سیز فائر کے بعد نیو نارمل: امن کا خواب یا وقتی سکون؟


پاک بھارت تعلقات میں حالیہ سیز فائر ایک خوش آئند پیش رفت ہے جو دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان ممکنہ تباہ کن جنگ کے خطرے کو وقتی طور پر ٹالتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ سیز فائر ایک نئے اور پائیدار ”نیو نارمل“ کی طرف پہلا قدم ہے یا صرف وقتی دباؤ کے تحت کیا گیا فیصلہ؟

اس امر میں شک نہیں کہ پاکستان نے موجودہ صورتحال میں غیر معمولی تحمل اور سنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔ اس کے برعکس، بھارتی حکومت کی سرپرستی میں انتہاپسند ہندوتوا نظریے نے خطے میں کشیدگی کو مسلسل ہوا دی ہے۔ جنگی جنون، اقلیت دشمن بیانیہ، اور خطے میں بالادستی کا خواب ایک ایسا خطرناک امتزاج ہے جس کا جواب صرف امن کی خواہش سے نہیں، بلکہ دفاعی صلاحیت اور سفارتی حکمتِ عملی سے دیا جا سکتا ہے۔

پاکستان کے لیے یہ لمحہ نہ صرف سفارتی بلکہ دفاعی اعتبار سے بھی نہایت اہم ہے۔ چین سے حاصل کیے گئے جدید جنگی جہاز اور ہتھیاروں نے حالیہ جارحیت میں اہم کردار ادا کیا۔ جے۔ 35 جیسے جدید منصوبوں کو تیزی سے پایہ تکمیل تک پہنچانا، دفاعی صنعت کو خود کفیل بنانا اور انٹیلی جنس و سائبر دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ اپنے ائر ڈیفنس سسٹم کو بھی اپ گریڈ کرنا ضروری ہے۔

موجودہ دور میں جہاں دشمن کی جارحیت روایتی ہتھیاروں تک محدود نہیں، وہاں فضا سے آنے والے خطرات، ڈرون حملے، اور میزائل سسٹمز کے خلاف موثر دفاع ناگزیر ہو چکا ہے۔ ائر ڈیفنس کی جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری نہ صرف جنگی صلاحیت کو بڑھاتی ہے بلکہ دشمن کو باز رکھنے کے لیے ایک موثر نفسیاتی ہتھیار بھی ہے۔ پاکستان کو اس شعبے میں چین، ترکی اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ اشتراک سے جدید سسٹمز حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر تحقیق و ترقی کو بھی فروغ دینا ہو گا۔

یہ حقیقت بھی اب اظہر من الشمس ہے کہ محض امن کی باتیں یا عالمی ضمیر کا انتظار کافی نہیں، بلکہ مضبوط دفاع ہی ایک ایسا بازو ہے جو امن کو محفوظ بناتا ہے۔ وہ عناصر جو دفاعی بجٹ یا عسکری تیاری پر سوال اٹھاتے ہیں، ان کے لیے حالیہ واقعات واضح پیغام ہیں کہ امن کی قیمت طاقت کی حکمتِ عملی کے بغیر ادا نہیں کی جا سکتی۔

جہاں تک مذاکرات کا تعلق ہے، پاکستان کو ایک واضح اور جامع ایجنڈے کے ساتھ گفتگو کے میز پر جانا چاہیے۔ بہتر ہو گا کہ یہ بات چیت کسی غیر جانب دار مقام جیسے سعودی عرب یا قطر میں ہو۔ ان مذاکرات میں مسئلہ کشمیر، دہشت گردی، پانی کی تقسیم (سندھ طاس معاہدہ) ، اور مسلمانوں و پاکستان کے خلاف جاری بھارتی پراپیگنڈہ اور نفرت انگیزی کو مرکزی حیثیت دینا ہوگی۔ خاص طور پر بھارت میں مسلمانوں کے خلاف جاری ہندوتوا مہم کو امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تسلیم کرنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ حالیہ کشیدگی میں کیے بھارتی پروپیگنڈے کو زیر بحث لایا جانا بھی ضروری ہے۔

تاہم، پاکستان کو اپنی داخلی صورتحال پر بھی دیانت داری سے نظر ڈالنی ہو گی۔ پاکستان کو یہ بھی یقینی بنانا ہے کہ وہ تمام اعتراضات جن پر بیرونی دنیا تشویش کا اظہار کرتی ہے، انہیں عملاً دور کیا جائے۔ یہ قومی محاسبہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے کہ ہم اپنی خامیوں، ادارہ جاتی کمزوریوں، اور گورننس کے مسائل پر سنجیدگی سے غور کریں تاکہ ہمارا امیج عالمی برادری میں بہتر ہو سکے۔ ایک مستحکم، شفاف اور مکمل جمہوری سیاسی نظام ہی بہترین سفارت کاری کی بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔

اس سلسلے میں ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان کو ایک باوقار، باخبر، اور عالمی معیار کے مطابق بین الاقوامی انگریزی نیوز چینل کے قیام پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ دنیا میں رائے عامہ کی تشکیل میڈیا کے ذریعے ہوتی ہے، اور بدقسمتی سے پاکستانی موقف کو بین الاقوامی سطح پر موثر انداز میں پیش کرنے والا کوئی ایسا ادارہ موجود نہیں جو بھارت کے وسیع پروپیگنڈے کا توڑ کر سکے۔ ایک ایسا میڈیا نیٹ ورک جو تحقیق، تجزیے اور بین الاقوامی صحافت کے معیار پر پورا اترے، پاکستان کے لیے سفارتی محاذ پر سب سے موثر ہتھیار بن سکتا ہے۔

لہٰذا، یہ وقت ہے کہ پاکستان تدبر، حکمت اور طاقت کے امتزاج سے نہ صرف اپنے مفادات کا دفاع کرے بلکہ خطے میں دیرپا امن کی بنیاد بھی رکھے، داخلی احتساب اور عالمی معیارات کی ہم آہنگی کے ساتھ۔

Facebook Comments HS