امن کا دھماکہ


جب دشمن جنگ مسلط کر دے تو ماسوائے مقابلے میں صف آرا ہونے کے اور کوئی گنجائش موجود نہیں رہتی ہے مگر اس کا یہ قطعی طور پر نتیجہ نہیں ہونا چاہیے کہ امن کی خواہش اور اس خواہش کو حقیقی روپ میں دیکھنے کی خواہش کو سرے سے ہی ترک کر دیا جائے۔ اگر ایک فریق صرف اپنی سیاسی زندگی کے لئے پونے دو ارب انسانوں کی زندگیوں سے کھیلنے پر آمادہ ہو جائے تو دوسرا فریق بھی اس کے ہی ڈگر کو اختیار کر لے۔ جنگ اور نفرت سوائے تباہی لانے اور دل خراش داستانوں کے اور کوئی نتیجہ قوموں کے لئے نہیں لاتی ہے۔ ارنسٹ ہیمنگوے معروف ناول نگار تھا اور اس کی وجہ شہرت پہلی جنگ عظیم پر اس کا انیس سو انتیس میں شائع کردہ شاہکار ناول ”اے فیئر ویل ٹو آرمز“ رہا۔ ایک اطالوی فوجی اور برطانوی نرس کی داستان میں پہلی جنگ عظیم کے المیہ کو بیان کر دیا گیا۔ اس ناول پر اٹلی اور نازی جرمنی میں پابندی بھی عائد رہی۔ اس کے چند فقرے مجھے بہت پسند ہیں۔

” The world breaks everyone and afterward many are strong at the broken places. But those that will not break it kills. It kills the very good and the very gentle and the very brave impartially. If you are none of these you can be sure it will kill you too but there will be no special hurry.“

یہ چند فقرے بہت سی تلخ حقیقتوں کو سامنے لے آتے ہیں۔ ذرا چشم تصور میں لائیے کے انڈیا کے پاگل پن کا علاج اگر پہلے روز اور پھر دس مئی کی رات کو نہ کر دیا جاتا اور یہ جنگ خدانخواستہ پھیل جاتی تو اس کے کتنے ہولناک نتائج کا عوام کو سامنا کرنا پڑتا چاہے وہ عوام وطن عزیز کے ہوتے یا سرحد پار کے۔ حالاں کہ انتہائی دکھ ہوتا ہے کہ انڈیا کے عوام کی تربیت اس انداز میں کردی گئی ہے کہ وہ پاکستان کے عوام کی تباہی دیکھنے کے اس حد تک مشتاق ہو چکے ہیں کہ ان کا چہرہ انڈین میڈیا کی جانب سے تیار کی گئی جھوٹ کی فیکٹری جس نے گوئیبلز کو بھی مات دے دی کے وقت بالکل عیاں ہو گیا تھا۔ ان جھوٹی خبروں کو نشر کرنے کا کیا مطلب تھا؟ مطلب بالکل واضح تھا کہ انڈیا کے عوام اپنی ٹی وی سکرینوں پر یہ مناظر دیکھنے کے لئے تڑپ رہے تھے کہ خدانخواستہ پاکستان میں روتی عورتیں، معصوم بچوں کی لاشیں اور تڑپتے انسانوں کی، ان کے وہم و گمان کے مطابق لائن لگ چکی تھی اور اب انڈیا کے عوام اپنی ٹی وی سکرینوں پر اس بے بسی، درندگی کو دیکھ کر لطف اندوز ہونا چاہ رہے تھے۔

یہ انڈیا میں کس قسم کی ذہنیت کو تشکیل دیا جا چکا ہے؟ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس صورت حال کے نتائج مستقبل میں کیا برآمد ہو سکتے ہیں؟ اور یہ کہ کس قسم کے نتائج حاصل کرنے کی غرض سے پاکستان کو اقدامات کرنے چاہئیں۔ پاکستان نے اپنے سفارتی وفود عالمی رائے عامہ کو ہم خیال بنانے کی غرض سے دنیا بھر میں روانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بہت مناسب اقدام ہے اور اس اقدام میں اس بات کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے کہ یہ افراد یہ صلاحیت رکھتے ہو کہ دنیا بھر میں سفارت خانے کی مدد کے بغیر یہ پالیسی میکرز، قانون ساز اداروں کے اراکین اور تھنک ٹینکس سے وابستہ افراد سے ملاقات کر سکیں۔ کیوں کہ اگر ان افراد کو سفارت خانے کی ہی ضرورت ہے تو پھر ان کو روانہ کرنے کا کیا فائدہ ہو گا؟ اپنی یہ تجویز ایک اعلیٰ ترین وفاقی کابینہ کی شخصیت کے سامنے بھی رکھی ہے اور ان سے ذکر کیا کہ ماضی میں جب انڈیا میں نرسمہا راؤ کی حکومت تھی اس وقت انڈیا نے واجپائی کو جینیوا میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن میں روانہ کیا تھا اور ہماری طرف سے بھی افراد گئے تھے مگر پاکستان کو کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کے حوالے سے قرار داد واپس لینی پڑ گئی تھی۔ اس ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے ہمیں سفارت کاری کے میدان میں کوئی کسر نہیں چھوڑنی چاہیے۔

یہ تو فوری نوعیت کے امور ہیں، ایک مستقل نوعیت کی بھی حکمت عملی کو تیار کرنا چاہیے۔ جب انڈیا کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے تھے تو اس سے قبل واجپائی پاکستان کو ”تمیز“ سکھانے کی رکیک گفتگو کر رہے تھے مگر پھر حالات نے پلٹا کھایا اور طاقت کا توازن برقرار رہنے کی وجہ سے ان کو خود چل کر لاہور آنا پڑا اور بد ترین کشیدگی میں سے امن کی جانب قدم بڑھا دیا گیا، اب بھی ایسی ہی کوشش کم از کم پاکستان کی جانب سے ہونی چاہیے تا کہ دنیا دیکھ سکے کہ پاکستان تنازعات کے حل کے لئے کتنا مخلص ہے۔ کیوں کہ اگر امن کا عمل شروع نہ کیا جا سکا تو موجودہ کشیدہ صورتحال بدستور برقرار رہے گی۔

ممکن ہے کہ کوئی اعتراض کرے کہ انڈیا کے تازہ ترین اقدامات کے بعد اور شکست کی وجہ سے انڈیا سے اس وقت امن کے لئے کوئی چینل قائم کرنا نہایت مشکل امر ہے۔ بات درست ہے مگر پاکستان کو ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور اس جنگ کے امکانی نقصانات سے نا صرف وطن عزیز کے عوام کو محفوظ رکھنے کے لئے بلکہ اپنے ہمسائے کی پرجا کو بھی کسی ہولناک صورت حال سے محفوظ رکھنے کے لئے ہر سعی بروئے کار لانی چاہیے۔ پاکستان نے اب بھی صرف فوجی تنصیبات پر حملہ کر کے اس بات کا ثبوت فراہم کیا ہے کہ پاکستان سول آبادی کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا۔ لیکن اس سب کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ انڈیا اپنی اس تازہ شکست سے بہت پیچ و تاب کھا رہا ہے اور خیال یہ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان سے جنگ کے دوران جو اس کی کمزوریاں عیاں ہوئی ہیں وہ ان پر قابو پا کر بہت جلدی جو کہ اگلے انڈین عام انتخابات سے قبل کا وقت ہو گا دوبارہ اسی قسم کی جنونیت دکھا دے گا اور بے جے پی کو اگلے عام انتخابات میں شکست سے کوئی ایسا ہی ایڈونچر بچا سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ برصغیر تک ہی معاملہ محدود نہیں رہے گا کیوں کہ پاکستان بھی اب ہر وقت تیاری کی حالت میں رہے گا۔ اگر انتخابات میں کامیابی کی سوچ سے بلند ہو کر سوچا جائے تو کشیدگی کی انتہا ہی مذاکرات کی میز پر لے کر آتی ہے اور اب اس وقت موقع موجود ہے کہ امن کا دھماکہ کر دیا جائے۔

Facebook Comments HS