مشکلیں اتنی پڑی مجھ پہ کہ آساں ہو گئیں (5)


بیٹا  اور بہو میرے ساتھ تھے اور وہ ہر طرح سے میری خبر گیری کر رہے تھے مجھے جو کچھ کھانے کو دیتے وہ چیز مجھ سے کھائی ہی نہیں جاتی۔ خدا خدا کر کے وہ رات گزری۔

رات بھاری سہی کٹے گی ضرور
دن کڑا تھا مگر گزر کے رہا

دوسرے دن پھر وہی  ایکسرے، وہی سارے مراحل جن  سے پہلے گزر چکی تھی۔ ان ساری تکالیف کو برداشت کیا، نرس نے شام سے پہلے آ کر پٹیاں تبدیل کیں اور ڈاکٹر کو آن لائن لے کر ساری صورتحال بتائی اور مجھے رخصت دے دی۔ میرے لیے بیڈ سے اٹھنا بھی بہت مشکل تھا اسد نے آہستہ آہستہ مجھے اٹھایا، پھر گاڑی تک جانے کے لیے بہت طریقے سے وہیل چیئر پر بٹھا کر گاڑی تک لے کر آئے۔ وہیل چیئر سے اترنا اور گاڑی میں بیٹھنا بھی ایک مشکل مرحلہ تھا۔ اس کو بھی اسد نے بہت طریقے سے مجھے سمجھا کر سہارا دے کر بٹھایا الحمداللّہ گھر آ گئے، انجکشن لگانے کے لیے ڈاکٹر خالد گھر آتے رہے۔ ہاتھ پر لگا کنولا دو دن میں خراب ہو جاتا پھر سی ایم ایچ جاکر نیا کنولا لگوانا پڑتا، اللّہ کے فضل سے یہ مراحل بھی طے ہوئے۔ جب ہم ہسپتال سے نکلے تو سارا ہسپتال سائیں سائیں کر رہا تھا کیونکہ کل سے عید کی چھٹیاں تھی۔ شکر کیا کہ آپریشن ہو گیا۔ اگر کل نہ ہوتا تو پھر عید کے آٹھ دس دن بعد ہونا تھا اور اتنی دیر میں کچھ بھی ہو سکتا تھا۔ اللّہ کا بہت بہت شکر ادا کیا۔ سارے راستے میں دعائیں کرتے ہوئے آئی۔ دو تین دن بعد عید تھی۔ بچوں نے عید کی تیاریاں کر رکھی تھیں جیسا کہ سب بچوں کو نانو کے گھر جانے کی بے چینی ہوتی ہے ایسے ہی ان کو بھی بے چینی تھی کہ عید پر کوہاٹ نانو کے گھر جائیں، ادھر میرے بھائی بھی بار بار بلا رہے تھے کہ آپ عید پہ کوہاٹ آئیں تو سب آپ کو دیکھ لیں گے اور سب کے ساتھ عید اچھی گزرے گی، عید کا پہلا دن اپنے گھر پہ گزارا جو کافی اداس اداس رہا دوسرے دن صبح کوہاٹ گئے میں جانے کے لیے تیار نہیں تھی لیکن بچوں کے دل کی خاطر جانا پڑا اور پھر اسد نے مجھے راضی کر لیا کہ پشاور سے بھی تو میں ہی لے کر آ یا ہوں کوہاٹ بھی لے جاؤں گا۔ کوہاٹ کا سفر طے ہوا کوہاٹ پہنچی تو، بہن بھائی بچے، بھتیجے بھتیجیاں، بھابیاں سب بہت خوش ہوئے اور ساتھ اداس بھی ہوئے خوشی مجھے دیکھ کر اور اداسی میری صحت کو دیکھ کر ہوئی، میری جٹھانیاں، بھابیاں  بھانجیاں، چچا زاد بہنیں سب مجھے دیکھ کر اداس اور حیران ہو جاتیں کیونکہ ایک دم سے میرا وزن گر گیا تھا  آنکھوں کے نیچے حلقے، ہاتھ پاؤں کالے سیاہ، سبھی دیکھ کر غمگین ہو جاتے آنکھوں میں آنسو جاتے۔

شکر ہے ہاتھ پر کنولا لگا ہوا تھا گھر پہ ڈسپنسر آ کے ٹیکے لگا جاتا۔ کوہاٹ میں بھتیجی مشال کے بیٹے کی سالگرہ تھی باربی کیو کباب، کابلی پلاؤ سب بنا تھا، کافی عرصے بعد میں نے کباب یا پلاؤ کھایا۔ اپنے سب بہن بھائیوں، بچوں سے مل کر لگا کہ عید آج ہے۔ خوشی و مسرت سے طبیعت بہتر محسوس ہوئی۔ دو دن رہ کے واپس رسالپور آئے۔ واپسی کے سفر میں تھک گئی، گھر آ کر ایک دو دن طبیعت خراب رہی پھر رفتہ رفتہ طبیعت میں بہتری آتی گئی اور الحمداللّہ بڑی عید پر قربانی کے گوشت کے پیکٹ بنائے، ذی الحج کے روزے رکھے، خوش ہوتی رہی، شکر ادا کرتی رہی کہ اب طبیعت کافی بہتر ہے۔

کچھ دن پہلے میرے پاؤں پر خارش سی محسوس ہوئی تو میں پاؤں کھجاتی رہی۔ تھوڑی سی جلن محسوس ہوئی تو اس پر کریمیں لگاتی رہی، اتنے میں عید آ گئی۔ عید والے دن بھی پاؤں میں تھوڑی سی جلن محسوس ہوئی لیکن میں نے زیادہ اہمیت نہیں دی دوسرے دن پشاور بھائی کے گھر چلے گئے وہاں شام ہوئی تو دیکھا کہ ایک دم سے پاؤں سوج گیا ہے اور سرخ تانبے کی طرح ہو گیا ہے میں نے فوراً ڈاکٹر خادم کو تصویر واٹس ایپ کی، اس نے دیکھ ہی کر کہا فوراً اینٹی بائیوٹک لینا شروع کر دیں۔ دوسرے دن بھائی سب سے پہلے مجھے مشہور آرتھوپیڈک ڈاکٹر کے پاس لے گیا، ڈاکٹر نے دیکھتے ہی فکر مندی اور تشویش ظاہر کی۔ اب جو اس نے دوائیاں لکھی، ہدایات دیں اور گنگرین کا نام لیا تو میرے تو پاؤں تلے سے زمین کھسک گئی۔ بھائی بھی یہ سن کر پریشان ہو گیا، ڈاکٹر نے کہا بس آپ نے بہت احتیاط کرنی ہے۔ اس نے ہائی ڈوز کی اینٹی بائیوٹک لکھ دیں۔ اور پاؤں پر لگانے والی کریمیں۔

اس دن کی پریشانی کو بھی میں بیان نہیں کر سکتی۔ ایک ہفتے کے بعد ڈاکٹر نے دوبارہ بلایا تو دیکھ کر تھوڑا سا اطمینان کا  اظہار کیا کہ کچھ بہتری ہے اگر یہ بہتری نہ ہوتی تو میں نے آج اپ کو داخل کر لینا تھا۔ آپ احتیاط کریں اور یہ دوائی جاری رکھیں۔ گھر آ کر میں وہی دوائیاں استعمال کرتی رہی لیکن ساتھ ساتھ چلتی پھرتی بھی رہی اب اس کے ایک ہفتے بعد گئی تو وہ دیکھ کر پھر پریشان ہو گیا، آپ چلتی رہی ہیں میں نے کہا زیادہ تو نہیں، تھوڑا تھوڑا سا۔ ڈاکٹر نے کہا کہ میں نے آپ کو کہا تھا پاؤں بھی نیچے نہ رکھیں اب آپ نے بالکل نہیں چلنا۔ ڈاکٹر نے اسد کو کہا کہ ان کو داخل کرتے ہیں بیٹے نے کہا ہمارے قریب ہی سی ایم ایچ ہے، ٹیکے لگانے کی بھی سہولت ہے۔ اپ دوائیاں لکھ دیں ہم ادھر انتظام کر لیں گے، پھر جو انہوں نے ٹیسٹ کروائے تو ٹیسٹ کی رپورٹوں میں انفیکشن زیادہ، ہیموگلوبین کم اور ساری چیزیں الٹ پلٹ تھیں۔ اب یہ حالت تھی دو ٹیکے صبح، دو دوپہر دو رات کو لگتے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ ساری انٹی بائیوٹک بھی جاری رکھنی تھیں ان سب کے ساتھ میری طبیعت بہت خراب رہنے لگی۔ معدے میں جلن اور کھانے کو دل نہ چاہتا، گرمی کے دن اور یہ علاج، بس غالب یاد آئے کہ مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں۔

کنولا دو دن بعد بدلنا پڑتا، اینٹی بائیوٹک کریمیں ڈاکٹروں کے چکر، پرہیز یہ سارے سلسلے چلتے رہے، دل پر اداسی سی چھائی رہی۔ بیماری کے چکر سے نکل نہیں پا رہی دوسری ٹانگ کے آپریشن کے چند دنوں بعد ٹانکے کھلوا لیے اور وہ بہت اچھے سے ٹھیک ہو گے لیکن چند دنوں بعد ٹانگ میں درد رہنے لگا۔ ٹانگ کا ایکسرے کروایا اور ڈاکٹر خادم کو بھیجا اس نے کہا کہ درد کی وجہ یہ ہے کہ راڈ کی لمبائی زیادہ ہے اس نے دوسرے راڈ سے موازنہ کر کے بتایا، پھر دوسرے آرتھوپیڈک ڈاکٹر کو دکھایا اس کی باتوں نے مزید دہلا دیا کہ پہلی ٹانگ میں نیچے دو میخیں لگی ہوئی ہیں جبکہ اس دفعہ صرف ایک میخ ہے۔ اب ان ساری باتوں نے اس قدر پریشان کیا کہ بالآخر وہ ڈاکٹر جس نے آپریشن کیا تھا اس کے پاس چلے گئے اس نے تسلی دی کہ ایسا کچھ نہیں ہے۔ اگر ایسی بات ہوتی تو اپ چل نہ سکتی ایک دن ایسا ہوا کہ اٹھتی تو اٹھ نہیں سکتی تھی جسم اتنا بھاری ہو گیا تھا کہ کوشش کے باوجود میں خود کو اٹھا نہیں  پا رہی تھی۔ یہ احساس بہت تکلیف دہ تھا۔ جب ایک رات کے بعد میں خود اٹھ گئی اور دو قدم لیے تو کس قدر اللّہ کا شکر ادا کیا۔ کتنی خوش ہوئی میں بتا نہیں سکتی۔ اس بیماری میں بار بار ایسی تکلیفیں آتی رہی کہ جو مجھے جسمانی اور ذہنی دونوں طرح سے پریشان کرتی رہیں۔ لگتا تھا کسی اندھیری سرنگ کا سفر ہے کہ چند قدم کے بعد کوئی اور موڑ، کوئی نئی تکلیف سامنے آجاتی تھی، بار بار خون کے مکمل ٹیسٹ ہوتے پھر کچھ نہ کچھ خرابی نکل آتی

اپنے اللٌہ سے شکوے کا محل ہو تو کروں
غم دیے، ساتھ ہی غم سہنے کی راحت دے دی

جنوری سے لے کر اگست تک یہ سارا سلسلہ چلتا رہا۔ اگست کے شروع میں تھوڑی سی طبیعت سنبھلی ٹیسٹ کلیئر آئے انفیکشن ختم ہوا۔

اتنے میں عائشہ بھی دبئی سے آئی۔ کچھ اس کے آنے کی خوشی، کچھ میرا سفر نامہ ”کھلی آنکھوں کا خواب“ زیور طبع سے آراستہ ہو کر میرے ہاتھوں میں آیا اور طویل بیماری کے بعد کتاب کے آنے سے مسرت ہوئی، عائشہ کے دوبئی واپس جانے کے دن تھے۔ عائشہ کتاب کی تقریب رونمائی کسی اچھے ہوٹل میں بڑے پیمانے پر کرنا چاہ رہی تھی مگر میں نے کہا کہ میں ابھی زیادہ چل نہیں سکتی، سٹیج پہ نہیں بیٹھ سکتی، زیادہ لوگوں میں اچھا نہیں لگتا، ایسا کرتے ہیں کہ چار پانچ وہ لوگ کہ جنہوں نے میری کتاب پر تبصرے کیے انہیں بلا لیتے ہیں عائشہ نے اپنے گھر پر بہترین اور پرتکلف چائے کا اہتمام کیا۔ شجاعت علی راہی، محترم جبار مرزا، محترم نسیم سحر صاحب، محترم سید ابرار حسین اور پریس فار پیس کی تابندہ شاہد تھوڑے سے لوگوں میں بہت بھرپور تقریب ہوئی۔ جس کا اظہار سب نے کیا۔ شجاعت علی راہی صاحب میرا خاکہ لکھ کر لائے، اور بہت عمدہ انداز میں پیش کیا، یہ میرے لیے ایک سرپرائز تھا۔ سید ابرار حسین نے سفر نامے کے حوالے سے گفتگو کی اور بہت تحسین کی، اس تقریب نے مجھے بے پایاں خوشی بخشی۔

تو یہ تھی سات مہینوں کی وہ روداد جس سے میں پورے طور پر بیان کر ہی نہیں سکی وہ تکلیف، وہ درد، وہ اذیتیں جو بیت گئیں لیکن مجھے یہ احساس دلا گئیں کہ ہم جو سمجھتے ہیں کہ ہم اللّہ کا شکر ادا کرتے ہیں، اللّہ کی بے کراں نعمتوں کا شکر ادا کر ہی نہیں سکتے، صحت مند ہوں تو چلنے پھرنے کو معمول سمجھتے ہیں مگر جب یہ نعمت چھن جائے تو احساس ہوتا ہے کہ ایک قدم خود اٹھانا بھی اللّہ کی کتنی بڑی اور انمول نعمت ہے اس طویل بیماری میں ایک امید اور ایک کتاب میرا سہارا میرا اثاثہ رہی، کتاب اللّہ کی، درود شریف اور پھر میرا ہمراز قلم اور کتابیں جنہوں نے مجھے مایوس ہونے نہیں دیا، میری سوچوں کو مثبت اور دل کو پرسکون رکھا، اللّہ کے قرب کو محسوس کیا، دل سے اسے پکارا کبھی سرگوشیوں میں، کبھی بہ زبان خاموشی خود اپنی کونسلنگ کی کہ اللّہ نے مجھے ہمیشہ ہمیشہ بہت نوازا خاندان کی پہلی اعلیٰ تعلیم یافتہ، لیڈی کونسلر، سکول کی پرنسپل، لیکچرار سب سے بڑھ کر لکھنے کی صلاحیت اور لکھے ہوئے کی پذیرائی، کئی کتابوں کی مصنفہ، پیار کرنے والے خدمت گزار بچے اور شریک حیات جس نے بچوں کی طرح مجھے سنبھالا اتنی نعمتوں کے باوجود گلے شکوے کا تو محل ہی نہیں تھا۔ شکر کا صحیح مفہوم تو اب سمجھ میں آیا پھر اس کے بعد میری دوسری کتاب کو بھی اباسین ادبی ایوارڈ کے اعلان سے تو میں رو پڑی۔ تھوڑے ہی عرصے میں ایم اے کی سطح کے دو مقالے اور ایک ایم فل کے مقالے کا لکھا جانا اللّہ کریم کا انعام اور احسان ہے۔ اسی بیماری میں اپنی مادری زبان ہندکو میں سفر نامہ لکھنا، اس کا چھپنا اور کوہاٹ کی پہلی نثر نگار صاحب کتاب خاتون کا اعزاز پانا، ان سب عنایات کا شکر کیوں کر اور کیسے ادا کروں کہ جو میرے رب کریم نے مجھ ناچیز بندی پر کیے، سچ ہے کہ ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے فاِن مع العسر یسریٰ تکلیف بڑی ہو تو انعام بھی بڑے ملتے ہیں قسط نمبر چار میں وصیت نامے اور مسجد کی تعمیر کا ذکر کر چکی ہوں صد شکر کہ راہ کی رکاوٹیں دھول بن کر اڑ گئیں الحمدللہ مسجد کی تعمیر شروع ہو گئی۔ اللّہ کے بے پایاں فضل و کرم سے کھلی آنکھوں کا ایک اور خواب شرمندہ تعبیر ہوا۔

اس بیماری نے مجھے نعمتوں کا ادراک، شکر گزاری، سوز و گداز، زندگی کی، حسن کی، رنگ روپ کی بے ثباتی اور عارضی ہونے کا بھرپور احساس دلایا۔ واقعی غم مدرک حقائق ہے۔

اور سب سے بڑھ کر وہ محبتیں اور دعائیں جنہوں نے شفا یاب کیا۔

میرے نصف بہتر، بیٹا، بہو، بیٹیاں، بہن بھائی، بھابیاں، دیورانیاں جٹھانیاں، بھانجیوں کی دلی دعاؤں کے علاوہ میری بہت پیاری سہیلیاں دوست احباب ملنے جلنے والے سب احباب نے جس طرح مجھے اپنی دعاؤں میں یاد رکھا۔ رخ کتاب پر میرے بہت مہربان مشفق لوگ جو دعاؤں کے سندیسے بھیجتے رہے سب کا نام لکھنا تو مشکل ہے۔ صرف چند ان لوگوں کا ذکر کرنا چاہوں گی جو روزانہ دعائیہ پیغام ارسال کرتے رہے۔ محترم شجاعت علی راہی، نسیم سحر، روبینہ شاہین اور برادر جبار مرزا صاحب جنہوں نے کئی دفعہ 5 5 لاکھ درود شریف کا تحفہ ارسال کیا اس انمول تحفے نے میرے یقین میرے توکل کو کئی گنا بڑھا کر سکینت طاری کر دی۔ ارم، عالیہ، صبا اسلم اور پیاری دوست روبینہ قاضی۔ ان کی عاشق رسول بزرگوار والدہ کی دعائیں سائبان بن کر ساتھ رہیں۔

اللہ ان سب پیار کرنے والوں کو اجر کثیر عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین

Facebook Comments HS