اردو ادب کے معروف محقق


اردو ادب کے معروف محقق، نقاد، فکشن نگار اور شاعر شمس الرحمٰن فاروقی اُردو ادب میں اپنی پہچان آپ ہیں۔ ان کی تخلیقات کی بات کی جائے تو بیک وقت شاعری، لغت نویسی، فکشن، تنقید اور ترجمہ جیسے کئی فنوں پر ان کی کئی کتب ملتی ہیں جن میں اُردو ادب کا معروف ناول ”کئی چاند تھے سرِ آسماں“ مختصر ناول ”قبض زماں“ اور ایک افسانوی مجموعہ ”سوار اور دوسرے افسانے“ شامل ہیں۔ تنقید کے میدان میں ان کا سب سے بڑا معرکہ ”شعر شور انگیز“ جو کہ میر تقی میر کی شاعری کی شرح میں طویل چار جلدوں پر مشتمل ہے۔

ان کی فکشن میں برصغیر پاک و ہند کی قدیم تاریخ اور یہاں کے رسم و رواج کی عکاسی کی گئی ہے۔ ”قبض زماں“ فاروقی صاحب کا ایک مختصر ناول ہے جس میں دو تاریخی واقعات کو کہانی بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ قرآن مجید کی سورت کہف میں بھی قبض زماں کا ایک واقع ملتا ہے۔ جب اللہ کے کچھ نیک لوگ ظالم بادشاہ کے ڈر سے غار میں گئے اور وہاں تین سو سال تک سوتے رہے اور جب وہ بیدار ہوئے تو زمانہ بدل چکا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر ہندو مائتھولوجی ( Mythology) کی بات کی جائے ہو اس کی تاریخ میں ہمیں اسی طرح کا واقعہ ملتا ہے کہ ایک گروہ اور اس کا چیلہ سفر کرتے ہیں اور رستے میں ان کو بھوک لگ جاتی ہے تو گرو اپنے چیلے سے کہتا ہے کہ نیچے بستی میں جاؤ اور کھانا مانگ کر لاؤ۔

چیلا گرو کے حکم کی تکمیل کرتے ہوئے بستی میں جاتا ہے، بستی پہنچ کر وہ ایک گھر کے دروازہ پر دستک دیتا ہے وہاں سے ایک لڑکی باہر اتی ہے۔ چیلا اس پر عاشق ہو جاتا ہے اور اپنا سوال بھول کر اس سے شادی کی خواہش کرتا ہے۔ وہ وہیں بس جاتا ہے۔ جب کچھ عرصے بعد بستی میں سیلاب اتا ہے اور چیلا اپنی بیوی اور بچوں کا ہاتھ پکڑ کر ان کو اونچائی پر لے جانے کی کوشش کرتا ہے کہ رستے میں ایک زور دار لہر اتی ہے اور اس کا ہاتھ چھوٹ جاتا ہے اور وہ بے ہوش ہو کر گر پڑتا ہے۔ جب ہوش اتی ہے تو خود کو گرو کے قدموں میں پاتا ہے اور گرو جی سوال کرتے ہیں

”“ بیٹا کھانا نہیں لائے۔

اس ناول کا باقاعدہ آغاز ایک ایسے انسان سے ہوتا ہے جو آج بڑی مدت کے بعد گاؤں واپس آیا ہے کہ دادا کی زمین پر ایک نو تعمیر سکول کا افتتاح کرنا ہے۔ اور پیپل کے پیڑ کے نیچے لیٹا یہ سوچ رہا ہے کہ یہ وہی پیڑ ہے جس کے نیچے خاندان کے لوگوں کے ساتھ گاؤں کا ہر اجنبی مسافر کھانا کھاتا تھا اور جس پیڑ کے سائے میں اس وقت میں لیٹا سونے کی کوشش کر رہا ہوں اس کی عمر تقریباً 30 سے 40 برس ہوگی:

”ہم تو جیسے یہاں کے تھے ہی نہیں
خاک تھے آسماں کے تھے ہی نہیں

جون ایلیاء نے ہجرت کے پس منظر میں کہا تھا۔ ان بیچاروں کو کیا معلوم کہ ہم لوگ جو یہیں کے تھے اور کہیں نہ گئے، ہم لوگوں کا سارا بچپن سارا لڑکپن، تمام اٹھتی ہوئی جوانیاں، تمام دوستیاں اور رقابتیں ان اشجار کے ساتھ گئیں جو کٹ گئے، ان تال تلیوں کے ساتھ ڈوب گئیں جو سوکھ گئے، ان راہوں سے اٹھا لی گئیں جن پر گھر بن گئے۔ اے! تو جو شہر کے باہر کھڑا اس طرح بے تحاشا رو رہا ہے، بول تو نے اپنی جوانی کے ساتھ کیا کیا؟ ”( 1)

اور ایسی ہی نیم بے ہوشی کی حالت میں ایک آدمی اس کے پاس آ کر بیٹھتا ہے اور یوں اپنی کہانی سناتا ہے۔ کہ میرا نام گل محمد ہے۔ اور میں دہلی کے نواح میں واقع ایک گاؤں ننگل پور میں رہتا تھا۔ اس وقت کے بادشاہ ابراہیم لودھی کے دور کے ایک رئیس کے ہاں سپہ گری کی ملازمت کرتا تھا۔ جب نوکری کرتے کافی برس گزر گئے اور میری بیٹی بڑی ہو گئی۔ تو بیٹی کی شادی طے کردی گئی۔ اور میں نے اسی دوران اس کی شادی کے لئے تین سو تنکے جمع کیے ۔ اور گاؤں کے لیے روانہ ہو گیا:

”میں گھوڑے پر سوار گنگناتا دلکی چلتا چلا جا رہا تھا۔ سامنے ایک پلیا تھی جس کے نیچے نالہ ابھی خشک تھا پلیا کے پرلی طرف ایک بڑھیا نہایت تباہ حال نظر آئی، مجھے دیکھتے ہی اس نے کچھ دعائیہ لہجے میں مگر ذرا بلند آواز میں پکارا

اکیلے دو کیلے کا اللہ بیلی! پھر اس نے بہت مسکین لیکن پھر بھی بلند آواز میں مجھ سے کہا
” اللہ کی راہ میں کچھ دے دو بیٹا۔ بیوہ دکھیا پر ترس کھاؤ“

میں نے سوچا سفر میں ہوں نیک کام کرنے کے لیے جا رہا ہوں اس وقت اسے کچھ دے دوں تو نیک شگون ہو گا پھر میں نے گھوڑا آہستہ کیا اور اس کو راز کو راز کو طرف بڑھیا کے موڑ کر جھکا شلوار کی جیب میں ہاتھ ڈالا کہ کچھ نکال کر بڑھیا کو دے دوں ”( 2 )

آدھے راستے میں ڈاکوؤں نے لوٹ لیا اور ہاتھ پاؤں باندھ کر چھوڑ گئے۔ کچھ وقت گزر جانے کے بعد جب رات کافی ہو جاتی ہے تو میں ڈرتا ہوں کہ کہیں کوئی شیر یا بھیڑیا آ نہ جائے اور مجھ کو نقصان نہ پہنچا دے کہ اسی وقت وہاں سے ایک رئیس کا گزر ہوتا ہے اور وہ میری مدد کرتا ہے اور مجھ کو قریبی سرائے تک چھوڑ دیتا ہے۔ دوسرے دن جب میری حالت ذرا سنبھلتی ہے تو میں اپنے اک دوست کی تلاش میں نکلتا ہوں اور اس کو اپنی اب بیتی سناتا ہے

”یارا میرے، میں واللہ یہ سمجھے ہوئے تھا کہ تم جانتے ہو۔ نہیں تو میں خود تمہیں آگاہی دے دیتا کہ معاملات وزیر پور کے اگے نہر کے موڑ پر سانجھ کے پھولتے ہی مخدوش ہو جاتے ہیں۔ وہ کمبخت ڈائن، پلیا کے ایک طرف بیٹھی ہوئی بظاہر بھیک مانگا کرتی ہے پرلی طرف پلیا کے نیچے اس کے تینوں حرام کے جنے پوشیدہ رہتے ہیں جب تین یا زیادہ مسافر گزرتے ہیں تو وہ پکارتی ہے،“ جماعت میں سلامت ہے ”! اور جب دو یا ایک مسافر ہوتا تو وہ پکارتی ہے!“ اکیلے دو کیلے کا اللہ بیلی ”اور یہ اشارہ سن کر وہ تینوں برم راچھس کی طرح بیچارے راہگیر کو آ لیتے ہیں کسی کا جان وہ کبھی نہیں مارتے، لیکن لوٹ کر اسے باندھ کر وہی مرنے کے لیے چھوڑ کر چمپت ہو جاتے ہیں“ (3)

اور اس سے مشورہ مانگتا ہوں۔ وہ مجھے بہت سے حل تجویز کرتا ہے۔ جن میں سے ایک حل اسے پسند آتا ہے اور میں اس پر عمل کرتے ہوئے دریائے جمنا کے قریب واقع ایک محل جس میں امیر جان رہتی ہے اس کے پاس جاتا ہوں اور اس کو اپنا مسئلہ بتاتا ہوں اور وہ میری مدد کرنے کو تیار ہو جاتی ہے اور وہ مجھے ساڑھے تین سو تنکے دیتی ہے۔ جس میں تین سو ادھار اور پچاس تنکے بطور انعام دیتی ہے۔ میں وہ تکنے لیتا ہوں اور اپنے گاؤں روانہ ہو جاتا ہوں۔

گاؤں پہنچ کر دھوم دھام سے بیٹی کی شادی کرتا ہوں اور کچھ عرصہ انتھک محنت کے بعد قرض کی رقم اکٹھی کرتا ہوں۔ ایک روز قرض واپس کرنے کی غرض سے ایک قافلے کے ساتھ امیر جان کے محل کی طرف روانہ ہوتا ہوں اور مجھے وہاں جا کر پتہ چلتا ہے کہ امیر جان وفات پا چکی ہے۔ اور قریبی قبرستان میں دفن ہے۔ میں ایصال ثواب کے لئے قبر پر جاتا ہوں۔

”قبر ڈھونڈنا امیر جان کی چندال مشکل نہ تھا کہ قبر کے ہی کچھ فاصلے پر پانی کی سبیل تھی اگرچہ وہاں اس وقت سناٹا تھا، لیکن لوہے مزار دیکھ کر میں فوراً پہچان گیا تاک میں کالک کا داغ بہت ہلکا تھا، گویا چراغ یہاں کبھی ہی کبھی جلتا ہو۔ مجھ پر اچانک رقت طاری ہو گئی۔ آہ زندگی میں کیا رونقیں تھی اور اب کیا بے سر و سامانی ہے اول و آخر فنا ہی فنا ہے۔ مولا کریم سب کا انجام بخیر کرے“ (4)

قبرستان پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ قبر کے اندر سے اک دروازہ کھلتا ہے۔ اندر جھانک کر دیکھا تو اندر سے روشنی نظر آئی۔ میں قبر کے اندر اتر جاتا ہوں تو کیا دیکھتا ہے کہ قبر کے اندر لہلہاتا ہوا چمن ہے :

”عجب پر بہار باغ ہے کہ بہار کو بھی اس بہار پر داغ ہے نخل سر سبز و شاداب، جوبن پر گلاب، نسرین و نسترن بشکل معشوقان نے پرفن، سرو شمشاد جس سے قد محبوب کی یاد، رنگ گلہائے چمن شکل عارض محبوب گلبدن۔ ہوائے سرد چل رہی ہے نشہ بادہ محبت سے لڑکھڑاتی ہے اور اور ہر ایک شاخ شجر سے سر ٹکراتی ہے لیکن دبے پاؤں چل رہی ہے“ (5)

اس چمن کو دیکھتے دیکھتے اگے بڑھتا ہوں۔ تو وہاں امیر جان کا محل نظر اتا ہے۔ میں اس کے اندر چلا جاتا ہے۔ محل کے اندر امیر جان تخت پر بیٹھی ہوتی ہے اور خادمہ ان کو پنکھا دے رہی ہوتی ہے۔ مجھے دیکھ کر امیر جاں برہم ہو جاتی ہے اور مجھے باہر نکال دیتی ہے۔ تھوڑی دیر بعد ہی میں قبر سے باہر آ جاتا ہوں اور باہر نکل کر کیا دیکھتا ہوں کہ قبرستان کا نقشہ ہی بدلہ ہوا ہے۔ گھوڑا بھی غائب ہوتا ہے۔ پوچھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ دو سو سال بعد کا زمانہ ہے۔ میں اپنے گاؤں کا پتہ کرواتا ہوں۔ تو پتہ چلتا ہے کہ وہاں اس کا نام و نشان بھی نہیں ہے :

”میں دیر تک کھڑا آنسو بہاتا رہا، عربی شاعروں کی طرح جو اپنے قصائد میں ذکر کرتے ہیں دوبارہ گزرنے کا ان صحرائی فرودگاہوں پر سے جہاں ان کے معشوق نے کبھی رات قیام کیا تھا اور اب وہاں ایک دو ادھ جلی لکڑیوں، ٹوٹی ہوئی تنابوں ہوا میں پھٹ پھٹاتے ہوئے بوسیدہ اور موسم خوردہ خیموں کے پھٹے ہوئے سرا پردوں کے سوا اب کچھ نہ تھا ہائے ہائے انسان کس قدر ضعیف البنیاد ہے“ (6)

میں وہی دہلی میں رہنے لگتا ہوں، وہاں میری ملاقات میر محمد علی سے ہوتی ہے جو کہ مجھے اس وقت کی ادبی مجلسوں میں لی جانا شروع کرتے ہے۔ میرا اس وقت کی بڑی بڑی شخصیتوں میں سے کچھ سے تعارف ہو گیا۔ ایک دن میر محمد علی نے کہا، رامپور کے اطراف میں کہیں لڑائی چھڑ گئی ہے، میں نواب کی فوجوں کے ساتھ لڑنے جا رہا ہوں، تم بھی میرے ساتھ چلو۔ میں ان کے ساتھ ہو لیا۔ جنگ کے سارے ہتھیار نئی طرز کے تھے، جو میں نے زندگی میں کبھی نہ دیکھے تھے۔ بڑے زوروں کی لڑائی ہوئی۔ ہم سب مارے گئے، کوئی زندہ نہ بچا

) تو کیا تم مردہ ہو۔ میں نہیں جانتا، افسردہ سی آواز ڈوبتی جا رہی تھی ”( 7

اگر ”قبض زماں“ کو دیکھا جائے تو جس طرح شمس الرحمٰن فاروقی نے ایک زمانہ کو مختصراً ترین ناول میں سمیٹا ہے قابل ذکر ہے

حوالہ جات ؛،
شمس الرحمٰن فاروقی، قبض زماں، عکس پبلشر، 20211
ایضاً ص 36 ٫ 372
ایضاً ص 443
ایضاً ص 584
ایضاً ص 615
ایضاً ص 776
ایضاً ص 1177

Facebook Comments HS