نوزائیدہ بچّوں کے مسائل: دودھ اور غذا کا استعمال


دنیا کی کوئی مخلوق ایسی نہیں ہے جسے پیدا ہوتے ہی خوراک کی ضرورت نہ پڑتی ہو۔ پیدا ہوتے ہی ہر مخلوق کو اپنے لئے خوراک تلاش کرنی پڑتی ہے سوائے دودھ پلانے والے جانوروں کے۔ یہ قدرت کا ایک انتظام ہے کہ بچّے کی پیدائش سے پہلے ہی اس کے لئے اس کی ماں کے پاس دودھ موجود ہوتا ہے جو اس کی غذائی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ اس کے بچّے کو اپنی خوراک کے لئے کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ہر جانور کا دودھ اس کے بچّے کی غذائی ضروریات کے مطابق اپنی ساخت میں مختلف ہوتا ہے۔ اسی طرح انسانی دودھ اپنی ساخت میں انسانی بچّوں کی ضرورت کے مطابق ہوتا ہے جو جانوروں کے دودھ سے مختلف ہوتا ہے اور اس کی تمام ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ ماں کا دودھ نوزائیدہ بچّوں کے لیے بہترین ابتدائی غذا ہے۔ انسانی دودھ انسانی بّچوں کے لئے بنا ہے۔ جانوروں کا دودھ جانوروں کے بچّوں کے لئے بنا ہے۔ انسان اکثر جانوروں کے دودھ کا استعمال کرتے ہیں کیونکہ یہ ضرورت سے زیادہ مقدار میں پیدا ہوتا ہے، جو ان جانوروں کے بچّوں کی ضرورت سے کئی گنا زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن جانوروں کا دودھ کبھی بھی انسانی بّچے کے لئے مناسب نہیں ہوتا۔ تاہم اگر ضرورت ہو اور اس کے سوا کوئی چارہ نہ ہو تو جانوروں کا دودھ کچھ ترمیم اور تبدیلیوں کے بعد انسان اسے اپنے نوزائیدہ بچّوں اور دوسرے بچوں کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔ ماں کے دودھ کے بے شمار فوائد ہیں اور یہ بّچے کے لئے کبھی بھی نقصان دہ نہیں ہوتا، سوائے چند مخصوص حالات کے۔ پیدائش کے بعد جتنی جلدی ممکن ہو یا پیدائش کے پہلے گھنٹے کے اندر بچّے کو ماں کا دودھ دیا جانا چاہیے۔ کولوسٹرم (Colostrum) ، جو پہلا دودھ ہوتا ہے، اکثر پھینک دیا جاتا ہے۔ لیکن یہ بّچے کے لئے انتہائی اہم اور مفید ہوتا ہے۔ کولوسٹرم میں اینٹی باڈیز ہوتی ہیں جو انفیکشن کو روکتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ قبل از وقت پیدا ہونے والے بچّوں میں ہونے والی آنتوں کی بیماری جسے ”انٹروکولائٹس“ (Enterocolitis) کہا جاتا ہے کو روکنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے، ماں کا دودھ نوزائیدہ بچّوں کے لئے بہترین غذا ہے۔ نوزائیدہ بچوں کو دودھ پلانے کے لئے ماں کا دودھ بہترین انتخاب ہے جب تک کہ متبادل دودھ استعمال کرنے کی کوئی خاص اور ضروری وجہ نہ ہو بچّہ کو صرف ماں کا دودھ ہی دینا چاہیے۔ ماں کے دودھ کے فوائد بہت زیادہ ہیں اور نقصانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اکثر یہ شکایت سننے کو ملتی ہے کہ ماں کا دودھ کافی مقدار میں نہیں بن رہا۔ لیکن یہ بتانا بھی بہت ضروری ہے کہ ماں کا دودھ کبھی بھی ناکافی نہیں ہوتا۔ کیونکہ نوزائیدہ بّچے میں دودھ کی ضرورت زندگی کے پہلے دن بہت کم ہوتی ہے اور اگلے چند دنوں میں اس ضرورت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی طرح ضرورت کے مطابق ماں کے دودھ کی پیداوار بھی بڑھتی جاتی ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ ماں کا دودھ اس کے پلانے کے دوران بنتا ہے۔ بّچے کی طرف سے چھاتی کو چوسنا دودھ کے بننے کا سبب بنتا ہے، جب تک بچّہ چھاتی کو چوستا رہتا ہے دودھ بنتا رہتا ہے۔ اگر بچّہ چھاتی کو نہیں چوستا تو دودھ بھی نہیں بنتا یا کم بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چوسنا بہت ضروری ہے۔ جب بّچے کا منہ ماں کی چھاتی سے مناسب طریقے سے منسلک ہوتا ہے تو اس کا نتیجہ ایک ریفلکس (Reflux) کی صورت میں نکلتا ہے۔ اس ریفلکس کی وجہ سے دودھ بنّا شروع ہو جاتا ہے۔ اگر ریفلکس نہ ہو تو دودھ کی پیداوار کم سے کم ہوتی ہے۔ اس لئے بچّے کو صحیح طرح سے چھاتی سے لگانا بہت ضروری ہوتا ہے تاکہ دودھ زیادہ سے زیادہ بن سکے۔

اس کے علاوہ بّچے کے رونے کی وجہ سے بھی یہ سمجھا جاتا ہے کہ ماں کا دودھ ناکافی ہے۔ لیکن بچّہ کے رونے کی وجہ دودھ کی کمی یا صرف بھوکا ہونا ہی نہیں ہوتا۔ بّچے کے رونے کی دیگر کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں پیٹ کا درد، کپڑوں کا گیلا ہونا وغیرہ شامل ہیں۔ البتّہ ایسے کئی طریقے ہیں جن کے ذریعہ ماں کے دودھ کی کمی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ لیکن دو عملی طریقے بہت مفید ہیں۔ سب سے پہلے پیشاب کی مقدار ہے۔ اگر بچّہ مناسب طریقے سے پیشاب کر رہا ہے تو دودھ کی کوئی کمی نہیں ہے۔ اکثر روزانہ تبدیل ہونے والے ڈائپرز کی تعداد سے اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ دوسرا طریقہ وزن میں اضافہ ہے۔ اگر بّچے کا وزن صحیح طور پر بڑھ رہا ہے تو ماں کا دودھ کافی ہے۔ عام طور پر بّچے میں پہلے پانچ مہینوں کے دوران روزانہ 20 گرام یا ماہانہ 600 گرام اور پھر ایک سال کی عمر تک 500 گرام ماہانہ کے حساب سے وزن بڑھتا ہے۔ اگر وزن میں اضافہ کافی ہو تو دودھ کی کمی نہیں ہوتی۔ اس لئے بّچے کے رونے کی وجہ سے اسے اوپر کا دودھ دینے کے بجائے اس کے رونے کی وجہ معلوم کرنے کوشش کرنی چاہیے۔

ماں کے دودھ کے فوائد

ماں کے دودھ کے فوائد بہت زیادہ ہیں۔ ان فوائد کو تفصیلاً بیان کرنا مشکل ہے۔ لیکن چند اہم فوائد یہ ہیں :

1۔ ماں کے دودھ کی ساخت ایسی ہوتی جو بچّے کے لئے بہترین ہوتی ہے۔ اس کی چھ ماہ کی عمر تک کی تمام غذائی ضروریات کو پورا کرتی ہے۔ اس میں پائی جانے والی پروٹین بچّے کے لئے زود ہضم ہوتی ہے۔ یہ پروٹین گائے کے دودھ میں پائی جانے والی پروٹین سے مختلف ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ماں کے دودھ میں پایا جانے والا کیلشیم بھی آنتوں کے ذریعہ خون میں زیادہ مقدار میں جذب ہوتا ہے جب کہ گائے کے دودھ میں پایا جانے والا کیلشیم مقدار میں زیادہ ہونے کے باوجود کم مقدار میں جذب ہوتا ہے کیونکہ گائے کے دودھ میں فاسفورس بھی نسبتاً زیادہ ہوتا ہے اور وہ کیلشیم کو جذب ہونے سے روکتا ہے۔

2۔ ماں کے دودھ پر پلنے والے بچّوں میں پیٹ میں درد یا کولک ”نسبتاً  کم ہوتا ہے۔ اس طرح والدین بھی سکون محسوس کرتے ہیں۔

3۔ ماں کا دودھ پینے والے بچّوں میں جراثیمی بیماریاں یعنی انفیکشن بھی کم ہوتے ہیں۔ خاص طور پر ان میں اسہال کی بیماری بھی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ اور ان میں اموات میں بھی بہت کم ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ سانس کھانسی اور نمونیا کی بیماریاں بھی بہت کم ہوتی ہیں۔ اس طرح سے ماں کا دودھ پینے والے بچّوں میں عمر کے پہلے سال میں ہونے والی شرح اموات میں خاصی کمی نظر آتی ہے۔

4۔ ماں کے دودھ پر پرورش پانے بچّوں کی نشو و نما مناسب ہوتی ہے۔ نہ تو وہ غذائی کمی کا شکار ہوتے ہیں اور نہ ہی موٹاپے کے۔ البتّہ انہیں وٹامن اور فولاد کی ضرورت پڑ سکتی ہے اگر ان کی ماں میں ان اجزاء کی کمی ہو۔

4۔ چونکہ ماں کا دودھ پینے والے بچّوں کا وقت اپنی ماں کے ساتھ زیادہ گزرتا ہے ان میں آپس میں محبّت کا گہرا رشتہ استوار ہو جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے تمام عمر کے لئے نفسیاتی اور جذباتی رشتہ قائم رہتا ہے۔

5۔ ان کے علاوہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ماں کا دودھ ہر وقت مہیّا ہوتا ہے۔ اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ماں کا دودھ مفت میں ملتا ہے لیکن ایسا نہیں ہے۔ کیونکہ ماں کو اضافی صحت مند غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسے اپنی صحت برقرار رکھنی ہوتی ہے اور یہ اضافی غذا مفت نہیں ملتی۔

ماں کا اپنا دودھ نہ پلانے کی ممکنہ وجوہات اور ان کا حل:

ایسی بہت کم وجوہات ہیں جن میں ماں کا دودھ بچّوں کے لئے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ زیادہ تر ماؤں کے دوائیں لینے کی وجہ سے بچہ کو ماں کا دودھ پلانا بند کر دیا جاتا ہے۔ بہت کم دوائیں ایسی ہیں جو ماں کے دودھ کے ذریعے بچّے کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ اگرچہ ماں کے دودھ میں دوائیں پہنچ سکتی ہیں لیکن ان کی مقدار اتنی کم ہوتی ہے کہ اس سے بچّے پر کوئی خاص نقصان دہ اثر نہیں پڑتا۔ وہ دوائیں جو ماں کے دودھ کے ذریعے بّچے کو نقصان پہنچا سکتی ہیں ان میں اینٹی کینسر، اینٹی تھایئرائیڈ اور اینٹی اپیلیپٹک (برائے مرگی ) ادویات شامل ہیں۔ اینٹی بایوٹکس، اینٹی الرجی، درد دور کرنے والی ادویات، کھانسی اور زکام وغیرہ کی دوائیں عام طور پر بچّے کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتیں۔

ان کے علاوہ بّچوں یا ماؤں میں کچھ بیماریاں بھی ہو سکتی ہیں جن میں ماں کا دودھ بچّے کے لئے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اس طرح کی بیماریوں میں بچّوں میں میٹابولک بیماریاں شامل ہیں جیسے گیلاکٹوسیمیا (Galactosemia) ، یا ماں میں ذہنی بیماریاں وغیرہ۔

اس کے علاوہ ماؤں کا دفاتر میں کام کرنا بھی بچّے کو دودھ پلانے میں رکاوٹ کا سبب بنتا ہے۔ لیکن اس پر قابو پانا مشکل نہیں ہے۔ اس کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ ماں دفتر جانے سے پہلے اپنا دودھ نکال کر رکھ جائے جو اس کی عدم موجودگی میں بچّہ کا خیال رکھنے والے افراد پلا سکتے ہیں۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اکثر دفاتر میں ڈے کیئر مراکز ہوتے ہیں جہاں ماں وقفہ وقفہ سے جا کر اپنے بچّے کو دودھ پلا سکتی ہے۔

البتّہ جو ما‏ئیں بوجوہ اپنا دودھ نہیں پلا سکتیں اور انہیں ڈبّہ کا دودھ مجبوراً یا اختیاری طور پر پلانا ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں کیا کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔ اس کے علاوہ ٹھوس غذا کب اور کیسے دینی چاہیے یہ ہم اگلے مضمون میں بیان کریں گے۔

(یہ مضمون میری کتاب ”میں اور میرا بچّہ“ سے ماخوذ ہے )

Facebook Comments HS