تجھے میں کیسے بھلا دوں
”ہم مزاح کے عہد یوسفی میں جی رہے ہیں“ میں نے یہ جملہ کچھ برس پہلے پڑھا تھا۔ جملہ ایسا تھا کہ اس کی گونج ایک تسلسل سے سنائی دینے لگی تھی۔ یوسفی صاحب کی وفات کے بعد پرسے کے لگ بھگ ہر مضمون میں یہ جملہ مقتبس ہوتا رہا۔ ایسے میں ظہیر فتح پوری کی طرف دھیان کا جانا فطری تھا کہ یہ انہی سے منسوب تھا؛ سو، میرا دھیان بھی ادھر ہوا۔ جستجو ہوئی کہ وہ مضمون تلاش کیا جائے جس سے یہ جملہ لیا گیا ہے۔ مضمون تو نہ ملا مگر ان کی ایک بہت اہم کتاب میرے ہاتھ لگ گئی ؛ ’رسوا کی ناول نگاری‘ ۔ مرزا محمد ہادی رسوا کے فکشن پر یہ کتاب کوئی پچپن برس قبل ’حروف، راولپنڈی‘ سے شائع ہوئی تھی۔ سچ کہوں تو اس کتاب کے ہاتھ آنے سے پہلے میں گمان کیے بیٹھا تھا کہ ہو نہ ہو یوسفی صاحب والا جملہ ڈاکٹر فرمان فتح پوری کا ہو گا جو سہواً ظہیر سے منسوب ہو گیا کہ دونوں ’فتح پوری‘ تھے۔ خیر ایسا سوچنا میری غلطی تھی اور جب یہ حقیقت مجھ پر کھلی تو میں شرمسار ہوا۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ زندگی میں بے شمار مقامات پر شرمساری آدمی کا مقدر ہوتی رہتی ہے مگر تب وہ اپنا جھکا ہوا چہرہ دیکھنے کی بجائے وہاں سے کنی کاٹ کر نکل جاتا ہے اور بھول جاتا ہے۔ خیر، بتانا یہ ہے کہ ’رسوا کی ناول نگاری‘ ظہیر فتح پوری کا پی ایچ ڈی مقالہ تھا جو انہوں نے سید وقار عظیم کی نگرانی میں لکھا تھا اور کتابی صورت میں آنے سے پانچ سال قبل پنجاب یونیورسٹی میں ڈگری کے حصول کے لیے جمع کروایا گیا تھا۔ وہ کتاب جو اپنے چھپنے کے دو اڑھائی دہائیاں بعد میرے ہاتھ لگی، یوں اہم ہو گئی تھی کہ یہ رسوا پر تحقیق کا اعلیٰ نمونہ تھی۔ انہوں نے رسوا کی زندگی اور کام کو جاننے اور چھوٹی بڑی معلومات اور معلومات کے منابع تک پہنچنے کے لیے بہت مشقت اٹھائی تھی۔ وہ کئی بار لکھنؤ گئے، الناظر اور زمانہ کے شمارے دیکھے جن میں رسوا کے حوالے سے مواد موجود تھا۔ رسوا کی بیٹی تقیہ بیگم سے ملے جو لکھنؤ کے پھاٹک کاظمین میں بڑی کسمپرسی کی زندگی گزار رہی تھیں۔ رسوا کے پوتے اور نواسے سے جو معلومات حاصل ہو سکتی تھیں وہ لیں۔ علی عباس حسینی، مسعود حسن رضوی ادیب، جوش ملیح آبادی، عبدالماجد دریا آبادی، ابوالخیر مودودی اور ان سب سے ملے۔ جس جس کے پاس سے جو کچھ حاصل ہو سکتا تھا لیا۔ لکھنؤ، خیرپور میرس، لاہور، کراچی کی لائبریریاں کھنگالیں جو ملا اسے پڑھا اور پھر سلیقے سے ایک ترتیب میں لا کر اپنی اس کتاب کا حصہ بنا لیا۔ میرا جی چاہتا ہے کہ ڈاکٹر ظہیر فتح پوری کی دلنشیں نثر کا بھی ذکر کر دوں۔ تنقید اور تحقیق کی زبان ایسی ہو تو پڑھنے میں بھی لطف آتا ہے۔ عین آغاز ہی کے ایک دو جملے دیکھئے :
”سرکش زمانہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتا اور ہر شے کو تنکے کی طرح بہا کر لے جاتا ہے، ہاں، جمال فن کے سامنے سے یوں ہاتھ باندھے گزرتا ہے جیسے اس کا جلال ماند پڑ گیا ہو۔“
ڈاکٹر ظہیر فتح پوری کی یہ تحقیق صرف امراؤ جان ادا تک محدود نہیں رہتی، اس میں رسوا کی دوسری تصانیف کا بھی بھرپور مطالعہ ملتا ہے۔ رسوا کے وہ دیگر ناول جو زیر بحث رہے ان میں ’افشائے راز‘ ، ’ذات شریف‘ ، ’شریف زادہ‘ اور ’اختری بیگم‘ کے علاوہ وہ ماخود یا ترجمہ کیے ہوئے ناول بھی شامل ہیں۔
یہیں بتاتا چلوں کہ ”اردو کا کلاسیکی ادب“ منصوبے کے تحت مجلس ترقی ادب لاہور نے 1988 میں ڈاکٹر ظہیر فتح پوری کے مرتبہ رسوا کے معروف ناول ”امراؤ جان ادا“ کو شائع کیا تھا۔ ان دنوں احمد ندیم قاسمی اس ادارے کے سربراہ تھے۔ تب تک اس ناول کی کئی اشاعتیں منظر عام پر آ چکی تھیں۔ خود رسوا کی زندگی میں چھ بار یہ ناول چھپ چکا تھا۔ ناول مارکیٹ میں بہ سہولت دستیاب تھا مگر ظہیر فتح پوری کے مطابق جو بھی اشاعتیں دستیاب تھیں ان میں زبان و بیاں کی خامیاں راہ پا گئی تھیں۔ کہیں پورے کے پورے جملے حذف کر دیے گئے تھے اور عبارت بے ربط ہو گئی تھی۔ انہوں نے رسوا کی زندگی میں شائع ہونے والی چھ اشاعتوں کے نسخے حاصل کیے اور وہ سب بھی جمع کیے جو بعد میں، لکھنؤ، لاہور، کراچی، الہ آباد، دہلی، اور حیدر آباد دکن سے شائع ہوتے رہے، یوں موازنے کے بعد تصحیح کا عمل شروع ہوا اور یہ اہم ناول اپنی اصل صورت میں بحال ہو کر شائع ہوا۔
مجھے حیرت ہوتی ہے کہ آخر اتنا اہم کام کرنے والے ڈاکٹر ظہیر فتح پوری کے کام اور نام کو علمی اور ادبی حلقوں نے طاق نسیاں پر کیوں رکھ دیا ہے۔ مجھے ملک کی متعدد یونیورسٹیوں کی اردو زبان و ادب کے شعبوں میں ڈگری کے حصول کے لیے لکھے گئے تحقیقی مقالات دیکھنے کا اتفاق ہوتا رہتا ہے اور دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ ان میں سے اکثر غیر معیاری ہوتے ہیں۔ وہ اشاعت کے قابل ہی نہیں ہوتے مگر ایسے مقالات پر دھڑا دھڑ ڈگریاں جاری ہو رہی ہیں۔ میری تجویز ہے کہ ان اداروں کو چاہیے کہ وہ ڈاکٹر ظہیر فتح پوری کے رسوا کے فکشن پر تحقیقی مقالے کو سامنے رکھیں تاکہ انہیں اندازہ ہو کہ معیاری مقالہ کیا ہوتا ہے۔
ڈاکٹر ظہیر فتح پوری کے ایک اور کام ”منتخب مراثی دبیر“ کا ذکر بھی اہم سمجھتا ہوں۔ ”منتخب مراثی دبیر“ بھی مجلس ترقی ادب لاہور نے شائع کی تھی۔ تقی عابدی کا کہنا ہے کہ مرزا سلامت علی دبیر نے چھ سو سے زیادہ مرثیے لکھے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ دبیر کا دیوان ”دفتر ماتم“ بیس جلدوں میں صدی سوا صدی قبل شائع ہوا اور یہ بھی کہ وہ غزل کہتے رہے۔ ان سے منسوب غزل کے کئی اشعار جو محققین کے وسیلے سے ہم تک پہنچے، ان میں سے ایک درج کیے دیتا ہوں۔
مے سے توبہ کی ستم گر نے تو غضب تو دیکھو
جب کہ تیار مری خاک سے مے خانہ ہوا
مرزا دبیر کے ’دفتر ماتم‘ کی تمام جلدیں شاید ہی کسی کے پاس ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ اگر وہ کسی کے پاس ہیں تو کوئی ناشر انہیں شائع کرنے کو تیار بھی ہو گا۔ ایسے میں ڈاکٹر ظہیر فتح پوری کا انتخاب بہت اہم ہو جاتا ہے۔ علامہ شبلی نعمانی پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ انہوں نے ”موازنہ انیس و دبیر“ میں اپنا سارا وزن انیس کے حق میں ڈال دیا اور انصاف سے کام نہ لیا جب کہ، دیکھا جائے تو انیس جب لکھنؤ پہنچے تب تک دبیر اپنی ادبی شناخت مستحکم کر چکے تھے۔ شبلی صاحب نے سرورق سے ہی اپنی جانب داری ظاہر کر دی تھی کہ ذیلی عنوان میں نمایاں طور پر لکھا ہوا ملتا ہے ”میر انیس کی شاعری پر تفصیلی ریویو اور میر انیس اور دبیر کا موازنہ“ ۔ کتاب کی تمہید میں شبلی نے اپنا فیصلہ دے دیا تھا کہ ’میر انیس کا کلام، شاعری کی تمام اصناف کا بہتر سے بہتر نمونہ ہے۔ ”اور یہ کہ“ بد مذاقی کی نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ وہ اور مرزا دبیر حریف قرار دیے گئے اور مدت ہائے دراز کی غور و فکر، کدو کاوش، بحث و تکرار کے بعد بھی فیصلہ نہ ہوسکا کہ ترجیح کا مسند نشین کس کو کیا جائے۔ ”شبلی نے وہ مسند جو بہ قول ان کے‘ مدت ہائے دراز ’سے ترجیح پانے والے کا انتظار کر رہی تھی، اس پر انیس کو بٹھا دیا۔ موازنے کی یہ کتاب اپنی جگہ دلچسپ مطالعہ ہے۔ کہیں وہ ایک جیسے مضامین کا موازنہ کرتے ہوئے بتا رہے ہوتے ہیں کہ کس نے بہتر کہا اور کیوں اور کس نے مکرر کہا مگر مضمون کو ترقی دی۔ یقیناً انیس اپنی اثر انگیزی میں دبیر سے آگے ہوں گے مگر اب جب کہ ان کا کل کلام ہی دسترس میں نہیں ہے تو یہ بات یقین سے کیسے کہی جا سکتی ہے۔ سید عابد علی عابد نے پہلے اور پھر ڈاکٹر ظہیر فتح پوری نے اس جانب متوجہ کیا اور اس موازنے کو بار دگر ہمدردی اور انصاف سے دیکھنے کا کہا ہے۔
مجھے ڈاکٹر ظہیر فتح پوری کی شاعری کے نمونے دیکھنے کا اتفاق بھی ہوا۔ بتایا گیا ہے ان کا مجموعہ شائع ہوا تھا مگر مجھے دستیاب نہ ہوا۔ محمد اظہار الحق نے اپنے ہاں ایک نشست میں بتایا تھا کہ انہوں نے ظہیر فتح پوری کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا تھا۔ وہ ان کے باقاعدہ شاگرد تو نہ تھے مگر شاعری کے فن کو سمجھنے کے لیے ان کے ہاں حاضری دیا کرتے تھے اور ایسا تعلق قائم ہو گیا تھا جو ایک محسن استاد اور شاگرد کے درمیان ہوتا ہے۔ انہوں نے اس نشست میں ظہیر فتح پوری کے کئی اشعار سنائے ؛ وہ بالکل الگ دھج کے اشعار تھے جن میں ہندی لحن نمایاں تھا، دو اشعار آپ کی نذر۔
کچھ اور دھوپ مرے غم کچھ اور اشک جھما جھم
گھنا ہوا ہے یہ جنگل تو شامیانہ ہوا ہے
مرے نگار گریزاں تجھے میں کیسے بھلا دوں
کہ تو پرستش اصنام کا بہانہ ہوا ہے


