مصنوعی ذہانت اور اُردو ادب
مصنوعی ذہانت کمپیوٹر سائنس کی ایک شاخ ہے جس میں مشینوں کو ذہانت دی جاتی ہے تاکہ وہ سوچ سمجھ کر انسانی طرز کا کام کر سکیں۔ اس بات سے کوئی معترض نہیں کہ مصنوعی ذہانت سے انسانی زندگی میں بہت سہولتیں پیدا ہوئی ہیں۔
انگریزی لغت Oxford English Dictionary میں آرٹی فِیشل کے معانی یوں دیے گئے ہیں۔
Of a thing: Mad or constructed by human skill, in imitation of, a substitute for, Man-made
اور انٹیلی جنس کے معانی Oxford English Dictionary میں یہ ہیں۔
The faculty of understanding, a capacity to understand
اس انگریزی اصطلاح کو پہلی بار 1955 ء میں جون مکارتھی (John McCarthy۔ 1927 ء۔ 2011 ء) نے استعمال کیا تھا۔ جون مکارتھی کو Father of Artificial Intelligence کہا جاتا ہے۔ یہ ایک کمپیوٹر انجینئر تھے۔ نقوی اپنی کتاب ”مصنوعی ذہانت“ میں Alan Turing کو بابائے مصنوعی ذہانت ٹھہراتے ہیں۔
اے آئی/چیٹ جی پی ٹی کے پاس دنیا کی بڑی زبانوں کا وافر مقدار میں مواد شامل ہو چکا ہے اس لیے یہ مشین/ سافٹ ویر ان زبانوں میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتی ہے۔ اُردو زبان اس مقابلے میں ابھی کافی پیچھے ہے۔ دیگر زبانوں کی نسبت یہ مشینیں اُردو میں کم زور دکھائی دیتی ہیں۔ تاہم مستقبلِ قریب میں اس کے بہتر ہونے کے قوی امکانات موجود ہیں۔ مصنوعی ذہانت کی تعریف کرتے ہوئے نقوی لکھتے ہیں :
مصنوعی ذہانت کے تمام عناصر کی مجموعی کوشش ایسی مشین بنانا ہے جو سوچ بھی سکے، مشکل اور گنجلگ گتھیوں کو سلجھا سکے، اصول سازی کر سکے اور خیالات یا اشیا کو پہچان کر ان پر اثرانداز ہو سکے۔ ”
مصنوعی ذہانت، اُردو زبان و ادب اور تخلیق کار کے حال و مستقبل کو پرکھنے کے لیے ذیل میں کچھ بنیادی سوالات اٹھائے گئے ہیں اور ان کے تسلی بخش جوابات دینے کی کوشش کی گئی ہے۔
1۔ آئے آئی تخلیقِ کار کی جگہ لے سکے گی؟
2۔ آئے آئی کے تخلیقی ادب میں جذبات و احساسات کا عنصر ہو گا؟
3۔ اے آئی کے تخلیق کردہ ادب کا سماجی، معاشرتی، لسانی یا نفسیاتی تجزیہ ممکن ہو گا، یا ان کا فنی و فکری جائزہ لیا جا سکے گا؟
4۔ آئے آئی معاشرے کی خوبیوں اور خامیوں کو ادب پاروں کا حصہ بنا پائے گی؟
اس طرح کے بے شمار سوالات ہیں جن کے جوابات سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آئے آئی کا اُردو ادب میں مستقبل کیا ہو گا یا اے آئی کے آنے سے اُردو ادب کے تخلیق کاروں کا کیا مستقبل ہو گا؟ اب تک ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جب تک انسان آئے آئی کو کمانڈ نہ دے، نہیں لکھ سکتی۔ اگر نظم لکھوانی ہے تو اس کے لیے پس منظر آئے آئی کو دینا ہو گا کہ فلاں موضوع پر نظم لکھیں، اس میں یہ یہ چیزیں ہوں، وغیرہ۔
تخلیق پر انسانی تجربات، نفسیات، جذبات، احساسات، خیالات، تصور، آورد، آمد نیز ماحول کی ہر شے اثرانداز ہوتی ہے۔ ائے آئی، انٹرنیٹ پر موجودہ مواد میں سے معلومات اٹھا کر اس کو ترتیب دیتی ہے اس میں دیگر چیزوں کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا ہے۔ اُردو ادب میں آوُرد اور آمد کی اصطلاحات استعمال ہوتی آ رہی ہیں۔ اے آئی کے پاس آورد کا سلسلہ تو ہے مگر آمد کا نہیں۔ اوپن اے آئی ( چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی) نے اب ایک نیا ماڈل تیار کیا ہے جو انسانوں کی طرح سوچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اُردو نیوز کے 14 ستمبر 2024 ء کے اخبار میں اس بات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں
کیا اے آئی کے تخلیق کردہ ادب میں جذبات و احساسات کا عنصر ہو گا؟ اس کا جواب منفی میں بھی ہے اور مثبت میں بھی۔ مثبت میں اس لیے کہ اگر ہم محض لفظوں سے جذبات اور احساسات کو محسوس کریں تو یہ ممکن ہے۔ اے آئی کسی غم یا خوشی کے منظر کو پیش کرنے کے لیے بہترین لفظوں کا استعمال کر سکتی ہے جو ایک عام انسان نہیں کر سکتا ہے۔ قوی امکان ہے کہ اے آئی کسی جنگ کے ماحول کو اس طرح پیش کرے جیسے بڑے ادیب کرتے ہیں۔ یا خوشی کے پلوں کو اس انداز سے پیش کرے کہ گویا وہ اس کو محسوس کر رہی ہو۔ منظر نگاری کے لیے ضروری ہے کہ تخلیق کار اپنی آنکھوں سے دیکھے اور دل سے محسوس کرے۔ نہ اے آئی دیکھ سکتی ہے اور نہ محسوس ہی کر سکتی ہے۔ اس کے پاس لفظوں کا ذخیرہ ہے جس کے ذریعے وہ سوالوں کے جوابات دے سکتی ہے۔ تخلیق اور جواب میں بڑا فرق ہے۔ جوابات معلومات کے ذریعے دیے جاتے ہیں اور تخلیق ایک فن ہے جس کے پیچھے بہت سے عناصر کارفرما ہوتے ہیں۔
کیا اے آئی کے تخلیق کردہ ادب کا سماجی، معاشرتی، لسانی یا نفسیاتی تجزیہ ممکن ہو گا؟ یا اس ادب کا فنی و فکری تجزیہ ممکن ہو گا؟ یہ فطری عمل ہے کہ ہر انسان کی ذہنی صلاحیت مختلف ہوتی ہے، اس کے سوچنے کا زاویہ الگ ہوتا ہے، اس کے غم خوشی کے اسباب مختلف ہوتے ہیں، ان کی نفسیات مختلف ہوتی ہے، سماجی اور معاشرتی اثرات مختلف ہوتے ہیں۔ Georges Louis Leclerc Buffon کا قول ہے کہ ”The style is the man himself“ ۔ سائنس دان جنتی بھی مشینیں بنائیں گے ان میں ایک ہی طرح کا سافٹ ویر ہو گا اور ایک ہی طرح کا ذخیرہ۔ ان کے سوچنے کا انداز اور جواب دینے کا طریقہ بھی یکساں ہو گا۔ سائنس نے الگ الگ نوعیت کی مشینیں بنائی ہیں مگر وہ اپنے مخصوص علاقے میں کام کرتی ہیں۔ مثلاً جو مشین اسپتال میں آپریشن کے لیے یا ٹیسٹ کے لیے فٹ کی گئی ہے وہ باہر سڑک پر گاڑی نہیں چلا پائے گی۔ جو سڑک پر بغیر ڈرائیور کے گاڑی چلا رہی ہے وہ ایکسرے نہیں کر سکے گی۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان نے جس مقصد کے لیے اس مشین کو بنایا ہوگی وہ صرف وہی مخصوص کام کر پائے گی۔ بالفرض مستقبل میں مصنوعی ذہانت والی مشین یہ سارے کام کر بھی لے تو وہ اپنی تھکن کا احساس تو نہیں کر سکے گی۔ سائنس دانوں کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ مشینیں انسانوں سے بہتر اس وجہ سے ہوں گی کہ ان کا کوئی مزاج (Mood) نہیں ہو گا، یہ تھکیں گی نہیں اور مسلسل کام کریں گی۔ اس سے یہ بات تو واضح ہو جاتی ہے کہ یہ کسی غم خوشی یا تھکاوٹ کو محسوس نہیں کر پائیں گی۔ ان سے جو فن وجود میں آئے گا وہ سب کا ایک جیسا ہو گا۔ یہ اس وجہ سے کہ جب ساری مصنوعی مشینوں میں ایک ہی طرح کا سافٹ ویر ہو گا اور مواد بھی سب کو ایک جیسا ملے گا تو ان کی تخلیق بھی ایک جیسی ہی ہو گی۔
اے آئی معاشرے کی خوبیوں اور خامیوں کو اپنے تخلیقی ادب پاروں کا حصہ بنا پائے گی؟ معاشرے کے اثرات قبول کرنے کے لیے ضروری ہے کہ تخلیق کار معاشرے میں ہونے والی تبدیلیوں سے متاثر ہو، پیار اور جنگ کے احساسات کو محسوس کرتا ہو، ہجر و وصال کے لمحات کو محسوس کرتا ہو، گرم ٹھنڈے کا احساس ہو، غم میں روتا اور خوشی میں ہنستا ہو۔ کھونے کا دکھ اور پانے کی خوشی ہو، موسموں سے لطف اندوز ہوتا ہو، خوبیوں اور خامیوں کے معیار کو جانتا ہو، انفرادی اور اجتماعی تجربات سے گزرتا ہو، بھوک، پیاس، تھکاوٹ، افلاس، بے بسی، لاچاری، امارت، سکون، بے چینی اور دیگر جذبات رکھتا ہو۔ اس طرح کی بہت ساری معاشرتی خوبیاں اور خامیاں ہیں جو تخلیق کار پر انفرادی اور اجتماعی طور پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ ایک بہترین تخلیق کار ان سب کو محسوس کر کے اپنے تخلیقی کاموں کے ذریعے پیش کرتا ہے۔ کیا ایک مصنوعی ذہانت والی مشین بیک وقت ان تمام کو محسوس کر پاتی ہے؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر یہ مصنوعی ذہانت کبھی معاشرے کی خوبیوں اور خامیوں کو اپنے تخلیق کا موضوع نہیں بنا پائے گی۔
مصنوعی ذہانت اب سوچنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ فیصلے کرنا، جمع تفریق کرنا، تصاویر بنانا، نظم لکھنا، نثر لکھنا، غلطیوں سے سیکھنا، انسان کے مزاج کے مطابق اس سے باتیں کرنا، انسان کی پسند کو پہچان کر اس کے مطابق مواد کو اس کے سامنے لانا وغیرہ۔ اے آئی کی ایک قسم وہ ہے جو اپنے مخصوص دائرے میں کام کرتی ہے اور ایک وہ ہے جو بیک وقت بہت سارے کام کر سکتی ہے۔ اے آئی کی یہ دوسری قسم اُردو ادب کی تخلیقات میں بڑی حد تک اثر انداز ہو چکی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مصنوعی ذہانت کو مثبت قدم جان کر، اِسے اپناتے ہوئے اِس میں مزید بہتری لانے میں سائنس دانوں کی مدد کرنی چاہیے۔ علمِ لسانیات کا اس میں بڑا کردار ہے کہ وہ اُردو ادب کے حوالے سے اغلاط کو اجاگر کریں اور درست معلومات بہم پہنچائیں۔ سائنس کو ترقی اور ایجادات سے کوئی نہیں روک سکتا ہے۔ جہاں ان ایجادات سے انسانی زندگی کو سہولیات میسر ہیں وہاں مشکلات اور پریشانیاں بھی درپیش ہیں۔ یہ انسان کے اوپر ہے کہ وہ اس چیز کا استعمال کس طرح کرتا ہے۔ مثلاً کے طور پر الفریڈ نوبل نے بارود ایجاد کیا تھا کہ اس سے طویل مسافتیں گھنٹوں کے آرام دہ سفر میں بدل جائیں مگر اس کا استعمال انسان خودکش دھماکوں کی صورت میں بھی کرنے لگا۔ موبائل کی ایجاد آپس میں رابطوں کے لیے کی گئی تھی مگر آج اس کے غلط استعمال سے ہزاروں گھر اجڑ رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت سے منہ پھیرنا احمقانہ عمل تسلیم کیا جائے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کو مثبت استعمال کیا جائے۔

