مثالی ٹیچر کی پہچان
میں اکثر سوچتا ہوں کہ کہ میں کیوں سوچتا ہوں، میں لوگوں سے ملتا ہوں، جانتا ہوں، مجھے گفتگو کرنے کا شوق ہے، میں اجنبیوں سے بھی گفتگو کرتا ہوں، مجھے نئے لوگوں سے ملنا بھی پسند ہے اور میں پہل بھی کرتا ہوں، لیکن کبھی کبھار اندر سے آواز آتی ہے کہ شاید یہ بہتر نہیں ہے، یا شاید گفتگو کرنا ہی نہیں چاہیے بہرحال مجھے یہ آواز مسلسل یاد دہانی کرواتی ہے کہ اپنا سکون اپنے اندر ہی پوشیدہ ہے اور تم اسے باہر تلاش کر رہے ہو۔ میں کبھی اکثر خودکلامی کرتے ہوئے اپنے آپ کو بتاتا، سمجھاتا رہتا ہوں کہ اگر تم سکون چاہتے ہو، تو بس وہی بن جاؤ جیسے سب ہیں۔ مت سوچو، مت سوال کرو، مت انوکھا بنو۔ انفرادیت، انوکھا پن، سوال کرنا، سوچنا، ماضی میں جھانکنا اور دنیائے تاریخ کا مطالعہ کرنا، نئی نئی کتب پڑھنا ایک خطرناک بیماری ہے جس کا علاج سماج نے عرصہ پہلے بھیڑ چال کی صورت میں دریافت کر لیا ہے۔ اس سکون کے لیے اپنی سوچ کو تالا مارو، عقل کو لات مارو اور چابی معاشرے کے خوشبودار تالاب میں پھینک دو۔ تب ہی تمہیں عزت بھی ملے گی، قبولیت بھی، اور شاید ایک دن سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کی سعادت بھی مل جائے۔ اپنی آنکھیں بند کرو اور وہی دیکھو جو سب دیکھ رہے ہیں، جو چیزیں زیادہ بکتی ہیں، وہی سچ ہیں، وہی خریدو جو مل رہا ہے وہی بیچو جو بِک رہا ہے، جو نظریات زیادہ مقبول ہیں، وہی حق ہیں، وہی سچ ہیں۔ تمہارا کام بس یہ ہے کہ خود کو ایک اسٹاک آئٹم کی طرح ڈھال لو جیسے ویڈیو میں تصاویر شامل کرنے کے لیے سٹاک تصاویر ویب سائٹ پر ملتی ہیں۔ اپنی زبان کو اور پھر خیالات کو فلٹر کر لو تاکہ کوئی نیا خیال، کوئی مختلف بات اس سے نہ نکلے پائے۔ کیونکہ جیسے ہی تم نے کچھ نیا کہا، لوگ تمہیں پاگل، احمق، یا باغی کہیں گے، یا پنجابی میں کہیں گے وڈا آیا اے، سانوں دسدا ہے، ہو سکتا ہے لوگ طنز کریں، مذاق بھی اڑائیں، فیس بُکی دانشور کہیں، فراڈیا، بہروپیا کہیں۔ تو کیوں اپنے آپ کو اتنا ہلکان کرنا، کرو موج تم بھی بہتی گنگا میں، جیسے سب کر رہے ہیں، اور ظاہر ہے، یہ سب خوبصورت القابات سکون کے دشمن ہیں۔
مختلف سوچ، سوچنا تو سیدھی سماج سے بغاوت ہے۔ روز اپنے آپ کو سمجھاتا ہوں کے تمہیں حق نہیں کہ تم اپنی عقل استعمال کرو، وہ کام تو مفکرین، فلاسفرز اور انقلابیوں کے لیے ہوتا ہے، جنہیں تاریخ نے سولی، جلاوطنی یا گمنامی دی۔ تم کیوں وہ راستہ چنو جس میں کانٹے ہوں؟ سیدھی سڑک پر چلو، جہاں سب چل رہے ہیں، اطمینان سے، بغیر کسی الجھن کے، خوف کے، پریشانی کے۔ اس لیے اپنی تخلیق کی خواہش کو مار دو، کوئی شعر نہ کہو، لکھو تو پوسٹ نہ کرو، کچھ ادبی و دبی نہ لکھو ورنہ بے ادب کہلاؤ گے، تنقید نہ کرو، تنقیدی سوچ نہ سوچو، نئی بات نہ کہو نہ سنو۔ ویسے بھی مجھے کیا حق ہے کہ کسی نئی دنیا کی بات کروں جب پرانی دنیا اتنی حسین اور خوبصورت ہے؟ یہ کام تم اوروں پر چھوڑ دو تمہاری بڑی مہربانی ہو گی۔ بہتر ہے تم وہی قوالیاں دہراتے رہو جو پہلے ہی ہزاروں بار کہی جا چکی ہیں۔ آسکر وائلڈ لکھتے ہیں کہ ایک بشپ اسی بات کو دہراتا رہتا ہے جو اسے اٹھارہ برس کی عمر میں سکھائی گئی تھی، جب وہ اسیّ ( 80 ) برس کا ہو چکا ہوتا ہے۔ اور قدرتی طور پر، اسی وجہ سے وہ ہمیشہ بالکل خوش باش اور دلکش نظر آتا ہے، تو تمہیں کیا ضرورت ہے جلدی بوڑھا ہونے کی؟
بس اپنی زندگی کو ایک خوبصورت اشتہار بنا لو، وہی پہنو جو مارکیٹ میں ہے، وہی کھاؤ جو سب کھاتے ہیں، وہی خواب دیکھو جو ٹی وی پر دکھائے جاتے ہیں، وہی چینل دیکھو جو مشہور ہے وہی لیڈر چُنو جو سب کو پسند ہے، وہی بیانیہ دہراؤ کو پاپولر ہے، اسی راکٹ سائنس پر بات کرو جو لوگوں کو پسند۔ تمہاری اصل شخصیت، تمہاری انفرادیت؟ اسے الماری میں بند کر دو، بہتر ہے دفن کردو۔ ایک سمجھدار معاشرہ تمہیں تب ہی اپنائے گا جب تم اس کے آئینے میں خود کو پہچانو گے، نہ کہ اپنی آنکھوں میں اپنے آپ کو جانچو گے۔ اپنا ضمیر اور شعوری فکر کو نیند کی گولی دے کر سلا دو، اور تمہاری فہم و فراست؟ اس پر بات نہیں کرو۔ تمہاری زبان؟ بس اتنا بولو جتنا سب سننا چاہتے ہیں۔ تمہارا چہرہ؟ بس وہی تاثرات رکھو جو لوگوں کو آرام دہ لگیں۔ کہانیاں وہ سنانا جو اچھی ہوں، باتیں وہی کرنا جو سب کو پتہ ہوں کیونکہ اگر تم نے گفتگو میں کوئی مخالفت کی، سوال کیا، انوکھا کچھ کہا، منطقی بات کی تو لوگ تمہیں نہیں سمجھیں گے۔ اور انسان کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے؟ سمجھے جانا۔ تو بس، ان کہی باتوں کو اندر دفن کرو، ان دیکھے خوابوں کو نظر انداز کرو، اور اسی سانچے میں ڈھل جاؤ جس میں سب ڈھلے ہیں، اور بھیڑ میں گُم ہو جاؤ۔ تب تمہیں سکون بھی ملے گا، مقام بھی، اور شاید تمہارا نام بھی کسی کلاس روم بورڈ پر لکھا جائے ”مثالی ٹیچر“ ۔ کم از کم تمہارا کوئی طالب علم تمہارا مذاق تو نہیں بنائے گا نہ۔ اس سکون کو پانے کی بس ایک شرط ہے، بہت آسان، زندہ رہنا ہے تو مر جاؤ۔ اپنے اندر۔


