یوم مادر کی مناسبت سے ماں کے محبت بھرے الفاظ میں گندھی ہوئی تحریر


muhammad salim gujranwala

ماں کولی، بے بے کولی، ماں صدقے جائے، بسم اللہ کراں بیبا بچہ، یہ وہ محبت بھرے الفاظ تھے جو ہماری مائیں ہمیں بچپن میں پیار سے کہتی تھیں۔ صبح سویرے اٹھانے کا انداز ہی بڑا پیارا ہوتا تھا۔ علی الصبح اٹھ جاتیں تھیں، حوائج ضروریہ اور گھر کے ضروری کاموں سے فارغ ہو کر، بچوں کو نماز اور قرآن شریف پڑھنے کے لیے اٹھاتیں۔ سرہانے آ کر بیٹھ جاتیں، سر کے بالوں میں اپنی انگلیاں پھیر کر سہلاتیں اور ساتھ ساتھ کہتی جاتی۔ اٹھ ماں کولی، دن چڑھ گیا ہے، اللہ محمد کا نام لو، سردیوں میں چادر یا کھیسی میں لپیٹ کر مسجد میں بھیجتی۔ واپس آتے تو گرم گرم ناشتہ تیار ہوتا، پھر سکول بھیجتے ہوئے سر پر پیار دیتی اور اللہ دے حوالے کے الفاظ بول کر کہتی، اللہ دا مال، اللہ دی امانت۔ پورے بچپن اور جوانی میں اس بات کا پتا نہ چلا کہ اماں کب جاگیں اور کب سوئیں۔

کبھی کسی چیز کے لیے ضد کرتے تو بڑے دلارے الفاظ میں کہتیں، ماں کولی، اینج نہی کری دا، گولے بچے نہی بن دے بیبے بچے بنی دا اے (میرے پیارے، لاڈلے ایسے نہیں کرتے، گندے بچے نہیں بنتے، اچھے بچے بنتے ہیں ) ۔ ان کے محبت بھرے الفاظ سن کر ساری ضد رفو چکر ہو جاتی۔ کبھی بخار چڑھتا یا طبیعت خراب ہوتی تو کہتیں، ماں صدقے جاوے، ماں واری جائے، پالیا تیری نانی مرے، میرے پتر نوں بیمار کر دتا ای، اللہ تیرا مال، تیری امانت، میرے پتر نون تتی وا وی نہ لگے (میرے بیٹے کو گرم ہوا بھی نہ لگے )
کبھی گھر میں یا گھر سے باہر گر جاتے تو بسم اللہ کراں، کہہ کر اٹھا لیتیں اور کپڑے جھاڑ کر کہتیں، پتر کج نہی ہویا، اٹھ جا، میرا پتر بڑا بہادر اے، کیڑی دا آٹا ڈھل گیا اے (بیٹا کچھ نہیں ہوا، تو بہت بہادر ہے، تمہارے گرنے سے چیونٹی کا آٹا گر گیا ہے ) ۔ ان کے یہ الفاظ سن کر بڑے سے بڑی چوٹ اور درد ختم ہو کر بھول جاتا۔

کچھ دن پہلے ایک پنجابی نظم پڑھی تو آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے، اس میں ماں کے بولے ہوئے الفاظ کی مکمل عکاسی تھی۔

تیرے باہجوں ماں نی
دنیا تلکن ویہڑے
اپی ڈگیا اپی اٹھیا
نہ بسم اللہ دی واج آئی
نہ کیڑی دا آٹا ڈھلیا

(والدہ آپ کے بعد اس دنیا کے چکنے فرش پر میں خود ہی گرا اور خود ہی اٹھ گیا، کہیں سے بھی یہ آواز نہ آئی، میں بسم اللہ کروں، اور نہ چیونٹی کا آٹا گرا) ۔

کبھی گھر میں پکا ہوا کھانا پسند نہ آتا تو اماں پوچھتی، بے بے کولی نے کہیہ کھانا اے ( میرے پیارے نے کیا کھانا ہے ) کہہ کر ڈوپٹہ سر پر لے کر گلی میں نکل جاتی اور جس گھر میں میری پسند کا کھانا یا چاول پکے ہوتے وہ جھٹ سے لے آتیں، ان دنوں آن لائن آرڈر کرنے کا یہ ہی محبت بھرا طریقہ تھا۔

سکول سے واپسی پر بسم اللہ کراں کہہ کر استقبال کرتیں اور بٹھا لیتیں۔ اگر اس وقت کچھ بھی نہ پکا ہوتا تو کہتیں اج میں اپنے پتر نوں لہسن پلا کھلاواں گی، لہسن پلا کیا ہوتا، کنڈی میں ہری مرچ اور دھنیا کوٹ کر اس میں دودھ یا دہی ملا کر بڑی مزیدار چٹنی سے دیسی گھی سے چپڑی ہوئی روٹی کھلا دیتیں۔ گرمیاں ہوتی تو ساتھ ساتھ پنکھا بھی جھلتیں۔

کھانا کھاتے ہوئے کھانسی آ جاتی یا اتھو لگ جاتا تو فوراً کہتیں، کھرے، کھرے اور کمر کو ہلکا ہلکا تھپتھپا دیتیں۔

کبھی نظر لگ جاتی یا بخار چڑھ جانا تو سات سرخ مرچیں لے کر سر سے وار کر چولہے میں جلا کر کہتیں، در در کتیا، جنگل وچ سٹیا، جنگل وچ کانے، جیون تیرے مامے۔ سخت جاڑے میں کبھی نہلانا تو سردی سے دانت بجنے شروع ہو جاتے تو فوراً کہتیں، ہائے پالیا تیری نانی مر جائے، میرے پتر نوں نہ لگیں۔ رات کو اپنے سینے سے بھینچ کر سلاتیں اور مزے مزے کی کہانیاں اور لوریاں سناتیں جن میں سے کچھ اب بھی یاد ہیں۔

اللہ ہو، لوا دے کھوہ
کھوہ تے بہہ کے نماز پڑھیے
اللہ سوہنے نوں یاد کریاں
اللہ جی میں کلی آں
شہر مدینے چلی آں
شہر مدینہ دور اے
جانا وی ضرور اے
کوٹھے تے تنور اے
روٹیاں دا پور اے
تالی اے وج، ماما آئے اج

پنجابی شاعر دائم اقبال دائم کی لکھی ہوئی کتاب اکرام محمدی کے شعر بھی بڑے ترنم سے پڑھتیں۔

باپ جب بچوں کو مارتا ہے تو بچے بھاگ جاتے ہیں، لیکن جب ماں مارتی ہے تو وہ جم کر مار کھاتے ہیں اور وہیں بیٹھے رہتے ہیں۔ پھر تھوڑی دیر بعد ماں آتی ہے تو پیار سے سر پر ہاتھ پھیرتی، جسم کی چوٹوں کو سہلاتی اور کہتیں۔ ماں کولی، کیوں تنگ کر کے مار کھانا اے تے ماں نوں تڑپانا ایں۔

آج کل بھی ماؤں میں اولاد کے لیے وہی پیار اور محبت کا عنصر موجود ہے۔ زمانے اور وقت بدلتے ہیں لیکن ماں اور اولاد کے رشتے میں وہی محبت اور چاشنی برقرار ہے جو ہمارے وقت میں تھی۔ بس اظہار محبت و پیار کے الفاظ بدل گئے ہیں۔ پنجابی کی جگہ اردو اور انگریزی نے لے لی ہے۔ اب بے تکلفی بڑھ گئی ہے۔ ماں ہائے بے بی اور بچے ہائے مام کہتے ہیں، اب بچوں کو سینے سے لگانے کو ہگ کرنا کہتے ہیں۔ کہانیاں اور لوریاں سنانے کا دور لد گیا۔ انواع و اقسام کے کھانے میسر ہیں، نہ کسی کے گھر سے کوئی کھانا لیتا اور نہ دیتا ہے۔ اب نہ نظر اتاری جاتی ہے نہ کیڑی کا آٹا گرتا ہے اور نہ ہی بسم اللہ، ماں واری، ماں صدقے کی آوازیں آتی ہیں۔

مرزا ادیب کی خود نوشت ”مٹی کا دیا“ کے ایک اقتباس کو کئی بار پڑھا ہے اور ہر بار آنکھوں سے آنسو نکل آتے ہیں، لیکن اس میں بیان کی گئی ماں کی محبت کی چاشنی کم نہیں ہوتی ہے۔

”ابا جی مجھے مارتے امی بچا لیتی تھیں۔ ایک دن سوچا اگر امی پٹائی کریں گی تو ابا جی کیا کریں گے۔ یہ دیکھنے کے لئے کیا ہوتا ہے میں نے امی کا کہنا نہ مانا، انہوں نے کہا بازار سے دہی لا دو میں نہ لایا انہوں نے سالن کم دیا تو میں نے زیادہ پر اصرار کیا انہوں نے کہا پیڑھی پر بیٹھ کر روٹی کھاؤ میں نے دری بچھا لی اور اس پر بیٹھ گیا، کپڑے میلے کر لیے میرا لہجہ بھی گستاخانہ تھا مجھے پورا یقین تھا امی مجھے ماریں گی مگر انہوں نے یہ کیا مجھے سینے سے لگا کر کہا“ کیوں دلاور پترا میں صدقے توں بیمار تے نہیں۔ اس وقت میرے آنسو تھے کہ رکتے نہیں تھے۔ ”

مرزا ادیب کا اصل نام دلاور تھا۔

Facebook Comments HS