہیں پسند نہیں آتے تھے۔ چھوٹی چچی کو گمان گزرا کہ شاید امی ان کا گھر چھوڑنا نہیں چاہتیں اور ایک روز انہوں نے چڑ کر کہہ دیا ”انہیں تو کوئی گھر پسند ہی نہیں آتا ”۔

کرنا اللہ کا یہ ہوا کہ ایک آدھ روز بعد ہی امی گھر ڈھونڈنے نکلیں تو اچانک ان کی ملاقات اپنی رشتے کی خالہ محمودہ میر سے ہو گئی۔ امی نے انہیں سارا احوال کہہ سنایا۔ محمودہ خالہ کے شوہر کا ان ہی دنوں انتقال ہوا تھا اور وہ اسی سوسائٹی میں ایک بڑی سی کوٹھی میں رہ رہی تھیں جس کی فنشنگ کا کام باقی تھا کہ ان کے شوہر کا اچانک ہارٹ فیل ہو گیا۔ وہ مالی پریشانیوں کا شکار تھیں۔ انہوں نے امی سے کہا کہ ہم ان کے گھر میں مناسب کرائے پر ایک کمرہ لے سکتے ہیں۔ حالات ایسے تھے کہ امی نے ایک لمحہ کی تاخیر کیے بغیر ان کی پیشکش قبول کر لی۔

یہاں ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ ان کے شوہر ہماری امی کے وہی رشتے کے ماموں تھے جنہوں نے قیام پاکستان کے ابتدائی زمانے میں ہماری نانی کو قائل کیا تھا کہ وہ ابی کو اپنے کواٹر میں پے انگ گیسٹ کے طور پر رکھ لیں اور یوں امی ابی کی لو اسٹوری کا آغاز ہوا تھا۔ پاکستان بننے سے پہلے تک کشمیریوں میں خاندان یا برادری سے باہر شادیاں نہیں کی جاتی تھیں۔ اس لئے یہ دونوں میاں بیوی آپس میں کزنز بھی تھے۔ قسمت کی خوبی دیکھئے کہ اب ہم ان کے گھر میں پے انگ گیسٹ کے طور پر رہنے جا رہے تھے۔ یوں میرے بچپن کی کہانی میں ایک نیا موڑ آیا اور زندگی اپنے نت نئے روپ دکھاتی ہوئی آگے بڑھنے لگی۔

Family Divided

ہم اپنے مختصر سے سامان کے ساتھ محمودہ خالہ کی کوٹھی کے ایک کمرے میں شفٹ ہو گئے۔ گو کہ ہم کوٹھی کے لان اور عقبی احاطے میں کھیلتے پھرتے تھے۔ لیکن ہمارے پاس تھا تو ایک ہی کمرہ جس میں امی، ابی اور ہم چار بچوں کو گزارہ کرنا تھا۔ جس کا ہم ساٹھ روپے ماہانہ کرایہ دیتے تھے۔ اس وقت کے حالات میں یہی غنیمت تھا۔ جلد ہی امی ابی کو احساس ہو گیا کہ یہ کوئی پائیدار حل نہیں ہے۔ لائلپور میں رہتے ہوئے ہم جن سہولتوں کے عادی ہو چکے تھے، ابی کی اس وقت کی تنخواہ اور کراچی کی مہنگائی میں ان کا حصول ممکن نہیں تھا۔

امی کی لائلپور میں میاں عبدالصمد سے خط و کتابت رہتی تھی جنہوں نے امی کو منہ بولی بیٹی بنایا ہوا تھا۔ امی نے انہیں ساری صورت حال سے آگاہ کیا تو اس فرشتہ صفت آدمی نے پیشکش کی کہ امی واپس آ کے ٹیلیفون ایکسچینج میں دوبارہ ملازمت کر سکتی ہیں۔ یوں ہماری فیملی تقسیم ہو گئی۔ امی میرے دو بھائیوں کے ساتھ واپس لائلپور چلی گئیں اور میں اور شیراز ابی کے ساتھ کراچی میں رہ گئے۔ ابی کی یہ صفت ہم بچوں میں بھی آئی تھی کہ ہم ہر نئی صورت حال میں خوش رہتے تھے اور اسے ایڈونچر سمجھ کر قبول کر لیتے تھے۔
دوپہر کا کھانا محمودہ خالہ مجھے اور شیراز کو اپنے بچوں کے ساتھ کھلاتی تھیں۔ ابی جب شام کو دفتر سے گھر واپس آتے تھے تو روزانہ ہمیں رات کا کھانا کھلانے طارق روڈ کے مشہور کیفے لبرٹی میں لے جاتے تھے جو اس وقت کراچی کا ایک مشہور اور مقبول کیفے تھا۔ مجھے اور شیراز کو روز رات کو کشمیر روڈ کے قریب واقع محمودہ خالہ کی کوٹھی سے ابی کے ساتھ طارق روڈ تک ٹہلتے ہوئے جانا اور اس دو منزلہ چھوٹے اور صاف ستھرے کیفے میں مزے دار کھانے کھانا بہت اچھا لگتا تھا۔ شاید ابی ایسا اس لئے بھی کرتے ہوں تاکہ میں اور شیراز امی اور دوسرے دو بھائیوں کی جدائی کو زیادہ محسوس نہ کریں۔

Facebook Comments HS