جَلا وطن کی مناجات
وجاہت مسعود کو کون نہیں جانتا؟ جس کا بھی تعلق کتابوں، کالموں اور جمہور سے ہو گا وہ وجاہت مسعود سے واقف نہ ہو یہ ہو نہیں سکتا۔ ہم بھی انہیں بہت پُرانا جانتے ہیں۔ اُن کی کی نئی کتاب صابر نذر جیسے منجھے ہوئے آرٹسٹ کے ہاتھ سے بنائے گئے سرِورق سے سجتی سجاتی ہم تک پہنچی تو ڈرتے ڈرتے قلم اُٹھایا کہ میں اپنا نا چیز سا تبصرہ اس کتاب پر کروں۔ پڑھنے کے بعد اندازہ ہوا اُن کی تحریریں فقط قلم کی روانی نہیں بلکہ ایک دل گرفتہ عاشقِ وطن کی صدائے مناجات ہیں جو ہر لفظ میں سچائی، درد اور محبت کی چمک لیے ہوئے ہیں۔
یہ کالم صرف سیاسی یا سماجی تبصرے نہیں بلکہ ایک محبت کرنے والے ذہن کی وہ پکار ہیں جو اپنی سرزمین سے انصاف، انسانیت اور آزادی کا وعدہ مانگتا ہے۔ وجاہت مسعود جب جمہوریت کی بات کرتے ہیں تو گویا کسی بچھڑ جانے والے عزیز از جان محبوب کی واپسی کی امید کا قافیہ باندھتے ہیں۔ جہاں وہ انسانی حقوق کا ذکر کرتے ہیں ایسا لگتا ہے جیسے وہ ہر مظلوم کے زخموں پر اپنے چُنیدہ لفظوں کا مرہم رکھتے ہیں۔ اِن کی زبان میں نہ صرف علم کی شائستگی ہے بلکہ ایک ایسا نرم، خوابیدہ لہجہ ہے جیسے کسی سرد شام کی تنہا سرسراتی ہوا میں کسی پُرانی یاد کی خوشبو دھیمے دھیمے گُھل رہی ہو۔
اگر آپ نے انہیں باتیں کرتے یا مباحثے کرتے سُنا ہو تو ہلکے ہلکے چوٹ کرتے ہوئے زیرِ لب مسکراتے نہیں بلکہ کھلکھلاتے ہیں۔ اسی طرح ان کی تحریروں میں بھی قلم کا طنز چُپ کی سی آواز جیسا ہے جو خفا تو ہوتا ہے پر نفرت کو کاغذ پر نہیں بکھیرتا۔ وہ دلیل سے، جذبے سے، منطق اور وفا سے بات کرتے ہیں۔ جلا وطن کی مناجات کو پڑھنا بالکل ایسے ہے جیسے آپ ایک ایسے عاشق کی تحریر پڑھ رہے ہیں جسے اپنی دھرتی سے بے پناہ عشق ہے۔ جو سچ لکھنا ناگزیر سمجھتا ہے۔
ہر طرح کے ماحول چاہے جَبر کا موسم ہو یا محبت کی پھوار کا ساون، وہ امید کے چراغوں کو بجھنے نہیں دیتا۔ یہ مناجات صرف الفاظ نہیں بلکہ محبت، وفا اور مزاحمت کے گیت ہیں۔ اس کتاب کی تحاریر میں فہم و دانش کی لے، دلیل کی تان اور سچائی کا ستار ہلکے ہلکے سازوں میں بجتا رہتا ہے۔ وجاہت مسعود صاحب کی تحریریں پڑھنے کے ساتھ ساتھ محسوس کے گئے وہ لطیف جملے ہیں جن میں آزادی، انصاف اور انسانی وقار کی سر بلندی کے لیے صدائیں گونجتی ہیں۔
اس کتاب میں ان کا ایک اہم اور طویل مضمون ہے سیکولرازم کیا ہے؟ یہ مضمون وجاہت مسعود صاحب کی فکری تحریر کا وہ ساز ہے جو دلیل کی تان پر حق و انصاف کے نغمے بکھیرتا ہے۔ یہ محض ایک چھوٹے سے سوال یعنی سیکولرازم کا جواب نہیں بلکہ ایک تہذیبی سفر کی وہ رُوداد ہے جس میں انسانی تاریخ کے دھندلکوں سے لے کر جدید ریاست کے خد و خال تک سب کچھ چمکتا دکھائی دیتا ہے۔ وجاہت صاحب ایک محبت کرنے والے استاد کی طرح شاگرد کو روشنیوں کے دروازے تک لے جاتے ہیں۔
سیکولرازم کے مفہوم کو مذہب دشمنی کے بجائے انسان دوستی کے تناظر میں رکھ کر وہ نہ صرف غلط فہمیوں کو دور کرتے ہیں بلکہ ہمارے اندر کے بند فکری دروازے بھی کھولتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں صدیوں کی فکری تپش، تہذیبی مہک اور سماجی درد مندی کی گونج سنائی دیتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ تاریخ میں جب مذہب کو حکومت سے جوڑا گیا تو اس سے شدت پسندی، مذہبی تفریق اور ظلم نے جنم لیا۔ جبکہ سیکولرازم کا مطلب ایک ایسا سیاسی اور سماجی اصول ہے جو نہ تو کسی ایک مذہب کی حمایت کرتا ہے اور نہ ہی کسی اقلیت کو دباتا ہے۔
مضمون میں یورپ اور ہندوستان کی تاریخی مثالوں سے واضح کیا گیا ہے کہ سیکولر طرزِ حکومت نے معاشروں میں امن، ترقی اور انسانی حقوق کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسی طرح ایک اور کالم ”میثاقِ جمہوریت کا وقت ابھی ختم نہیں ہوا“ میں دو پرانے عاشقوں جمہوریت اور عوام کا تذکرہ ہے۔ اس کالم میں وہ کروشیے کی طرح اپنے الفاظ سے ایک اُمید بُنتے ہیں کہ میثاقِ جمہوریت کوئی مردہ تحریر نہیں بلکہ وہ زندہ وعدہ ہے جو عوام کے دلوں میں اب بھی دھڑکتا ہے۔
یہ تحریر اربابِ اختیار کو جھنجھوڑتی ہے اور عوام کو سہلاتی ہے کہ اگر ہم چاہیں تو ذاتی مفادات سے بالا ہو کر خواب اور حقیقت کے بیچ کی یہ خلیج آج بھی پاٹی جا سکتی ہے۔ ایک اور کالم ”نکالے ہوئے بھٹکے ہوئے لوگوں کی عیدِ غریباں“ ایک سیاسی یا سماجی تحریر نہیں بلکہ درد کی لَے پر لکھا گیا ایک ایسا رومانوی مرثیہ ہے جس میں ان چہروں کی تصویر کشی ہے جن کے ماتھے پر شناخت نہیں۔ جن کی آوازیں بے سمت آندھیوں میں دب گئی ہیں۔ جن کی دہلیزوں پر خوشیوں نے برسوں سے قدم نہیں رکھے۔ یہ لوگ کبھی انقلاب کا حصہ تھے، کسی نظام کی بنیاد مگر آج اجنبیت ان کا مقدر ہے۔ اس کالم نے میرے دل کو ایسے چُھوا کہ جیسے کوئی درد مند ہم وطن سوال کرتا ہے : کیا عید صرف ان کی ہے جن کے پاس روٹی، پیسہ، اور رشتے دار ہیں؟ لکھاری بتاتا ہے کہ عید کی چاندنی ان بھٹکے ہوؤں تک نہیں پہنچتی۔ ان کی راتوں میں کوئی چاند رات نہیں۔ ”عیدِ غریباں“ دراصل ان خوابوں کا سوگ ہے جو اس وطن کی سیاست پر سچ کی گلیوں میں کہیں دفن ہو چکے ہیں وجاہت صاحب کی یہ تحریر ایک ایسا شدید احتجاج ہے جو دھڑکنوں کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ یہ محسوس کرنے کی کیفیت ہے۔ آخر میں اپنی ایک چھوٹی سی نظم شردھانجلی کے طور پر:
چپ کے لبوں پر سوال لکھے
خواب کی آنکھوں میں جال لکھے
دیوار پہ سایہ ہے سچ کی خامشی کا
کمرے میں ماتم ہے روشنی کا
مناجات ہیں یہ قلم کی صدا
جیسے محبوب ہو پردیس میں جُدا
وطن سے محبت سزا بن گئی
اور تمہاری جرم وفا بن گئی
یہ فکری اور اصلاحی کتاب صرف لفظوں کا خزانہ نہیں بلکہ عکس پبلی کیشنز کی بصیرت اور حُسنِ ذوق کا جیتا جاگتا شاہکار ہے۔ کتاب حاصل کرنے کے لیے اِن سے رابطہ کریں۔



