برصغیر میں جنگی نعروں سے امن قائم نہیں ہو گا!


پاکستان نے بھارت کو ایک بار پھر باہمی مسائل حل کرنے اور اچھے ہمسایوں کی طرح پر امن طریقے سے رہنے کی پیش کش کی ہے۔ دونوں ملکوں میں فی الوقت 7 اور 10 مئی کے دوران ہونے والی جنگ کے بعد پائے جانے والے جوش و خروش کا غلبہ ہے۔ اس کے باوجود اگر ایک فریق اس ماحول میں امن کی بات کرتا ہے تو اسے نظر انداز نہیں ہونا چاہیے۔

ایٹمی صلاحیت کے حامل دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان ہونے والی حالیہ جھڑپوں کی تفصیلات تو شاید کبھی سامنے نہ آ سکیں لیکن دو پہلوؤں سے پاکستان کو بہر حال برتری حاصل رہی ہے۔ ایک تو جنگی ماحول کے باوجود پاکستانی میڈیا نے تمام تر مبالغہ آرائی اور نعرے بازی کے باوجود جھوٹ اور بے بنیاد خبریں نشر کرنے کا وہ طریقہ اختیار نہیں کیا جو بھارتی مین اسٹریم میڈیا میں دکھائی دیا تھا۔ ان رپورٹوں کے مطابق پاکستان کے نصف حصہ پر بھارتی فوج کا قبضہ ہو چکا تھا اور پاکستان کے عسکری و سیاسی لیڈر یا تو مفرور ہو گئے تھے یا گرفتار کر لیے گئے تھے۔ یہ دعوے اس لحاظ سے بھی بے معنی اور مضحکہ خیز تھے کہ بھارتی سرکاری ترجمان جن میں فوج اور وزارت خارجہ کے نمائندے شامل ہیں، میڈیا بریفینگز میں مسلسل یہ کہتے رہے تھے کہ بھارت اشتعال انگیزی کو بڑھانا نہیں چاہتا اور اس تنازعہ کو ختم کرنے کا خواہاں ہے۔ اس سرکاری موقف کے برعکس بھارتی میڈیا، وہ زبان بول رہا تھا جو وزیر اعظم نریندر مودی کے سیاسی بیانیہ سے مطابقت رکھتی تھی۔

یہ ساری خبریں چوں کہ من گھڑت اور بے بنیاد تھیں لہذا بارہ سے چوبیس گھنٹے میں ان کا پول کھل گیا۔ متعدد صحافی اور نیوز آؤٹ لیٹس نے غلط خبریں نشر کرنے پر سامعین و ناظرین سے معافی بھی مانگی۔ کسی غلطی کو معاف کردینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے لیکن غیر ذمہ دارانہ صحافت اور جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کرنے کے رویہ سے کثیر آبادی والے اس خطے میں امن کو شدید خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ اس وقت دونوں ملکوں کے درمیان ہیجان اور بے یقینی کی جو کیفیت پائی جاتی ہے، اس کی ایک وجہ میڈیا کی غیر ذمہ داری اور سنسنی خیزی بھی ہے۔ یہ جذباتی ماحول امن کے لیے خطرہ اور دونوں ملکوں کو ایک دوسرے سے دور رکھنے کا سبب بنتا ہے۔ حالانکہ پاکستان اور بھارت کو یکساں طور سے اس رویہ سے بچنے اور حقائق کی دنیا میں واپس آنے کی ضرورت ہے تاکہ خطے کے پونے دو ارب لوگوں کے حقیقی مسائل پر غور ہو سکے، انہیں حل کیا جا سکے اور مسلسل جنگ و تنازعہ کی کیفیت سے باہر نکلا جا سکے۔

حالیہ عسکری جھڑپوں میں ایک دوسرے پہلو سے بھی پاکستان کو بھارت پر برتری حاصل رہی ہے۔ پاکستان نے 22 اپریل سے شروع ہونے والے تنازعہ کے بعد سے مسلسل امن کی بات کی۔ پاکستانی حکومت نے اس سانحہ میں انسانوں کی ہلاکتوں پر رنج و غم کا اظہار کیا لیکن اس کے ساتھ ہی بھارت کے اس الزام کو مسترد کیا کہ اس دہشت گردی میں پاکستان ملوث تھا۔ اپنی نیک نیتی ثابت کرنے کے لیے وزیر اعظم شہباز شریف شروع میں ہی پہلگام سانحہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات میں تعاون کرنے کی پیش کش کی تھی۔ پہلگام میں دہشت گردی کے واقعہ کی تحقیقات بھارتی ادارے ابھی بھی تک مکمل نہیں کرسکے ہیں اور نہ ہی یہ بتایا جا سکا ہے کہ اس سانحہ میں کون سے عناصر ملوث تھے۔ اس موقع پر اگر پاکستان کی طرف سے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ مان لیا جاتا تو دونوں ملک دنیا بھر میں موضوع بحث بننے سے بچ سکتے تھے۔ ان جنگی حالات سے بھی بچا جاسکتا تھا جن کی وجہ سے دونوں ملکوں نے ایک دوسرے پر میزائلوں سے حملے کیے اور معاملات اس حد تک سنگین ہو گئے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دباؤ کا ہتھکنڈا استعمال کر کے جنگ بندی پر راضی کرنا پڑا۔ بعد از وقت بھارتی لیڈر خواہ کوئی بھی وضاحتیں کرتے رہیں اور یہ دعوے کرتے رہیں کہ پاکستان نے جنگ بندی کے لیے امریکہ سمیت دوست ملکوں سے رابطے کیے تھے لیکن اس حقیقت کو فراموش نہیں کیا جا سکے گا کہ ٹرمپ کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے وقت بھارت فوری اور مکمل سیز فائر پر راضی ہو چکا تھا۔

اس سے قطع نظر کہ کس فریق نے کسے کتنا نقصان پہنچایا یا کون زیادہ عسکری اہداف نشانہ بنانے میں کامیاب رہا، یہ حقیقت اب تاریخی ریکارڈ کا حصہ بن چکی ہے کہ 10 مئی کو رات گئے آئی ایس پی آر نے خود پاکستان کے تین فضائی اڈوں پر بھارتی حملوں کی اطلاع دی۔ اس کے بعد پاکستان نے بھارتی اہداف پر بھرپور میزائل حملے کیے۔ ان حملوں کے تھوڑی دیر بعد ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جنگ بندی کا اعلان کر دیا۔ اگر امریکی صدر بھارتی خواہش کے برعکس جنگ بندی پر اصرار کر رہا تھا تو نریندر مودی کی حکومت اس پیش کش کو ویسے ہی مسترد کر سکتی تھی جیسے وہ ایرانی و سعودی کوششوں کو ماننے سے انکار کرتی رہی تھی۔ اپنے ہی دعوؤں کے مطابق ایک بار ’پاکستان کو کڑی سزا‘ دے کر بھارت خود کو اس جنگ ہی نہیں بلکہ علاقے کا فاتح قرار دے سکتا تھا۔ نریندر مودی کی حکومت گزشتہ ایک دہائی سے پاکستان کو مفلوج کرنے اور اس کی طاقت ہمیشہ کے لیے کچلنے کی خواہش کا اظہار کرتی رہی تھی۔ بھارتی وزیر اعظم نے حالیہ جنگ کے بعد 13 مئی کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے اپنی اسی خواہش کا ایک بار پھر اعلان کیا۔ حالانکہ انہیں بھارتی عوام کو اس بات کا جواب دینا چاہیے تھا کہ اگر بھارت جیت رہا تھا، پاکستان کو تباہ کیا جا رہا تھا اور وہ خود کو محفوظ رکھنے کے لیے شروع سے ہی جنگ بندی کی کوششیں کر رہا تھا تو بھارتی حکومت نے یہ ’جیتی ہوئی جنگ‘ کیوں بند کردی۔ کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے ٹھکانے بند کرنے کا کام ادھورا چھوڑ دیا گیا۔ مودی کی تقریر میں متعدد تضادات تھے۔ ایک تو یہی کہ بھارت حملے کر رہا تھا لیکن پاکستان سے لڑنا نہیں چاہتا تھا۔ پاکستانی حکام نے 7 مئی کے حملوں میں جاں بحق ہونے والے شہریوں، بچوں اور خواتین کی تفصیلات بتا دیں لیکن مودی اپنی تقریر میں ایک سو دہشت گرد ہلاک کرنے کا دعویٰ کرنے کے باوجود اپنے بیان کی سچائی میں کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکے۔

اس بار پاکستان شروع سے امن کی بات کرتا رہا ہے۔ اس نے اشتعال انگیزی سے گریز کیا تھا۔ بھارت نے پہلے حملہ کر کے پاکستان کو دفاعی اقدامات پر مجبور کیا۔ دنیا کا کوئی بھی ملک مسلط کی ہوئی جنگ میں اپنا دفاع کرے گا۔ پاکستان نے یہی کیا۔ اسی لیے اس تنازعہ میں اسے برتری حاصل رہی اور دنیا میں اس کے موقف کو مانا گیا ہے۔ اب بھی بھارت میں ایک طرف نریندر مودی کے خلاف سیاسی احتجاج ہو رہا ہے تو دوسری طرف مودی کی پارٹی اپنی کامیابی کے دعوے کر کے اس بات چیت سے گریز کرنا چاہ رہی ہے جس کا اعلان امریکہ کی طرف سے کیا جا چکا ہے۔ صدر ٹرمپ نے حال ہی میں عرب ممالک کے دورہ کے دوران متعدد بار پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کی بات کی اور مشورہ دیا کہ وہ جنگ کی بجائے تجارت کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بہتر ہو گا کہ دونوں ملکوں کے لیڈر کھانے کی میز پر ملیں اور باہمی مسائل حل کر لیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے آج ’آپریشن بنیان مرصوص‘ کی کامیابی پر یوم تشکر منانے کے موقع پر امن کی بات کر کے درست سمت میں قدم اٹھایا ہے۔ ان کا یہ کہنا جائز و درست ہے کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ یہ خطہ بھی دنیا کے باقی خطوں کی طرح ترقی اور خوشحالی کا سفر طے کرے۔ چاہے ہم اس بات کو پسند کریں یا نہ کریں مگر ہم ہمسائے ہیں اور ہم نے ہمیشہ ایک دوسرے کا ہمسایہ ہی رہنا ہے۔ اب یہ ہم پر ہے کہ ہم پرامن ہمسائے بن کر رہیں یا لڑتے رہیں۔ ہمارے درمیان تین جنگیں ہو چکی ہیں مگر کوئی مسئلہ حل نہیں ہوا۔ بلکہ جنگوں کی وجہ سے غربت اور بیروزگاری بڑھی اور دیگر مشکلات میں اضافہ ہوا۔ جنگوں سے یہ سبق ملا ہے کہ ہم پرامن ہمسایوں کی طرح مذاکرات کی میز پر بیٹھیں اور جموں و کشمیر سمیت تمام مسائل حل کریں۔ جموں و کشمیر اور پانی کی تقسیم کے مسائل حل ہوجائیں تو پھر اس کے بعد ہم تجارت پر بات کر سکتے ہیں اور انسداد دہشت گردی کے میدان میں بھی تعاون کر سکتے ہیں‘ ۔

بدقسمتی سے بھارت کی طرف سے ابھی تک بات چیت اور پائدار امن کے حوالے سے کوئی اشارے سامنے نہیں آئے ہیں۔ پاکستان کو اپنے طور پر اعتماد کی فضا پیدا کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔ اگر بھارت کو یہ شکوہ ہے کہ پاکستان کے کچھ جہادی عناصر بھارت یا مقبوضہ کشمیر میں تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہیں تو کم از کم ان عناصر کی ضرور گرفت کی جائے جو ماضی میں ایسی سرگرمیوں میں ملوث رہے۔ اس طرح ایک تو اس تاثر کو ختم کیا جا سکے گا کہ یہ عناصر کبھی پاکستان کے ’اثاثے‘ رہے تھے۔ دوسرے یہ اصول بھی واضح ہو سکے گا کہ ماضی میں اگر کچھ غلطیاں سرزد ہوئی ہیں تو اب ان کی اصلاح کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

وزیر اعظم کے علاوہ وزارت خارجہ نے بھی بھارت کے ساتھ مذاکرات کی بات کی ہے لیکن ساتھ ہی یہ شرط بھی رکھی ہے کہ یہ بات چیت صرف کشمیر پر ہوں گے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ اور جھگڑے کی تاریخ طویل اور پیچیدہ ہے۔ اس لیے مذاکرات کے لیے پیشگی شرائط عائد کرنے کا طریقہ ختم ہونا چاہیے۔ اسی طرح جب امن اور بات چیت کی طرف پیش قدمی کی خواہش ظاہر کی جا رہی ہے تو جنگی نعروں اور دشمن کو ’تھپڑ رسید‘ کرنے جیسے دعوؤں سے گریز کیا جائے۔ 7 اور 10 مئی کے دوران ہونے والی جنگی جھڑپیں اب ماضی کا قصہ ہیں لیکن امن کا حصول سب کی ضرورت اور موجودہ مسائل کا واحد حل ہے۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali