جنگ اور اداسی کے دن


گرمی کی رت میں یہ املتاس کے درختوں پر پیلے پھول کھلنے کے دن ہیں۔ چند روز قبل جب گلِ موہر کی سرخ بہار اپنے جوبن پر تھی، تب ہم نے سرحد کی دونوں اطراف جنم لینے والی جنگی کشیدگی کے سبب تشویش، خطروں اور پھر اندیشوں میں گھرے وہ دن بھی دیکھے کہ جن کا ذکر اب تک تاریخ کی کتب یا ادب کے فن پاروں میں پڑھتے آئے تھے، اور پھر جب سیز فائر کے نقارے پر سکون کا سانس لیا تو یہ خیال کہ کیا ہو اگر یہ سکون بھی جز وقتی ہو، ہمیں بے سکون کر دینے کو کافی تھا۔ پھر دو روز قبل ہم سبھی نے اپنے اداروں میں یومِ تشکر منایا، وہ شکر جو امن کے قیام کا تھا، وہ شکر جو اس برتری کا تھا جو ان دنوں ہمیں حاصل ہوئی اور وہ شکر بھی جو اس کم نقصان کا تھا کہ جس کی زیادتی ہمیں ان دنوں ہولائے ہوئے تھی۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ بے چینی، بے یقینی اور بے بسی کے ان دنوں میں جب سرحد کی دوسری طرف خلجان زدہ اذہان پر جنگی جنون سوار تھا، تب ان دونوں خطوں میں بڑھتی جنگی کشیدگی نے امن کی ہر بات کو بے وقعت و بے اثر کر ڈالا تھا۔

سچ پوچھیے تو ان مضطرب دنوں میں دل ان باتوں پہ رنجور و آزردہ تھا کہ امن اور سلامتی کے حصار میں رہنے والی دیگر اقوام عالم ترقی و خوشحالی کی جس معراج پر جا پہنچی ہیں، وہیں یہ دونوں ممالک نفرت و نفاق کی آگ میں خدا جانے کب تک خود کو اور اپنی عوام کو جھلساتے رہیں گے؟ جنگ جو عہدِ حاضر میں کارپوریٹ کلچر کی طاقت اور مفاد کے کاروبار کا مضبوط شاخسانہ ہے، اس کی قیمت ان دونوں ممالک کے معصوم و مظلوم عوام خدا جانے کب تک اپنے لہو کے خراج سے ادا کرتے رہیں گے، اور یہ بھی کہ خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کی ایسی ہولناک قیمت کیسی جاں گسل و صبر آزما ہے۔

ان مضطرب دنوں میں دھیان بٹانے کو ہم نے جانے کیا کچھ پڑھ ڈالا تھا، مگر اس حساس موضوع پر تب بھی کچھ لکھنا دشوار تھا اور اب بھی کچھ کہنا آساں نہیں ہے۔ ان ہی دنوں ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی صاحب کی آزاد نظموں کی کتاب ”جنگ اور اداسی کے دن“ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ یوں لگا جیسے کتنی ہی باتیں ایسی ہیں جو ہمارے اپنے دل کی صدا ہیں، اگر جاننا چاہیں تو نظم ”نیلے موسم کے خواب“ کی فقط یہ چند سطور دیکھیے :

اگر تم ایک ٹینک نہ بناتے
تو میں ایک ہزار فٹبال بناتا
اور ان بچوں میں تقسیم کر دیتا، جن کا ایک پاؤں
پچھلی جنگ میں بچھائی گئی بارودی سرنگ پر آ گیا تھا

پھر ایک اور نظم ”ایک پٹھان کا گیت ملاحظہ کیجیے :

جنگ ہمارا شوق نہیں مجبوری تھی
اگر ہم جنگ سے فارغ ہو گئے
تو اپنے کھیتوں میں سرسوں اگائیں گے
اور محبت کے تیوہار پر
اپنی عورتوں کو پیلے پھول پیش کریں گے

ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی صاحب کی نظموں کو پڑھنے کا یہ ہمارا پہلا تجربہ تھا، جنگ جیسے حساس موضوع پر اٹھائے گئے قلم سے انھوں نے فقط امن کی زبان لکھی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ جنگ انسانی تاریخ کا وہ المیہ ہے، جو دکھ درد کے مزید سانحوں کو جنم دیتا ہے، وہ دنیا کی تاریخ کی بد ترین عالمی جنگوں میں مرنے والوں میں فقط انسانوں کا شمار نہیں کرتے بلکہ اس خطۂ زمیں کی ہر اس زندہ مخلوق کے فنا ہو جانے پر بھی نوحہ کناں ہیں، جو انسان سے بالواسطہ یا بلا واسطہ مشروط ہے۔ وہ درختوں اور پرندوں کے قتلِ عام کا بھی حساب رکھتے ہیں کہ جن کی بربادی کا شمار تاریخ کی کسی کتاب میں درج نہیں ہوتا۔ سات حصوں پر مشتمل طویل نظم ”ایک خواب کے تعاقب میں“ لکھتے ہیں کہ:

پہلی عالمی جنگ میں
بائیس ملین لوگ مارے گئے
(اور متعدد درختوں کا قتل عام ہوا)
دوسری عالمی جنگ میں
گولی، بھوک اور بیماری سے
دنیا کی تین فیصد آبادی ختم ہو گئی
(اس میں پرندے شامل نہیں )
چرنوبل میں ایٹمی پلانٹ دھماکہ ہوا
اموات کی تعداد چار ہزار بتائی جاتی ہے
اعداد و شمار کی گنتی کو معاف کر دیجیے
کمپیوٹر صرف انسانوں کو شمار کرتا ہے

اسی طرح ایک اور نظم ”درختوں کو ڈر نہیں لگتا“ پڑھیے جو ماحول کی ابتری کا درد سمیٹے ہوئے ہے۔

درخت دیکھ سکتے ہیں
گزرے ہوئے
اور آنے والے زمانوں کو
پانچ سو سال پیچھے
اور کئی صدیاں آگے تک
درختوں کی تصویر بنائی جا سکتی ہے
جو The Economist کا ٹائٹل بن سکتی ہے
درخت باتیں کر سکتے ہیں
لیکن حکومتیں ان کی باتیں نہیں سنتیں

فطرت اور قدرت سے قربت و انسیت ان کی نظم کے ہر سوتے سے محبت کی شکل میں پھوٹتی ہے۔ ڈاکٹر آسمان بیلن اوز جان کے لیے تحریر کردہ ایک نظم ”چڑیاں جھوٹ نہیں بولتیں“ میں وہ چڑیوں کے دکھ سکھ کو کچھ یوں بیان کرتے ہیں :

میں بارود، بم اور بندوق کی زبان نہیں جانتا
میں صرف کمپیوٹر، کتاب اور کاغذ کی زبان جانتا ہوں
چڑیاں بادل، بارش اور آندھی کی زبان نہیں جانتیں
لیکن میں چڑیوں کی زبان جانتا ہوں
چڑیاں دکھ بھوگتی ہیں
اور
مجھے اپنی کہانیاں سناتی ہیں

یہ نظمیں زمین پر بسنے والے ہر اس انسان کا نوحہ ہیں جو امن و آشتی کو ترستا ہے مگر زمین کے ازلی دکھ اسے اپنے عہد کے آشوب پرور ہنگاموں اور محرومیوں کے سوا کچھ نہیں دے پاتے۔ نظم ”ہم زمیں زاد“ بھی انسان کے اسی باطنی کرب کا بیان ہے۔

ہم زمین زاد ہیں
(زمیں کے سارے دکھ ہمیں ورثے میں ملے ہیں )
ہم جلتے ہوئے دکھائی نہیں دیتے
مگر جل جل کر جل جاتے ہیں
ہم زمیں زاد ہیں
ہم ٹوٹ کر گرتے دکھائی نہیں دیتے
مگر ٹوٹ ٹوٹ کر گر جاتے ہیں

عہد حاضر کے انسان کی بے گانگی، لاتعلقی اور اجنبیت کو منافقانہ رویوں کی بے حسی میں چھپانے کا بیان ان کی نظموں کا خاصہ ہے۔ نظم ”ہم ایک دوسرے کو کتنا جان سکتے ہیں“ کا یہ حصہ ملاحظہ کیجیے :

خود کو پڑھتے ہوئے
یا ایک دوسرے کا انتظار کرتے ہوئے
رشتوں میں لگے ہوئے پیوند
کسی مشین میں دکھائی نہیں دیتے

ان نظموں کا اختصاص یہ ہے کہ وہ جنگ کو خوش نما بنا کر پیش کرنے سے انکاری ہیں، جاپانی مصنفہ ساکائے سوبائی کی مانند وہ اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ”جنگ فقط نقصان دیتی ہے اور امن خوشیاں لاتا ہے، مگر ہم امن کی قدر نہیں کرتے۔“ وہ جنگ کی ہولناکی کو ٹالنے کے لیے خود کو ہر سمجھوتے اور ہر معاہدے پر آمادہ کرنے کو تیار ہیں۔ دنیائے عالم میں جہاں کہیں بھی ہو، عہد حاضر کی قیامت خیز نیوکلیئر جنگوں ایسے حساس معاملات کی نفی اور امن کا قیام و فروغ ہی ان نظموں کا حاصل ہے۔

ڈاکٹر اورنگزیب نیازی جنگ کے سفاک و بے رحم موضوع پر انسان کی ازلی بے بسی، بے کسی، اداسی و اضطراب کی اس کیفیت میں اپنا واضح دو ٹوک موقف رکھتے ہیں جو دنیائے عالم میں امن و استحکام کی بیش قیمت ضرورت کا خواہاں ہے۔ ڈاکٹر الیاس کبیر صاحب کے بنائے ایسے عمدہ سرورق کے ساتھ ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی صاحب کو ایسی دلگداز و دلگیر نظموں کی اشاعت پر دلی مبارکباد اور نیک تمنائیں۔

Facebook Comments HS