ہماری پوسٹ، ہماری پہچان


حالیہ پاک بھارت کشیدگی میں پاکستان نے ایک بار پھر جرات مندانہ اور پروفیشنل انداز میں اپنے موقف اور دفاعی صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ افواجِ پاکستان نے دشمن کے ہر جھوٹ کا نہ صرف موثر جواب دیا بلکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے بیانیے کو مضبوطی سے پیش کیا۔ یہ صرف ایک عسکری کامیابی نہیں تھی، بلکہ سفارتی اور نفسیاتی میدان میں بھی پاکستان کا پلڑا بھاری رہا۔ قوم نے جس اتحاد اور حوصلے کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ فخر ہے۔

پاکستان کا یہ ردِعمل نہایت حیران کن تھا، کیونکہ ہم معاشی لحاظ سے ایک کمزور ملک ہیں۔ ہمارے پاس محدود وسائل، محدود ٹیکنالوجی اور محدود عسکری طاقت کے باوجود ہم نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو ایسا جواب دیا جس نے دنیا کو حیران کر دیا۔ اس کارکردگی پر پاکستانی قیادت اور افواجِ پاکستان مبارکباد کی مستحق ہیں۔

اس جنگی صورتحال میں میڈیا ایک بڑا سپورٹ سسٹم ثابت ہوا۔ پاکستانی میڈیا نے غیر معمولی پروفیشنلزم کا مظاہرہ کیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام میں نہ زیادہ خوف و ہراس پھیلا اور نہ ہی ہماری افواج پر کوئی دباؤ آیا۔ میڈیا نے سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ قوم کو اعتماد میں رکھا، جس سے افواجِ پاکستان کو کھل کر اور منظم انداز میں ردعمل دینے میں آسانی ہوئی۔ دوسری طرف بھارتی میڈیا کا حال انتہائی افسوسناک رہا۔ سنسنی خیزی، جھوٹ، اور انتہائی غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ نے ان کے اپنے بیانیے کو نقصان پہنچایا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جس ملک کی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری دنیا بھر میں شہرت رکھتی ہے، وہاں کا مین اسٹریم میڈیا اس قدر غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرے گا، یہ ناقابلِ فہم تھا۔

روایتی میڈیا کے محاذ پر تو ہم کامیاب رہے، مگر سوال یہ ہے کہ ”سوشل میڈیا“ جو کہ ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے اس پر ہم نے کیا کردار ادا کیا؟ جہاں ہمیں یکجہتی، شعور، اور تحمل دکھانا تھا، وہاں بدقسمتی سے بہت سے لوگوں نے لاعلمی، جذباتیت اور سنسنی خیزی کا مظاہرہ کیا۔ کسی بھی انسان کی سوچ، قابلیت اور ترجیحات کا اصل اندازہ تب ہوتا ہے جب وہ کسی صورتحال پر ردعمل دیتا ہے۔ یہ لمحہ فکریہ ہے کہ جن لوگوں کو ہم سنجیدہ اور باشعور سمجھتے تھے، حالیہ کشیدگی میں ان کی سوشل میڈیا سرگرمیوں نے مایوس کیا۔

ایک شاعر نے کہا تھا:
ہم دعا لکھتے رہے وہ دغا پڑھتے رہے
ایک نقطے نے ہمیں محرم سے مجرم کر دیا

لیکن یہاں نقطے کی بات چھوڑیے، ہم نے تو پورے جملے، پورے بیانیے اور سچ کو ہی مسخ کر دیا۔ بغیر تحقیق، بغیر تصدیق، بغیر سوچے سمجھے ویڈیوز، تبصرے، اور پوسٹس شیئر کیے گئے۔ کسی نے پرانی ویڈیو کو نئی جنگ کا حصہ بنا کر پیش کیا، تو کسی نے ذاتی خیال کو قومی موقف کہہ کر پھیلایا۔

کہتے ہیں کہ، آدھا سچ، جھوٹ سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا نے ہر فرد کو آواز دی، مگر یہ آواز ایک بھاری ذمے داری کے ساتھ آتی ہے۔ افسوس کہ ہم نے یہ طاقت تو حاصل کر لی، لیکن اس کی ذمہ داری کو نظرانداز کر دیا۔ جب ہم کوئی غیر مصدقہ خبر شیئر کرتے ہیں، تو ہم صرف جھوٹ نہیں پھیلا رہے ہوتے، بلکہ عوامی شعور کو مجروح کر رہے ہوتے ہیں۔ ہم خوف، بے چینی اور غلط فہمی کو جنم دے رہے ہوتے ہیں۔ ایسے وقت میں جب حالات نازک ہوں، ہمیں جذبات کے بجائے تدبر اور ردعمل کے بجائے تحقیق کو اپنانا چاہیے۔ اگر ہم شیئر کا بٹن دبانے سے پہلے دو لمحے رک کر سوچ لیں، تو کئی غلط فہمیاں پیدا ہونے سے بچ سکتی ہیں۔

سچ کا پہلا اصول یہ ہے کہ وہ مکمل ہو۔ آدھا سچ، آدھا علم، آدھا شعور یہ سب مکمل نقصان کا باعث بنتے ہیں۔

خدارا! سوشل میڈیا کو ایک ذمے داری سمجھ کر استعمال کریں۔ تحقیق کریں، تصدیق کریں اور اس بات کا خیال رکھیں کہ آپ کی ایک پوسٹ کسی کی عزت، جان یا جذبات کو نقصان نہ پہنچائے۔

یہ جنگ صرف سرحدوں پر نہیں، ذہنوں میں بھی لڑی جا رہی ہے۔ اگر ہم نے ہوش سے کام نہ لیا، تو سوشل میڈیا خود ہمارے خلاف ایک ہتھیار بن سکتا ہے۔

Facebook Comments HS