سرحد کے دونوں پار مٹھائی اور کیک کو پہرہ درکار ہے
دیوانوں کی اُس بستی میں مٹھائی، کیک اور بسکٹ بھی جنگی جنون کی نفرت کی نذر ہو گئے۔ تازہ پاک بھارت تناؤ کے دوران ہندوستان حیدرآباد میں کراچی بیکری کو نام کی سزا دے کر انتہا پسندوں نے اس پر حملہ کیا اور تھوڑ پھوڑ کی گئی۔ دوران تقسیم 1947 میں حیدرآباد سندھ سے ہجرت کرنے والے ایک سندھی کی قائم کردہ کراچی بیکری بمبئی میں تو کافی عرصہ ہوا نفرت نفرت کھیلنے والوں نے دھمکیاں دے کر بند کروا دی تھی۔ اپنی اس عظیم الشان فتح کا 2019 میں آج کے ایکس اور اس وقت کے ٹویٹر پر فخریہ اعلان بھی کیا گیا۔
پاکستان میں کراچی کے اندر ایک درجن سے زیادہ دہلی سوئٹس کی برانچیں ہیں۔ حیدرآباد سندھ کی قدیم و مقبول بمبئی بیکری کا کیک بھلا کوئی ظالم کیسے بھلا سکتا ہے۔ جس کسی نے دہلی سوئٹس کا گلاب جامن اور چمچم کھایا ہو گا وہ ریاستوں کے جھگڑوں میں اپنے منہ کو میٹھا کرنے کے میسر شاندار مواقعے کیسے گنوائے گا۔ استاد محترم وجاہت مسعود نے کیا خوب بات کی تھی ”یہ دنیا جوانوں اور بچوں کی امانت ہے“ اسے اپنے مستقبل کے لیے محفوظ رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔ نوجوانوں کو جنگ سے نفرت اور امن سے پیار ہونا چاہیے۔ بدقسمتی سے نوجوان امن کا گیت گانے کی بجائے جنگ کے ترانے گانے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ غربت کے مارے دونوں ملکوں میں سر ڈھانپنے کے لیے چھت، تن چھپانے کے لیے کپڑا اور پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لیے دو وقت کی روٹی ملنا مشکل ہے۔ جنگی مشقیں جو موجود ہے وہ بھی چھین کر لے کر جائیں گی۔ ایسے شوق سے ہم مزید غریب ہو جائیں گے۔
اس خطے میں خوشیاں اور امن کیوں ممکن نہیں؟
خوشیوں کے لمحات میں اضافہ کرنے اور رشتوں کو مضبوط کرنے والی کراچی بیکری، دہلی سوئٹس اور بمبئی بیکری سے نفرت کرنے کا کوئی پاگل ہی سوچ سکتا ہے۔ اس پار دیوانوں نے کراچی بیکری پر حملہ کر کے اپنے سواد اور ذائقے سے چھیڑخانی کی ہے۔ انہوں نے اپنی منہ کو کڑوا رکھنے کا انتظام اپنے ہاتھ مبارک سے کیا ہے۔
دو قومی نظریے اور دونوں ملکوں کی نفرت کی فیکٹریوں نے جہاں سب کچھ دشمنی میں بدل دیا ہے، وہاں مٹھائی، کیک اور بسکٹ کی دکانوں کو بھی نفرت کا دیمک آ ٹکرایا ہے۔ جنوبی ایشیا میں اب کوئی سعادت حسن منٹو تو آنا نہیں جو نیا ٹوبہ ٹیک سنگھ لکھے گا اور ہمارے پاگل پن کی کہانی کے نشانات آنے والی دنیا دیکھ پائے گی۔
ہندوستان حیدرآباد میں کراچی بیکری پر حملے کی خبریں آنے کے بعد کراچی میں دہلی سوئٹس کی مٹھائی کی دکانوں اور حیدرآباد میں بمبئی بیکری کی سکیورٹی بڑھا دی گئی۔ اب دونوں طرف کیک اور مٹھائی کو بھی پہرا چاہیے۔ مٹھائی اور کیک بھی جیوگرافی اور نظریاتی سرحدوں میں تقسیم ہو سکتے ہیں؟ جنگیں بیچنے اور جنگی آلات (ہتھیار کا دور گیا) بیچنے والوں کو تو اپنا کاروبار کرنا ہے، ان کا مفاد تو جنگ و جدل میں ہے۔
جنگی جنون میں مبتلا جوانوں کو کوئی یہ تو یاد دلائے آپ کے نام کی رسم سے لے کر رشتہ پکا ہونے، آگ پر پھیرے لینے اور نکاح کی خوشی میں ان ہی بیکریوں کی مٹھائی و کیک خوشی میں بانٹے جاتے ہیں۔ اپنی خوشیوں کو کھوکھلا مت کریں، مٹھاس اور رنگوں کو پھیکا مت پڑنے دیں۔
غصے اور نفرت کی آگ سے ان بیکریوں کو تو بچائیں۔ گھر کے آنگن آباد کرنے والے رس گلے اور کیک ماؤں کی گود اجاڑنے والے جنگی طیاروں اور میزائلوں سے زیادہ بہتر ہیں۔ عزیز ہم وطنو! اپنی خوشیوں کے لمحات کو پھیکا مت پڑنے دینا۔ اور ہاں مت بھولنا یہ دنیا جوانوں اور بچوں کی امانت ہے، امانت میں خیانت سے بڑا کوئی جرم اور گناہ نہیں۔


