ایک نیا خواب، ایک نئی ذمہ داری
بھارت میں بلکہ پورے خطے میں نریندر مودی ایک نئی تاریخ لکھنا چاہتا ہے کہ ”میں نے گاندھی، امبیڈ کر کے دیس کو ہندو راشسٹ بنا دیا۔“ پاکستان ہمیشہ سے امن کا خواہاں رہا ہے۔ جنگ حل نہیں بلکہ اُم المسائل ہے۔ مودی کو ابھی بھی یہ بات سمجھ میں نہیں آئی۔ وہ سیز فائر سے مُنکر ہو رہا ہے تو پہلے دیکھ لیتے ہیں سیز فائر ہے کیا۔ اُردو میں اسے جنگ بندی کہا جاتا ہے۔ کسی بھی تنازعے کے بعد وہ اہم قدم ہے جو پائیدار امن کی طرف جاتا ہے۔ پاکستان ایک ایٹمی طاقت اور خطے میں اہم جغرافیائی مقام رکھتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جنگ بندی کے بعد پاکستان کو کیا رویہ اپنانا چاہیے جس سے نہ صرف داخلی استحکام بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ملک کی ساکھ بہتر ہو۔
سب سے پہلے پاکستان کو اپنے بیانیے اور سفارتی زبان میں واضح تبدیلی لانی چاہیے۔ ہمیشہ کی طرح ہمیں مہذب اور متوازن سفارت کاری کو اپنانا چاہیے۔ بات چیت کے دروازوں کو کھلنا چاہیے کہ یہ ہمسایہ ملک کا معاملہ ہے۔ ثقافتی، تعلیمی، اور تجارتی رابطے بحال ہونے چاہئیں کہ یہ گلوبلائزیشن کا دور ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے اندرونی نظام میں اصلاحات لانی پڑیں گی۔ جنگ بندی کے مکالمے ہمیں صرف حکومتی سطح پر نہیں بلکہ دلوں سے شروع کرنے چاہئیں۔ اپنے دلوں کو وسعت دے کر پہلے اپنی صفوں میں یک جہتی، یگانگت اور بُردباری پیدا کرنی ہو گی۔ پھر ایک نئی لغت بنانی ہو گی جس میں دُشمن کی جگہ پڑوسی فتح کی جگہ فہم اور انتقام کی جگہ رحم کے الفاظ ہوں کیونکہ امن صرف ایک سیاسی معاہدہ نہیں یہ ہمارا تہذیبی ورثہ ہے۔ ہمیں اداروں کی بھی ازسرِنو تعمیر کی ضرورت ہے کیونکہ امن صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ عدالتوں، سکولوں، اسپتالوں، تھانوں اور اسمبلیوں میں بھی ہوتا ہے۔ اب پاکستان کو اپنی ریاستی مشینری کی روح میں مثبت تبدیلی لانا ہی ہو گی۔ جہاں قانون صرف طاقتور کی لاٹھی نہ ہو بلکہ ہر نادار کی ڈھال بھی ہو۔ جہاں انصاف ہر گلی، محلے اور ہر گھر میں سانس لیتا ہو۔ اپنے دفاع کے ساتھ اب ایک معاشی نظریہ اختیار کر کے بجٹ کا توازن ہتھیاروں سے کتابوں کی طرف، توپوں سے زراعت کی طرف اور گولہ بارود سے صنعت و حرفت کی طرف موڑا جائے۔ دنیا ان ملکوں کی عزت کرتی ہے جو میزائل نہیں مائیکرو چپس بناتے ہیں جو امن برآمد کرتے ہیں۔ یوں بھی ہم نے جنگ میں پہل نہ کر کے دنیا کو بتا دیا ہے کہ ہم نہ صرف خود کے بلکہ اس پورے خطے میں امن کے خواہاں ہیں۔
برصغیر مختلف ادوار سے ہمیشہ گزرتا رہا۔ مغلیہ دور میں سونے کی چڑیا کہلاتا۔ پھر اس چڑیا کو غلامی کے پنجرے میں قید کیا گیا بیسویں صدی کے وسط میں چڑیا آزاد ہو گئی اس وقت یہ علاقہ ہندوستان کہلاتا تھا۔ پھر 1947 کا بٹوارہ ہوا اور پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک نئے ملک کی حیثیت سے اُبھرا۔ اسی وقت سے بھارت پاکستان کو ایک تَر نوالے کی طرح ڈکارنا چاہتا ہے مگر اللہ کے نام پر حاصل کیے گئے اس ملک پر اللہ ہی کی رحمت ہے۔ اب ہمیں اپنے قومی بیانیے میں انسان دوستی، علم، ادب اور تہذیب کو مرکزی حیثیت دینی ہو گی۔ فنکار، ادیب معلم، مفکر اور دانشور ہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو جنگوں کے بعد قوموں کو نئی پہچان دیتے ہیں۔ پاکستان کو اب تخلیقی زبان اپنانا ہو گی جس میں ثقافت اور تہذیب کا بول بالا ہو۔ یاد رکھیے! سیز فائر یعنی جنگ بندی انجام نہیں ہوتا بلکہ یہ آغاز ہوتا ہے۔ یہ وہ نئی ابتدا ہے جو پاکستان کو موقع دیتی ہے کہ وہ اپنے ماضی کی گرد سے نکل کر روشنی کی طرف بڑھے۔ مگر اس روشنی کو پانے کے لیے بلاشبہ قربانی، بصیرت اور مسلسل محنت درکار ہے۔ ہمارے اُوپر مسلط کی گئی اس جنگ میں ہمارے میڈیا اور سوشل میڈیا کا کردار انتہائی مثبت اور امن دوست رہا۔ باوجود اس کے کہ ہمارے اندر ایک سیاسی گروہ بندیوں کا نظام چل رہا تھا ہمارے نوجوانوں نے انتہائی شعور اور صبر سے ایک مضبوط قوم کی طرح سوشل میڈیا پر دشمن ہمسایہ ملک کے ساتھ برتاؤ کیا۔ حُب الوطنی کا جذبہ دیدنی تھا۔ دوسری طرف بھارتی میڈیا چنگھاڑ چنگھاڑ کر جھوٹی خبروں کے پلندے اپنے لوگوں میں بانٹتا رہا۔ اب بھی ہمارا میڈیا امن کے فروغ میں مثبت کردار ادا کرے گا انشاء اللہ۔
پاکستان کے صحافیوں، اینکرز، لکھاریوں اور وی لاگرز کو ذمہ داری کے ساتھ عوام کو آگاہ کرنا ہو گا کہ جنگ کا خاتمہ صرف بندوق کی خاموشی سے نہیں بلکہ دلوں کی تبدیلی سے ہوتا ہے۔ عوام اور حکومت دونوں کو سمجھنا ہو گا کہ جنگ اور نفرت کی سیاست سے مسائل بڑھتے ہیں۔ عوام کو سیاسی قیادت پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ امن، تعلیم، صحت اور روزگار جیسے معاملات پر توجہ دے تا کہ قومی ترقی اور انسانی فلاح ہو سکے۔ اب یہ ہی وقت ہے کہ پاکستان اپنا اصلی تعارف دنیا سے کروا سکتا ہے بلکہ کافی حد تک کروا چکا ہے۔ مزید ہمیں ایک امن پسند، ترقی یافتہ اور فکری طور پر بالغ ریاست کے طور پر اس جنگ بندی کو ایک ایسا موقع سمجھنا چاہیے کہ یہ ایک آغاز ہے نہ کہ محض ایک وقفہ۔ قوموں کی تاریخ میں کچھ لمحات ایسے آتے ہیں جو انہیں نئی پہچان دیتے ہیں۔ پیارے پاکستان کے لیے یہ وہ ہی لمحہ ہے۔ یہاں ایک سوال چھوڑے جا رہی ہوں کہ کیا ہم دونوں طرف کے انسان اتنے بالغ ہو چکے ہیں کہ ہتھیار نیچے رکھ کر مکالمے کی میز پر بیٹھ سکیں؟ اگر ہاں تو سیز فائر کو ایک نئی قوم کی شکل دینا ہو گی۔ ورنہ تاریخ ہمیں بار بار انہی ملبوں کے درمیان دفن کرتی رہے گی۔ سیز فائر وہ مہلت ہے جو تاریخ کم کم ہی عطا کرتی ہے ایسے میں قوم خود کو آئینے میں دیکھ کر فیصلہ کرے، اپنے زخموں کو گنے اور یہ کہ آیا وہ نئے راستے پر آگے بڑھے گی یا ماضی کے دائروں میں گھومتی رہے گی۔ اس موقعے سے فائدہ اٹھائیں تاکہ آنے والی نسلیں ہمیں امن لکھنے والوں کے طور پر یاد رکھیں۔ بلا شبہ یہی ہے ایک نیا خواب، ایک نئی ذمہ داری۔


