ابھرتا ہوا ستارہ
ہم نے آندھی میں چراغوں کو جلائے رکھا
اور بہر طور چراغوں کی حفاظت کی ہے
جب کبھی ظلم ہوا ہے کہیں انسانوں پر
ہم نے ہر ظلم کی پرزور مذمت کی ہے
آج کی تحریر اس ابھرتے ہوئے ستارے کے نام جس کا عقیدہ، مذہب، عشق اور جنوں صرف اور صرف انسانیت ہے۔ جس کا جذبہ اس کی شاعری اور لگن اس کا کام ہے۔ وہ کوئی بھی کام کرتا ہے پوری ایمانداری اور دل کی لگن کے ساتھ کرتا ہے۔ اس کا تعلق اس لشکر قلیل سے ہے جو ظلم اور ظالم کے خلاف اپنی شاعری کے ذریعے جہاد کر رہا ہے۔ آج کی کہانی اس ستارے کی کہانی ہے جس کی کہکشاں میں ہزاروں ستارے اور سورج اس مدمقابل ہیں لیکن اتنے سخت آزمائشوں، یتیمی اور پسماندگی کے باوجود اس ستارے نے اپنی ایک جداگانہ شناخت بنائی۔ مجھے اس پر فخر ہے بلکہ یہ تحریر پڑھنے کے بعد ہر شخص اس پر فخر کرے گا اس نے زمانہ طالب علمی ہی سے تمام سہاروں اور بیساکھیوں کے بجائے اپنی ذات پہ بھروسا کرتے ہوئے اپنی منزل کو اپنا سفر بنا لیا۔ میں ذاتی طور پہ گواہ ہوں بلکہ عینی شاہد بھی ہوں یہ شخص انتہائی با غیرت اور خوددار ہے جو کسی سے کوئی سوال کرنا بھی اپنی توہین سمجھتا ہے وہ کیسے اپنے مستقبل کے لیے کسی سہارے کا طلبگار ہو گا۔ میری آج کی کہانی ہے وسیم عباس کے نام جس کا تعلق ضلع ہری پور سے ہے علم و تدریس اور ادبی حلقوں میں اپنا ایک جداگانہ مقام رکھتا ہے۔ جیسا کہ آج کے دور میں کئی معروف نوجوانوں کو دیکھا ہے جو انتہائی غیر سنجیدہ ہوتے ہیں لیکن وسیم عباس وہ واحد نوجوان ہے جس کے کردار، گفتار میں سنجیدگی، بلوغت، اپنی مٹی اور نظریات سے جڑت نظر آتی ہے۔
سائنسی تجربے ہوتے رہے مغرب میں وسیم
اور مشرق میں ترقی کی دعا ہوتی رہی
وسیم عباس جو اس معاشرے میں پائی جانے والی عدم مساوات کا شکار تھا اس نے نہ صرف ذاتی سطح پر اس کے خلاف بغاوت کی بلکہ اجتماعی سطح پر بھی ایک انتہائی توانا آواز ہے۔ یہ بات سن 2011 کی ہے جب وسیم عباس اور میں نے مل کر سہ ماہی ادبی رسالے سخن صنوبر کا اجراء کیا میں نے اس وقت پہلی دفعہ وسیم میں جو انرجی کسی مقصد کے لیے دیکھی تھی وہی جذبہ اور لگن آج 14 سال بعد بھی اس کے اندر پایا جاتا ہے۔ بچپن میں باپ کے سائے سے محروم ہونے کے بعد عین نوجوانی میں ماں کی ممتا سے محروم ہو جانے والے وسیم عباس کے اندر اس معاشرے میں پائے جانے والے ہر مظلوم اور یتیم کے لیے ایک خاص قسم کا درد پایا جاتا ہے۔ گورنمنٹ کالج میں کوئی بھی ادبی یا سیاسی سرگرمی ہو وسیم ہمیشہ صف اول میں پیش پیش رہتا ہے۔ وسیم عباس اپنی تدریسی مصروفیات کے علاوہ ایک بہت اچھا خطاط بھی ہے۔ میرے لیے یہ انتہائی مشکل ہے کہ صرف ایک تحریر میں وسیم عباس کی زندگی کو سمو سکوں۔ ہر شعر ہر لفظ وسیم کی زندگی کی ترجمانی کرتے نظر آتے ہیں۔ میں یہ جانتا ہوں کس طرح وسیم عباس نے اپنے چھوٹے چھوٹے سپنوں کا گلا گھونٹ کر اپنے بڑے مقصد کے لیے منزل کی جانب گامزن ہے۔
دامن شب میں کئی خواب مرے دفن ہوئے
تب کہیں جا کہ مرا رت جگا زرخیز ہوا


