پاک بھارت جنگ۔دنیا کا منظر نامہ بدل سکتی ہے


پہلگام واقع کے تناظر میں لڑی جانے والی پاک بھارت جنگ جنوبی ایشیا اور دنیا کے منظر نامہ میں ممکنہ طور پر کچھ اہم تبدیلیاں لا سکتی ہے۔ تاہم اس کے لئے یہ دیکھنا ہو گا کہ آنے والے دنوں میں ڈپلومیسی کے میدان میں امریکا، برطانیہ، یورپی یونین، یو این او اور دیگر اہم ممالک کیا کردار ادا کرتے ہیں۔ اور بھارت مذاکرات کے حوالے سے دنیا کے ممکنہ دباؤ کو کسں طرح سے لیتا ہے۔ اس وقت یہ بات خوش آئند ہے کہ امریکی صدر بوجوہ پاک بھارت تنازع میں دل چسپی لے رہے ہیں۔

1 : یہ امر اہمیت کا حامل ہے کہ پاک بھارت جنگ کے بعد ہونے والی بین الاقوامی پیش رفت سے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لئے بھارت کو مذاکرات کی ٹیبل پر لانا یقیناً ڈپلومیسی کے میدان میں پاکستان کا بڑا امتحان ہو گا۔ تاہم یہ بات خوش آئند ہے کہ 12 مئی کو پاکستان اور بھارت کے ڈی جی ایم اوز کی میٹنگ میں فائر بندی کو برقرار رکھنے، دونوں ملکوں کی افواج کا ایک دوسرے پر فائر نہ کرنے اور سرحدوں پر افواج کو کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

لیکن دوسری طرف بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی تقریر میں ایک بار پھر اپنے سابقہ موقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ ”اگر بات ہوگی تو پاکستانی مقبوضہ کشمیر اور (بقول ان کے) پاکستان کی طرف سے کی جانے والی دہشت گردی پر۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ ٹریڈ بھی جاری رہے اور ٹیررز ازم بھی۔ پانی بھی بہتا رہے اور خون بھی۔“

یقینا وزیراعظم نریندر مودی کی طرف سے اپنی عوام، اپوزیشن اور ہندو توا کے دباؤ کو کم کرنے کے لئے اس طرح کا بیان مذاکرات کی کے حوالے سے مثبت پیش رفت نہیں ہے۔ لیکن توقع کی جا سکتی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنگ بندی کا فیصلہ کرانے کی طرح دباؤ کے ذریعے دونوں ممالک کو مذاکرات کی ٹیبل پر بٹھا کر تنازعات کو حل کرنے کی کوشش کریں گے اور ایک اور کامیابی کا سہرا اپنے سر باندھنا چاہیں گے۔ یہ امر واضح ہے کہ اگر امریکہ اور دیگر مصالحت کاروں کا بھرپور اور مسلسل دباؤ نہ ہوا تو انڈیا کوئی بہانہ یا ایڈونچر کر کے مذاکرات سے انکار کر سکتا ہے۔ یا اس سلسلے میں پاکستان کے لئے ناقابل قبول پیشگی شرائط عائد کر سکتا ہے۔

2۔ یہ جنگ انڈیا کو جنوبی ایشیا اور بین الاقوامی منظر نامے میں کسے حد تک پیچھے لے گئی ہے۔ ان کی جنوبی ایشیا پر بالا دستی اور اکھنڈ بھارت کے خواب کو بڑا دھچکا لگا ہے۔

3۔ مسئلہ کشمیر ایک بار پھر بین الاقوامی سطح پر ابھر کر سامنے آ گیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ ”مسئلہ کشمیر کو حل ہونا چاہیے اور یہ کہ میں دیکھتا ہوں کے اس مسئلے کے حل کے لئے میں کیا کر سکتا ہوں“ ۔ ٹرمپ کے اس ٹویٹ کے بعد اب یہ پاکستانی حکومت پر منحصر ہے کہ وہ کس طرح سے ڈپلومیسی کے میدان میں اس موقع سے فائدہ اٹھاتی ہے۔

4۔ بھارت اور پاکستان کے لئے ایک دوسرے کے علاقوں پر قابض ہونا تقریبا ناممکن ہو گیا ہے اور اس حوالے سے ماضی کے مقابلے میں اب پاکستان کسی حد تک بہتر پوزیشن میں آ گیا ہے۔

5۔ پاکستان انڈیا میں روایتی جنگ کے عدم توازن کا تصور ختم ہو کر کسی حد تک پاکستان کے حق میں آ گیا ہے۔

6۔ اس جنگ نے دنیا میں چینی ٹیکنالوجی کی برتری ثابت کردی ہے۔ اور اب امریکہ کے اکسانے پر بھارت، تائیوان سمیت کوئی ملک چین کے خلاف جنگ کرنے کا نہیں سوچے گا۔

7۔ دنیا یونی پولر سے بائی پولر ہونے کی طرف پیش رفت ہوئی ہے اور اس وجہ سے اب دنیا امریکہ کے ساتھ ساتھ چین کے بیانیے کو بھی اہمیت دے گی کیونکہ چین اس جنگ کے نتیجے میں ٹیکنالوجی کے میدان میں کافی حد تک امریکہ اور یورپ کے ہم پلہ ہو گیا ہے۔

8۔ پاکستان چین کی دوستی نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے اور اب امریکہ اور یورپ چین اور پاکستان کی علاقائی اہمیت کو آسانی سے نظر انداز نہیں کرسکیں گے۔

9۔ جنوبی ایشیا کے ممالک بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال بھوٹان اور مالدیپ اب پاکستان اور چین کے ساتھ تعلقات کو پہلے سے زیادہ اہمیت دیں گے اور بھارت کی علاقائی بالا دستی کو پہلے کی نسبت بہتر پوزیشن میں چیلنج کر سکیں گے۔

10۔ امریکہ جو کہ جنوبی ایشیا میں بھارت کو چین کے خلاف پروموٹ کر رہا تھا اس پالیسی کے بارے میں نظر ثانی کے بارے میں سوچے گا اور چین اور روس سے تعلقات کو بہتر کرنے کی طرف جائے گا۔

11۔ پاکستان نے دفاعی محاذ پر جو زبردست کامیابی حاصل کی ہے اس کو سفارتی کامیابیوں میں بدلنے کے لئے پاکستان کو بہت کامیاب حکمت عملی اور جنگی بنیادوں پر سفارتی کوششیں کرنا ہوں گی کیونکہ انڈیا جنگی محاذ پر منہ کی کھانے کے بعد اب سفارتی محاذ پر پاکستان کو شکست دینے کی بھر پور کوشش کرے گا۔

12۔ امریکہ ایران پر حملے کی پالیسی پر ممکنہ طور پر نظر ثانی کرے گا اور اسرائیل کو بھی اس حوالے سے کوئی بڑا جارحانہ قدم اٹھانے سے روکے گا۔

13۔ اس جنگ نے پاکستان کی ایٹمی ڈیٹرنیس کی ضرورت، اہمیت اور صلاحیت کو ثابت کر دیا ہے لہذا اس صلاحیت میں وقت کے ساتھ اضافے کو جاری رکھنا ضروری ہے۔

اس جنگ نے جنوبی ایشیا میں پاکستان کی اہمیت کو ایک بار پھر اجاگر کیا ہے اس کو برقرار رکھنے اس میں اضافہ کرنے اور اس اہمیت سے بھرپور سفارتی اور معاشی فائدے اٹھانا پاکستانی حکومت کا جنگ سے بڑا امتحان ہو گا۔

Facebook Comments HS