دس مئی کی صبح، بھارتی شکست اور ڈونلڈ ٹرمپ
دس مئی کی صبح حیرتوں کے ساتھ طلوع ہوئی۔
سرحدوں کے دونوں طرف لوگ قبل از وقت بیدار ہو گئے۔ آسمان وقت سے پہلے روشن ہو گیا۔ اس روشنی کا ماخذ پاکستانی فوج کی جانب سے بھارتی جارحیت کا وہ جواب تھا، جو اب لازم ٹھہرا تھا۔
”آپریشن بنیان مرصوص“ کا آغاز ہوا۔ پاکستان نے فتح میزائل، جے ایف 17، جے 10 سی طیاروں، ڈرونز اور سائبر ہتھیاروں کو استعمال کرتے ہوئے سرحد پار اپنی فضائی برتری کی ایسی دھاک بٹھائی کہ آپریشن سیندور پر میڈیا بریفنگ دینے والی بھارتی ٹیم کی کرنل صوفیہ قریشی کے منہ سے بالآخر یہ الفاظ ادا ہو ہی گئے کہ ”بھارت تناؤ نہیں چاہتا۔“
”ہم تناؤ نہیں چاہتے“ :سات سے دس مئی تک کا سفر
یہ وہ موقف ہے، جو پاکستان کی جانب سے سات مئی کو بھارتی جارحیت کا جواب دینے کے بعد مسلسل دہرایا گیا۔ یاد رہے کہ بھارت نے آپریشن سیندور لانچ کرتے ہوئے بہاولپور، مرید کے، آزاد کشمیر سمیت آٹھ مقامات پر میزائل حملے کیے۔ اس بزدلانہ کارروائی میں سویلین آبادی اور مساجد کو نشانہ بنایا گیا۔ بھارتی حملے میں متعدد معصوم شہری شہید ہوئے۔ پاکستان کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں اس روز فضائی تاریخ کا ایک بڑا معرکہ سامنے آیا۔
برطانوی میگزین ”دس سن“ سمیت مختلف میڈیا اداروں نے دعویٰ کیا کہ اس فضائی جھڑپ میں بھارت اور پاکستان کے سو سے زائد طیاروں نے حصہ لیا۔ یہ جھڑپ تقریباً ایک گھنٹے جاری رہی، اور اسے دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑی فضائی جھڑپ قرار دیا گیا۔
پاکستان نے بھارتی فضائیہ کے پانچ جنگی طیارے مار گرانے کا دعوی کیا، جن میں ایک میگ اور تین رفال شامل تھے۔
بین الاقوامی میڈیا کی رفال گرانے کی تصدیق، بھارت کی پہلی شکست
گو ابتدا میں بھارت نے ان دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا، مگر چند ہی گھنٹوں میں ”رائٹرز“ اور ”سی این این“ جیسے معتبر اداروں کی جانب سے بھارتی دعووں کی قلعی کھل گئی۔ ”بی بی سی“ اور ”واشنگٹن پوسٹ“ نے بھی ایسی تصاویر اور ویڈیوز جاری کیں، جس سے پاکستان موقف کی بڑی حد تک تصدیق ہو گئی۔ امریکی حکام نے بھی تصدیق کی کہ پاکستان نے کم از کم دو بھارتی جنگی طیارے مار گرائے، جن میں ایک رفال شامل تھا۔ وہی رفال جس کی کبھی مودی جی کمی محسوس کیا کرتے تھے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق 2019 کی پاک بھارت کشیدگی کے بعد انڈیا نے فرانسیسی کمپنی ڈیسو ایوی ایشن سے 36 رفال طیارے خریدے تھے۔ پاکستان نے چینی ساختہ جے 10 سی کا انتخاب کیا۔ سات مئی کو یہ واضح ہو گیا کہ بھارت گھاٹے میں رہا۔ 14 مئی کو ”بلوم برگ“ جیسے معتبر جریدے نے اپنی اس رپورٹ کے ساتھ اس گھاٹے کی تصدیق کر دی کہ چینی کمپنی ”چنگڈو ائر کرافٹ کارپوریشن“ کی مارکیٹ ویلیو میں صرف ایک ہفتے میں 55 ارب یوآن ( 7.6 ارب امریکی ڈالر) کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ادھر بی بی سی نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں چینی کمپنی کے شیئرز میں اضافے کے ساتھ رفال بنانے والی فرانسیسی کمپنی کے شیئرز میں کمی کی نشان دہی کی۔ دونوں ہی رپورٹس میں اس اتار چڑھاؤ کا سبب پاک فضائیہ کی بھارتی فضائیہ پر برتری کو ٹھہرایا گیا، جو 7 مئی کو قائم ہوئی۔ اور یہ بھارت کی پہلی شکست تھی۔
Shares of Chinese defense-manufacturing companies rallied on Wednesday, as the escalation in border tensions between India and Pakistan boosted the outlook for mainland exporters. https://t.co/q540dSr5vq
— Bloomberg (@business) May 7, 2025
گودی میڈیا کا جنگی جنون اور فیک نیوز، دوسری شکست
اس برتری کے بعد پاکستان نے یہی موقف اختیار کیا کہ وہ مزید تناؤ نہیں چاہتا، اگر بھارت جارحیت سے باز رہے، تو کشیدگی ٹل سکتی ہے، لیکن جنگی جنون میں مبتلا بی جے پی سرکار نے نریندر مودی کی انتہاپسندانہ سوچ کی توسیع کرتے ہوئے کشیدگی کو بڑھاوا دیا۔ ایک جانب بھارت کا گودی میڈیا مسلسل جنگی ہیجان بڑھتا رہا، وہیں فیک نیوز کے ذریعے بھارتی عوام میں سراسیمگی پھیلائی گئی۔ فیک نیوز کی انتہائی شکل اس وقت سامنے آئی، جب بھارتی میڈیا نے کراچی، لاہور، اسلام آباد اور پشاور پر بھارتی قبضے کی جھوٹی خبریں نشر کرتے ہوئے اپنے نیوز اسٹوڈیوز میں جشن بپا کر دیا۔
جب جیت کے نشے سے مخمور بھارتی نو مئی کی صبح جاگے، تو یہ تمام پاکستانی شہر جوں کے توں دنیا کے نقشے پر موجود تھے، پاکستانی وزیر اعظم اور آرمی چیف اپنے فرائض انجام دے رہے تھے، اور بھارتی میڈیا کی جعلی خبروں پر، جن کی اصل سورس خود بی جے پی سرکار تھی، بھارت ہی سے آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی تھیں۔ بین الاقوامی میڈیا میں بھی بھارت کے اس جنگی جنون کو طنز کا نشانہ بنایا گیا۔ شاید اسی سبکی کی جھنجھلاہٹ میں دس مئی کی صبح بھارت نے پاکستان کے مختلف فضائی اڈوں پر حملے کر دیے۔
پاک فضائیہ کی جانب سے جو جواب دیا گیا، اسے موضوع بناتے ہوئے بی بی سی نے ان الفاظ کے ساتھ دریا کو کوزے میں بند کر دیا: ”دہلی کو احساس ہو سکتا ہے کہ ان کے پرانے حریف کی فضائی طاقت اس کی سوچ سے کچھ زیادہ ہے، اور انڈیا نئے ہتھیاروں کے حصول پر اربوں خرچ کرنے کے باوجود فیصلہ کن ضرب لگانے میں ناکام رہا۔“
یہ بھارت کی دوسری شکست تھی۔
ٹرمپ کا ٹویٹ، تابوت کی آخری کیل
دس مئی کی صبح پاکستان نے بھارت کو ایسا جواب دیا کہ بات صوفیہ قریشی کے دفاعی بیان ”ہم تناؤ نہیں چاہتے“ سے ہزاروں میل آگے نکل گئی۔ دس مئی کے دوپہر امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک ٹویٹ کے ذریعے دنیا کو یہ خوش خبری سنائی کہ امریکا کی سرتوڑ کوشش کے بعد پاکستان اور بھارت میں سیز فائر ہو گیا ہے۔ دونوں ممالک فوری جنگ بندی پر راضی ہیں، جس کے لیے وہ مبارک باد کے مستحکم ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹویٹ
— Donald J. Trump (@realDonaldTrump) May 10, 2025
ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کا پاکستان میں خیرمقدم کیا گیا، حکومتی حکام، میڈیا اور مبصرین نے اسے خوش آیند ٹھہرایا، مگر بھارت کو سانپ سونگھ گیا۔ دنیا کے طاقت ور ترین شخص کے اعلان کے بعد اب بھارت کے پاس جنگ بندی کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا، مگر گودی میڈیا کے لیے یہ صدمہ سہنا سہل نہیں تھا۔ اس شکست نے ارنب گوسوامی، میجر گورو آریا اور جنرل بخشی جیسے ”ہیجان کے بیوپاریوں“ پر کیا اثرات مرتب کیے، یہ تو سب کے سامنے ہے، مگر المیہ یہ ہے کہ اس بار ششی تھرور، برکھا دت اور راج دیپ سردیسائی جیسے سنجیدہ اور معتبر مبصر بھی پاپولر بیانیہ کے ریلے میں بہہ گئے۔ خاص طور پر برکھا دت بی جے پی کے ترجمان بھر کر ابھریں۔
مودی کے جنگی بیانیہ کی موت، حروف آخر
گو ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹویٹ کے بعد سنجیدہ بھارتی مبصرین نے حقیقت کا اعتراف کر لیا، مگر بھارتی میڈیا نے سیاہی کی فروخت جاری رکھی۔ ایک بار پھر پاکستان کی جانب سے جھوٹے حملوں کی کہانی گھڑی گئی، موقف اختیار کیا گیا کہ اس سیز فائر کی درخواست خود پاکستان نے کی تھی، اور مزید یہ کہ سیز فائر عارضی ہے۔
اس آخری نکتے کا جواب تو پاکستان کی جانب سے پہلے ہی دیا جا چکا ہے کہ اگر بھارتی نے دوبارہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا، تو اسے کرارا جواب دیا جائے گا۔ جہاں تک سیز فائر کی درخواست کا تعلق ہے، یہ بات پیش نظر رہے کہ یہ طاقت کی دنیا ہے، یہاں فقط قوت کی زبان سمجھی جاتی ہے۔ جب پاکستان کی جانب سے عسکری طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا گیا، تو چند ہی گھنٹوں میں امریکی حکام میدان میں کود پڑے۔ گو امریکا، سعودی عرب، ترکی، آذربائیجان کی جانب سے امن کی کوششیں جاری تھیں، مگر دس مئی کو پاکستان کے جواب ہی نے سیز فائر کو ممکن بنایا۔
تیرہ مئی کا دن مودی سرکار کے لیے ایک اور بڑی شکست لے کر آیا، جب امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ ریاض میں سعودی امریکن انویسٹمنٹ فورم سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان اور بھارت کو یک ساں اہمیت دیتے نظر آئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ملکوں کی قیادت اور قابلیت کو ایک ہی پلڑے میں تولتے ہوئے کہا: ”میں نے پاکستان اور انڈیا پر مشترکہ تجارت پر زور دیا ہے، امید ہے کہ ہم دونوں ممالک کے راہ نماؤں کو ڈنر پر اکٹھا کر سکیں گے۔“
بھارت ایک عرصے سے اپنی معاشی ترقی اور عسکری طاقت کی بنیاد پر خود کو خطے کا لیڈر ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے۔ البتہ دس مئی کو یہ دونوں دعوے خاک ہوئے۔ ایک جانب جہاں پاکستانی فوج نے بھارتی عسکری برتری کی قلعی کھول دی، وہیں امریکا کی جانب سے پاکستان اور بھارت کو ایک ہی پلڑے میں تول کر اس کے معاشی پاور بننے کے دعوے پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا۔
البتہ یہ نکتہ پیش نظر رہے کی جنگی جنون میں مبتلا بی جے پی مستقبل میں بھی اس طرح کا کوئی افسوس ناک ایڈونچر کر سکتی ہے۔


