ملتان کو شناور کی آنکھ سے دیکھو


 

شناور اسحاق کی کتاب ”صحبت آدمی مبارک ہو“ میں جس محبت سے ملتان اور اپنے آبائی علاقہ گوجرانوالہ کے گلی کوچوں سے لے کر ادبی بیٹھکوں و شخصیات کا احوال ملتا ہے، یہ تذکرہ ایسا گہرا نقش مرتب کرتا ہے کہ ہم اس کے سحر سے چاہتے ہوئے بھی رہائی نہیں پا سکتے۔ جب نوے کی دہائی کے وسط میں شناور اسحاق سے میری پہلی ملاقات ہوئی، اور پھر اس کے بعد کچھ عرصہ تسلسل سے اور بعد میں گاہے گاہے ملاقات رہی تو جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ متاثر بلکہ حیران کیا وہ ان کا وسیع المطالعہ ہونا تھا۔ وہ نوجوانی میں بھی صرف شاعر نہیں کتابوں سے جڑا ہوا ایسا صاحب علم تھا جو مختلف ادبی تحاریک و شخصیات کے حوالے سے ایک واضح موقف رکھتا تھا، یہ خوبی جاوید اختر بھٹی اور محمد مختار علی میں بھی تھی۔ شائع ہونے والی ہر اہم کتاب، اہم ادبی رجحان، ادبی منظر نامہ کی گرما گرم مباحث اور فکری سطح پر بامعنی مکالمہ کی گونج جاوید اختر بھٹی اور محمد مختار علی کی نشستوں میں سنائی دیتی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ ملتان آنے کے بعد چند دنوں ہی میں شناور اسحاق کی سب سے زیادہ ذہنی و فکری موانست و ارتباط انہیں ہر دو احباب سے نظر آنے لگا۔

شناور اسحاق نے اپنے آبائی علاقہ اور اہم ادبی مرکز گوجرانوالہ سے جڑے شعر و ادب کی شخصیات کو جس قلبی سخاوت و فیاضانہ محبت سے یاد کیا ہے، اس کی نظیر بہت کم ملتی ہے۔ مضامین اور خاکے جو گوجرانوالہ اور اس کے علمی ادبی اکابرین کے حوالے سے لکھے گئے ہیں، وہ صاف بتا رہے ہیں کہ گوجرانوالہ سے ہمارے شاعر دوست کا عشق پہلی محبت کی طرح اپنے اندر معصومیت لیے ہوئے ہے۔ ملتان سے شناور اسحاق کی محبت شعوری اور پختہ ہے۔ لہذا ملتان کے احباب پہ اس کی رائے میں معروضیت واضح ہے۔

”صحبت آدمی مبارک ہو“ میں ملتان کے حوالے سے شناور اسحاق نے جن یادوں کو رقم کیا ہے، مجھے وہ حصہ اس لیے بھی عزیز تر رہا کہ اس میں ان شخصیات کا ذکر ہے جو ہمارے ادبی سفر کے آغاز میں ملتان کا ادبی چہرہ اور ملتان کی علمی شناخت تھیں۔ میرے لیے سب سے زیادہ دلچسپی اس کتاب کا وہ حصہ ہے جہاں شہر ملتان سے جڑی یادوں کا تذکرہ ہے۔ ملتان کا ذکر کرتے ہوئے شناور اسحاق کے لفظوں میں محبت و انسیت کی گہری تاثیر چھلکتی نظر اتی ہے۔ شناور اسحاق لکھتے ہیں : ”ملتان۔ وہ بھاگوان آور مہربان شہر جس نے اس کندہ ناتراش کی صورت گری کی، بہترین دوست عطا کیے، برگد اور شہتوت کے گھنے پیڑوں جیسے بزرگوں کی چھاؤں سے نہال کیا۔“ (ص 60 )

”ملتان نامہ“ اس کتاب میں شامل ایک تفصیلی مضمون ہے۔ اسے ملتان کی کئی اہم علمی و ادبی شخصیات کا مرقع سمجھ لیجیے جسے شناور اسحاق کے سحر طراز قلم نے نوے کی دہائی میں ملتان کی ادبی فضا کی جیتی جاگتی تصویروں کی صورت پیش کر دیا ہے۔ وہ نابغہ روزگار شخصیات، محفلیں، بیٹھکیں، اردو اکادمی اور آرٹس فورم کے تنقیدی اجلاس، سب ان صفحات میں متحرک تصویروں کی صورت موجود ہیں۔ عرش صدیقی، مذاق العیشی، اصغر علی شاہ، تابش صمدانی، ڈاکٹر فاروق عثمان، شوذب کاظمی، احمد خان درانی، فرخ درانی، صلاح الدین حیدر، اسلم انصاری، لطیف الزماں خان، ڈاکٹر علمدار حسین بخاری، ڈاکٹر قاضی عابد، راشد سیال، افتخار شفیع، شاہد ملک کا ذکر خیر (کہیں مختصر اور کہیں بہت مختصر) تو ہے ہی مگر جس تفصیل و فرصت سے جناب ارشد ملتانی، نجم الاصغر شاہیا، جاوید اختر بھٹی اور محمد مختار علی پر شناور اسحاق نے لکھا ہے، وہ بار بار پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔

تاج ہوٹل ملتان میں نوے کی دہائی کے دوران رات اٹھ بجے سے دس بجے تک شاعروں، ادیبوں کی منڈلی جمتی تھی۔ بسلسلۂ روزگار ملتان آنے کے بعد شناور اسحاق کی سب سے پہلے جس شاعر سے ملاقات (اپنے دفتری رفیق کار کی وساطت سے ) ہوتی ہے، وہ جناب شوذب کاظمی ہیں اور اسی کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ تاج ہوٹل کی مذکورہ مجلس آرائی کا پتہ شوذب کاظمی نے ہی بتایا اور نوجوانی میں شعر و شاعری کی لپک ہی ایسی ہوتی ہے کہ اسی روز ہی، رات کو شناور اسحاق تاج ہوٹل پہنچتے ہیں۔ ارشد ملتانی، اصغر علی شاہ، احمد خان درانی، نجم الاصغر شاہیا، جاوید اختر بھٹی، قاضی عابد اور محمد مختار علی اس محفل کے مستقل اراکین تھے۔ ذوالکفل بخاری، صلاح الدین حیدر، فرخ درانی، غلام حسین ساجد، ارشد حسین ارشد، سید سلطان شاہ، انور جٹ کا ذکر بھی شناور اسحاق نے کیا ہے جو کبھی کبھی اس مجلس کا حصہ بنتے تھے۔

ارشد ملتانی صاحب شاعر تو بہت اچھے تھے ہی، انسان اس سے بھی بڑے تھے۔ ترقی پسند فکر کے حامل ارشد ملتانی کو یاد کرتے ہوئے شناور اسحاق نے لکھا ہے کہ : ”ملتانی کے لاحقے کا اگر کوئی صحیح معنوں میں سزاوار تھا تو وہ ارشد ملتانی ہی تھے۔ تہذیب، شرافت، نفاست اور محبت کی تجسیم۔“ (ص 63 ) جس سلیقے سے شناور اسحاق نے ارشد ملتانی صاحب کا حلیہ بیان کیا ہے، یوں لگتا ہے کہ وہ اب بھی بزم سجائے بیٹھے ہیں : ”کلین شیوڈ شفاف اور پاکیزہ چہرہ، نہایت سلیقے سے پیچھے کی جانب کنگھی کیے سیاہ بال، (وہ باقاعدگی سے خضاب لگاتے تھے ) ، چہرے کے وقار کو بڑھاوا دیتی ہوئی عینک، صاف ستھرا لباس۔ وہ سب سے پہلے دروازے کی جانب رخ کیے اپنی مخصوص میز اور مخصوص کرسی پر رونق افروز ہوتے۔“ (ص 63 )

نجم الاصغر شاہیا نظم و غزل کے بہت اعلیٰ شاعر تھے۔ ان کا اسلوب اور سنانے کا انداز دونوں سحر انگیز تھے۔ ملتان میں قیام کے دوران شناور اسحاق کا ان سے خاص ربط قائم ہوا جس کی جھلک اس کتاب سے ہویدا ہے۔ نجم الاصغر شاہیا کا نین نقش شناور اسحاق کے الفاظ میں ملاحظہ ہو: ”بوٹا سا قد، گوارا سیاہ رنگ، سر یوں لگتا تھا براہ راست دھڑ پہ نصب کیا گیا ہے، سفید بال، گویا قطعی غیر شاعرانہ حلیہ لیکن بہت منفرد اور با کمال شاعر۔“ (ص 66 ) شناور اسحاق نے وہ واقعہ بھی رقم کیا ہے جو اس رنجش کا موجب بنا جس کے بعد نجم الاصغر شاہیا صاحب نے تاج ہوٹل آنا چھوڑ دیا۔ یہ اختلاف غالب کے ایک شعر پر ہوا کہ اس کے دوسرے مصرع میں محفل کے تقریباً سبھی اراکین کے مطابق ”کشتۂ تیغ ستم“ ہے۔ اصغر شاہیا صاحب اکیلے ڈٹے رہے کہ ”خستۂ تیغ ستم“ ہے۔ اگلے دن جب شاہیا صاحب حوالہ لے کر پہنچے تو وہاں ارشد ملتانی صاحب کے بظاہر بے ضرر جملے سے اس قدر خفا ہوئے کہ نہ صرف پھر تاج ہوٹل نہیں آئے بلکہ وہاں بیٹھنے والوں کی ہجو بھی لکھ ڈالی۔

ملتان کے ایک بزرگ شاعر اصغر علی شاہ صاحب تھے جو گورنمنٹ کالج بوسن روڈ میں عربی کے پروفیسر تھے اور کلاسیکی مزاج کی طویل نظمیں غزلیں لکھتے تھے، ان کی یادوں کے حوالے سے شناور اسحاق نے لکھا ہے کہ ”وہ بالکل خاموش طبع تھے۔ بولتے بھی تھے تو بڑی دھیمی آواز میں، کسی عربی فارسی لفظ کے معانی و منابع کا معاملہ ہوتا یا کوئی تاریخی گتھی الجھ جاتی تو شاہ صاحب گویا ہوتے اور احباب اس انہماک سے سنتے گویا کسی خفیہ خزانے کا راستہ بتایا جا رہا ہے۔ (ص 70 )

جاوید اختر بھٹی صاحب ملتان کی اہم علمی و ادبی شخصیت ہیں جن کی شناخت کتاب سے جڑت، وسعت مطالعہ اور عمیق علمیت ہے۔ انھوں نے ایک تسلسل سے تخلیقی، تحقیقی و تنقیدی کام کیا ہے۔ شناور اسحاق نے جاوید اختر بھٹی کو ملتان کا عاشق قرار دیا ہے۔ شناور اسحاق کے بقول ”بھٹی صاحب بڑی سخت پسند نا پسند کے آدمی ہیں۔ علم و فضل اپنی جگہ، آخر راجپوت بھی تو ہیں۔ انھوں نے اپنا بہت سارا وقت کتابوں اور شاعروں اور ادیبوں کی صحبت میں صرف کر دیا۔ لازوال اور شاندار دوستیاں بنائیں لیکن کچھ زخم بھی کھائے۔“ (ص 83 )

کم و بیش تیس سالوں پہ محیط محمد مختار علی سے گہری دوستی شناور اسحاق کی ملتان سے جڑت کی اہم بنیاد رہی ہے۔ ”صحبت آدمی مبارک ہو“ کا سرورق بھی محمد مختار علی کی خطاطی اور ڈیزائننگ سے آراستہ ہے۔ اس کتاب میں شناور اسحاق نے مختار علی کی رفاقت میں گزرے سب و روز کا دلآویز تذکرہ کیا ہے۔ شناور اسحاق کے بقول: ”ملتان کا شاید ہی کوئی ادیب شاعر ہو گا، اس ایک سال کے دوران ہم جس کے مہمان نہ بنے ہوں۔ مختار علی کم عمر ہونے کے باوجود ملتان میں بہت پاپولر تھا اور ان سارے مہان لوگوں کی شفقت تھی کہ محبت سے پاس بٹھاتے اور ہم علم و دانش اور ادب و فلسفہ کی برکھا میں شرابور ہو کر اٹھتے۔“ (ص 77 )

جواں مرگ راشد سیال، خطۂ ملتان کی پہچان، خط راشد کے بانی اور پاکستان کے بڑے خطاط تھے۔ ان سے اکثر مختار علی کے ساتھ ملاقات ہوتی۔ شناور اسحاق نے ان کی شخصیت کو ایک جملہ میں سمو دیا ہے : ”شاندار شعری ذوق، اعلیٰ ذوق جمال، شستہ حس مزاح، درد مندی۔ یہ راشد کی شخصیت کے اجزائے ترکیبی ہیں۔“ راشد سیال کی شخصیت، مزاج اور دلآویز گفتگو کے حوالے سے شناور نے کیا خوب لکھا ہے : ”اگر وہ خطاط نہ ہوتا اور کوئی دو سو سال پہلے پیدا ہوا ہوتا تو یقیناً داستان گو ہوتا۔“ (ص 87 )

اس کتاب میں میرے شہر ملتان کی کئی بابغہ روزگار ہستیوں کو شناور اسحاق نے اپنے قلم سے اس ادبی دستاویز کا حصہ بنا دیا ہے جو یادوں کی مہک سے ہمیشہ معطر رہے گی۔

Facebook Comments HS