شکریہ مودی جی
6 اور 7 مئی کی درمیانی شب بھارت نے تمام عالمی قوانین اور اخلاقیات کو روندتے ہوئے پاکستان پر کھلی جارحیت کا ارتکاب کیا، جس میں اسے منہ کی کھانی پڑی، ابتدائی گھنٹوں میں پاکستان ائرفورس کے شاہینوں نے بھارت کے فرانسیسی ساختہ جدید ترین رافال سمیت پانچ جنگی طیارے اور ایک ڈرون گرا کر اسے ہزیمت سے دوچار کر دیا۔ اگلے تین دن پاکستان نے بھارت کو کشیدگی کی سیڑھی کنٹرول نہ کرنے دی، اور ہر مرتبہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیا۔ پاکستان نے کشیدگی کو بڑھا کر کشیدگی ختم کرنے کی جنگی حکمت عملی کے تحت صرف چار دن میں بھارت کو جنگ بندی پر مجبور کر دیا۔ یہ پاکستان کی مسلح افواج کی ایک عظیم کامیابی ہے، جسے پوری دنیا تسلیم کر رہی ہے۔ دفاعی، سفارتی، اخلاقی شکست کے ساتھ ایک خاص شعبے میں اربوں روپے کی بھارتی سرمایہ کاری بھی ڈوب گئی۔ مودی کا یہ جوا کس طرح بھارت کا بہت بڑا اسٹریجک بلنڈر ثابت ہوا، اور اس لڑائی میں بھارت کا سب سے بڑا نقصان کیا ہوا، اس سے پہلے دفاعی اور سفارتی محاذ پر بھارتی ہزیمت پر نظر ڈالتے ہیں۔
بھارت رقبہ، آبادی، معیشت، مسلح افواج کی تعداد، روایتی جنگ ساز و سامان، ٹیکنالوجی اور دفاعی بجٹ کے لحاظ سے پاکستان سے کہیں بڑا ملک ہے۔ بھارت کی آبادی اب ایک ارب پینتالیس کروڑ سے بھی بڑھ چکی ہے، جبکہ پاکستان میں تقریباً پچیس کروڑ افراد آباد ہیں۔ دفاعی اعتبار سے بھارت دنیا کا چوتھا سب سے مضبوط ملک شمار ہوتا ہے، پاکستان کی مسلح افواج عالمی طور پر بارہویں نمبر پر ہیں۔ دفاعی بجٹ کے لحاظ سے بھارت پانچویں، جبکہ پاکستان انتیسویں نمبر پر ہے۔ 2024 میں بھارت نے دفاعی بجٹ کے لیے تقریباً 86 ارب ڈالر مختص کیے، جب کہ پاکستان نے اس عرصے میں صرف 10 ارب ڈالر سے کچھ زائد خرچ کیے۔ فعال مسلح افواج کے معاملے میں بھارت کے پاس تیرہ لاکھ ریگولر فوجی جبکہ پاکستان کے پاس ساڑھے چھ لاکھ پیشہ ور فوجی موجود ہیں۔ بھارت کے پاس تقریباً 643 جنگی لڑاکا طیارے ہیں، جبکہ پاکستان کے پاس تقریباً 418 جنگی لڑاکا طیارے ہیں، بھارت کے پاس اندازہً 90۔ 110 جوہری ہتھیار ہیں، جبکہ پاکستان کے پاس تقریباً 100۔ 120 جوہری ہتھیار موجود ہیں۔
پاکستان نے روایتی جنگی ساز و سامان اور فوج کی تعداد میں بھارتی برتری سے نمٹنے اور طاقت کا توازن قائم کرنے کے لیے ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار بنائے ہیں، اور بھارت پر واضح کیا ہے کہ ملکی سالمیت کو خطرے کی صورت میں پاکستان بھارت کے خلاف ان جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے گریز نہیں کرے گا۔ ماضی میں پاکستان کی جوہری ڈیٹرنس نے بھارت کو پاکستان پر حملہ کرنے سے روکے رکھا۔ لیکن اس مرتبہ جنگی جنون میں مبتلا نریندر مودی اور شدت پسند بھارتیہ جنتا پارٹی نے پاکستان کی جوہری ڈیٹرنس کو بالائے طاق رکھتے ہوئے، پڑوسی ملک پر حملہ کر کے پاکستان کو ایک نئے امتحان میں مبتلا کر دیا۔ پاکستان کو اپنے روایتی ہتھیاروں، جنگی حکمت عملی اور ائرفورس کی افادیت کو ثابت کرنا تھا، جس میں پاکستان کامیاب رہا۔ پاکستان نے جوہری ہتھیاروں کا استعمال کیے بنا اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو چاروں شانے چت کر کے جنگ بندی پر مجبور کر دیا، جو کہ روایتی جنگ اور فضائی لڑائی میں پاکستان کی بڑی فتح اور بھارت کی شرمناک شکست ہے۔ دنیا پر ثابت ہو گیا کہ بھارت دفاعی لحاظ سے کئی گنا طاقتور ور ہونے کے باوجود روایتی جنگ اور الیکٹرانک وارفیئر میں بھی پاکستان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اس سے بھارت کی جنگی حکمت عملی، بری و فضائی فوج کی استعداد پر سنجیدہ سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ بھارت کو فرانس سے حاصل کردہ جدید ترین ساڑھے چار جنریشن جنگی رافال طیاروں اور روسی ساختہ جدید ائر ڈیفنس سسٹم ایس 400 پر بڑا گھمنڈ تھا، جن کی تباہی سے ثابت ہو گیا کہ جدید اسلحہ کے ساتھ اسلحہ کا استعمال کرنے والے فوجیوں کی جرات، شجاعت اور صلاحیت بھی برابر اہمیت کی حامل ہوتی ہے اور بھارت صرف جدید اسلحہ کے بل پر اپنے ہمسایوں پر دھونس نہیں جما سکتا۔
سفارتی لحاظ سے بھی حالیہ جنگ بھارت کے لیے بڑی شرمندگی کا باعث بنی۔ اسرائیل کے علاوہ کسی ملک نے بھارتی جارحیت کی حمایت نہیں کی۔ پاکستان کی موثر جوابی کارروائی کی وجہ سے صرف چار دن میں طاقت کے نشے میں مدہوش بھارت کے ہوش ٹھکانے آ گئے۔ جنگی جنون کا شکار بھارتی وزیر اعظم نہ صرف جنگ بندی پر راضی ہوا، بلکہ اسے امریکی ثالثی بھی قبول کرنا پڑی۔ بھارت ایک عرصہ سے تیسرے فریق کی ثالثی کو مسترد کرتا آیا ہے۔ امریکی صدر و دیگر عالمی رہنماؤں کی کوششوں سے جنگ بندی ہوئی، صدر ٹرمپ کے سوشل میڈیا پر جنگی بندی اعلان سے بھارت کو بہت بڑی سفارتی سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔ بی جے پی کو بھارتی عوام کے سامنے بھی سخت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا، جس کو چھپانے کے لیے نریندر مودی نے اپنے خطاب میں امریکی صدر کی ثالثی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جنگ بندی دونوں ممالک کے ڈی جی ملٹری آپریشنز کے رابطے کے نتیجے میں ہوئی۔
قانونی و اخلاقی لحاظ سے بھی پاکستان کو بھارت پر برتری رہی اور دشمن کی طرف سے کھلی جارحیت کے باوجود پاکستان نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کر کے ایک ذمہ دار ریاست ہونے کا ثبوت دیا۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت سیلف ڈیفنس میں محدود جواب دے کر عالمی قانون کی پاسداری کی، جب کہ بھارت ایک جارح و غیر ذمہ دار ملک کے طور پر سامنے آیا۔
طاقت کے نشے میں مدہوش جنگی جنون کا شکار بھارتی وزیر اعظم مودی کے غلط حساب کتاب نے بھارت کی پاکستان کے اندر اربوں روپے کی سرمایہ کاری کو ڈبو دیا۔ بھارت نے ایک دہائی سے زیادہ عرصہ پر محیط اربوں روپے کی سرمایہ کاری کے ذریعے پاکستان کے اندر غیرریاستی عناصر کو پروان چڑھایا، اس کے ساتھ ففتھ جنریشن اور پروپیگنڈا وارفیئر کے ہتھکنڈوں کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کی مسلح افواج اور عوام کے درمیان رخنہ ڈالنے کی منظم حکمت عملی پر عمل کیا۔ گزشتہ تین سال میں ہونے والی سیاسی کشمکش کی وجہ سے بھی افواج پاکستان اور عوام کے درمیان غلط فہمیوں میں اضافہ ہوا۔ حالیہ جنگ کا پاکستان کو سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا ہے کہ افواج پاکستان اور عوام کے درمیان ان تمام غلط فہمیوں کا خاتمہ ہو گیا۔ پاکستانی عوام تمام اندرونی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے، پوری قوت سے افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہو گئے، جس سے بھارت کی ان تمام کوششوں پر پانی پھر گیا ہے۔ پاکستان کی داخلی وحدت سے بھارت کی اربوں روپے کی سرمایہ کاری ڈوب گئی ہے۔ نریندر مودی نے وہ کام کیا جو افواج پاکستان اربوں روپے کی سرمایہ کاری اور انتھک کو ششوں سے بھی شاید نہ کر سکتیں، جس کے لیے مودی جی کا شکریہ تو بنتا ہے۔ مودی جی پاکستانیوں کو متحد کرنے اور پاکستانی مسلح افواج کی عوامی حمایت و محبت میں اضافہ کی وجہ بننے پر ہم آپ کے دلی مشکور ہیں۔


