بھارت کے عوام بیوقوف نہیں


بھارت کے ایک نو عمر لڑکے کی بات تو سو فی صد ٹھیک ہے وہ بھارتی صحافی کے پاکستان کے خلاف اُکسانے پر کہتا ہے دنیا میں سب کو جینے کا حق ہے ہندو مسلمان بھارت میں بھی ہیں اور پاکستان میں بھی ہیں۔ بھارتی صحافی بار بار کو اس کو پاکستان مخالف بیان دینے پر مجبور کرتا ہے لیکن وہ کہتا ہے کہ وہ پاکستان مردہ باد نہیں کہے گا۔ بھارتی صحافی کہتا ہے کہ ”آپ کو شرم نہیں آ رہی کہ بھارت میں رہتے ہوئے پاکستان کا دفاع کر رہے ہو“ ۔ نوجوان بے باکی سے کہتا ہے نہیں مجھے شرم نہیں آ رہی اور آپ جو یہ خبر بنا رہے ہو اور ہندو مسلم کو لڑانے کے لیے جھوٹی باتیں پھیلا رہے ہو تو آپ کو شرم نہیں آ رہی؟

یہ پاک بھارت جنگ سے پہلے کا مکالمہ ہے یہ نو عمر بچہ جس کی عمر چودہ پندرہ سال ہوگی وہ بھارتی صحافی کو شرم دلا رہا ہے لیکن اب جنگ کے بعد تو ساری دنیا کا میڈیا بھارتی میڈیا کو شرم دلا رہا ہے اور صحافت کو جھوٹ کا پلندا قرار دے رہا ہے۔ بقول بھارتی میڈیا پاکستان کے بڑے شہروں پر بھارت کے قبضے کے بعد اس نے امریکا کو سیز فائر کے لیے پاکستان کو آمادہ کرنے کے لیے کہہ دیا۔ سو پاکستان اور بھارت نے اچھے بچوں کی طرح ٹرمپ کی بات مان لی۔ ماننی بھی چاہیے تھی کہ یہ دو نیو کلیئر طاقتوں کا ٹکراؤ تھا جس کو بڑھنا نہیں چاہیے، امریکی نائب صدر کہتے ہیں انڈیا نے حملہ کیا پاکستان نے جواب دیا اب دونوں ممالک کو ٹھنڈے دماغ سے سوچنا چاہیے۔ پاکستان اور انڈیا کی جنگ ایٹمی جنگ نہیں بننی چاہیے۔ ان شاء اللہ ایسا ہو گا بھی نہیں۔

بھارتی وزیراعظم مودی کے جنگی جنون نے نہ صرف بھارت کو نقصان پہنچایا بلکہ خود مودی کو بھی سیاسی طور پر نقصان پہنچایا پھر بھارت کا جھوٹا میڈیا اور اس کی جھوٹی خبروں نے عوام کو انتہائی ناراض کیا جس کی آوازیں پورے بھارت سے سنائی دے رہی ہیں۔ غیر ملکی میڈیا بھی خبر دے رہا ہے کہ بھارتی میڈیا کی جھوٹی خبروں سے سرمایہ کاروں میں بہت زیادہ خوف ہے۔ مودی کے جنگی جنون سے بھارتی اسٹاک مارکیٹ بھی شدید مندی کا شکار ہے۔

رافیل طیاروں کے بعد انڈیا کی کرنسی کی قیمت بھی گر گئی ہے۔ بھارت کے ارب پتی ہرش گوئینگا بھارت کے عوام کو معاشی جھٹکوں کے لیے تیار رہنے کا کہہ رہے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ مزید کشیدگی سے روپے کی قیمت میں کمی آئے گی غیر ملکی سرمایہ کار محفوظ علاقوں کی طرف بھاگ جائیں گے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا مارکیٹس سکڑ جائیں گی اور انفرا اسٹرکچر پیچھے رہ جائے گا۔ یقیناً جنگ ایسے ہی نتائج دکھاتی ہے۔

پاکستانی حملے سے ہونے والے نقصانات کا اعتراف بھارتی حکومت خود کر رہی ہے۔ انہوں نے رافیل اور دیگر طیارے بڑی تعداد میں ڈرون ائر بیس، ائر فیلڈ، اسلحہ ڈپو کی تباہی کا اعتراف بھی کیا ہے۔ ایک بڑا جھٹکا ایس 400 ائر ڈیفنس سسٹم کی مکمل تباہی کی صورت میں پاکستانی شاہینوں نے لگایا ہے۔

دوسری طرف بھارتی میڈیا مستقل جھوٹی خبریں نشر کرتا رہا، سوشل میڈیا پر جعلی ویڈیو لگائی گئیں، پاکستانی طیاروں کی تباہی کی خبریں ساتھ ہی کراچی، لاہور اور اسلام آباد پر قبضے تک کی خبریں جاری کی گئیں۔ بھارت کو اپنی ڈیجیٹل اور سائبر صلاحیتوں پر بڑا اعتماد تھا لیکن پاکستان نے اس کے اعتماد کو چکنا چور کر دیا۔ حکومت بھارت کے اہم سرکاری دفاعی اداروں حکومتی جماعت بی جے پی کی ڈیجیٹل نظام ہیک کر لیے۔ اس کی کلیدی ویب سائٹ سے مکمل طور پر ڈیٹا مٹا دیا۔

فوجی اداروں کی ویب سائٹس بھی زد میں آئیں، سرویلنس کیمروں کی بڑی تعداد کو ہیک کیا گیا۔ بجلی کے گرڈ اسٹیشن بھی عارضی طور پر ناکارہ کر کے بھارت میں ستر فی صد علاقوں کی بجلی بند کردی گئی۔ دوسری طرف بھارت نے اپنے ہی ملک میں سکھوں کے علاقوں کو نشانہ بنایا چھے بیلسٹک میزائل بھارتی پنجاب کے علاقوں امرتسر اور آدم پور کے علاقوں میں گرا دیے۔ بھارتی وزیراعظم کو عسکری میدان میں ناکامی ہوئی تو انہوں نے میڈیا کی جھوٹی خبروں سے دنیا کو اور اپنے عوام کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی۔

پاکستانی شہروں ملتان اور لاہور پر بھارتی نیوی کے قدم جمانے کی خبریں چلائی گئیں۔ خود پاکستانی شہریوں کو بھارت کے میڈیا سے پتا چلا کہ چیچہ وطنی میں انٹرنیشنل ائرپورٹ ہے اور لاہور اور ملتان میں بندرگاہیں ہیں جن میں بھارتی نیوی قدم جما چکی ہے۔ کراچی کے شہریوں پر انکشاف ہوا کہ یہ شہر بھارتی حملے سے تباہ ہو چکا ہے، بھارتی میڈیا پر کراچی یونیورسٹی روڈ کو دکھا کر دعویٰ کیا جاتا رہا کہ یہ بھارتی کامیاب حملے کا نتیجہ ہے۔ اب انہیں کیا پتا کہ یہ سڑک چار سال سے ایسی ہی ہے جہاں ہر سال ٹھیکیدار مزید کھدائی کر کے چلا جاتا ہے۔ لیکن کراچی کے حالات جو بھی ہوں اسے بھارتی حملوں کا نتیجہ قرار دینا تو درست نہیں ہے نا۔

Facebook Comments HS