افلاطون کی حیات اور خدمات


افلاطون نوجوانی میں ایک سپاہی تھے۔ وہ کئی جنگوں میں شرکت کر کے بہادری کے بہت سے تمغے بھی حاصل کر چکے تھے۔ سقراط سے ان کی ملاقات ہوئی تو ان کی زندگی بدل گئی۔ وہ ایک سپاہی سے ایک فلسفی بن گئے۔ وہ اپنے استاد سقراط سے اتنے متاثر تھے کہ انہوں نے کہا

مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں سقراط کے عہد میں پیدا ہوا۔

تین سو ننانوے قبل مسیح میں جب سقراط نے زہر کا پیالہ پیا تو افلاطون کی عمر اٹھائیس برس تھی۔ وہ اس واقعے سے اتنے دکھی ہوئے کہ شہر اور ملک چھوڑ کر چلے گئے۔ سقراط کی موت کے بعد وہ خود کو ایتھنز میں غیر محفوظ محسوس کرنے لگے تھے۔ وہ سوچتے تھے اگر ان لوگوں نے میرے استاد کے ساتھ یہ سلوک کیا ہے تو وہ نجانے میرے ساتھ کیا سلوک کریں۔

ملک بدر ہونے کے بعد افلاطون بارہ برس مصر اور ہندوستان کی خاک چھانتے رہے۔ سفر کرتے رہے۔ عوام و خواص سے مختلف مذاہب اور روایات کے بارے میں تبادلہ خیال کرتے رہے۔ چالیس برس کی عمر میں وہ ایتھنز واپس آ گئے۔

ان بارہ برسوں کی سیاحت اور ریاضت سے ان کی شخصیت میں دانائی تحمل اور بردباری آ چکی تھیں۔ وہ حسن اور سچائی کے دلدادہ ہو چکے تھے۔ ان کی شخصیت میں ایک شاعر اور ایک دانشور آپس میں بغلگیر ہو چکے تھے۔

انہوں نے اپنی تخلیقی زندگی کا آغاز ڈراموں سے کیا۔ انہوں نے ایسے ڈرامے لکھے جن میں سائنس اور فنون لطیفہ، شاعری اور فلسفہ گھل مل گئے تھے۔ ان کا ادبی معیار اتنا بلند ہوا کہ وہ اپنے ڈراموں میں اپنے سچ کا اظہار استعاراتی طور پر کرنے لگے۔

افلاطون نے ایک مثالی ریاست کا تصور اپنی کتاب ریپبلک میں پیش کیا۔ اس کتاب میں انہوں نے بہت سے موضوعات پر سقراط کے ساتھ مکالمے تحریر کیے۔ وہ کتاب فلسفے کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔

افلاطون نے فلسفے کی تعلیم کے لیے ایک درسگاہ بنائی اور اسے اکیڈیمی کا نام دیا۔ اس ادارے میں جن طالب علموں نے تعلیم حاصل کی ان میں سے ایک ارسطو تھے جو اپنے استاد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خود بھی ایک فلسفی بنے۔

ارسطو کے استاد افلاطون تھے اور افلاطون کے استاد سقراط تھے۔ ان تین فلسفیوں نے یونانی فلسفے کی بنیادیں رکھیں جس پر بعد میں آنے والے دانشوروں نے فلسفے اور سائنس کی بلند و بالا عمارتیں تعمیر کیں۔ یونانی فلسفیوں نے انسانوں کو منطقی انداز سے سوچنا سکھایا اور یہ سکھایا کہ

REASON IS MORE IMPORTANT THAN REVELATION

پہلی فلسفیانہ محبت

جب میں سترہ برس کا تھا تو میں نے افلاطون کی کتاب ریاست  (ریپبلک)  پڑھی تھی اور میں سقراط کے عشق میں گرفتار ہو گیا تھا۔ وہ میری پہلی فلسفیانہ محبت تھی۔ اس محبت نے مجھے ذہنی طور پر بدل کر رکھ دیا تھا۔ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد میں نے انسانوں کے انفرادی اور معاشرتی مسائل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کر دیا تھا۔

سقراط کو اپنا سچ اتنا عزیز تھا کہ انہوں نے اپنے سچ کی خاطر زہر کا پیالہ پیا۔ میں نے سقراط سے دو سبق سیکھے

پہلا سبق یہ تھا کہ فلسفی بننے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے تمام مسلمات نظریات اور اعتقادات کو شک کی نگاہ سے دیکھے۔

دوسرا سبق یہ تھا کہ سقراط نے فرمایا تھا میں بس ایک بات جانتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ میں کچھ نہیں جانتا،
میں نے یہ سیکھا کہ دانائی اور عاجزی و انکساری کا گہرا رشتہ ہے۔

ریاست کتاب کے چند مکالموں کا ترجمہ اور تلخیص

سقراط اور سیفیلیس کا بڑھاپے کے بارے میں مکالمہ

ایک دن سقراط اپنے دوستوں کے ساتھ ساحل سمندر کی سیر سے لوٹ رہے تھے کہ ان کے دوست پولی مارکس نے انہیں دور سے دیکھ لیا اور اپنے ملازم سے کہا بھاگ کر جاؤ اور سقراط کو روکو۔ میں ان سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ ملازم کی درخواست پر سقراط رک گئے۔ پولی مارکس نے سقراط سے کہا کہ آپ واپس نہ جائیں کچھ دیر کے لیے ہمارے ساتھ ہمارے گھر چلیں۔ چنانچہ سقراط اپنے دوستوں اور پولی مارکس کے دوستوں کے ساتھ ان کے گھر چلے گئے جہاں ان کی ملاقات پولی مارکس کے بزرگ والد سیفیلس سے ہوئی اور ان کے درمیان بڑھاپے کے بارے میں یہ مکالمہ ہوا۔

سیفیلس: سقراط آپ نے ہمارے گھر آنا چھوڑ دیا ہے۔ اگر مجھے بڑھاپے کا سامنا نہ ہوتا تو میں خود شہر آ کر آپ سے ملتا۔ آپ ہمارے گھر جلد جلد آیا کریں۔

سقراط : بڑھاپے میں انسان کی زندگی میں کیا تبدیلی آتی ہے؟

سیفیلس : انسان بوڑھا ہونے لگتا ہے تو اس کے جسم کی توانائیاں کم ہونے لگتی ہیں۔ جسم کی لذتوں میں کمی آتی ہے تو اس کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ انسان دوستوں سے مکالمے سے زیادہ محظوظ و مسحور ہوتا ہے۔ اسی لیے میری خواہش ہے کہ آپ ہمارے ہاں تواتر سے آیا کریں تا کہ ہم آپ سے دانائی کی باتیں سیکھ سکیں۔

سقراط : میں بھی بزرگوں سے مکالمہ کر کے لطف اندوز ہوتا ہوں کیونکہ وہ زندگی کے ان راستوں سے گزر چکے ہوتے ہیں جن پر ہم نے بھی ایک دن سفر کرنا ہے۔ کیا آپ اپنے تجربے کی بنیاد پر ہمیں بتا سکتے ہیں کہ کون سا راستہ آسان ہے اور کون سا دشوار؟ زندگی کا آخری پڑاؤ کتنا مشکل ہے؟

سیفیلیس: جب سے میں بوڑھا ہو گیا ہوں نہ کچھ کھانے کو جی چاہتا ہے اور نہ ہی کچھ پینے کو۔ جسم کی خوشیوں اور محبت کی لذتوں میں کمی آ گئی ہے۔ میرے بہت سے ہم عمر زندگی سے شاکی ہو گئے ہیں لیکن میں بڑھاپے میں بھی ایک پرسکون زندگی گزار رہا ہوں۔ میں نے زندگی کو اسی طرح قبول کر رکھا ہے جیسی کہ وہ ہے۔ میرا خیال ہے کہ انسان بڑھاپے میں زیادہ پرسکون ہو جاتا ہے اور ایک نئی آزادی سے متعارف ہوتا ہے۔ میری نگاہ میں وہ لوگ جو بڑھاپے میں زندگی سے شاکی ہوتے ہیں وہ اپنی عمر کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی شخصیت کی وجہ سے پریشان رہتے ہیں۔

سقراط : بعض لوگوں کا خیال ہے کہ آپ اپنی شخصیت کی وجہ سے پرسکون نہیں بلکہ اپنی دولت کی وجہ سے پر سکون ہیں۔ آپ کی دولت آپ کو خوش رکھتی ہے۔

سیفیلیس : آپ کی بات میں کچھ صداقت ہے لیکن یہ ساری حقیقت نہیں ہے۔ بعض غریب بوڑھے انسان بھی خوش رہتے ہیں اور بعض امیر بوڑھے انسان بھی دکھی ہوتے ہیں۔ میری نگاہ میں انسان کی شخصیت اس کی دولت سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

سقراط : بڑھاپے کی سب سے بڑی آزمائش کیا ہوتی ہے؟

سیفیلیس: انسان جب بوڑھا ہوتا ہے تو اس کے ذہن میں ایسے خوف آنے لگتے ہیں جو پہلے کبھی نہ آئے تھے۔ بعض بوڑھے اپنے ماضی کے بارے میں سوچ کر احساس ندامت و خجالت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ انہیں یاد آتا ہے کہ انہوں نے اپنے عزیزوں کے ساتھ زیادتیاں کی تھیں اور انہیں دکھ پہنچایا تھا۔ جب وہ ایسا سوچتے ہیں تو پھر بچوں کی طرح رات کو ڈراؤنے خواب دیکھتے ہیں لیکن وہ لوگ جن کا ضمیر صاف ہوتا ہے اور انہوں نے کسی کا دل نہیں دکھایا ہوتا وہ بڑھاپے میں بھی پرسکون زندگی گزارتے ہیں۔

سقراط اور تین دوستوں کا انصاف کے بارے میں مکالمہ

سقراط نے دوستوں سے پوچھا: انصاف کیا ہے؟
پہلے دوست نے جواب دیا انسان سچ بولے اور اپنا قرض واپس کرے یہی انصاف ہے۔
سقراط نے پہلے دوست کو چیلنج کرتے ہوئے کہا فرض کریں میرے ایک دوست نے ذہنی صحت کی حالت میں مجھے ایک بندوق قرضے کے طور پر دی تھی لیکن پھر وہ ذہنی طور پر بیمار ہو گیا اور مجھے ڈر ہے کہ اگر میں نے اسے بندوق واپس کر دی تو وہ کہیں خودکشی نہ کر لے۔ کیا ایسی صورت میں بندوق واپس کرنا انصاف ہو گا؟
پہلے دوست نے کہاہرگز نہیں۔

دوسرے دوست نے کہا انصاف ایسا فن ہے جو دوستوں کے ساتھ نیکی اور دشمنوں کے ساتھ بدی کرتا ہے۔
سقراط نے دوسرے دوست کو چیلنج کرتے ہوئے کہا اگر کوئی شخص طبیب ہے تو کیا اسے دشمنوں کے ساتھ برا سلوک کرنا چاہیے۔
دوست نے کہا نہیں۔
سقراط نے کہا تمہارا انصاف کا نقطہ نظر صرف جنگ کی حالت میں ٹھیک ہے امن کی حالت میں نہیں۔

تیسرے دوست نے کہا انصاف یہ ہے کہ حاکم اپنی طاقت کا استعمال کر کے جو چاہے کرے۔
سقراط نے تیسرے دوست کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کیا تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ عوام کو حاکموں کا حکم ماننا چاہیے چاہے وہ حکم ظالمانہ ہی کیوں نہ ہو۔

تیسرے دوست نے کہا حاکم ہمیشہ صحیح احکام دیتے ہیں کیونکہ وہ صحیح فیصلے کرتے ہیں۔
سقراط نے کہا ایسا نہیں ہے۔ اچھے حکمران عوام کی فلاح و بہبود کا خیال رکھتے ہیں لیکن غاصب حکمران خود غرض ہوتے ہیں وہ صرف اپنے نفع و نقصان کا خیال رکھتے ہیں وہ عوام کو اپنی خواہشوں پر قربان کر دیتے ہیں۔ ایسے حاکم انصاف نہیں کرتے وہ ظلم کرتے ہیں۔ وہ عوام کی عزت نہیں کرتے وہ ان سے بھیڑ بکریوں جیسا سلوک کرتے ہیں۔

گفتگو کے آخر میں سقراط نے دوستوں سے کہا کہ ایک منصفانہ نظام میں عوام میں دوستی اور محبت بڑھتی ہے اور ایک غیر منصفانہ نظام میں عوام میں غصہ اور تلخی بڑھنے لگتی ہے اور وہ ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail