دروازہ اور گپھا
(کہا جاتا ہے، انسان عمر بھر دو دروازوں کے درمیان سفر کرتا ہے۔ ایک دروازہ سماج کا، جو باندھتا ہے ؛ دوسرا فطرت کا، جو چھڑاتا ہے۔ لیکن کچھ مسافر ایسے بھی ہوتے ہیں، جو ان دونوں کے بیچ ایک تیسرا راستہ تلاش کرتے ہیں۔ یہ افسانہ ایسے ہی ایک مسافر کی داستان ہے جو گپھا میں گیا، مگر دروازہ کھول کر لوٹا)
شہر سے دور، ایک پرانا تیرتھ استھان تھا۔ پہاڑوں کی آغوش میں چھپی ایک گپھا، جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ جو اس میں بیٹھ جائے، خود کو پا لیتا ہے۔
یہ بات یامن نے بھی سنی تھی۔
شاید اسی لیے، ایک دن۔ سب رشتوں، وعدوں اور سوالوں سے الجھ کر۔ وہ خاموشی کے اس مندر کی طرف نکل پڑا۔
یامن کی عمر ستائیس اٹھائیس کے بیچ رہی ہوگی۔ بینک میں نوکری، ماں باپ کی اکلوتی امید، اور بٹیا۔ وہ لڑکی جس سے اس کا بیاہ ہونے والا تھا۔
بٹیا کے خواب اس کے دل میں بھی تھے، مگر کہیں ایک خلا تھا، جو نہ بٹیا سے پُر ہوتا، نہ تنخواہ سے۔
شاید اسی خلا کا نام تیاگ ہے۔ شاید یہی سوال اسے گپھا کی طرف لے گیا۔
سورج ڈھل رہا تھا۔ جنگل کی خاموشی میں لکڑیوں کی چٹ چٹ سنائی دیتی تھی۔
گپھا کے باہر ایک سادھو بیٹھے تھے۔ چہرے پر عجیب سا سکون، آنکھیں بند، سانسیں دھونی کی راکھ جیسی ہلکی۔
یامن جھجک کر قریب جا بیٹھا۔ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد سادھو نے آنکھیں کھولیں۔
”یہاں تمہیں من کی آگ لائی ہے، یا گھر کی راکھ؟“
یامن چونک گیا۔ سوال سیدھا دل پر لگا۔
”شاید دونوں، بابا۔“ وہ آہستہ سے بولا۔
سادھو نے دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ آگ میں لکڑی ڈالی۔
”سماج کرم مانگتا ہے، تیاگ سکون۔ تم کون سا راستہ چننے آئے ہو؟“
یامن کچھ لمحے خاموش رہا، پھر بولا:
”کیا ان دونوں کے بیچ تیسرا راستہ بھی ہے؟“
سادھو نے آنکھیں موند لیں۔
شاید جواب خاموشی میں تھا۔
رات کی خاموشی میں بٹیا کی آواز گونجی:
”یامن، ہمارا ساتھ کوئی قید نہیں۔ یاترا ہے۔ اگر تم سچ میں جاننا چاہتے ہو کہ تیاگ کیا ہے، تو میں اس راستے میں رکاوٹ ہوں۔ یا شاید راہ؟“
یامن نے آنکھیں موند لیں۔ آگ کی روشنی میں بٹیا کا چہرہ لرزتا دکھائی دیا۔ روشنی اور سائے کے بیچ۔
صبح جب جنگل کا آکاش نیلا ہوا، اور پرندوں نے گیت چھیڑا، یامن نے سادھو کے سامنے سوال رکھا:
”بابا، کیا سادھو بننے کے لیے سب کچھ چھوڑ دینا پڑتا ہے؟“
سادھو نے نگاہ ملائی۔
”سادھو وہ ہے جو اندر کی گونج سن سکے۔ کچھ لوگ گپھا میں سنتے ہیں، کچھ گھر کے ہنگامے میں۔
تیاگ من میں ہو تو بیاہ بھی تپسیا بن جاتا ہے۔ ”
”کیا میں بیاہ کر کے بھی تیاگی بن سکتا ہوں؟“
سادھو کی آنکھوں میں روشنی چمکی۔
”اگر تم نے رشتوں کو قید نہیں، یاترا سمجھا۔
تو تم وہی راستہ پا چکے ہو، جس کی تلاش میں آئے تھے۔ ”
یامن گپھا سے باہر نکلا۔ نیچے بستی کے کچے راستے دکھائی دے رہے تھے۔
بٹیا شاید انہی راستوں پر منتظر ہو۔
وہ اب گپھا سے نکل آیا تھا۔
دروازے بند کرنے نہیں، بلکہ کھولنے کے لیے۔


