مومن فقط احکام الہی کا ہے پابند۔


ہمارے ابا جی نے دوسری جنگ عظیم سے لے کر آزادی کشمیر اور دفاع پاکستان 1965 ء پھر مشرقی پاکستان تک کی تمام جنگوں میں ناصرف حصہ لیا بلکہ بے شمار جنگی اعزازت بھی حاصل کیے۔ ان کی بہادری کے اعتراف میں انہیں پاکستان آرمی میں کمیشن دیا گیا وہ فرسٹ اوٹی ایس منگلا کے ذریعے کمیشن حاصل کرنے والے پہلے افسر تھے۔ انہیں آزاد کشمیر رجمنٹ کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ جیسور کے محاذ پر زخمی ہو کر ہندوستان کی قید میں سخت ترین صعوبتیں برداشت کیں۔ انہیں کے زیر کمانڈ لڑتے ہوئے ان کے ایک پلاٹون کمانڈر نائیک سیف علی جنجوعہ شہید کو تمغہ عطا ہوا۔ اس کے باوجود پوری زندگی وہ ہمہ وقت جہاد کے لیے تیار رہتے تھے وہ کہتے تھے کہ جنگ اور جہاد دو مختلف چیزیں ہیں۔ وہ جنگ کو کبھی اچھا نہیں سمجھتے تھے۔ انہوں نے دوسری جنگ عظیم میں انگریز سے ملنے والے ”برما اسٹار“ پر کبھی فخر نہیں کیا لیکن پاکستان کے ”تمغہ خدمت“ اور ”سند امتیازی“ پر فخر کرتے تھے۔

وہ کہتے تھے کہ جہاد نہ صرف فرض ہے بلکہ امن کے لیے سب سے بڑی ضرورت ہے۔ جنگ کا جنون ہوتا ہے جبکہ جہاد کا مقصد ہوتا ہے۔ مسلمان کی تلوار اور کافر کی شمشیر دونوں میں یہی زمین آسمان کا فرق ہے۔ جنگ کا جنون کسی مخصوص فرد، گروہ یا قوم کی ہوس ملک گیری، جذبہ برتری یا معاشی غلبے کے جذبے کی تسکین ہوتا ہے۔ جس کے لیے وہ ہر ممکن ظلم، دہشت گردی اور سفاکی سے کام لیتا ہے اور کامیابی کی صورت میں مفتوحین کی جان، مال اور عزت کی پامالی کے ساتھ ساتھ زمین پر موجود ہر شے کو غارت اور تباہ کر نے سے دریغ نہیں کرتا۔ جبکہ اس کے برعکس جہاد اسلامی اصولوں پر مبنی صرف اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لیے ہوتا ہے۔ تاکہ ذاتی دفاع کے ساتھ ساتھ ذاتی منفعت سے بالاتر ہو کر انسانوں کو طاغوتی قوتوں کے غلبے سے بچایا جا سکے۔ اللہ کی زمین پر اللہ کے نظام کی حکمرانی قائم ہو سکے۔ عدل و انصاف کا بول بالا اور سب کو بلا تفریق مذہبی آزادی میسر ہو سکے۔ جہاد ذہنی تبدیلی کا نام ہے جو صرف تلوار سے نہیں بلکہ اسلامی تعلیمات اور ہمارے کردار سے ممکن ہوتا ہے۔ جس کے لیے اسلام کے عادلانہ نظام اور عالم اسلام کے درمیان جو لادینی قوتیں رکاوٹ بنی ہیں ان کا صفایا کر دیا جائے۔ وہ کہتے تھے کہ ”جنگ جہالت اور جہاد عبادت ہے“ جہاد قتل و غارت کا نہیں اصلاح اور دین کی سربلندی کا نام ہے۔ جنگی جہالت اور بربریت اور انسانی حقوق کی پامالی اس ترقی یافتہ دور میں آج بھی فلسطین اور غزہ میں مسلمانوں کی نسل کشی اور انسانی حقوق کی پامالی دیکھی جا سکتی ہے۔ امن کے لیے جنگ نہیں جہاد کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاکہ طاقتور اپنی طاقت کے بل بوتے پر اپنی بالا دستی اور حاکمیت کے ذریعے بنی نوع انسان کی زندگی اجیرن نہ کر سکے۔ تاریخ میں بے شمار جنگیں اور ان سے ہونے والی بربریت سے جانی و مالی نقصان کی مثالیں سامنے ہیں جبکہ جہاد کے ذریعے پھیلنے والی امن و سلامتی کی روشنی سے بھی سب آشنا ہیں۔ اسلام صلح، درگزر اور خیر کی تلقین کرتا ہے۔ نبی پاک ﷺ نے مدینہ میں ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جس کی اساس میثاق مدینہ جیسے صلح آمیز معاہدے پر رکھی گئی یہاں تک کہ مکہ جہاں مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے وہاں بھی رسول اللہ ﷺ نے ابتدائی تیرہ سال تک کبھی تلوار نہ اٹھائی بلکہ صبر، ہجرت اور حکمت کا دامن تھام کر امن کی کوشش جاری رکھی۔ تاہم جب ظلم حد سے بڑھ گیا، جب ایمان کو دبایا جانے لگا، جب کمزورں پر زندگی اس قدر تنگ کردی گئی کہ ان کی آہیں آسمان تک پہنچنے لگیں تو تب اللہ تعالیٰ نے جنگ کی اجازت دی ارشاد الہی ہے کہ ”اجازت دی گئی ہے ان لوگوں کو جن سے جنگ کی جاتی ہے کیونکہ ان پر ظلم ہوا“ جسے ہماری پیارے نبی نے جہاد قرار دیا ہے۔ جہاد کے لغوی معنی مشقت اور توانائی صرف کرنا ہے۔ جہاد فی سبیل اللہ کی اصطلاح اپنے معنی کے اعتبار سے بہت وسیع ہے اللہ کریم نے ارشاد فرمایا ”اور جنہوں نے ہمارے راستے میں جہاد کیا ہم انہیں ضرور اپنی راہیں سمجھا دیں گے“ (القرآن)

ہمارے بہت سے دانشور اور کالم نگار کئی روز سے امن کی اہمیت اور افادیت کے بارے میں اظہار خیال کر رہے ہیں۔ ہر کالم نگار امن کی فاختہ اڑانے اور امن کی خواہش کے گیت گانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ مغرب کے تعارف کردہ انسانیت اور انسانی حقوق کا راگ الاپ رہا ہے۔ جنگی نقصانات سے ڈرا رہا ہے۔ میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ امن کا قیام جنگ سے نہیں جہاد سے ہی ممکن ہوتا ہے۔ جنگ نہ ہو تو لوگوں کو امن کی نعمتوں اور جہاد کی اہمیت کا ادراک کیسے ہو سکتا ہے؟ پھر جب جنگ مسلط کردی جائے تو لڑنا لازم ہو جاتا ہے۔ ایک معمولی سی چڑیا بھی اپنے گھر اور اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے شہباز جیسے طاقتور پرندے سے بھی ٹکرا جاتی ہے جبکہ وہ جانتی ہے کہ طاقت کا توازن اس کے حق میں نہیں ہے۔ جارحیت اور ظلم کے سامنے سینہ سپر ہونے کو جنگ نہیں بلکہ دفاع کہا جاتا ہے اور اپنا اور اپنے گھر کا دفاع قانونی، اخلاقی اور مذہبی طور پر فرض ہے۔ اپنی نسلوں کی بقا  کے لیے جنگ کو شوق نہیں بلکہ ضرورت سمجھا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ دنیا میں طاقت کا توازن ہی امن قائم رکھتا ہے۔ جب ایک جارح قوت ابھرے اور امن کو خطرہ لاحق ہو تو اس کے خلاف جنگ ناگزیر ہو جاتی ہے۔ اس تناظر میں جنگ کو امن کا راستہ بنانے والی ایک تلخ مگر ضروری تدبیر جہاد کو ہی سمجھا جاتا ہے۔

ہمارا مذہب اسلام بزدلی اور امن پسندی کے درمیان ایک واضح لکیر کھنچتا ہے۔ جنگ اور جہاد کا فرق بتاتا ہے۔ اسلام کی اصل دعوت امن، عدل، ہدایت اور انسانیت ہے۔ اسلام جنگ یا جہاد صرف انفرادی اور اجتماعی دفاع کے لیے ہی نہیں بلکہ کئی اور صورتوں میں بھی جائز قرار دیتا ہے۔ جب ظلم ہو رہا ہو، عزتیں پامال ہو رہی ہوں، مسلمانوں کو زبردستی ان کے گھروں سے نکالا جا رہا ہو، دینی آزادی چھینی جا رہی ہو تو فرمان الہی ہے کہ ”اجازت دی گئی ہے ان لوگوں کو جن سے لڑائی کی جاتی ہے کیونکہ ان پر ظلم ہوا“ اسلام امن کے لیے ”جنگ ضروری ہے“ کہ تصور کو مخصوص شرائط اخلاقی اصولوں اور مقاصد کے تحت محدود کرتا ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں اسلام کا موقف نہ تو بلاوجہ جنگ کی حمایت میں ہے اور نہ ہی مکمل انکار میں ہے بلکہ اسلام امن کو اصل مقصد اور جنگ کو آخری چارہ کار کے طور پر دیکھتا ہے۔ اسلام ایک ایسا نظام تشکیل دینا چاہتا ہے جہاں جنگ کی نوبت ہی نہ آئے۔ اسلام امن کو بنیاد بناتا ہے اور جنگ کو صرف اس وقت جائز قرار دیتا ہے جب پرامن طریقے سے ظلم کو روکنا اور عدل قائم کرنا ممکن نہ رہے۔ امن کے لیے جنگ یا جہاد کا اسلام میں کوئی مستقل اصول نہیں ہے بلکہ ضرورت اور دفاع سے مشروط آخری تدبیر اور حل ہوتا ہے جو اخلاقیات اور عدل کے سخت ترین دائرے میں محدود ہوتی ہے۔ آج دنیا فلسطین اور افغانستان کی حالت زار دیکھ رہی ہے اور وہاں کی تباہی و بربادی تاریخ کا حصہ بن گئی ہے۔ جبکہ ہماری نبی پاک ﷺ کا حکم ہے کہ جہاد کے دوران کسی عورت، بچے، بزرگ یا کسان یا سول آبادی پر ہاتھ نہ اٹھایا جائے۔ درخت نہ کاٹے جائیں، ذرائع آمد و رفت اور عبادت گاہیں محفوظ رکھی جائیں، مذہبی مقامات اور ہسپتالوں پر حملہ نہ کیا جائے۔ زخمی دشمن کو قتل نہ کیا جائے اور قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے۔ کیونکہ مسلمان صرف اللہ کے لیے لڑتا ہے ظلم اور ذاتی مفاد کے لیے نہیں لڑتا ہے۔ امن، عدل کے لیے حکمت ضروری ہے اور جب یہ سب دروازے بند ہو جائیں تو صرف مجبوری میں جنگ کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے اور وہ بھی عدل کے ضابطوں اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ہدایت کے مطابق ہونا ضروری ہے۔ اسی لیے جب فتح مکہ کا دن آیا تو بدلہ لینے کی مکمل طاقت ہونے کے باوجود رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”آج تم پر کوئی گرفت نہیں جاؤ تم سب آزاد ہو“ مکہ کی بڑی فتح بغیر خون بہائے ہونا جہاد کی اہمیت اور افادیت کا مظہر ہے۔ کیونکہ جہاد کا مقصد زمین پر حکومت قائم کرنا نہیں بلکہ امن کا قیام، ظلم کا خاتمہ، کمزوروں کی مدد اور اپنی سرزمیں کا دفاع ہے۔ جہاد کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ یعنی ابتدائی جہاد جو اپنی آزادی اور حق کے لیے اور دوسرا دفاعی جہاد یعنی اپنی آزادی برقرار رکھنے اور اپنی سالمیت اور بقا کے لیے لڑنا اور تیسرا کفر اور شرک کی نابودی کے لیے جہاد کرنا۔ امن کی خواہش پوری انسانیت کا خواب ہے کوئی بھی انسان بدامنی نہیں چاہتا مگر جب جنگ مسلط کردی جائے تو جہاد ہی وہ واحد راستہ ہے جو انسانی سلامتی اور امن کی راہ ہموار کرتا ہے۔ جہاد کی طاقت اور اس کا خوف کفار کو پرامن رہنے پر مجبور کرتا ہے۔ اس لیے جنگ کا جنون نہیں جہاد امن کا راستہ ہے۔

زندہ رہنا ہے تو حالات سے ڈرنا کیسا
جنگ لازم ہو تو لشکر نہیں دیکھے جاتے

Facebook Comments HS