ہم بھارت سے نہیں جیت سکتے
پاک بھارت جنگ کی اصل کہانی یہ ہے۔ اس بار افواج پاکستان نے وطن عزیز کی محبت اور اسلام کی سربلندی کے نظریے کو فوقیت دیتے ہوئے بھارت کو سبق سکھانے کا حتمی فیصلہ کیا۔ جہاد کے حقیقی جذبے سے سرشار اور شوق شہادت کو پورا کرنے کی غرض سے بہادر پاکستانی فوجیوں اور مجاہدین نے بہت خفیہ تیاری کے بعد جس کی بھنک بھی بھارتی جاسوس ایجنسیوں کو نہیں پڑ سکی تھی، بھارت پر کشمیر کے راستے بھرپور حملہ کر دیا تھا۔ اس حملے میں چائنہ اور ترکی نے بھی پاکستانی آرمی کے ساتھ جدید ترین ہتھیاروں کا تعاون کیا تھا تاکہ پاکستان بھارت کو ایک بڑا نقصان پہنچا سکے۔ اس اچانک حملے سے بھارتی فوج کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے تھے اور پاکستانی فوج سری نگر تک پہنچ گئی۔ وہاں موجود بھارتی برگیڈ پاکستان کے مقابلے کے لیے تیار تو ہو چکی تھی لیکن اتفاق سے اس وقت وہاں بھارتی فوجیوں کی تعداد پاکستانی فوج اور مجاہدین کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر تھی نہ وہاں اس وقت جنگ کی مناسبت سے بڑے ہتھیار موجود تھے۔ اس موقعے پر بھارتی سپاہیوں نے وہاں تعینات میجر وکرم کو پیچھے ہٹنے کا مشورہ دیا لیکن اس نے پیچھے ہٹنے کو اپنی بے عزتی قرار دیا اور چند سپاہیوں کے ساتھ پوری فوج سے ٹکرانے کا فیصلہ لیا۔ میجر وکرم کی بٹالین کو امداد پہنچانے کے لیے دہلی سے فوجیں روانہ ہو گئیں تھیں لیکن انہیں پہنچنے میں ٹائم لگنا تھا۔ انڈین ائر فورس سے تعلق رکھنے والی اسکواڈرن لیڈر سیتا نے فوراً میجر وکرم سے رابطہ کیا جو دراصل اس کا منگیتر بھی تھا۔ کیپٹن سیتا نے میجر وکرم کو پیچھے ہٹنے کا کہا لیکن میجر وکرم نے انکار کر دیا۔ اسکواڈرن لیڈر سیتا نے بھی وکرم کو اپنا فیصلہ سنا دیا کہ اگر تم نے پاکستانی فوج پر حملے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے تو میں آسمانوں سے تمھاری رکھشا کروں گی۔
رابطہ منقطع ہوتے ہی میجر وکرم اپنے ٹینک میں بیٹھ کر پاکستانی فوج پر حملہ آور ہو گیا۔ پاکستانی فوجیوں کو اس حملے کی ذرا برابر بھی امید نہیں تھی۔ آخر انہوں نے میجر وکرم کے ٹینک کو گھیر کر تباہ کرنے کا پلان بنایا ہی تھا کہ عین موقعے پر سیتا اپنے جہاز کو لے کر وکرم کی مدد کو پہنچ گئی۔ اب پاکستانی فوجیوں نے گھبرا کر پیچھے ہٹنا شروع کر دیا ادھر میجر وکرم نے اپنے ٹینک کا رخ پاکستان کی جانب کر دیا۔ یہ دیکھ کر سیتا نے بھی آسمان سے بمباری کرتے ہوئے آگے کی رکاوٹیں دور کر دیں اور دونوں کا رخ اسلام آباد کی طرف ہو گیا۔ اسکواڈرن لیڈر سیتا کے جہاز کو روکنے پاکستانی ائر فورس کے دس ایف 16 طیارے روانہ ہوئے لیکن کوئی بھی جہاز سیتا کو نہیں روک پایا۔ آخر سیتا کا جہاز اسلام آباد پہنچ گیا اور وہ پورے شہر پر پرواز کرتے ہوئے وکرم کا انتظار کرنے لگی کہ اب اگر اس کا اور وکرم کا ملن ہو گا تو پاکستان کی دھرتی پر ہی ہو گا۔
بس اس سے زیادہ دیکھنے کی میری ہمت نہیں ہوئی اور میں نے سنی دیول اور اکشے کمار کی نئی بھارتی فلم سندوری سہاگن، جس میں مشہور رقاصہ نورا فتحی نے بھی ایک آئٹم ڈانس کیا ہے دیکھنا بند کر دی۔ ویسے میں جانتا ہوں کہ کس طرح انڈین فلموں کے ذریعے بھارتی جنتا کو الو بنایا جاتا ہے۔ چاہے پاکستان انڈیا کی جنگ ہو یا کسی مسلمان بادشاہ کی تاریخ، یہ اس بے شرمی سے ایسی جھوٹی جھوٹی کہانیاں گھڑ لیتے ہیں کہ کیا کہنے۔ لیکن کسی ملک سے جنگ ہونا کوئی فلم نہیں یہ ایک تلخ حقیقت ہے۔ کسی ایک ملک کی سیاسی جماعت کے انتہا پسند نظریے کی قیمت بہت سے بے گناہوں کو بھگتنی پڑتی ہے۔ بھارت کے جنگی عزائم کو قریب سے جاننے کی خاطر میں نے فوراً بھارتی نیوز میڈیا لگایا اور وہاں جو کچھ خبریں مجھے سننے کو ملیں اس نے مجھے اندر سے ہلا کر رکھ دیا تھا۔
انڈین نیوز میڈیا پر اینکر بری طرح چیخ رہے تھے ”بھارتی فوج کے نئے حملے کے ڈر سے پاکستانی سیاستدان اور فوجی خوفزدہ ہیں۔ پاکستانی جنتا ڈر کے مارے گھروں میں بند ہے اور امیر لوگوں نے پاکستان سے باہر بھاگنا شروع کر دیا ہے۔ پاکستانی دنیا بھر سے مدد مانگ رہے ہیں کہ ہمیں مودی جی سے بچا لو لیکن مودی جی اب کی بار کوئی رحم نہیں کھائیں گے۔ اب ہو گا پاکستان اور پاکستانی آتنک واد کا خاتمہ۔“ جب کہ دوسرے چینل پر بھارتی صحافی اور کچھ ریٹائرڈ انڈین آرمی کے افسران تقریباً ناچتے ہوئے خبر دے رہے تھے ”بھارت نے جو ائر اسٹرائیک کی تھی اس میں پاکستان کے کئی شہروں کے ساتھ اس کے نیوکلیئر ہتھیار بھی تباہ ہو گئے اور کئی ائر بیس مکمل ناکارہ ہو چکے ہیں۔ اب پاکستانی آرمی چیف اور وزیر اعظم ملک سے بھاگنے کے بہانے ڈھونڈ رہے ہیں۔ پورے پاکستان میں صدمہ طاری ہے۔ “
میں نے فوراً گھبرا کر ٹی وی بند کر دیا۔ ملک میں اتنا کچھ ہو گیا تھا کہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ہوا کہاں ہے۔ ابھی دوپہر کو میں دہی لینے گیا تھا جب تک تو ایسا کچھ نہیں تھا باہر۔ میں نے اپنے ایک صحافی کو فون ملایا اور ساری صورتحال بتائی۔ اس نے مجھے سمجھایا ”بھائی اتنا سیریس ہو کر انڈین میڈیا دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ ہاں جب تمھارا دل کامیڈی دیکھنے کا کرے صرف اس وقت ہی بھارتی نیوز چینلز سے استفادہ کیا کرو۔ ملک کی سڑکوں کا پہلے ہی برا حال ہے اور انڈین میڈیا اس کا سارا کریڈٹ بھارتی فوج کو دے رہا ہے جو زیادتی ہے۔ دوسری بات بلیک آؤٹ کی تو بھائی پورے ملک میں جب لائٹ ایسی جائے کہ آنے کا نام ہی نہ لے تو اگلا تو بلیک آؤٹ ہی سمجھے گا نا ابھی تو شکر کر انڈین میڈیا کو سوئی گیس آؤٹ کا نہیں پتا پاکستان میں۔ ہم انڈین آرمی کو تو شکست دے سکتے ہیں لیکن ان کے پاگل میڈیا سے جیتنا ناممکن ہے۔“


