جوش ملیح آبادی، ڈاکٹر رشید جہاں اور آج کی اداکارائیں
”اور تو اور عورتوں کی آوازیں اور ان کا وزن بھی پردہ نشیں تھا۔ یعنی کوئی بی بی اس زور سے نہیں بولتی تھی کہ اس کی آواز مردانے میں جائے اور جب کوئی عورت پالکی میں سوار ہوتی تھی تو پتھر کا ٹکڑا یا سل پالکی میں رکھ دیا جاتا تھا کہ کہاروں کو اس کے اصل جسم کا اندازہ نہ ہو سکے اور بیبیاں تو بیبیاں مامائیں، اصیلیں اور لونڈیاں تک پردے کی پابند تھیں۔
زنانے میں آنے والے دس گیارہ برس کے بچوں سے پردہ کیا جاتا تھا اور مشکوک چال چلن کی عورتوں سے بھی پردہ کیا جاتا تھا۔ کسی عورت کی مجال نہیں تھی کہ وہ بزرگوں کے سامنے اپنے بچے کو گود لے لے۔
زنان خانے کی فضا کو مقدس رکھنے کے لیے یہ اہتمام کیا جاتا تھا کہ کسی ترکاری والی کو یہ اجازت نہیں تھی کہ وہ لانبی ترکاریوں مثلاً کھیرے، لوکی، ترئی وغیرہ کو ٹکڑے ٹکڑے کیے بغیر سالم حالت میں اندر لے جائے۔ اس لیے کہ صورت کے لحاظ سے ان ترکاریوں کو فحش سمجھا جاتا تھا۔
اپنے لڑکپن کا ایک واقعہ بیان کرتا ہوں۔ ملیح آباد کے ایک صاحب کے لڑکے کی شادی میں ناچ ہو رہا تھا کہ بالا خانے سے ایک عورت جھک کر دیکھنے لگی۔ صاحبان محفل میں سے ایک نے اسے گولی مار دی۔ گولی مارنے والے نے صاحب خانہ سے کہا بھائی آپ کی بیوی جھانک رہی تھی، مجھ سے یہ بے حیائی برداشت نہیں ہوئی، میں نے اسے گولی مار دی۔ صاحب خانہ نے ان کی پیٹھ ٹھونکتے ہوئے کہا، بہت اچھا کیا آپ نے۔ ”
جوش ملیح آبادی ) یادوں کی بارات؛ صفحہ نمبر ایک سو ستاسی / اٹھاسی)
یہ تھا بیسویں صدی کے آغاز کا برصغیر جہاں عورت کی یہ وقعت تھی کہ بالا خانے سے جھانکنے پر بیوی کو بھی گولی مارنے پہ خوشی کا اظہار کیا جاتا تھا۔
مرد حضرات اپنی عیاشیوں کے لئے چاہے گھر میں مجرے کروائیں یا بالا خانے تشریف لے جائیں مگر عورتوں کے سامنے کھیرا بھی سالم حالت میں نہ جائے کہ کہیں کسی عورت کے ذہن میں کوئی برا خیال نہ آ جائے۔ وہ ایسی ڈمی نما عورتیں تھیں جن کی سوچ تک پہ پہرے بٹھانے پہ فخر محسوس کیا جاتا تھا۔ آئیے کتابوں سے اس زمانے کی کچھ اور عورتوں کا حال جانتے ہیں۔
میرے اس کہنے پر کہ ممانی جان آپ کیوں ایسے آدمی کو اپنے ہاں رکھتی ہیں؟ انہوں نے جواب دیا، بیٹی کس کس کو نکالوں، دھوبی ہے وہ کئی بدل چکا ہے، مالی چار کو نکال چکا ہے، عیدو بھی دو کو طلاق دے چکا ہے۔ عورتیں ہی اس ملک میں اتنی سستی مل جائیں تو میں کیا کروں ”۔
(افسانہ۔ چھدا کی ماں )
” ایک مسلمان عورت کالے تنگ پاجامے، گلابی دوپٹہ اور چاندی کے زیور سے لدی ہوئی اٹھی۔ بلاق اس کا اتنا بڑا تھا کہ اس کا منہ اور دانت سب بلاق کے پیچھے چھپ گئے تھے۔ میرا خیال ہے کہ پرانے زمانے میں عورت کی چڑچڑ سے تھک کر کسی مرد نے بلاق نکالا ہو گا تا کہ عورت کی آواز منہ میں ہی پھنس جائے۔ لیکن عورتیں بھی کیا بے وقوف ہیں کہ اس کو رواج بنا لیا۔“
(افسانہ۔ میرا ایک سفر)
”لڑکیوں کی تعلیم کے حامد حسن بہت خلاف تھے۔ قرآن شریف، دو ایک دینیات کی کتابیں صدیقہ بیگم کو پڑھا دی گئی تھیں۔ صدیقہ بیگم کی ماں احمدی بیگم نے بالکل بھنورے میں پالا تھا۔ ہر ملنے جلنے والی سے پردہ کروایا جاتا، نہ کوئی سہیلی اور نہ کسی سے ملنا جلنا، نہ کہیں آنا نہ کہیں جانا۔“
(افسانہ۔ بے زبان)
” ڈاکٹرنی نے مجھ سے میری عمر پوچھی میں نے کہا بتیس سال۔ کچھ اس طرز سے مسکرائی جیسے کہ یقین نہ آیا۔ میں نے کہا، مس صاحب آپ مسکراتی کیا ہیں؟ آپ کو معلوم ہو کہ سترہ سال کی عمر میں میری شادی ہوئی تھی اور جب سے ہر سال میرے ہاں بچہ ہوتا ہے۔ سوائے ایک تو جب میرے میاں سال بھر کو ولایت گئے تھے اور دوسرے جب میری ان سے لڑائی ہو گئی تھی۔
اور یہ دانت جو آپ غائب دیکھ رہی ہیں یہ ڈاکٹر غیاث نے اکھاڑ ڈالے۔ ساری بات یہ تھی کہ ہمارے میاں جو ولایت سے آئے تو ان کو ہمارے منہ سے بو آتی تھی۔
ہر بچے کے بعد میں کتنی مصر ہوئی کہ میں خود دودھ پلاؤں گی لیکن سنتا کون ہے؟ دھمکی یہ ہے کہ دودھ پلاؤ گی تو میں اور بیاہ کر لوں گا۔ مجھے ہر وقت عورت چاہیے، میں اتنا صبر نہیں کر سکتا کہ تم بچوں کی ٹلے نویسی کرو۔ ”
(پردے کے پیچھے۔ انگارے )
کل رات سامنے کے میدان میں ایک مولوی صاحب وعظ فرما رہے تھے۔ ہر چیز پہ حملہ تھا، سکولوں، کالجوں، لڑکے لڑکیوں کی تعلیم، پردہ، میاں بیوی، ترقی، خوشی، مغرب، ایشیا، غرض کوئی موضوع ایسا نہیں تھا جس پر انہوں نے رائے زنی نہ کی ہو۔ انگریزی تعلیم کی برائی اور میاں کے رتبے پر بہت دیر تک روشنی ڈالتے رہے۔
سب سے زیادہ انہوں نے ٹاکیز کی خبر لی، آپ لوگ ٹاکیز دیکھنے جاتے ہیں، وہاں کنجریاں ہوتی ہیں، آنکھیں مٹکاتی ہیں، اپنی برہنہ چھاتیاں آپ کو دکھاتی ہیں، ننگی آپ کے سامنے آ جاتی ہیں۔
یہ ہے ہمارے مولویوں کی دماغی تصویر، ان کی آنکھوں میں ہر وقت ننگی عورتیں ناچتی ہیں۔ خیالات ہر وقت عورتوں میں مشغول رہتے ہیں یہاں تک کہ عورتوں کے جسمانی حصوں کا نام لینے کے لئے وہ وعظ میں بھی جگہ نکال لیتے ہیں ”
(افسانہ۔ سڑک)
ہمارا جی چاہتا ہے کہ ہم آج کے ٹاکیز میں کام کرنے والی سارہ خان، ثروت گیلانی اور ان تمام اداکاراؤں جو خود کو فیمنسٹ کہتے ہوئے شرماتی ہیں اور ان کا خیال ہے کہ فیمنسٹ کسی بد بلا کا نام ہے، سے پوچھیں کہ کیا وہ جانتی ہیں کہ برصغیر میں ایک ایسی فیمنسٹ گزری ہیں جنہوں نے ان اداکاراؤں کے پیدا ہونے سے پہلے ان کے حقوق کی جنگ لڑی۔
آج اگر وہ سکرین پر اپنے فن کے جوہر دکھاتی ہیں اور بالا خانے سے جھانکتے ہوئے گولی کھا کر نہیں مرتیں، آج اگر وہ ہر جگہ جانے کے لیے آزاد ہیں اور انہیں کھیرا لوکی سالم دیکھنے کی اجازت ہے تو اس کا سہرا بھی اس فیمنسٹ عورت کے سر بندھتا ہے جو آج سے سو سال پہلے برصغیر کے سب مردوں اور خصوصاً ملاؤں کے سامنے کھڑی ہو گئی اور عورتوں کے حقوق کی جنگ لڑی۔
یہ تھیں ڈاکٹر رشید جہاں، فیض احمد فیض کی استاد۔ کم عمری سے وہ ہندوستان کے سماجی اور معاشرتی مسائل سے متاثر ہوئیں۔
ننھیال کی حویلی دلی اندرون شہر ”فراش خانہ“ میں تھی۔ میڈیکل کی گتھیاں سلجھاتے سلجھاتے حویلی آتیں تو چاروں طرف بہشتی زیور پڑھتی ہوئی، حویلیوں، شہ نشیوں، کوٹھڑیوں میں قید ان عورتوں کی کسمپرسی کا نظارہ کرتیں جنہیں ابھی تک انسان تو کیا، کسی جاندار مخلوق تک کا درجہ نہیں ملا تھا۔ ٹکے بندھے کپڑوں میں قید، زیوروں کے بوجھ تلے دبی، ایک بچہ گود میں، ایک پیٹ میں اور تین چار پلو سے لٹکے، نسوانی امراض کا شکار ان عورتوں کی زندگی کا مصرف استعمال میں لائی جانے والی کسی بھی بے مصرف چیز کا سا تھا جس سے دل بہلایا جا سکے۔ جب بوسیدہ ہو جائے تو بدل لی جائے اور ان فرسودہ روایات کا مذموم کھیل صدیوں سے مذہب کی آڑ میں جاری تھا۔
ڈاکٹر رشید جہاں نے ان تمام مظالم کو دیکھا، سنا اور سوچا، ایسا کیوں؟ کب تک؟ اس کا حل؟
اور پھر انہوں نے اپنے قلم کی کاٹ سے ان روایات میں شگاف ڈال دیا۔ یاد رکھیے، دبنگ ادیب کا قلم اور لفظ آہنی دیواروں کو کاٹنا سکھا کے نئے رستے تراشنے کے خواب دکھا سکتا ہے
ڈاکٹر رشید جہاں کے لہو میں تو انصاف کی بجلی کوندتی تھی سو قلم کے جہاد کے حوالے سے ان کی ملاقات سجاد ظہیر، احمد علی اور محمود الظفر سے ہوئی۔ معاشرے کی روایات کو ضرب لگاتے ہوئے انیس سو بتیس میں ان چاروں کے افسانوں کا مجموعہ ”انگارے“ شائع ہوا۔
رشید جہاں کا ڈرامہ ”پردے کے پیچھے“ انگارے میں چھپنے کی دیر تھی کہ ہنگامہ برپا ہو گیا۔ چھٹکی سی مسلمان لڑکی اور عمامہ و دستار کو للکارے، کٹھ ملا برافروختہ ہوئے۔ منبر سے ”رشید جہاں انگارے والی“ کے خلاف وعظ ہوئے، جہنم کی وعید سنائی گئی اور کتاب ”انگارے“ بحق سرکار ضبط ہوئی۔
رشید جہاں کا نام تاریخ میں پہلی فیمنسٹ عورت کے حوالے سے رقم ہوا۔ زمانے نے عورت کا ایک مختلف روپ دیکھا جو عورت کو انسان تسلیم کروانے پہ مصر تھی۔
ڈاکٹر رشید جہاں اور جوش ملیح آبادی ہم عصر تھے، دونوں نے اپنے زمانے کی تصویر کھینچی مگر دونوں میں فرق یہ ہے کہ جوش نے ان حالات کے بارے میں جو کچھ لکھا اس پہ کہیں بھی تاسف کی کیفیت نہیں۔ مگر ڈاکٹر رشید جہاں نے جو کچھ لکھا اس کے ہر لفظ سے دکھ ٹپکتا ہے۔ یہ ہیں دو ہم عصر مگر ایک مرد ہے اور ایک عورت۔
جو خواتین و حضرات آج پاکستانی فیمنسٹس کے نقطہ نظر، جدوجہد، نعروں اور جلوسوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، اور لفظ فیمنسٹ کو اپنانے سے گریز کرتے ہیں، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ آج جہاں وہ کھڑے ہیں اس میں بیشتر حصہ برصغیر کی فیمنسٹ عورتوں کا ہے۔
جنہوں نے متبادل بیانیہ برصغیر کے پدرسری نظام کے سامنے رکھا، میرا جسم میری مرضی آج کی بات نہیں۔ ہمیں فخر ہے کہ ہم نے ڈاکٹر رشید جہاں کے کام کو آگے بڑھایا ہے۔



آپ لوگ صحیح بات کو منوانے کے لئے رائی کا ایسا پربت کھڑا کردیتے ہیں کہ خواتین کے حق میں بولنے والا بھی خاموش رہنے میں عافیت سمجھتا ہے۔ کسی بھی معاملے میں انتہا کو چھونا کہاں کی عقل مندی ہے۔
کیا جو نقشہ اور ماحول آپ نے ڈیڑھ سو سال پہلے کا کھینچا ہے کیا اس وقت پورے یورپ امریکہ اور دوسرے ایشیائی ممالک میں عورتیں آزاد تھیں۔ ظاہر ہے نہیں۔
–
برصغیر میں بھی اتنا برا حال نہیں تھا کہ بالا خانے سے جھانکتی ہر عورت کو گولی ماردی جائے یا ہر گھر میں ہی بالا خانہ کے نیچے مجرے ہورہے ہوتے تھے۔ میر تقی میر کو دوسو سال گزرگئے۔ وہ دور بھی دہرالیں کہ میر کے وقت میں دہلی میں کیا ایسی ہی قیامت تھی۔
–
یورپ امریکہ کے بعد برصغیر میں تو پھر کچھ آزادی مل گئی تھی۔ عرب ممالک کی خواتین تو ایک عرصے تک مشکلات کا شکار رہیں۔ سعودیہ کو ہی دیکھیں 70 سے پہلے وہاں خاصہ آزاد ماحول تھا پھر یکایک فیصل کے دور سے انتہا پسندی آگئی۔ اب پھر وہاں عورتوں کو خاصے حقوق مل گئے ہیں۔ سوڈان کا عذاب الگ اور مصر کا اب بھی الگ ہے۔
–
ایران پہلے کہاں تھا اب کہاں ہے۔
–
دوسری طرف افغانستان میں عورتوں نے کس طرح زندگیوں میں اتارچڑھاؤ دیکھے ہیں۔
–
70 کی دہائی میں پاکستان میں عورتیں ساڑھی عام پہنتی تھیں جن میں سلیو لیس بھی معیوب نہیں مانا جاتا تھا۔ پردہ کرنے والی بی بیاں پردہ کرتی تھیں۔ آج پردہ کم ہے مگر ساڑھی ہندوانہ لباس بن چکا ہے۔
–
ڈاکٹر رشید جہاں سے زیادہ کریڈٹ میں ان کے والد بیرسٹر شیخ عبداللہ کو دیتا ہوں۔
ایک شخص جو برہمن ٹھاکر تھا زمانے سے بغاوت کرکے 1890 کے دور میں اسلام قبول کرتا ہے۔ خوب تر کی تلاش میں بھٹکتا کبھی شیعہ تو کبھی احمدی ہوتا ہے اور آخرش سرسید سے مل کر سنی العقیدہ پر ٹک جاتا ہے۔
بیرسٹر شیخ عبداللہ علی گڑھ یونیورسٹی سے مختلف ادوار میں وابستہ رہے۔ جہاں سرسید کر مسلمانوں کے الگ کالج اور یونیورسٹی کا کریڈٹ جاتا ہے وہیں مسلمان خواتین کو تعلیمی شعور اور پہلے گرلز کالج اور ہاسٹل کا کریڈٹ شیخ عبداللہ کو جاتا ہے (رشید جہاں کے والد)
علی گڑھ میں پہلا گرلز اسکول 1906 میں شروع کیا جس کی مہتمم ان کی بیگم تھیں اور بچیوں کی تعداد محض 5
اس کے لئے انہوں نے یو پی کے گورنر سے خصوصی اجازت لی۔
جس دور کی اپ بات کررہی ہیں ملیح آباد کے چھچھوروں کا حال اپنی جگہ بھوپال کو کیسے کوئی بھول سکتا ہے جہاں خواتین ریاست کے امور چلارہی تھیں۔
–
1911 میں یہ جوڑا پہلا گرلز ہاسٹل قائم کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے جب کہ 1921 کے لگ بھگ یہ پہلا گرلزانٹرکالج بن جاتا ہے۔ آپ رشیدجہاں کی تحریروں کو ضرور سراہیں لیکن یہ نہ بھولیں کہ ان کے والد نے خواتین کو ادب میں لانے کے لئے ماہنامہ "خاتون” جاری کیا تھا۔
جب ایسے ماحول میں رشید جہاں نے یورپ جاکر اعلی تعلیم اور ڈاکٹری بھی پڑھی تو اس میں کوئی بغاوت تو موجود نہیں گھر کا ماحول تھا۔
–
آپ کے اداکاراؤں پر طنز کے حوالے سے یہ بھی کم کم لوگ جانتے ہیں کہ ڈاکٹر رشید جہاں کی بہن کو ہماری عمر کے سبھی لوگ جانتے ہیں ۔ بولی ووڈ میں برصغیر کی اداکارہ، جن ہوں نے دلیپ کمار کے ساتھ کام کیا۔ شادی اور پاکستان بننے کے بعد پاکستان آئیں اور بالآخر ٹی وی پر اداکاری کے جھنڈے گاڑے اور سرکاری اعزازات پائے۔
یہ رینوکا دیوی المعروف بیگم خورشید مرزا عرف اکا بوا کی بات ہے۔ جو خورشید جہاں کی بہن تھیں۔
–
یعنی بیرسٹر عبداللہ نے اپنی بیٹیوں کو اتنی آزادی دی تھی کہ وہ تھیٹر اور فلموں میں بھی کام کررہی تھیں۔
–
جہاں تک ڈاکٹری کی بات ہے محمد علی جناح کو مت بھولیں جن ہوں نے اپنی بہن مس فاطمہ جناح کو 1923 میں برصغیر کی پہلی خاتون ڈینٹسٹ بنوایا تھا۔ اور نہ صرف ڈاکٹر بنایا بلکہ بمبئی میں پریکٹس کے لئے پورا کلینک سیٹ کرکے دیا۔ مس جناح نے کم و بیش دس سال پریکٹس کی یہ اس زمانے کی بہت بڑی بات تھی۔
بہرحال ماضی میں عورتوں کو لے کر ہر شہر اور ہر مذہب یا عقیدے کے لوگوں اور ہر ریاست میں الگ الگ ماحول تھا
ایک طرف عطیہ فیضی تھیں جو یورپ بھر میں گھومتی پھرتی تھیں مس جناح ڈاکٹر تھیں رشید جہاں اور خورشید جہاں بھی تھیں تو مسلمان خواتین پر اگر پابندیاں تھیں تو آزادیاں بھی تھیں۔
بہتر ہوگا انگریز دور سے موازنہ کرنے کی بجائے آج کی بات کریں اور مزید سہولتیں اور اختیارات کو حاصل کریں کسی کو مشکل میں ڈالے بغیر۔
جب گھی سیدھی انگلی سے نکل سکتا ہو تو خوامخواہ ٹیڑھی کرنے کی کیا ضرورت ہے