افغان، بھارت روابط! بھارت کی نئی جنگی حکمتِ عملی؟
6 اور 7 مئی کی درمیانی رات سے 10مئی کی دوپہر تک جنگی جھڑپیں تو بھارت اور پاکستان کے مابین جاری رہیں۔ میری تمام تر توجہ کا مرکز لیکن امریکی صدر ٹرمپ رہا۔ 7 مئی کے روز اسے جب پاکستان کے تین اہم شہروں میں واقع مساجد اور مدارس پر میزائل حملوں کی خبر ملی تو کیمروں کے روبرو کندھا اچکاتے ہوئے موصوف نے کمال بے اعتنائی سے اس خیال کا اظہار کیا کہ مذکورہ حملوں کے ذریعے بھارت نے "Tit for Tat”کر دیا ہے۔ گویا پہلگام پر ہوئے دہشت گرد حملے کا بدلہ لے لیا۔ اس کی دانست میں ’’ادلے کا بدلہ‘‘ ہو جانے کے بعد دونوں ممالک کو اب مزید جھڑپوں میں الجھنے کے بجائے مذاکرات کی جانب بڑھنا چاہیے۔
موصوف کا یہ بیان مجھے سخت ناپسند آیا۔ حیران ہوا کہ "Tit for Tat” کہتے ہوئے اس نے درحقیقت اس بھارتی الزام کو درست قرار دیا ہے کہ پہلگام میں دہشت گردی کا ذمہ دار پاکستان تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ مذکورہ الزام کی مسلسل تکرار کے باوجود آج تک بھارت نے دنیا تو گئی بھاڑ میں اپنے عوام کے روبرو بھی ایسے ثبوت پیش کرنے سے گریز کیا جو کسی نہ کسی صورت یہ سوچنے کو مجبور کریں کہ پاکستان پہلگام میں ہوئی واردات کا ذمہ دار ہے۔ جو الزام بارہا دہرایا گیا اس کے جواز میں پاکستانی فوج کے سربراہ کی وہ تقریر ہی دہرائی جاتی رہی جو انہوں نے غیر ملکوں میں مقیم پاکستانیوں کے اسلام آباد میں ہوئے ایک اجتماع کے دوران کی تھی۔ اس خطاب کے ذریعے دو قومی نظریہ کی مبادیات کو پرجوش انداز میں دہرایا گیا تھا۔ کشمیر کے بارے میں پاکستان کے تاریخی موقف کا ذکر بھی ہوا۔ مذکورہ خطاب میں لیکن ایک بھی ایسا فقرہ نہیں تھا جو یہ عندیہ دے کہ پاکستان اپنی شہ رگ کی خاطر ’’جلد ہی‘‘ کچھ کرنے کو بے تاب ہے۔ آرمی چیف کے خطاب کو البتہ سیاق وسباق سے ہٹاکر پہلگام حملے سے جوڑ دیا گیا۔
پاکستان کے خلاف الزام تراشی کے باوجود بھارتی حکومت کا فرض تھا کہ پہلگام واقعہ کے جھوٹے یا سچے ذمہ داروں کو اپنے عوام کے روبرو پیش کرتی۔ ان سے لئے ’’اعترافی بیانات‘‘ 6 اور 7 مئی کی درمیانی رات ہوئے حملوں کا جواز فراہم کر سکتے تھے۔ ابتداََ مذکورہ حملے کی ذمہ داری The Resistance Front (محاذ برائے مزاحمت) کے سرتھونپ دی گئی۔ چار افراد کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ ان میں سے دو مقامی اور دو پا کستانی بتائے گئے۔ پہلگام یقینا نہایت خوب صورت مگر دشوار گزار پہاڑی گھاٹی ہے۔ پاکستان کو کشمیر سے ملانے والی لائن آف کنٹرول سے لیکن سینکڑوں میل کے فاصلے پر ہے۔ دہشت گردی کے ذمہ دار افراد جن کی تصاویر دکھائی جارہی تھیں بھارتی ریاست کے تمام تر وسائل کے بھرپور استعمال کے ذریعے گرفتار کئے جاسکتے تھے۔ ہمیں مگر بتایا گیا کہ دہشت گرد غاروں میں رہنے کے عادی ہیں اور پہلگام کے چپے چپے سے واقف ہیں۔ کہانی میں پنجابی محاورے والا ’’میٹھا‘‘ ڈالنے کے لئے دعویٰ یہ بھی ہوا کہ دہشت گرد چینی ساختہ ’’الٹرا(Ultra)‘‘ فون استعمال کر رہے ہیں۔ یہ سیٹلائٹ فون کا جدید ترین ورڑن ہے اور اس کے ذریعے ہوئی گفتگو کو انٹرسپٹ کرنا ممکن نہیں۔ پاکستان کے ساتھ گویا چینی ٹیکنالوجی کو بھی دہشت گردی کا ساجھے دار بنا دیا گیا۔
امریکی صدر تفصیلات میں نہیں الجھا۔ ’’ٹِٹ فارٹیٹ‘‘ کے بعد جنگ بندی کو مصر رہا۔ حالانکہ پہلگام پر ہوئے حملے کے فوری بعد اس نے حیران کن انداز میں خود کو اس کے اثرات سے لاتعلق بنا لیا تھا۔ جوش خطابت میں یہ بھی کہہ دیا کہ پاکستان اوربھارت کو تقریباََ ایک ہزار سال سے ’’ایک دوسرے سے‘‘ لڑنے کی عادت ہے۔ بہتر یہی ہے کہ وہ پہلگام پر ہوئے حملے کے نتیجے میں پیدا ہوئی کشیدگی کو خود ہی سنبھالیں۔ اس کے چہیتے نائب صدر نے بھی بھارت کے نجی دورے کے بعد ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا۔
9 مئی کی رات سے پاکستان کی جانب سے جوابی حملوں کے بعد مگر ٹرمپ اور وینس بقول ان کے رات بھر سوئے نہیں۔ نائب صدر وینس نے بھارتی وزیر اعظم سے طویل گفتگو کی۔ امریکہ کا وزیر خارجہ مارکوروبیو جو ٹرمپ کا مشیر برائے قومی سلامتی بھی ہے اپنے ہم منصب سیاسی اور عسکری حکام سے مسلسل رابطے میں رہا۔
بھارت یہ دعویٰ کئے چلا جا رہا ہے کہ اس نے ٹرمپ کے ’’حکم پر‘‘ جنگ بندی نہیں کی ہے۔ جنگ بندی کی ’’فریاد‘‘ مبینہ طور پر پاکستان سے آئی تھی جو براہموس میزائل سے گھبرا گیا۔ دس مئی سے رات گئے تک بھارتی مبصرین کے لکھے مضامین نہایت غور سے پڑھ رہا ہوں۔ یوٹیوب پر چھائے بھارتی داستان سازوں کو بھی غور سے سننے میں مصروف رہا۔ اوسطاََ 20 کے قریب مبصرین اور داستان سازوں کی گفتگو نہایت توجہ سے گھنٹوں سننے کے باوجود میرا کند ذہن یہ طے کرنے میں ناکام رہا ہے کہ بھارت پاکستان کی مبینہ ’’فریاد‘‘ پر فراخ دلی کو آمادہ کیوں ہوا۔
دس مئی کے بعد ٹرمپ کی جانب سے بھارتی حکومت ہی نہیں دنیا کوبھی مسلسل یاد دلایا جا رہا ہے کہ جنوبی ایشیا کے دو ازلی دشمنوں کے درمیان ممکنہ ایٹمی جنگ اس نے رکوائی ہے۔ دنیا مگر اس کی اس ضمن میں ہوئی کوششوں کو کماحقہ انداز میں سراہ نہیں رہی۔ بھارت نے اس کے جواب میں خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ ایسی ہی خاموشی مودی حکومت نے ان دنوں بھی اپنائے رکھی جب سابق وزیر اعظم عمران خان کو وائٹ ہائوس بلا کر ٹرمپ نے 2019ء میں یہ ’’انکشاف‘‘ کیا تھا کہ بھارتی وزیر اعظم نے جاپان کے شہر اوساکا میں اس کے ساتھ تنہائی میں ہوئی ایک ملاقات کے دوران مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ثالثی کی فرمائش کی تھی۔ بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے ٹرمپ کی جانب سے ہوئے دعویٰ کی تردید کے لئے محض چند سطری جواب منظر عام پر لایا گیا۔ اس کے بعد خاموشی چھا گئی اور بھارت نے نہایت مکاری کے ساتھ اپنی افواج کو سری نگر بھجوانا شروع کر دیا۔ پوری تیاری کر لینے کے بعد 5 اگست 2019ء کو بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے خاتمے کا اعلان ہوا۔ تاریخی ریاست جموں وکشمیر کی ’’خصوصی حیثیت‘‘ ختم کر کے لداخ کو اس سے الگ کر دیا گیا۔ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد مقبوضہ علاقوں کو ’’یونین ٹیریٹری‘‘ ٹھہرا کر براہ راست دلی کی نگرانی میں چلایا گیا۔ کئی مہینوں تک انٹرنیٹ کی بندش سے کشمیری خود کو دنیا کی وسیع تر جیل میں محصور محسوس کرتے رہے جہاں ہر قدم پر پولیس کے ناکے جامہ تلاشی کی تذلیل سے گزارنے کے بعد انہیں آگے بڑھنے دیتے تھے۔
ٹرمپ کی جانب سے ’’ثالثی‘‘ کے ذکر کے بعد 5 اگست 2019ء کے روز ہوئی کارروائی کو ذہن میں رکھتے ہوئے میرے دل و دماغ جمعہ کی دوپہر سے اس سوال کا جواب ڈھونڈنے میں مصروف ہیں کہ اب کی بار ٹرمپ کی جانب سے ایٹمی جنگ رکوانے کے دعویٰ کو ’’جھوٹا‘‘ ثابت کرنے کے لئے بھارت کیا چال چل سکتا ہے۔ دریں اثناء یہ خبریں منظر عام پر آئی ہیں کہ افغانستان کے ’’امیر المومنین‘‘ کے بہت قریب تصور ہوتے افغان نائب صدر نے بھارت کا خفیہ دورہ کیا ہے۔ گزرے ہفتے کے وسط میں عمر تمام سفارت کاری میں گزارنے کے باوجود رعونت کے عادی وزیر خارجہ نے افغانستان کے وزیر خارجہ کوازخود فون کیا۔ اس امر پر طالبان حکومت کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے پہلگام میں ہوئی دہشت گردی کی ’’مذمت‘‘ کی ہے۔ گویا شاعری والے ’’صنم خانے‘‘ سے بھارت کو دہشت گردی کے خلاف ’’پاسبان‘‘ مل چکے ہیں۔
بھارت افغان روابط یہ سوچنے کو مجبور کر رہے ہیں کہ اب کی بار براہ راست پاکستان کی جانب میزائل پھینکنے کے بجائے بھارت افغانستان میں پناہ گزین پاکستان مخالف عناصر کی کھلے عام پشت پناہی کو ترجیح دے گا۔ ان کے ذریعے دہشت گردی ہی نہیں بلکہ چند ایسے واقعات بھی کرائے جا سکتے ہیں جو فرقہ واریت کو بھڑکائیں اور دنیا کو یہ پیغام دیں کہ پاکستان میں محض ایک مخصوص نقطہ نظر کے حامل ’’مسلمان‘‘ ہی محفوظ ہیں۔ حقائق سے قطعاََ لاعلم ہونے کی وجہ سے میں بالآخر غلط ثابت ہونے کی دْعا ہی مانگ سکتا ہوں۔ اتوار کی رات بلوچستان کے قلعہ عبداللہ میں اگرچہ دہشت گردی کی ایک بڑی واردات ہو چکی ہے۔
(بشکریہ نوائے وقت)


