خواب، محبت اور زندگی (23)
ابی کے اسپتال میں داخلے کا مطلب یہ تھا کہ وہ خاندان کی کفالت کی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتے تھے۔ کراچی میں ہماری آمدنی کا کوئی اور ذریعہ بھی نہیں تھا۔ ابی خاندان کے واحد کفیل تھے۔ ظاہر ہے یہ بات ان کے لئے سوہان روح تھی۔ انہیں یہی فکر ستاتی رہتی تھی کہ ہمارا گزارا کیسے ہو گا۔ اس لئے کچھ عرصہ بعد وہ موقع پاتے ہی ہسپتال سے فرار ہو کر گھر آ گئے اور اخبار میں ’ملازمت‘ کے اشتہارات پڑھ کر درخواستیں اور انٹرویوز دینے جانے لگے۔ کبھی کبھی تو وہ ٹیکے چھوڑ دینے کی وجہ سے الٹیاں کرتے ہوئے انٹرویو دینے جاتے تھے۔ راتوں کو نیند بھی صحیح طور پر نہیں آتی تھی، درد بھی ہوتا تھا مگر وہ جانتے تھے کہ گھر کا خرچہ چلانا ان کی ذمہ داری ہے۔ ان کی قوت ارادی شروع سے بہت مضبوط تھی۔ وہ ایک بلند حوصلہ شخص تھے۔ جلد ہی انہیں ایک نئی ملازمت مل گئی گو تنخواہ بہت اچھی نہیں تھی لیکن بری بھی نہیں تھی۔ وہ کام پہ جانے لگے مگر اس کے ساتھ انہوں نے بہتر ملازمت کی تلاش بھی جاری رکھی۔ موجودہ تنخواہ میں بس گزارا ہو جاتا تھا۔
کراچی کی بسوں میں سفر کا تجربہ۔ A Ride Through Chaos
ابی کو ملازمت ملتے ہی امی نے ایک مرتبہ پھر کرایہ کا گھر ڈھونڈنا شروع کر دیا تھا۔ ظاہر ہے محمودہ خالہ کے گھر میں ہم ایک کمرے میں کب تک رہتے۔ جلد ہی وہ کیفے لبرٹی کے سامنے رہائشی عمارتوں میں سے ایک کی چھت پر واقع دو کمرے کا فلیٹ جس کے ساتھ صحن جیسی کھلی جگہ بھی تھی، ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گئیں۔ امی ہمیں پرانی نمائش پر واقع علامہ اقبال اسکول میں داخل کروا چکی تھیں۔ وہاں جانے کے لئے ہمیں 36 نمبر بس میں سفر کرنا پڑتا تھا۔ اس روٹ پر صرف یہی ایک بس چلتی تھی۔ بس اسٹاپ پر کافی دیر انتظار کرنے کے بعد یہ بس ملتی تھی۔ اور رش کا وہ عالم ہوتا تھا کہ پوچھئے مت۔ میں نے کئی مرتبہ بس کے آخری پائیدان پر صرف ایک پاؤں کا پنجہ جما کر اور دروازے کے ہینڈل کو پکڑ کر باہر لٹکتے ہوئے سفر کیا۔
ہم علامہ اقبال اسکول میں سیکنڈ شفٹ میں پڑھتے تھے۔ ایک شام ہم بہن بھائی چھٹی کے بعد پرانی نمائش کے بس اسٹاپ پر کھڑے بس کا انتظار کر رہے تھے۔ پہلے سے بھری ہوئی بس جب اسٹاپ پر آ کے رکی تو میں لیڈیز کمپارٹمنٹ کی طرف دوڑی اور بھائی مردانہ ڈبے کے دروازے کی طرف دوڑے۔ میری اور چھوٹے بھائی امتیاز کی زبردست ٹکر ہوئی اور وہ سڑک پر گر گیا، لیکن میں رکی نہیں، بس بھاگتے ہوئے مڑ کر دیکھا تو وہ پھرتی سے اٹھ کر مردانہ ڈبے کی طرف دوڑ رہا تھا۔ بعد میں برسوں مجھے اپنی اس حرکت پر شرمندگی ہوتی رہی کہ میں اپنے بھائی کے لئے رکی کیوں نہیں۔ وہ ہم میں اس وقت تک سب سے چھوٹا تھا۔ بڑی بہن کی حیثیت سے میں نے اپنی ذمہ داری پوری کرنے کی بجائے خود غرضی کا مظاہرہ کیا تھا جس پر میں نے برسوں دل ہی دل میں خود کو لعن طعن کیا۔
مجھے یاد ہے کہ علامہ اقبال اسکول میں، میں نے ایک ٹیبلو میں بھی حصہ لیا تھا۔ یہ ٹیبلو علامہ اقبال کی مشہور نظم ”ماں کا خواب“ پر بنایا گیا تھا۔ میٹرک میں ہم لڑکیوں کو اردو سر جمیل نے پڑھائی۔ وہ ایک شرمیلے انسان تھے اور لڑکیوں کے سامنے غالب اور میر کے اشعار کی تشریح کرتے ہوئے انہیں مشکل پیش آتی تھی۔ ہر شعر کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ عشق حقیقی کے بارے میں ہے اور شاعر نے یہ شعر خدا کی محبت میں لکھا ہے۔ انہوں نے عشق مجازی کا کبھی حوالہ نہیں دیا۔ میں دل ہی دل میں ان کی تشریح پر جھنجھلاتی تو تھی لیکن کبھی انہیں ٹوکنے کی جرات نہیں کی۔
ابی کی بہتر ملازمت کی تلاش جاری تھی اور جیسے ہی انہیں جلیل برادرز میں ایک بہتر جاب ملی تو ہم عزیز آباد کے ایک بڑے مکان میں شفٹ ہو گئے۔ 1963 میں یہ ایک صاف ستھرا علاقہ ہوا کرتا تھا۔ ایک بلڈرز کمپنی نے ایک جیسے مکان بنا کے نو ہزار میں بیچے تھے۔ عزیز آباد میں پہلی مرتبہ میں نے لوگوں کو بس کے انتظار میں قطار بنائے کھڑے دیکھا جو ہم جیسی انتشار پسند قوم کے لئے انوکھی بات تھی۔ صبح صبح مجھ سے تیسرے نمبر کا بھائی شیراز ابی کی جگہ بس کے لئے لگی ہوئی لمبی قطار میں جا کے کھڑا ہو جاتا تھا۔ قطار آہستہ آہستہ آگے بڑھتی رہتی تھی۔ ابی آرام سے ناشتہ کر کے اخبار پڑھ کر بس اسٹاپ پر پہنچتے تو شیراز ان کے لئے جگہ خالی کر دیتا اور واپس گھر آ جاتا۔
ان ہی دنوں لاہور میں واقع امریکن پیس کور کے دفتر نے پرکشش شرائط کار کے ساتھ ایک ملازمت کا اشتہار اخبارات میں شائع کروایا۔ اس کے لئے پاکستان بھر سے لوگوں نے درخواستیں دیں مگر انتخاب ہوا صرف ابی کا۔ ہم سب نے خوشی خوشی ایک مرتبہ پھر بوریا بستر سمیٹا اور ٹرین میں بیٹھ کر عازم لاہور ہوئے۔ (جاری ہے )


